بیرونِ قادیان کے پہلے موصی حضرت مولوی عنایت اللہ مدرِّسؓ آف چَبّہ سَندھواں ضلع گوجرانوالہ
(’ز۔احمد۔ الیاسین‘)
(۱۹۹) یکےاز ۳۱۳ کبار اصحاب
حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ کے والد کا نام محمد حسین صاحب تھا۔( کَتبہ مزار بہشتی مقبرہ قادیان۔ و فرد محکمہ مال) آپؓ کا اصل گاؤں چَبّہ سندھواں (Chabba Sandhwan) ضلع گوجرانوالہ تھاجو گوجرانوالہ سے حافظ آباد کی طرف جاتے ہوئے نَوکھر سے کچھ آگےکوٹ لَدَّھاقصبہ سے بائیں یعنی غربی جانب ۳؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
آپؓ اپنے گاؤں سے کم و بیش پچیس کلومیٹر کے فاصلے پرگاؤں ’’مان‘‘ میں،جسے عرفِ عام میں ’’مانانوالہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے مدرّس تھے۔ ’’مان‘‘گوجرانوالہ سے حافظ آباد روڈ پر قلعہ دیدار سنگھ سے غربی جانب قلعہ میاں سنگھ سے پہلے واقع ایک پرانا گاؤں ہے۔ مان میں موجود گورنمنٹ ہائی سکول کا قیام ۱۹۲۶ء میں ہوا۔ اس گاؤں کے ایک ریٹائرڈ ٹیچر عاشق صاحب کے مطابق اس سے قبل گاؤں کی اندرون آبادی میں دھرم سالہ تھا، وہیں سکول ہوا کرتا تھا۔ اب اس جگہ رہائشی مکانات ہیں۔ اس وقت مان گاؤں ۶، ۷؍ہزار کی آبادی پہ مشتمل ہے۔اس وقت گاؤں میں ۱۴؍مساجد ہیں، زیادہ تر آبادی اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ کچھ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ چند مسیحی گھرانے بھی آباد ہیں۔

حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب مدرّسؓ کی بیعت ۱۸۹۵ء سے قبل کی ہے۔ ’’مان‘‘ میں مدرّس ہونے کی بنا پر حضرت اقدسؑ کی کتب میں آپ کا ذکر اسی حوالے سے ہوا۔
٭… ۱۸۹۵ء میں حضرت اقدسؑ نے ایک نوٹس آریہ صاحبان و پادری صاحبان و دیگر صاحبان مذاہبِ مخالفہ کو مخاطب کر کے تحریر فرمایاجس کے آخر پر دستخط کرنے والوں کے اسماء درج کیے گئے جن میں وزیرآباد ضلع گوجرانوالہ کے عنوان کے تحت پہلا نام ’’ مولوی عنایت اللہ صاحب مدرّس مدرسہ مانانوالہ‘‘کا درج کیا گیا۔ (مجموعہ اشتہارات، جلد ۲، صفحہ ۳۱، اشتہار نمبر ۱۳۵ + آریہ دھرم، روحانی خزائن، جلد۱۰، صفحہ ۹۱)
٭ … حضرت اقدسؑ کی کتاب نور القرآن حصہ دوم (شائع شدہ ۲۰؍دسمبر ۱۸۹۵ء) کے آخر میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ نےزیرِ عنوان ’’اُن صاحبوں کے نام جو آجکل حضرت امامِ کامل کی خدمت میں حاضر ہیں‘‘ آپ کا نام یوں درج کیا: ’’(۶)مولوی عنایت اللہ مدرّس مانانوالہ ضلع گوجرانوالہ۔‘‘(نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹، صفحہ ۴۵۴)
٭ … حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے رسولِ کریمﷺکی پیشگوئی کے مطابق اپنی کتاب انجامِ آتھم میں اپنے ۳۱۳؍اصحاب کا ذکر فرمایا تو اُن میں ۱۹۹؍نمبر پہ ’’مولوی عنایت اللہ مدرس ….مانانوالہ‘‘ درج فرمایا۔(انجامِ آتھم، روحانی خزائن، جلد۱۱، صفحہ ۳۲۷)

