الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
کلمہ طیبہ کے ایک مقدمے کی روئیداد
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ کینیڈا‘‘ جنوری ۲۰۱۴ء میں مکرم ملک محمود احمد صاحب آف گوجرانوالہ کے قلم سے ایک مقدمے کی روئیداد بیان کی گئی ہے جو جنرل ضیاءالحق کے جاری کردہ بدنام زمانہ آرڈیننس کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ ۲۰؍اکتوبر۱۹۸۴ء کی شام میری ایجنسی پر SHO نے آکر مجھے ایک FIR دی اور کہا کہ آپ پر ایک مقدمہ درج ہوا ہے، مَیں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس سلسلے میں خود کارروائی کروں، آپ اپنی ضمانت کروالیں۔
FIR کے مطابق مخالفین نے بیان کیا تھا کہ احمدیہ مسجد کی بیرونی دیوار پر کلمہ طیّبہ لکھا ہے جو خلافِ قانون ہے۔ اس میں خاکسار کے علاوہ مکرم حاجی محمد شریف صاحب نائب امیرضلع اور مکرم مولانا محمد اعظم اکسیر صاحب مربی سلسلہ ملزم گردانے گئے تھے۔ بعدازاں مکرم چودھری محمد شریف احمد صاحب جنرل سیکرٹری کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ امیر صاحب لاہور کو اطلاع دی گئی تو وہاں سے تین وکلاء مکرم سی۔اے رحمان صاحب، مکرم مرزا نصیر احمد صاحب اور مکرم ملک محمود مجید خان صاحب گوجرانوالہ آئے اور اگلے ہی روز عدالت میں درخواست دے کر عارضی ضمانت منظور ہوگئی جس کی توثیق ۱۱؍نومبر۱۹۸۴ء کو سیشن کورٹ سے ہونا تھی۔
۱۱نومبر کو ہم سیشن کورٹ پہنچے تو باہر مُلّاؤں نے ایک ہجوم اکٹھا کررکھا تھا۔ ستّر اسّی احمدی بھی موجود تھے۔ آواز پڑنے پر ہم عدالت میں داخل ہوئے تو ہجوم نے وکلاء کی کرسیوں پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی انہوں نے عدالت کے اندر ہی نعرہ بازی شروع کردی۔ بحث شروع ہوئی تو مخالفین کے وکلاء جذباتی تقریریں کرتے اور ضمانت کی منسوخی سے کم پر راضی ہوتے نظر نہیں آتے تھے۔ عدالت پر شدید دباؤ تھا اور یقین ہوچلا تھا کہ فیصلہ ہمارے خلاف آئے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور عدالت نے ضمانت کی توثیق کردی تاہم مخالفین کی تسلّی کے لیے زرِضمانت پانچ ہزار سے بڑھاکر پچاس ہزار کردیا۔
یہ مقدمہ قریباً دس سال چلتا رہا۔ ہر ماہ پیشی ہوتی۔ ہم تینوں ملزمان کے خلاف ۱۹۸۵ء اور ۱۹۸۶ء میں اسی قسم کے مزید مقدمات بھی بنادیے گئے۔ مقدمے کی طوالت دیکھتے ہوئے بعض قانونی حلقوں کی رائے تھی کہ عدم ثبوت کی بِنا پر عدالت سے بریّت کے لیے رجوع کیا جائے تاہم ہمارا یہی جواب تھا کہ یہ مقدمات ہمارے لیے تکلیف نہیں بلکہ راحت کا باعث ہیں۔ اس دوران مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب کی تبدیلی فیصل آباد ہوگئی تو وہ بڑی دقّت سے ہر تاریخ پر سفر کرکے آتے۔ خاکسار نے ایک بار اُن سے کہا کہ قانون میں یہ رعایت موجود ہے کہ آپ کو حاضری سے استثناء مل جائے تو انہوں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا اور کہا کہ یہ تو ایک اعزاز ہے، آپ مجھے کیوں اس سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب دس سال بعد مقدمہ خارج ہوگیا تو بھی مربی صاحب اداس ہوکر کہنے لگے کہ یہ تو برکت کا ایک ذریعہ تھا جو ختم ہوگیا۔ عدالت میں آنے والے اکثر احمدی اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کا بَیج لگاکر آتے تھے۔ بعض کو اس پاداش میں گرفتاری اور جیل کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں ایک نابینا مکرم حافظ بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔ احمدیوں کا کلمہ طیبہ سے عشق کا یہ حال تھا مقدمے کے دوران احمدیہ مسجد باغبان پورہ کی بیرونی دیوار پر ۴۷ مرتبہ کلمہ طیبہ لکھا گیا اور ہر مرتبہ پولیس نے اسے مٹایا۔ اسی دوران مکرم مولانا یٰسین ربّانی صاحب مربی سلسلہ ضلع پر بھی کلمہ طیّبہ کے سلسلے میں مقدمہ درج ہوا۔ خاکسار نے اُن کی ضمانت کی درخواست دائر کی ۔ چند دنوں بعد ضمانت کی توثیق کی تاریخ تھی تو میں اپنے گھر سے سیشن کورٹ کی طرف جارہا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ ربّانی صاحب سائیکل پر اپنے گھر کی طرف جارہے تھے۔ مَیں نے خیال کیا کہ شاید وہ بھول گئے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں روک کر کہا کہ آپ کو تو اس وقت کچہری میں ہونا چاہیے تھا۔ کہنے لگے کہ گھر سے اسی نیت سے نکلا تھا لیکن کلمہ طیّبہ کا بَیج سینے پر لگانا بھول گیا ہوں، اس لیے واپس جارہا ہوں۔ بڑی مشکل سے اُنہیں راضی کیا کہ حکمت کا تقاضا ہے کہ آج کے دن یہ بَیج نہ لگائیں کہیں عدالت خوامخواہ نہ بپھر جائے۔
