حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

(تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍جون ۲۰۲۶ء)

دین کو دنیا پر مقدم رکھنا … قربانی کا اعلیٰ معیار

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت مقدر تھی وہ ہوچکی۔ اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔ اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَھَنَّمَ لَایَمُوْتُ فِیْھَا وَلَایَحْيٰ (طہ:۷۵) افسوس کہ یہ امیر زیر آیت مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا (النساء:۹۴) داخل ہوگیا۔ اور ایک ذرہ خداتعالیٰ کا خوف نہ کیا۔ اور مومن بھی ایسا مومن کہ اگر کابل کی تمام سرزمین میں اُس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنالاحاصل ہے۔ ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں۔ جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں اور زن و فرزند کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اے عبداللطیف تیرے پرہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔ اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے۔ مَیں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔ ‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر۲۰۔ صفحہ۶۰)

پھر فرماتے ہیں:’’جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبداللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کرگئے اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتاہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودا ہوں۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن۔ جلد۲۰۔ صفحہ ۷۵)

آج سے ٹھیک سو سال پہلے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو شہید کیا گیاتھا۔

اے مسیح آخرالزمان! آپؑ کومبارک ہو کہ آپؑ کی پیاری جماعت نے آپؑ کی اپنی جماعت سے امیدوں کو پورا کیا۔ آپؑ کو جو امیدیں اپنی جماعت سے تھیں ان کو پورا کیا۔ اور مال ،وقت اور جان کی قربانی میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اور اس کے نظارے ہمیں آج بھی نظر آرہے ہیں۔ آپ کے بعد بھی جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہوئے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو فکر تھی کہ پتہ نہیں میرے بعد کیاہو۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے بعد بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے اور ہو رہے ہیں جنہوں نے دنیاوی لالچوں کی پروا نہیں کی اور اپنی جانیں بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ باپ نے بیٹے کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا اور بیٹے نے باپ کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا لیکن پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ اور پھر خود بھی جان قربان کردی۔

اے مسیح پاکؑ آپ کو مبارک ہو کہ آپ کی نسل میں سے بھی، آپ کے خون نے بھی جان کی قربانی دیتے ہوئے جماعت کو بہت بڑے فتنہ سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب شہداء کے درجات کو بلند کرتا چلاجائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوںاور ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار ہوں اوراپنی نسلوں میںبھی یہ جذبہ زندہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں یہ توفیق دیتا رہے۔ (از خطبہ جمعہ۔ ارشاد فرمودہ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۳ء۔ بمطابق ۱۰؍اخاء ۱۳۸۲ ہجری شمسی۔ بمقام مسجد بیت الفتوح۔ مورڈن، لندن)

خدمت انسانیت اور اخلاص و وفا کے بے نظیر نمونے

جماعت میںخدمت خلق اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے جتنا زور دیا جاتاہے اور ہر امیر غریب اپنی بساط کے مطابق اس کوشش میں ہوتاہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اللہ کی رضاکی خاطرخدمت خلق کے کام کو سرانجام دے۔ کیوں ہراحمدی کا دل خدمت خلق کے کاموں میں اتنا کھلاہے؟ اس لئے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو ہم بھول چکے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہوتو پھر اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کرو ، ان کی ضروریات کا خیال رکھو۔ یہ بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے گا۔ اس خوبصورت تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شرائط بیعت کی ایک بنیاد ی شرط قرار دیاہے کہ میرے ساتھ منسلک ہونے کے بعد اپنی تمام تر طاقتوں اور نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف ہمدردی کرو بلکہ ان کو فائدہ بھی پہنچائو۔ اس لئے اگر زلزلہ زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ بعض دفعہ تو ایسے مواقع بھی آئے کہ پانی کی تند و تیز دھاروں میں بہ کر احمدی نوجوانوں نے اپنی جانوں کو توقربان کردیا لیکن ڈوبتے ہوئوں کو کنارے پر پہنچا دیا۔ پھر خلیفہ ٔوقت نے جب یہ اعلان کیاکہ مجھے افریقہ کے غریب بچوں کی تعلیم اور بیماریوں کی وجہ سے دکھی مخلوق جنہیں علاج کی سہولت میسر نہیں، سکول اور ہسپتال کھولنے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہے تو افراد جماعت اس جذبہ کے تحت جو ایک احمدی کے دل میں دکھی انسانیت کے لئے ہونا چاہئے یہ رقم مہیا کریں اور اس پیاری جماعت کے ا فراد نے خلیفہ ٔوقت کے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے اس سے کئی گنازیادہ رقم خلیفۂ وقت کے سامنے رکھ دی جس کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ اور پھر جب خلیفہ ٔوقت نے یہ کہا کہ یہ رقم تو مہیاہو گئی اب مجھے ان سکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے کے لئے افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے تو ڈاکٹرز اورٹیچرز نے انتہائی خلوص کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کیا۔ اب تو افریقہ کے حالات نسبتاً بہترہیں۔ ستّر کی دہائی میں جب یہ نصرت جہاں سکیم شروع کی گئی تھی انتہائی نامساعد حالات تھے۔ اور ان نامساعد حالات میں ان لوگوں نے گزارا کیا۔ بعض ڈاکٹرز اور ٹیچر ز اچھی ملازمتوں پرتھے لیکن وقف کے بعد دیہاتوں میں بھی جا کر رہے۔ اکثر ہسپتال اور سکول دیہاتوں میں تھے جہاں نہ بجلی کی سہولت نہ پانی کی سہولت لیکن دکھی انسانیت کی خدمت کے عہد بیعت کو نبھانا تھااس لئے کسی بھی روک اور سہولت کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔ شروع میں ہسپتالوں کا یہ حال تھا کہ لکڑی کی میز لے کر اس پر مریض کو لٹایا،روشنی کی کمی چند لالٹینوں یا گیس لیمپ سے پوری کی اور جو بھی چاقو ، چھریاں ، قینچیاں ، سامان آپریشن کا میسر تھا اس سے مریض کا آپریشن کردیا اور پھر دعا میں مشغول ہو گئے کہ اے خدا میرے پاس تو جو کچھ میسر تھا اس کا مَیں نے علاج کردیاہے۔ میرے خلیفہ نے مجھے کہا تھاکہ دعا سے علاج کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں بہت شفا رکھے گا۔ توُ ہی شفا دے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان قربانی کرنے والے ڈاکٹروں کی قدرکی اور ایسے ایسے لاعلاج مریض شفا پاکر گئے کہ دنیا حیران ہوتی تھی۔ اورپھرمالی ضرورتیں بھی اس طرح خداتعالیٰ نے پوری کیں کہ بڑے بڑے امراء بھی شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے دیہاتی ہسپتالوں میں آ کر علاج کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح اساتذہ نے بھی بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ ڈاکٹروں اور اساتذہ کی خدمات کے سلسلے آج بھی جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ سلسلے جار ی رکھے اور ان سب خدمت کرنے والوں کو اجرعظیم سے نوازتارہے۔

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۵۰تا۲۵۵)

مزید پڑھیں: اللہ کی صفات کو اگر پرکھنا ہے تو صفتِ قدّوس ذہن میں رکھنی چاہئے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button