٭… ۲۴؍فروری ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدسؑ نے گورنمنٹ انگلشیہ کے نام اپنی پُر امن جماعت کے اصحاب کی فہرست شائع کر کے بھیجی تو ۱۲۹؍ویں نمبر پر’’مولوی عنایت اللہ صاحب مدرّس مانانوالہ ‘‘درج فرمایا۔ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳، صفحہ ۳۵۳)
٭ …۲؍مئی ۱۸۹۸ءبروزسوموار قادیان میں عیدالاضحی تھی۔ اس موقع پر ایک جلسہ منعقد ہوا۔ اس نسبت سے دُورونزدیک سے بہت سے احباب ایک دو روز پہلے ہی پہنچ گئے تھے اور اِس طرح بروز اتوار بھی جلسہ کا سماں رہا۔ بروزِ عید قادیان سے شرقی طرف دروازۂ قصبہ سے قریباً ستّر قدم کے فاصلے پر بَڑ کے درخت کے سائے میں نمازِ عید ادا کی گئی۔ بعد ازاں حضرت اقدسؑ نے تقریر فرمائی۔اس جلسہ میں کم و بیش چارسو احباب شامل ہوئے۔لیکن ۲۰۵؍کے نام قلم بند ہوسکے جن کی فہرست جلسے کی مختصر رپورٹ کے ساتھ اخبار الحکم کے ساتھ ضمیمہ میں شائع ہوئی۔اِن خوش نصیبوں میں آپؓ کا نام یوں درج ہے۔’’مولوی عنایت اللہ صاحب مدرّس ضلع گوجرانوالہ ‘‘ (ضمیمہ بعنوان ’’جلسہ طاعون کی کاروائی‘‘، صفحہ ۷، کالم ۳۔ مشمولہ اخبار الحکم، قادیان، جلد ۲، نمبر ۱۰، ۱۱۔بابت ۶ و ۱۳؍مئی ۱۸۹۸ء۔اخبار کے صفحہ ۱۰ پر رپورٹ کا ذکر ہے)
جب جنوری ۱۹۰۶ء میں حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ نے وصیت کی تو آپؓ نے اپنے نام کے ساتھ ’’مدرّس مدرسہ مان تحصیل و ضلع گوجرانوالہ‘‘ تحریر کیا۔فائل وصیت میں بہت جگہوں سے آپؓ کا ’’چبّہ سندھواں‘‘ کا رہائشی ہونا اور قریبی گاؤں’’مان‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔آپؓ کی وصیت پر قریبی گاؤں ’’تھابل دُچھّا‘‘ کے احمدی دوست مکرم مَلّا دُچھّا صاحب کا نام بطور گواہ درج ہے۔

مکرم ملک صلاح الدین صاحب درویش مؤلف ’’اَصحابِ احمد‘‘ نے کئی صحابہ کی سوانح کی تلاش میں دفتر وصیت کے ریکارڈ سے مدد لی۔ اسی نسبت سے حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ کی اس یادگار قربانی کی تلاش میں آپ کی وصیت کا ذکر ضروری ہے۔
وصیت نمبر ۴
جب حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے رسالہ الوصیت تحریر فرمایا اور اخبار الحکم میں اس بابت تفصیل شائع ہوئی، تو ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء کو بذریعہ ڈاک اخبار آپؓ تک پہنچا۔ جس رات آپؓ نے حضورؑ کا منشائے مبارک پڑھا، فوری طور پر حضور ؑکی خدمت میں سادہ کاغذ پر وصیت لکھ دی۔ خداتعالیٰ کو آپؓ کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ قادیان سے باہر کسی بھی احمدی کی یہ پہلی وصیت قرار پائی۔ وصیت نمبر ۱، ۲ اور ۳ کرنے والے قادیان کے احباب تھے۔ بیرون قادیان سے آپؓ ہی پہلے موصی تھے۔ اس وصیت کے کاغذ کی ایک جانب امتدادِ زمانہ کے باعث ضائع ہو گئی۔ بہرحال جو محفوظ ہے، وہ بھی اِن سابقون الاوّلون کے جذبات کا عمدہ ترجمان ہے۔ (نوٹ:درج ذیل تحریر میں۱: وصیت فائل سے درج کیے گئے الفاظ []کے درمیان ہیں۔ ۲: جس جگہ… ڈالے گئے ہیں، وہاں سے کاغذ ضائع ہو چکا ہے یا پڑھا نہیں گیا۔۳: چند جگہ تحریرمیں الفاظ مکمل پڑھے نہیں گئے لیکن قیاس کیا جا سکا وہ الفاظ () کے درمیان ہیں۔ مرتب)
[بسم اللہ الرحمن الرحیمنحمدہ و نصلی
بحضور فیض گنجور جناب مولانا و ہادینا حضرت مرزا…مسیح موعودؑ قادیانی سلمہ ربہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا جناب کا ارشاد نامہ دربارہ بہشتی مقبرہ اخبار الحکم نمبر ۱ اور بدر نمبر ۱ خاکسار کو ملا۔ پڑھنے کو کمال سرور پیدا ہوا۔ اور اُسی وقت تحریک… خیال آیا کہ کس طرح لکھا جاوے۔ جو الحکم نمبر ۲ جلد۱۰، ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء بذریعہ ڈاک آج رات ۱۷ جنوری…کو ملا۔ اخبار ہذا کا صفحہ ۲ پر مضمون
ضمیمہ متعلقہ رسالہ الوصیت
لکھا ہوا ہے۔ غور سے پڑھنا شروع کیا۔ نمبر ایک سے بیسویں ہدایت پر آیا تو بِلاتوقّف معاً جوش پیدا ہوا۔ اور نہ ہو سکا کہ آیت الم (اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ)صفحہ ۲ کالم ۴ سطر ۱۹ ہدایت بیسویں سے (آگے بڑھ) سکوں۔ لہذا نہایت اخلاص اور سچے دل سے(عرض کر) رہا ہوں۔
… آج کی تاریخ ۱۷ جنوری ۱۹۰۶ء مطابق ۲۱ ذی قعدہ ۱۳۲۳ھ وصیت کرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے دسواں حصہ ۱۰؍۱ انجمن احمدیہ کارپرداز مصالح بہشتی مقبرہ قادیان، قادیان دارالامان کو دیا جاوے۔ اور میری میّت صندوق میں رکھ کر قادیان میں روانہ ہو۔ اور چندہ مبلغ۲۰روپے ارسال خدمت ہیں۔ میں نے یہ وصیت گواہانِ ذیل کے سامنے پوری ہوش اور حواس کے ساتھ کی ہے۔ خدا تعالی گواہ ہے۔
العبد
خاکسار
عنایت اللہ احمدی ولد محمد حسین قریشی
احمدی ساکن چبہ سندھواںتحصیل و ضلع گوجرانوالہ ڈاکخانہ خاص چبہ سندھواں
تھانہ قلعہ دیدار سنگھ ہے
۱۷/۱/۱۹۰۶جنوری ۱۹۰۶ء فَلِلّٰہِ الْحَمَدُ| گواہ شد | گواہ شد |
| مَلّا دُچھّا ساکن تھابل ڈاکخانہ پھِلُّوکے تحصیل و ضلع گوجرانوالہ | حسنی سُرر ساکن جھلیانوالہ تحصیل و ضلع گوجرانوالہ |
| نشان انگوٹھا | ۱۹ جنوری ۱۹۰۶ء] |
سادہ کاغذ والی وصیت بتاریخ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء پر ایک جگہ گواہ شد مَلّا دُچھّا کے متعلق یہ الفاظ درج ہیں۔
