مکتوب شمالی امریکہ(اپریل تا مئی ۲۰۲۶ء)
براعظم شمالی امریکہ کے چند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
گذشتہ چند ماہ براعظم شمالی امریکہ کے لیے غیر معمولی سرگرمیوں، نئی قانون سازی، عالمی کھیلوں، خلائی پیش رفت اور معاشی اتار چڑھاؤ کے حامل رہے۔ ان میں چند واقعات ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈااور میکسیکوکی داخلی صورتِ حال کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی بحث و مباحثہ کو جنم دیا۔ ذیل میں ان نمایاں واقعات کی ایک مختصر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔
آرٹیمس دوم: چاند کی طرف انسانی سفر کی داستانِ ثانی
یکم اپریل ۲۰۲۶ء کو امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے ناسا (NASA) نے آرٹیمس دوم (Artemis II) مشن روانہ کیا۔ یہ پرانی اصطلاح کے مطابق خلائی شٹل نہیں تھی بلکہ جدید اورین خلائی جہاز (Orion Spacecraft) تھا، جسے اسپیس لانچ سسٹم (Space Launch System) راکٹ کے ذریعے چاند کے گرد پرواز کے لیے بھیجا گیا۔ اس تاریخی سفر میں ریڈ وائز مین (Reid Wiseman)، وکٹر گلوور (Victor Glover)، کرسٹینا کوچ (Christina Koch) اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن (Jeremy Hansen) شامل تھے۔ یہ ۱۹۷۲ء کے بعد پہلا موقع تھا کہ انسان دوبارہ چاند کے مدار کے قریب پہنچا۔ اس مشن کی خاصیت یہ تھی کہ اس نے چاند پر اترنا نہیں تھا بلکہ چاند کے گرد پرواز کرتے ہوئے خلائی جہاز، لائف سپورٹ، نیوی گیشن اور مسقتبل میں چاند پر لینڈنگ کے نظاموں کو آزمانا تھا۔ یوں یہ سفر محض ایک سائنسی تجربہ نہیں بلکہ انسانی عزم، خلائی تحقیق اور چاند پر مستقل قیام کی سمت ایک روشن پیش قدمی قرار پایا۔
فٹ بال ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء:
کھیل، سفارت کاری اور سفر کی آزمائش
جون میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا آغاز براعظم شمالی امریکہ میں ہوا ہے۔ یہ عالمی مقابلہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کی میزبانی پہلی مرتبہ تین ممالک یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو، مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ اس بار شریک ٹیموں کی تعداد بڑھا کر ۴۸؍کر دی گئی ہے جس نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ بنا دیا۔ امریکہ، اسرائیل اور اتحادیوں کے ایران پر حالیہ جنگی حملوں کے باوجود ایران کی ٹیم بھی اس عالمی میلے کا حصہ بنی ہے مگر اس کی شرکت کے ساتھ ویزا اور قیام کے معاملات نے ایک سفارتی رنگ اختیار کر لیا تھا۔ ایرانی کھلاڑیوں کو امریکہ میں میچ کھیلنے کے لیے ویزے جاری کیے گئےتاہم بعض انتظامی اور معاون عملے کو اجازت نہ مل سکی۔ جنگی ماحول کی وجہ سے ایران کو اپنا کیمپ میکسیکو کے شہر Tijuana میں قائم کرنا پڑا ہے اور ٹیم کو امریکہ میں مستقل قیام کے بجائے ہر میچ کے لیے سفر کرنا پڑے گا۔ ایران کے میچ Los Angeles اور Seattle میں کھیلے جائیں گے جہاں ایرانی ٹیم میچ سے پہلے ہوائی سفر کرکے پہنچا کرے گی اور میچ کے بعد واپس میکسیکو چلی جایا کرے گی۔ اسی طرح صومالیہ کے ریفری Omar Abdulkadir Artanکو بھی امریکہ میں داخلہ سے روک دیا گیا حالانکہ وہ فیفا FIFA کے منتخب ریفریوں میں شامل تھے اور ان کے پاس امریکہ کا ویزا بھی تھا تاہم انہیں میامی ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ اس لیے قابلِ ذکر تھا کہ وہ صومالیہ کے پہلے ریفری بن سکتے تھے جو ورلڈ کپ میں فرائض سرانجام دیتے۔ اس فیصلے نے عالمی کھیلوں میں میزبان ملک کی امیگریشن پالیسی، مساوی شرکت اور کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کے اصول پر ایک سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ دریں اثنا کینیڈا نے عمرعبدالقادر آرتن کو دعوت دی ہے کہ وہ کینیڈا میں ہونے والے میچز میں ریفری کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیےکینیڈا آسکتے ہیں۔
