مکرم طاہر محمود صاحب شہید
ایک نڈر داعی الی اللہ اور خدمت خلق کرنے والے انسان جن کی دوران اسیری وفات ہوئی اور حضرت خلیفةالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انہیں شہدائےاحمدیت میں شمار فرمایا
خاکسار کا طاہر محمود صاحب سے رابطہ ۱۹۸۴ء میں قائم ہوا۔ اس دَور میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کی مقامی مجلس کا نام ملیر تھا۔ اس میں جماعت احمدیہ ماڈل کالونی، ملیر کینٹ اور ملیر کالونی کا علاقہ شامل تھا۔ طاہر محمود صاحب مجلس خدام الاحمدیہ ملیر کراچی کے ایک فعّال کارکن تھے۔ ان کی طبیعت کا خاصہ تھا کہ جو کام بھی ان کے سپرد کیا جاتا اس کو پوری ذمہ داری سے ادا کرتے او ر کوشش کرتے کہ اعلیٰ معیار تک اس کو پہنچائیں۔

خلافتِ رابعہ کے بابرکت دور میں جب دعوت الیٰ اللہ کی تحریک کو مہمیز لگایا گیا تو طاہر محمود صاحب کو تو جیسے ان کا من پسند کام ہی مل گیا۔ اس زمانے میں ان کی ایک ٹیلرنگ کی دکان تھی جو ایک ہوٹل کے اوپر تھی۔ اس میں کپڑے سینے کا کام تو کم ہی کرتے تھے لیکن سوال و جواب کی محفل مستقل چلتی رہتی تھی۔ ساتھ ساتھ ہر شامل محفل کے لیے چائے کا بھی انتظام ہوتا تھا۔
اسی دور میں پہلے آڈیو کیسٹ اور بعد ازاں ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کی مجالس سنانے کے لیے ان کے پاس ایک بہت وسیع خزانہ موجود تھا جس کو وہ حسب موقع خوب استعمال کرتے تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ وہ ایک کامیاب داعی الیٰ اللہ تھے اور نہ صرف اپنے علاقے کی مختلف زبانیں بولنے والوں میں سے ان کو پھل حاصل ہوتے تھے بلکہ دُوردراز کے علاقوں سے بھی ان کو پھل مل جاتے تھے اور پھر ایسے لوگ جماعت کے ساتھ ایک مضبوط تعلق میں بندھ جاتے تھے۔
اپنی نوجوانی کے وقت وہ کچھ عرصہ ایک عرب ملک میں بھی رہے اور وہاں بھی دعوت الیٰ اللہ کرنے کی وجہ سے اسیری کا اعزاز حاصل کیا اور بیان کیا کرتے تھے کہ ان پر شدید جسمانی تشدد بھی کیا جاتا رہا۔
ان کی دکان پر ایک مرتبہ مخالفین نے پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ خاکسار نے ان کی دکان پر جا کر ان کو مبارک باد دی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو فخر سے بتانے لگے کہ دیکھو ہم اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
عالمی بیعت کی تحریک کے بعد تو انہیں ایک مثالی داعی الیٰ اللہ کے طور پر نمایاں کام کرنے کی توفیق ملی اور ہرسال ان کے پھلوں کی تعداد قابل رشک ہوتی تھی۔ یہ جذبہ ان کی آخری اسیری کے دَور میں بھی قائم رہااور جیل میں بھی پیغام حق پہنچاتے رہے۔
ہومیوپیتھک کے ذریعہ خدمت خلق کا کام انہوں نےبہت محنت سے کیا۔ اگرچہ انہوں نے خود تو باقاعدہ کسی ادارے سے ہومیوپیتھی کا کورس نہیں کیا تھا لیکن حضرت خلیفةالمسیح الرابعؒ کی کلاسز سے استفادہ کرکے مرض کی تشخیص کرنے کے بعد دوا تجویز کرلیتے تھے او ر مریضان معجزانہ شفا پاتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے بعض عزیزان اور دوستوں کی مدد سے ایک باقاعدہ ہومیوپیتھک ڈسپینسری بھی جاری کی جس میں وہ کسی سند یافتہ ہومیو ڈاکٹر کو شامل کرکے کلینک چلاتے رہے۔ ایک غیر احمدی ڈاکٹر آخر وقت تک اس ڈسپینسری میں رضاکارانہ خدمت پیش کرتے رہے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنا ایک گھر مستقلاً وقف کیا ہوا تھا جس میں ہر جمعہ کے دن مفت تشخیص اور ادویات دی جاتی تھیں۔ مکرم طاہر محمود صاحب ذکر کرتے تھے کہ جمعہ کے روز اگر عید بھی ہوتی تو کلینک ضرور کھلتا تھا، موسمی حالات کا تو ذکر ہی کیا۔ یہ کلینک ربع صدی تک جاری رہا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے بہت سے نوجوانوں میں بھی خدمت خلق کا جذبہ پیدا کیا اور کئی نوجوان جمعہ کے دن ان کے پاس رضاکارانہ کام کرنے کے لیے جاتے تھے۔