[گواہ شد۔مَلّا دُچھّا احمدی ساکن تھابل ڈاک خانہ پھِلُّوکے ضلع گوجرانوالہ]اس گواہی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت مَلّا دُچھّا ؓ نے حضرت اقدسؑ کی زندگی میں بیعت کی سعادت حاصل کر لی تھی۔ آپ کی نسل میں سےآپؓ کے پڑپوتے مکرم محمد صادق صاحب جماعت احمدیہ ’’نوکھر‘‘کے صدر رہ چکے ہیںجن کا شجرہ نسب یوں ہے۔محمد صادق ولد شیر محمد ولد احمد دین ولد مَلّا دُچّھا۔ موضع تھابل، قصبہ نوکھر سے نوشہرہ ورکاں روڈ پر پانچ کلومیٹر فاصلہ پر واقع ہے۔ مزیدبرآں وصیت کی اس اوّلین تحریر کے ابتدا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحبؓ نے حضرت اقدسؑ کے زمانے کے ہر دو اخبارات ’’الحکم‘‘ اور ’’البدر‘‘ اپنے پاس لگوائے ہوئے تھے۔ آگے چل کر یہ بھی معلوم ہو گا کہ آپ تاعمر اخبار ’’ الفضل‘‘ کے خریدار بھی رہے۔تبھی تو آپ کی وفات کی اطلاع دیتے وقت بھی آپ کے بھائی نے آپ کا خریدار الفضل نمبر واضح لکھا۔
٭… آپؓ نے ۵؍اپریل ۱۹۰۶ء کو اپنی وصیت کے متعلق انجمن کارپردازمصالح قبرستان بہشتی مقبرہ کے بعض دریافت طلب امور کے متعلق ایک کارڈ تحریر کرتے ہوئے لکھا: [ بنام بخدمت جناب اخویم غلام محمد احمدی ہیڈ ٹائم کیپر ریلوے پریس نولکھا معاون مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ قادیان
ریلوے پریس نولکھا، لاہور
… میں یہ باور نہیں کر سکتا کہ میرا سگا بھائی اس معاملہ میں میرا ساتھ دے کیونکہ وہ مخالف ہے۔انشاءاللہ گوجرانوالہ میں جا کر ہبہ نامہ لکھ کر ارسال خدمت کرتا ہوں۔]
٭ … اپنی وصیت میں جائیداد کی تفصیل دیتے ہوئے آپ نے لکھا: [ چاہ قمر دین والا مشمولہ چبّہ سندھواں کا نصف۔ کیونکہ ایک میرا حقیقی سگا بھائی اور مجھ سے چھوٹا میاں احمد علی ہے۔نصف کا مالک ہے۔ زمین کا پتہ یہ ہے۔

آپ کے بھائی میاں احمد علی صاحب کی نسل کا علم نہیں ہوسکا۔ اس بابت بھی محکمہ مال کے ریکارڈ سے تلاش کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ نیز آپ نے اپنے مکان کا جو حدود اربعہ تحریر کیا ہے، چبہ سندھواں کی پرانی آبادی میں جگہ کی تلاش کی کوشش ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مندرجہ بالا حدود اربعہ میں مکان کے تین اطراف گلیاں ہیں، صرف شرقی جانب ملحقہ رہائشی مکان تھا۔پرانی آبادی میں ایسی جگہیں شاید ہی ایک دو ہوں۔
٭… ۲؍مارچ ۱۹۰۶ء کو آپؓ نے وصیت نامہ دوبارہ ہاتھ سے لکھ کر بھیجا۔ اس وصیت پر تین گواہان درج کیے۔ جو درج ذیل تھے۔

٭… چندہ شرط اوّل ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء کو ادا کیا۔
٭… مورخہ۵؍مئی ۱۹۰۷ء کو وصیت کے متعلق استفسار پر آپؓ نے ایک کارڈ پر مرکز کے نام لکھا:
[بسم اللہ الرحمٰن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا نوازش نامہ آیا۔ بندہ بیمار تھا۔ اب تندرست تو ہے۔ لیکن کمزور نہایت۔ اور دونوں بھائی اور دُچھّا صاحب ابھی فصل کاٹنے میں مصروف ہیں۔ فارغ ہو کر انشاءاللہ فارم پُر کرکے ارسالِ خدمت ہونگے۔]