۳۔ کینیڈا کا بل سی۔9؍نفرت انگیز جرائم کے خلاف نئی قانونی دیوار
کینیڈا کا نیا قانون بل سی۔9 بعنوان Combatting Hate Act یعنی ’’نفرت کے خلاف جنگ‘‘ آج کل زیربحث ہے۔ یہ بِل کینیڈین پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد سینٹ میں پیش کیا گیا تھا جس نے بعض ترامیم تجویز کرکے یہ بِل دوبارہ پارلیمنٹ کو غور کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔
یہ بل سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اس بل کا مقصد فوجداری قانون میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جن کے ذریعے نفرت انگیز علامات، نفرت پر مبنی جرائم، عبادت گاہوں یا ثقافتی مقامات تک رسائی میں رکاوٹ اور مخصوص گروہوں کے خلاف اشتعال انگیزی کو واضح طور پر جرم کے دائرے میں لایا جا سکے۔ اس کی اہمیت اس پس منظر میں بڑھ جاتی ہے کہ کینیڈا میں مذہبی، نسلی اور ثقافتی برادریوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ایک قومی تشویش بن چکا ہے۔ حکومت کے نزدیک یہ قانون یہودی، مسلمان، سکھ، ہندو، عیسائی، مقامی باشندوں (Indigenous Peoples) اور دیگراقلیتوں کے تحفظ کی طرف ایک ضروری قدم ہے۔
تاہم اس بل کی سب سے متنازعہ شق وہ قرار پائی ہے جس کے تحت مذہبی موضوعات یا مذہبی نصوص پر نیک نیتی سے دی گئی رائے کو نفرت انگیز تقریر کے مقدمات میں بطورِ دفاع قبول نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس سے مذہبی آزادی اور آزادئ اظہار پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو قانونی تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ اس قانون سے سب سے زیادہ فائدہ ان برادریوں کو پہنچنے کی توقع ہے جو عبادت گاہوں، ثقافتی مراکز، تعلیمی اداروں یا عوامی مقامات پر نفرت انگیز مہمات کا نشانہ بنتی ہیں۔ تاہم ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس شق میں استعمال کیے گئے الفاظ کا چناؤ اور استعمال ظاہر کرتا ہے کہ یہ شق کسی خاص کمیونٹی کو تنقید سے بچانے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔
سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی تجویز
جون ۲۰۲۶ء میں کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ایک اور بل سی۔34، یعنی سیف سوشل میڈیا ایکٹ (Safe Social Media Act) متعارف کروایا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بعض مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس (AI Chatbots) پر بچوں کے تحفظ کی قانونی ذمہ داری عائد کی جائے گی۔ اس کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس بل کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے سے روکا جائے گا یا سخت پابندیوں اور حفاظتی شرائط کے تحت اجازت دی جائے گی۔ قانون میں Cyberbullying، خود کو نقصان پہنچانے پر اکسانے والے مواد، جنسی استحصال، نفرت انگیز مواد، تشدد پر اکسانے، دہشت گردی، اور غیر رضامندی سے پھیلائی گئی نجی تصاویر جیسے خطرات کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ قانون اس لیے اہم ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن لت، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور خطرناک مواد تک رسائی کے بارے میں والدین، اساتذہ اور پالیسی ساز حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے شناختی معلومات جمع کرنے سے رازداری کے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اور نوجوان تکنیکی راستے تلاش کر کے پابندی سے بچ بھی سکتے ہیں۔ اس لیے یہ قانون صرف پابندی کا نام نہیں بلکہ ڈیجیٹل عہد میں بچوں کے تحفظ، والدین کی رہنمائی، اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جواب دہی کا ایک بڑا امتحان ہے۔
ایلون مسک: دُنیا کا پہلا کھرب پتی اور سرمایہ دارانہ عہد کا نیا استعارہ
۱۲؍جون ۲۰۲۶ء کو اسپیس ایکس (SpaceX) کے حصص، اسٹاک مارکیٹ Nasdaq پر عام فروخت کے لیے پیش ہوئے تو ایلون مسک کی دولت کاغذی حساب سے ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اسپیس ایکس کی ابتدائی عوامی پیشکش کو تاریخ کی سب سے بڑی پیشکشوں میں شمار کیا گیا اور کمپنی کی مالیت تقریباً دو ٹریلین ڈالر ( دو کھرب ڈالر) تک جاپہنچی۔ چونکہ مسک کے پاس اسپیس ایکس کا بڑا حصہ موجود تھا اور اس کے ساتھ Tesla میں بھی ان کے اربوں ڈالر مالیت کے حصص تھے، اس لیے انہیں دنیا کا پہلا کھرب پتی قرار دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک شخص کی دولت کا ریکارڈ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، نجی خلائی صنعت، مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں اور سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے مزاج کی علامت بھی ہے۔ اس نے ایک طرف نجی اداروں کی غیر معمولی قوت کو نمایاں کیا، تو دوسری طرف دولت کی بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر بھی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
میکسیکو: فٹ بال ورلڈ کپ ، سفری انتباہ اور عوامی احتجاج
جون ۲۰۲۶ء میں میکسیکو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا افتتاح میکسیکو سٹی کے مشہور اسٹیڈیو ازتیکا (Estadio Azteca) میں ہوا۔ میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ مشترکہ میزبان ہے، مگر افتتاحی جوش و خروش کے ساتھ سلامتی، احتجاج اور سفری انتباہ بھی زیرِبحث رہے۔ امریکہ نے میکسیکو کے بارہ میں سفری ہدایت نامہ جاری کیا جس میں بعض علاقوں میں جرائم، اغوا اور تشدد کے خطرات کا ذکر کیا گیا۔ اگرچہ Mexico City اور Monterrey کو نسبتاً کم خطرے والے درجے میں رکھا گیا، مگر Guadalajara کی ریاست Jalisco کو زیادہ احتیاط والے درجے میں شامل کیا گیا۔
اسی دوران اساتذہ کی تنظیم سی این ٹی ای نے یکم جون کو میکسیکو سٹی میں قومی ہڑتال اور بڑے مارچ کا اعلان کیا۔ ان کے مطالبات میں پنشن قانون کی منسوخی، تنخواہوں میں اضافہ، تعلیمی و مزدور اصلاحات کی واپسی، صحت و تعلیم کے بجٹ میں اضافہ، اور برطرف کارکنوں کی بحالی شامل تھے۔ اس احتجاج نے ورلڈ کپ کے آغاز سے چند دن قبل حکومت کے لیے انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ صدر کلاڈیا شین بام (Claudia Sheinbaum) نے عوام کو یقین دلایا کہ حالات قابو میں ہیں مگر اس واقعہ نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ کھیلوں کے بڑے عالمی مقابلے صرف میدانوں تک محدود نہیں رہتے وہ میزبان ملک کی سیاست، معیشت، مزدور مسائل اور سلامتی کی صورتِ حال کو بھی دنیا کے سامنے لے آتے ہیں۔
مزید پڑھیں: الفضل ڈائجسٹ