کلمہ طیّبہ کی مُہم کے دوران عجیب روح پرور ماحول تھا۔ بےشمار احمدیوں نے کوشش کرکے اس میں اپنا حصہ ڈالا جن میں سے کئی دوست آج ہم میں موجود نہیں۔ ان سب کے لیے دعا کی درخواست ہے
جن دوستوں کی آج کمی ہے حیات میں
وہ اپنے درمیاں تھے ابھی کل کی بات ہے
………٭………٭………٭………
نیند
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان ۹؍جنوری۲۰۱۴ء میں نیند کے بارے میں ایک مختصر مضمون مکرم صدیق اشرف علی موگرال صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر رات کی نیند کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ مثلاً فرمایا: اور اس کے نشانات میں سے تمہارا رات کو اور دن کو سونا ہے اور تمہارا اس کے فضل کی جستجو کرنا بھی۔ (الروم:۲۴)
اسی طرح نیند کو تسکین اور آرام کا ذریعہ اور دن کو روشن اور معیشت کمانے کا ذریعہ بیان فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں تسکین پاؤ اور دن کو دکھانے والا بنایا۔ یقیناً اللہ لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔ (المومن:۶۲)
نیز فرمایا: اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو مَری نہیں ہوتیں (انہیں) ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرتا ہے)۔ پس جس کے لیے موت کا فیصلہ کر دیتا ہے اسے روک رکھتا ہے اور دوسری کو ایک معین مدت تک کے لیے (واپس) بھیج دیتا ہے۔ یقیناً اس میں فکر کرنے والوں کے لیے بہت سے نشانات ہیں۔ (الزمر:۴۳)
مذکورہ بالا آیت کے حوالے سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ایک عظیم الشان راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہے جس میں روح یا شعور بار بار ڈوبتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام مقرر فرمادیا ہے کہ معین وقت پر دماغ کی تہ سے ٹکراکر پھر واپس اُبھرتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ معین وقت میں ایک سوئے ہوئے شخص سے بار بار پیش آتا رہتا ہے۔ اس معین وقت کو اٹامک گھڑی سے بھی ناپا جاسکتا ہے اور اس مدّت میں کسی قسم کا کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس نفس کو ڈوبنے کے بعد دوبارہ واپس نہیں بھیجتا تو اسی کا نام موت یا وفات ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے سونے کے حوالے سے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ تازہ وضو کی حالت میں لیٹنے کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور اس سے خاص قسم کی نشاط پیدا ہوتی ہے، ایسا شخص نشاط کی حالت میں ہی اُٹھتا بھی ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بغیر کلام کیے سو جانا چاہیے تاکہ دینی خیالات پر ہی آنکھ لگے۔ نیز کوئی ذکر کرکے سوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی سونے سے پہلے تینوں قُل پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھ سارے جسم پر پھیرتے اور ایسا تین دفعہ کرتے اور پھر دائیں طرف منہ کرکے یہ دعا کرتے:
اللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَ وَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَ فَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَأَ اِلَّا اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَ نَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔ (ترمذی)
پھر لیٹ کر دل میں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم یا کوئی بھی ذکر کرتے ہوئے انسان سوجائے تو عام طور پر ساری رات وہ اسی حالت میں گزارتا ہے۔ اور اسی کیفیت میں جاگتا ہے۔ (ماخوذ از ذکرالٰہی)
حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ جب عالمی عدالت انصاف کے جج تھے تو ایک بار اپنے ڈاکٹر کے دریافت کرنے پر آپؓ نے بتایا کہ بستر پر لیٹنے کے بعد نیند آنے میں مجھے اوسطاً تین منٹ لگتے ہیں۔ بہت شاذ ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی سوچ کی وجہ سے نیند نہ آئے تو مَیں اپنے تئیں سمجھاتا ہوں کہ دنیا کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، تم نہیں ہو۔ آج تم نے اپنی توفیق کے مطابق کام کیا۔ کل صبح تک زندہ رہوگے تو پھر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق کام شروع کردینا۔ یہ وقت آرام کا ہے، اب سوجاؤ۔ ڈاکٹر کے دریافت کرنے پر آپؓ نے فرمایا کہ یہ ترکیب ہر بار کارگر ہوتی ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تھے تو ایک بار آپؓ نے اپنے سیکرٹری سے فرمایا: یہ درست ہے کہ مَیں جلد سو جاتا ہوں اور آپ کو دیر تک کام کرنا پڑتا ہے جس کی مَیں قدر کرتا ہوں۔ لیکن ٹیلیفون میرے بستر کے پاس ہی ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہو آپ بِلاتکلّف رات کی کسی ساعت میں میرے ساتھ بات کرسکتے ہیں۔ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ میرے آرام میں مخل نہیں ہوں گے، نہ میری آواز میں نیند کا اثر محسوس کریں گے اور بات ختم کرنے کے نصف منٹ کے اندر مَیں پھر گہری نیند سو رہا ہوں گا۔
نیند نہ آنے کی بےشمار وجوہات ہیں اور اسی طرح بےشمار نسخے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایسی حالت میں دودھ میں ایک چمچہ شہد ملاکر پینا مفید پایا گیا ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ہومیو دوا Nux Vomica 30 کو بےخوابی کی مؤثر دوا فرمایا ہے خصوصاً اُن لوگوں کے لیے جنہیں کسی نشے کی یا نیند کی گولیاں کھانے کی عادت ہوجائے۔ اگر یہ اکیلی دوا کام نہ کرے تو پھر اس کے ساتھ Chamomilla ملالیں۔ اسی طرح اگر اعصابی اُکساہٹ کی وجہ سے کبھی نیند نہ آئے تو Kali Phos استعمال کریں۔
………٭………٭………٭………
انجیر
انجیر کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سورۃالتین کے آغاز میں اس کی قسم بھی کھائی گئی ہے۔ انجیر کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۵؍نومبر ۲۰۱۴ء میں اخبار ’’ایکسپریس‘‘ سے منقول ہے۔
یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لیے نعمتِ بیش بہا ہے جو جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے اور خون پیدا کرتا ہے۔ بخار میں بھی مفید ہے۔ یہ ایک نازک پھل ہے جو پکنے کے بعد خودبخود گرجاتا ہے۔ اس محفوظ کرنے کا بہترین طریق خشک کرلینا ہے۔ خشک کرنے کے دوران اسے جراثیم سے پاک کرنے کے لیے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور پھر نمک کے پانی میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم رہے۔
انجیر مشرق وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کا پھل ہے جو مسلمانوں کی آمد کے بعد برصغیر میں پہنچا۔ اس کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء، کیلشیم، فاسفورس اور شکر پائے جاتے ہیں۔ اس میںوٹامن اے اور سی کافی مقدار میں جبکہ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ فضلات کو خارج کرتا ہے، جگر اور تلّی کے سدّوں کو کھولتا ہے۔ اس کی سفید قسم گردہ اور مثانہ سےپتھری کو تحلیل کرتی ہے اور زہر کے مضر اثرات سے بچاتی ہے۔بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملاکر کھانا فوائد کو بڑھا دیتا ہے۔ نہار منہ کھانا بھی کئی فوائد کا حامل ہے۔چند گھنٹے بھگوکر رکھیں تو انجیر پھول جاتی ہے جو دائمی قبض کے لیے مفید ہے۔
سوکھی انجیر میں بعض اوقات کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے اس کو استعمال کرنے سے قبل کھول کر دیکھ لینا چاہیے۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)