٭ … ۱۲؍جولائی ۱۹۰۷ء کے کارڈ پر تحریر کیا:
[ بسم اللہ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مولانا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عاجز نے وصیت کردہ اراضی زرعی کو ہبہ کرنے کے واسطے پٹواری دیہہ سے فرد نمبر خسرہ لے لیا ہے۔ اس لئے اب عرض ہے کہ صدر انجمن احمدیہ قادیان اپنے کسی معتمد علیہ کو ۱۸ جولائی ۱۹۰۷ء کو میرے پاس ارسال کر دے تا کہ میں اُنکے ساتھ ہو کر گوجرانوالہ جا کر بوساطت جناب منشی احمد دین ہبہ نامہ تصدیق کروایا جاوے تاکہ وصیت اخباروں میں طبع ہوجاوے۔]
اس تحریر میں مذکور منشی احمد دین صاحب اپیل نویس مشہور تھے۔ آپ حضرت اقدسؑ کےصحابی تھے۔ بلّے والا نزد ترگڑی ضلع گوجرانوالہ کے رہائشی تھے۔ بعدہ گوجرانوالہ شہر رہائش اختیار کرلی۔ حیاتِ قدسی صفحہ ۱۲۵ پر آپ کا ذکر ہے۔ نیز صفحہ ۱۵۹ تا ۱۶۵پر آپؓ کی بیان کردہ دلچسپ روایت درج ہے۔
٭ … ۲۳؍جولائی ۱۹۰۷ء کو آپؓ نے مرکزی ہدایت پر وصیت فارم پُر کیا تواس پہ لکھا۔
[۱۰ گھماؤں اراضی زرعی میری ذاتی ملکیت ہے، جو چاہ قمر دین والا پر واقع موضع چبہ سندھواں تحصیل و ضلع گوجرانوالہ میں ہے۔اِس میں سے بالمقطع بیس کنال اراضی زرعی جو نمبر خسرہ ۹۳۲ میں شامل ہے۔ بعوض خدمت جائیداد منقولہ و غیر منقولہ بغرض اشاعتِ اسلام و حصولِ رضائے رب العالمین صدر انجمن احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور کے سپرد کرتا ہوں…میرے وُرثاء اِس صدقہ جاریہ میں مدد کریں۔ تب میری روح اُن سے خوش ہوگی۔

۱۹۰۷ء کی اس تحریر میں گواہ کے طور پر کرم الٰہی احمدی سکنہ’’مان‘‘ کا ذکر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موضع’’مان‘‘ کے رہنے والے حضرت کرم الٰہی صاحبؓ نے بھی حضرت اقدسؑ کی زندگی میں بیعت کی سعادت حاصل کر لی تھی۔ آپ کے متعلق مزید معلومات ابھی تک نہ مل سکی ہیں۔



٭… حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل حکیم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستخطوں سے آپؓ کو ۲۴؍جون ۱۹۰۸ء کو سرٹیفکیٹ (بابت وصیت) جاری کیا گیا۔
٭ …۴؍مارچ ۱۹۲۷ء کو پٹواری نے نقل انتقال میں درج کیا :
[مسمی عنایت اللہ حصہ دار نے موازی ۲۰ کنال اراضی برضامندی خود بذریعہ درخواست معہ بیان تحریری عدالت بحق انجمن احمدیہ اشاعت اسلامیہ قادیان ہبہ کر دی ہے۔ دستخط اردو گنگا رام پٹوارینقل انتقال نمبر ۳۱۱ چبہ سندھواں۔ نمبر…۳۵۶ تحصیل وضلع گوجرانوالہ موجودہ دفتر قانونگوئی تحصیل گوجرانوالہ]
جہاںمسیحِ وقت کی آواز پر فوری لبیک کہتے ہوئے آپؓ سابقون الاوّلون میں شامل ہوئے اور آپؓ کا وصیت نمبر ۴ ہے، وہیں یہ بھی نمونہ دکھایا کہ اپنی ملکیتی اراضی کا ۴/۱ حصہ وصیت میں پیش کیا۔
