افریقہ (رپورٹس)

واقفینِ نَو اور واقفاتِ نَو نائیجیریا کا پانچواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء

اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے جماعت احمدیہ نائیجیریا کو واقفین نو کا پانچواں نیشنل سالانہ اجتماع ’’وقف نو: ایک بامقصد اور قربانیوں سے مزیّن زندگی‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۱۷تا ۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کامیابی کے ساتھ جماعت احمدیہ نائیجیریا کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ

۱۷؍اپریل بروز جمعة المبارک: ۱۷؍اپریل کو دوپہر ۱۲؍بجے سے قبل ملک کے طول وعرض سے واقفین نو اور واقفات نو جماعت کے ہیڈ کوارٹرز میں جمع ہوئے اور رجسٹریشن کروائی۔ تمام واقفین اور واقفات نو نے ایک بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا۔ امیر جماعت نائیجیریا مکرم عبدالعزیز الاتویے صاحب نے اپنے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اجتماع کے کامیاب انعقاد کے لیے دعا کی درخواست کی۔

جمعہ کی شام کو واقفین اور واقفات کے علیحدہ علیحدہ ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا۔

مغرب کی نماز کے بعد ایک اجلاس ہوا جس میں مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات دی گئیں اور بتایا گیا کہ تعلیم حاصل کر کے کس طرح ان شعبہ جات میں جماعت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ عشاء کی نماز کے بعد ۱۵؍سال سے بڑے واقفین نو کا ایک اجلاس ہوا جس میں تجدید عہد کے بارے میں معلومات دی گئیں۔

۱۸؍اپریل بروز ہفتہ:دن کا آغاز اجتماعی نماز تہجد سے کیا گیا۔ نماز فجر کےبعد درس دیا گیا۔ ناشتے کے وقت تک بچوں نے ہلکی پھلکی ورزش اور وقار عمل کیا۔

صبح ۸ سے ۹؍بجے تک اردو زبان سیکھنے کی کلاس ہوئی۔ کلاس کے بعد علمی مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے بعد بچوں کو دفاتر، ہسپتال، ذیلی تنظیموں کے دفاتر، ایم ٹی اے کا دفتر اور سٹوڈیو اور پریس کا تعارفی دورہ کروایا گیا۔

اجتماع کا باقاعدہ افتتاحی اجلاس امیر صاحب کی صدارت میں دو پہر ۱۲؍بجے منعقد ہوا۔ امیر صاحب کے علاوہ دیگر مہمان خصوصی بھی اجلاس میں شامل ہوئے۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ ایک واقف نو نے عربی قصیدہ پڑھا۔ امیر صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پیغام پیش کیا اور واقفین نو کو نصیحت کی کہ خلیفۂ وقت سے ہمیشہ ایک مضبوط تعلق قائم رکھیں، خلیفۂ وقت کی ہر بات کو سنیں اور ہمیشہ اس پر من و عن عمل کریں۔ اجلاس کا لیکچر مکرم عبد الصمد لاوال صاحب مبلغ سلسلہ نے دیا جس میں آپ نے واقفین نو اور واقفات نو کو یہ سمجھایا کہ وقف کا مطلب ہے کہ ہر وقت اور ہر حالت میں اپنے دین پر عمل کرنا۔ یہ ایک ایسا عہد ہے جو عام عہد سے بالکل مختلف ہے اور ہم نے یہ عہد کسی انسان سے نہیں بلکہ اپنے اللہ تعالیٰ سے براہ راست کیا ہے۔ بعدازاں دیگر مہمانوں نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اجلاس کا اختتام دعا سے ہوا۔

شام ۵؍بجے کے بعد نیشنل کوئز کا انعقاد کیا گیا جس میں ہر بچے کا اس کی عمر کے مطابق نصاب میں سے امتحان لیاگیا۔ رات ۹؍بجے سیکرٹریان وقف نو کی ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں واقفین نو کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔

۱۹؍اپریل بروز اتوار:دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر اور درس کے بعد اجتماع کا اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم عدنان احمد طاہر صاحب مبلغ انچارج نائیجیریا نے کی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد عربی زبان میں قصیدہ پڑھا گیا اور نیشنل سیکرٹری وقف نو نے اجتماع کی رپورٹ پیش کی۔ بعد ازاں علمی و ورزشی مقابلہ جات میں پوزیشن لینے والے بچوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ مبلغ انچارج صاحب نے اپنے اختتامی کلمات میں شاملین اجتماع کو یہ نصیحت کی کہ وہ معاشرہ میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں اور وقف نو کی بابرکت تحریک کے مجاہد ہونے کے ناطے اپنی جماعتوں میں نیک نمونہ قائم کریں۔ اجتماع کا اختتام دعا سے ہوا جو مکرم مبلغ انچاج صاحب نے کرائی۔

امسال اجتماع کی کل حاضری ۳۶۳؍رہی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

(رپورٹ : سید اطہر محمود۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے واقفین نو و واقفات نو نائیجیریا کے سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

میرے پیارے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی فرزندو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

الحمدللہ! واقفین نو نائیجیریا کا نیشنل اجتماع ۱۷تا۱۹؍اپریل ۲۰۲۶ء کو منعقد ہورہا ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ یہ اجتماع آپ سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

آپ کے اجتماع کے مرکزی موضوع کی روشنی میں مَیں تمام واقفین نو اور واقفات نو کو یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ اور اُس کے دین پر اپنے ایمان کے معیاروں کو مسلسل بلند کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا قرب حاصل کرکے ہی واقفینِ نو حضرت مسیح موعودؑ سے کیے گئے اپنی بیعت کے عہد اور اپنے وقف کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ نے ایک مقام پر حقیقی ایمان اور اطاعتِ الٰہی کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کی ان الفاظ میں تعریف فرمائی ہے:

وَاِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی (النجم:۳۸)

’’اور ابراہیم (کے صحف میں) جس نے عہد کو پورا کیا۔‘‘

قرآن کریم کے یہ الفاظ گواہی دیتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اپنے عہد کو وفاداری سے پورا کیا۔ آپؑ نے خدا تعالیٰ کے احکامات کی بجاآوری کی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر سخت آزمائشوں اور مصائب کو عظیم صبر اور کامل وفاداری کے ساتھ برداشت کیا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ’وفادار‘ کا لقب دیا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت محض ایک کہانی نہیں ہے جسے ہم سنائیں اور اس کی تعریف کریں۔ بلکہ یہ آپ سب کے لیے ایک تحریک کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ یقیناً آپ کو اسے ایک ذاتی ہدایت سمجھنا چاہیے جو اس اطاعت کے معیار اور غیر متزلزل ایمان کو واضح کرتی ہے جو اُن لوگوں سے مطلوب ہے جو اپنی زندگیاں اپنے دین کے لیے وقف کرتے ہیں۔

جب آپ اللہ کے ساتھ ایسی مکمل وفاداری کا مظاہرہ کریں گے صرف تب ہی آپ اپنے عہد کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔ ورنہ وہ عہد اور وعدہ جو آپ نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے بے معنی ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر واقفِ نو کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اپنے عہد کو پورا نہ کرنا کوئی چھوٹی یا معمولی بات نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے وعدے پورے نہیں کرتے وہ جوابدہ ہوں گے۔

دعا ہے کہ آپ سب قرآن کریم کی تعلیمات کے حقیقی مرتبہ اور قدر و قیمت کو پہچانیں، اپنی زندگیاں مثالی طریقے سے گزاریں اور تمام نیک کاموں میں سبقت لے جائیں۔ آمین

مزید پڑھیں: جماعت Tiefla، آئیوری کوسٹ میں احمدیہ مسجد کی تقریب سنگ بنیاد کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button