مجلس خدام الاحمدیہ کے دَور میں جب وہ ناظم تربیت تھے تو انہوں نے پوری مجلس ملیر میں ایک مہم کے ذریعہ خدام کو نظام وصیت میں شامل کیا۔ ہر غیر موصی خادم سے ذاتی رابطہ کیا حتیٰ کہ ان کے گھر کے افراد کو بھی نظام وصیت میں شامل کیا۔ ان کے ذریعہ موصی ہونے والے تقریباً سب ہی اپنی وصیت پر قائم ہیں۔ اور جب ۲۰۰۵ء میں حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک فرمائی تھی اس وقت ہمارے علاقے میں موصیان کی تعداد کراچی کی جماعتوں میں ایک نمایاں مقام پر تھی جس پر بعد میں مزید کام کرکے اس میں اضافہ کرنے میں سہولت رہی۔
مجلس انصار اللہ کی تنظیم میں شامل ہونے کے بعد یہاں بھی بےلوث جذبہ کے ساتھ کام کرتے رہے۔ کوشش کرتے کہ مجلس کے ہر شعبے میں ہر ماہ کچھ نہ کچھ کارکردگی ہوجائے۔ مجلس انصار اللہ ماڈل کالونی کے زعیم اعلیٰ کے طور پر ایک طویل عرصہ کام کیا اور دو مرتبہ مسلسل عَلَم انعامی بھی حاصل کرنے کی توفیق ملی۔ اس کے علاوہ بھی ہر سال پہلے دس نمایاں مقام حاصل کرنے والے زعمائے اعلیٰ میں ان کا نام آتا رہا۔
مجلس انصار اللہ کے مقامی پروگرام کے لیے پہلےسے مکمل لائحہ عمل طے کرتے۔ اگر اجلاس عام ہوتا تو اس میں مختلف موضوعات سے متعلق مضامین کا انتخاب کرکے اراکین کو دیتے کہ حاضرین کو سنائیں۔ اسی طرح اگر مجلس یا ضلع کی سطح پر کوئی سائیکل سفر کا پروگرام ہوتا تو اضافی سائیکلوں کا انتظام اپنی نگرانی میں کرواتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے کسی بھی پروگرام میں مجلس کے سائیکل سوار شرکاء کی ایک خاطر خواہ تعداد شامل ہوجاتی۔
اسی طرح جب تک مطالعہ کتب اور مضمون نویسی اور مقالہ نویسی کے مقابلہ جات مرکزی سطح پر ہوتے رہے تو طاہر محمود صاحب بہت محنت سے مواد کے حصول میں معاونت کرتے اور اس طرح کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ انصار کی نمائندگی ہوسکے۔ یہی وجہ تھی کہ مقابلہ جات میں مجلس کے انصار پوزیشن حاصل کرتے رہتے تھے۔
ایسے ہی ایک موقع پر انہوں نے خاکسار کو بھی تحریک کی کہ مقالہ نویسی کے مقابلے میں حصہ لوں اور یہ بھی کہا کہ اگر زیادہ نہیں تو کچھ ہی صفحات لکھ دیں۔ اس پر خاکسار نے چند صفحات لکھ کر دے دیے۔ ان دنوں ڈاکٹر عبدالخالق صاحب قائد تعلیم تھے، ان کاخاکسارکے نام ایک بہت ہی لطیف تبصرہ کا خط آیا کہ یہ مقالہ نہیں لیکن مضمون کے طور پر شمار ہوسکتا ہے۔