٭… ۱۲؍مئی ۱۹۲۹ء کو آپؓ نے لکھا:
[اراضی موہوبہ میں سے غلہ از قسم گوبھی ایک من سات توپے کل ۲۳ توپے حصہ چہارم ملا ہے۔ اس واسطے عرض ہے کہ یہ کیا غلہ فروخت کر کے قیمت ارسال کر دوں جیسے مرضی ہو ارشاد فرماویں۔] ( وصیت فائل)٭… حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ نے ایک رؤیا کی بنا پر حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کی اجازت وراہنمائی سے فروری ۱۹۱۱ء میں ’’مجلس انصاراللہ‘‘ قائم فرمائی۔ ( اخبار البدر قادیان، ۲۳؍فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۲)اس کا بنیادی مقصد احمدیوں کے دلوں میں ایمان کی پختگی، تبلیغِ احمدیت، کتب حضرت اقدسؑ و کتبِ سلسلہ کا مطالعہ تھا۔ حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ نے اِس میں شمولیت اختیار کی تو آپؓ کا نام بھی شاملین میں شائع کیا گیا۔’’میاں عنایت اللہ صاحب چبّہ سندھواں‘‘( اخبار البدر قادیان، ۲۰؍اپریل ۱۹۱۱ء، صفحہ۱۱، کالم ۱)
٭ … ایک بار حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی خدمت میں دعا کی غرض سے آپؓ نے منظوم پنجابی میں لکھا۔ اس بابت اخبار بدر میں یوں درج ہے: ’’ ۱۰ستمبر ۱۹۱۲ء۔ بعض دوست اپنے واسطے دعائیں کرانے کے کیا کیا حیلے نکالتے ہیں۔ برادرعنایت اللہ صاحب احمدی قریشی ایک کا رڈ پر حضرت کے نام پنجابی میں لکھتے ہیں :
یا حضرت مَیں بہت نَکارا
میرے جوگا کرنا چارا
اللہ کولوں منگ دعائیں
خیریں پہنچے ٹَبّر سارا
سر دا سائیں راضی ہووے
ایہو مطلب دل دا بھارا
عنایت اللہ احمدی قریشی چھبہ سندھواں۔‘‘
( اخبار البدر قادیان، حصہ دوم کلامِ امیر، ۲۶؍ستمبر۱۹۱۲ء، صفحہ۱۱، ۱۲)
۱۹۱۵ء میں آپؓ کے قریبی گاؤں موضع ’’تھابل‘‘ سے تعلق رکھنے والے دوست حضرت مَلّا دُچھا صاحبؓ(جو آپ کی وصیت میں بطور گواہ تھے) کی وفات ہوئی تو آپ کی طرف سےاخبار الفضل نے خبر دیتے ہوئے لکھا: ’’موضع مانگٹ اونچے(گوجرانوالہ)سے برادر عنایت اللہ صاحب قریشی احمدی خبر دیتے ہیں کہ موضع تھابل میں مَلّا دُچھّا نام ایک مخلص بھائی نے انتقال کیا(اِنَّا للّٰہ خدا مغفرت کرے)مخالفین نے جنازہ کے واسطے بہت زور لگایا مگر’’پیر کوٹ‘‘، ’’جیدکے‘‘وغیرہ کے بارہ احمدیوں نے پہنچ کر تکفین و تدفین کا کام بڑی عمدگی سے مطابق شریعتِ حَقّہ انجام دیا (فالحمدُللّٰہ وَ جَزَاھُمُ اللّٰہ) مرحوم کی بیوہ نے بھی اِس موقع پر احمدیت کا حق ادا کر دیا۔ حتی کہ آخر مخالفین کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ یہ لوگ دین کے کاموں میں بڑے پکے ہیں (ماشاءاللہ) مقامی دوست برادر مرحوم کا جنازہ پڑھ دیں ‘‘ (الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۱۵ء، صفحہ ۲، کالم ۳)
٭… حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ نمونیہ سے چار روز بیمار رہنے کے بعد مورخہ ۲۲ اور ۲۳؍جنوری ۱۹۳۱ء کی درمیانی شب وفات پا گئے۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں قطعہ نمبر ۷، حصہ نمبر ۲ میں قبر نمبر ۸ ہے۔ اخبارالفضل قادیان میں قاضی فضل الٰہی قریشی سیکرٹری تعلیم و تربیت گوجرانوالہ نے درج ذیل اعلان شائع کروایا: ’’مولوی عنایت اللہ صاحب ساکن چَبّہ سندھواں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرانے خادم تھے۔ اور ۳۱۳ اصحاب میں سے تھے۔ ۲۲۔۲۳ جنوری سن ۳۱ء کی درمیانی رات کو فوت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ احباب دعائے مغفرت کریں۔‘‘(الفضل ۳؍مارچ ۱۹۳۱ء، صفحہ ۲)
٭ … آپؓ کے بھائی احمد علی صاحب نے تحریر کیا:
[بسم اللہ الرحمان الرحیم نحمدہ و نصلیجناب حضرت خلیفة المسیح الثانی سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ
قبل ازیں جناب ایڈیٹر الفضل کی خدمت میں لکھا گیا تھا کہ ۲۲ جنوری ۱۹۳۱ء کو مولوی عنایت اللہ بعارضہ نمونیہ بیمار رہ کر فوت ہو گئے۔ آپ اس خبر کو اپنے اخبار میں درج کر دیں اور حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر دیں۔ افسوس کہ یہ خبر اخبار میں درج نہیں ہوئی۔ مرحوم کی وصیت کے مطابق وہ اِس جگہ امانتاً مدفون ہیں۔ آپ واپسی ڈاک میں حکم تحریر فرما دیں کہ میّت کو وہاں تک پہنچانے کیلئے کس قدر خرچ کرنا درست ہے۔ مرحوم صندوق میں مدفون ہیں۔ اور بھی کسی قسم کے اظہار کے مطلب کی ضرورت ہو تو وہ بھی تحریر فرما دیں اور یہ بھی عرض ہے کہ مرحوم مذکور ایک غریب پایہ کا احمدی ہےاور کمترین اس کا بھائی اس سے کم درجہ کا آدمی ہے۔ ایک ناداری دوسرا بینائی نہیں اور (مرحوم) کے لئے دعائے مغفرت کی جائے۔ خاکسار احمد علی برادر عنایت اللہ مرحوم احمدی۔ خریدار الفضل نمبر ۹۸۱۔ ۲۱/۲/۱۹۳۱]
٭ … [مولوی عنایت اللہ صاحب مرحوم کی نعش ۱۳ اپریل ۱۹۳۱ کو بذریعہ موٹر قادیان دارالامان پہنچی۔ نعش قطعہ نمبر ۷۔ حصہ نمبر ۲ قبر نمبر ۸ میں دفن کئے گئے۔](وصیت فائل)
وفات کے وقت آپؓ کی عمر ۶۶؍برس تھی۔ (فہرست وفات یافتہ موصیان ۱۹۰۵ء تا ۲۰۰۷ء۔ صفحہ:۷، نمبر شمار ۷۶، وصیت نمبر ۴)
مکرم قاضی عطاء الٰہی صاحب قانونگو آف گوجرانوالہ، حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ کی اہلیہ کے بھتیجے تھے اور چبّہ سندھواں کے ہی رہنے والے تھے۔حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب ہی کے ذریعہ آپ کے سُسرالی قاضی خاندان میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ قاضی عطاء الٰہی صاحب قانونگو کی بیٹی سعیدہ بیگم صاحبہ کی شادی قاضی عبدالحمید صاحب ابن قاضی عبدالعزیز صاحب سے ۱۹۴۶ء میں ہوئی۔ بعدہ قاضی عبدالحمید صاحب(وصیت نمبر ۱۰۶۴۹) درویش قادیان ہوئے۔ آپ کے ایک بیٹے قاضی شاہد صاحب دفتر آڈٹ قادیان میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ (ہفت روزہ بدر قادیان ۱۵۔۲۲۔۲۹؍دسمبر ۲۰۱۱ء۔ درویشانِ قادیان نمبر۔صفحہ ۱۴۲۔مضمون بابت قاضی عبدالحمیدصاحب۔مضمون نگار :قاضی شاہد احمد، دفتر آڈٹ قادیان)