جب مجلس ماڈل کالونی کو تقسیم کرکے نئی مجلس،مجلس انصاراللہ ملیر کالونی کا قیام کیا گیا تھا تو پھر وہاں بھی بطور زعیم اعلیٰ کام کیا۔ وفات سے چند سال قبل ان کی بیماری اس قدر شدید ہوگئی کہ کئی روز تک ventilator پر رہے، اس وقت بھی مجلس کے زعیم اعلیٰ تھے۔ اس کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ شفا عطافرمائی۔ اسی دوران نئی دو سالہ مدت کے انتخاب کے لیے خاکسار کی ذمہ داری لگائی گئی تو اجلاس میں ان کا نام بھی پیش کیا گیا خاکسار نے جب اس امرکا اظہار کیا کہ وہ تو ابھی ہسپتال میں ہیں تو نام پیش کرنے والے دوست نے کہا کہ ان شاء اللہ ان کو شفا ہو جائے گی۔چنانچہ وہ صحت یاب ہوکر گھر بھی آ گئے اور مرکز سے ان کے نام کی منظوری بھی آگئی جس کے بعد انہوں نے مجلس ملیر کالونی کی دو سال مزید بطور زعیم اعلیٰ خدمت کی۔ مکرم طاہر محمود صاحب کو مقامی جماعت میں مختلف ذمہ داریوں پر کام کرنے کا موقع ملا جس میں سیکرٹری مال۔ بعدازاں صدر حلقہ ملیر کالونی ایک طویل عرصہ کام کیا۔ وفات کے وقت بھی وہ صدر حلقہ ملیر کالونی تھے۔
کراچی میں مقامی امارات کے قیام کے بعد امارت ڈرگ روڈ کراچی میں بطور نائب امیر امارت ڈرگ روڈ بھی ان کو خدمت کا موقع ملا۔ اسی طرح انصار اللہ ضلع کراچی کی عاملہ میں خدمت کی توفیق پائی۔
حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۶؍مئی ۲۰۲۵ء میں مکرم طاہر محمود صاحب کی شہادت کا ذکر کیا اور نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ برکت کی خاطر اس خطبہ سے کچھ حصہ شاملِ مضمون ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا: ’’بوقت وفات ان کی عمر ۷۰ سال تھی، تفصیلات کے مطابق مرحوم طاہر محمود صاحب صدر حلقہ ملیر کالونی کراچی اور دیگر دو احباب اعجاز حسین صاحب اور ایاز حسین صاحب کے خلاف ملیر کالونی کراچی میں اپنی مسجد کی طرزتعمیر اور وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کو جواز بنا کر پولیس نے ان کے خلاف چارج کیا اور گرفتاری عمل میں لائی اور پہلے قبل از گرفتاری ضمانت کروائی گئی تھی لیکن بعد میں ان کی ضمانت منسوخ ہوگئی اور ان کو گرفتار کرلیا گیا اور اس دوران میں جب کہ وہ ضمانت کے لیے عدالت میں تھے مخالفین کے ہجوم نے اور مخالف وکلاء نے ان پر حملہ کیا۔ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ یہاں تک کہ پولیس کے ایک اہلکار نے ہجوم کو کہاکہ اس کو گولی مار دواور پولیس اسٹیشن میں بھی ان پر تشدد کیا گیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے خلاف بدزبانی کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن یہ ڈٹے رہے۔ استقامت دکھائی۔ اس کے بعد ان کو جوڈیشل کرکے جیل میں منتقل کیا گیا۔ جیل میں یہ دو ماہ رہے اور وفات سے چند دن قبل ان کے گردوں میں انفیکشن کی وجہ سے جیل میں طبیعت خراب ہوئی تو پھر ان کو وہاں سے ہسپتال بھیجا گیا لیکن چند دنوں کے بعد یہ وفات پاگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
وفات کے وقت ہسپتال میں بھی ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں اور یہ جو ان کی وفات ہے یہ تشدّد کی وجہ سے بھی ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے ان کو اندرونی چوٹیں بھی آئی ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ سبب بھی یہی بنی ہوں۔ اس لحاظ سے اسیری کی صعوبتیں برداشت کیں، مار کھائی، عدالت کے سامنے مار کھائی اور یہ ساری وجوہات، یہ شواہد ایسے ہیں کہ اس لحاظ سے ان کو شہادت کا مقام ہی ملتا ہے اور یہ شہیدوں کے زمرے میں ہی آئیں گے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔
(سید منیر احمد۔ امریکہ)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترم نذیر احمد ڈار صاحب