ریونیو ریکارڈ کے مطابق آپ کی اہلیہ کا نام سید بیگم تھا، جن کی تدفین گاؤں میں ہی قاضی فیملی کے ڈیرے کے پاس کی گئی تھی۔ اسی جگہ قاضی عطاء الٰہی صاحب کی تدفین ہوئی، نیز چند دیگر احمدیوں کی تدفین کی گئی۔ بعدہ جب زمین فروخت کردی گئی تو قبریں بھی زمین میں شامل کر لی گئیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، حضرت مولوی عنایت اللہ صاحبؓ نے اپنی وصیت (۴/۱)کے مطابق ۱۹۲۶ء میں انتقال نمبر ۳۱۱ موضع چبّہ سندھواں کے تحت صدر انجمن احمدیہ کے نام ۲.۵؍ایکڑ زمین لگوائی۔ بعد ازاں صدر انجمن احمدیہ نے ۳۰؍مئی ۱۹۳۸ء کو یہ جگہ فروخت کی تو قاضی فضل الٰہی و قاضی عطاء الٰہی پسران شہاب دین نے یہ رقبہ خرید لیا۔

لمبے عرصے بعد قاضی فیملی بھی گاؤں سے گوجرانوالہ، لاہور اور پھر بیرونِ ملک شفٹ ہو گئی تو گاؤں سے اپنی اراضی فروخت کر دی۔ اگر حضرت مولوی صاحبؓ کی ملکیتی زمین جو وصیت کے عوض انہوں نے پیش کر دی تھی، اسکی نشاندہی کی جائے تو نقل انتقال میں درج خسرہ نمبران ۱۹۴۱، ۱۹۴۲ کے ۲؍ایکڑ اور۱۹۴۸/۱ سے ۴؍کنال رقبہ تھا۔ یہ ریکارڈ اب گورنمنٹ کی طرف سے PULSE پراجیکٹ کے تحت آن لائن بھی دستیاب ہے۔یہ نقشہ پٹواری کے لَٹھا کے مطابق ہے۔ اس کے مطابق یہ رقبہ چبہ سندھواں کی آبادی کے شرقی جانب سے گزرتے ہوئے دفتر یونین کونسل اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے قریب سے گزر کر آگے نہر کے ساتھ دائیں (مغرب) کو قریباً ایک کلومیٹر جائیں تو (نہر کے کنارے مہاجرینِ جموں کی آبادی جسے نئی آبادی بھی کہا جاتا ہے، سے کچھ آگےجا کر ) بائیں (جنوب)کو ایک رستہ جاتا ہے۔ اس رستہ پر نہر سے جانب جنوب تیسرا ایکڑ خسرہ نمبر ۱۹۴۱؍ہے۔ اس سے شرقی جانب ملحقہ خسرہ ۱۹۴۲؍ہے۔ درمیان میں ایک ایکڑ چھوڑ کر خسرہ نمبر ۱۹۴۸/۱ ہے۔ جو آپؓ نے اپنی جائیداد کے چوتھے حصے کے عوض اپنی زندگی میں پیش کر دیے تھے۔

اِن ابتدائی سرفروشوں نے جن زمینوں پہ قدم رکھے، جہاں کھیتی باڑی کی، آئندہ زمانہ میں اُن جگہوں کی نشاندہی کر کے بھی لوگ جذبات سے پُر ہوں گے۔ احمدِؑ ہندی نے فرمایا تھا :
مُبارک وہ جو اَب ایمان لایا
صحابہ سے مِلا جب مُجھ کو پایا
وہی مَے اُن کو ساقی نے پِلا دی
فَسُبحان الّذی اَخزی الْاَعَادِی
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکرم طاہر محمود صاحب شہید




