مکتوب مشرقِ بعید (جون۲۰۲۶ء)
مشرقِ بعید کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے ۱۵؍ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان
جاپان نے ایران، لبنان اور فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری انسانی بحران سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ۱۵؍ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ امداد خطے میں بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی اداروں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ حکومتِ جاپان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور تنازعات کے باعث لاکھوں افراد خوراک، طبّی سہولیات، صاف پانی اور بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں، جن کی فوری مدد ناگزیر ہے۔
امدادی پیکیج میں سے ۱۰؍ملین ڈالر ایران کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں یہ رقم ہنگامی طبی خدمات، غذائی امداد، پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی کی سہولیات اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔ یہ امداد بین الاقوامی کمیٹی برائے حلالِ احمر (ICRC)، عالمی خوراک پروگرام (WFP)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے متاثرہ افراد تک پہنچائی جائے گی۔ باقی ۵؍ملین ڈالر لبنان اور فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے بے گھر خاندانوں کو خوراک، ادویات، پناہ گاہ، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ جاری بحران سے متاثرہ شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
جاپانی حکومت نے لبنان میں سرگرم غیر سرکاری امدادی تنظیموں کی معاونت کے لیے جاپان پلیٹ فارم کے ذریعے اضافی چھ لاکھ ۴۰؍ہزار امریکی ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، تاکہ امدادی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ جاپانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام اور انسانی صورتحال میں بہتری کے لیے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر اپنی کوششیں اور تعاون جاری رکھے گا۔
چین اور روس کے خلائی نیٹ ورک کا نیا معاہدہ
بیجنگ اور ماسکو نے خلائی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ نیویگیشن(Satellite Navigation) کے میدان میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک قدم اٹھایا ہے۔ دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر ’’۲۰۲۶-۲۰۳۰ چائنا-رشیا سیٹلائٹ نیویگیشن تعاون روڈ میپ‘‘ پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔
اس نئے معاہدے کے تحت چین کا جدید ترین سیٹلائٹ نیٹ ورک ’’بائیڈو‘‘ (BeiDou) اور روس کا عالمی نیویگیشن سسٹم ’’گلوناس‘‘ (GLONASS) اب ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہوکر کام کریں گے۔ اس اقدام کو صدر شی جن پنگ اور صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان Strategic Partnership کے اعلیٰ ترین سطح کے اتفاقِ رائے کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
اگلے پانچ سالوں (۲۰۲۶ سے ۲۰۳۰ء) پر محیط اس سٹریٹجک روڈ میپ کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
۱۔ سگنلز کا ملاپ اور بے پناہ درستگی (Intero-perability): دونوں ممالک کے سسٹمز کو ایک دوسرے کے لیے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ جب بائیڈو اور گلوناس کے سگنلز ایک ساتھ مل کر کام کریں گے، تو صارفین (بشمول فوجی اور سویلین اداروں) کو لوکیشن، ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے لیے High-precision ڈیٹا حاصل ہوگا، جو موجودہ امریکی GPS سے زیادہ قابلِ اعتماد ہو سکتا ہے۔
۲۔ مشترکہ گراؤنڈ مانیٹرنگ سٹیشنز کا قیام: معاہدے کے تحت چین اور روس ایک دوسرے کی سرزمین پر گراؤنڈ مانیٹرنگ سٹیشنز کا نیٹ ورک قائم کر رہے ہیں۔ یہ زمینی سٹیشنز سیٹلائٹ سگنلز کی نگرانی کریں گے اور ان کے ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنائیں گے۔
۳۔ عالمی مارکیٹ میں مشترکہ پیش قدمی: دونوں ممالک مل کر ترقی پذیر ممالک (خصوصاً OBOR انیشیٹو کے شراکت دار ممالک) میں بائیڈو اور گلوناس کے مشترکہ نظام کو فروغ دیں گے تاکہ دیگر ممالک کا امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔
جیو پولیٹیکل اور دفاعی اہمیت۔ ’’امریکی GPS کا متبادل‘‘: دفاعی اور خلائی ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ محض ایک تکنیکی شراکت داری نہیں بلکہ اس کی شدید جیو پولیٹیکل اہمیت ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد روس پر عائد مغربی پابندیوں اور چین کے ساتھ امریکہ کی بڑھتی ہوئی تکنیکی سرد جنگ کے تناظر میں یہ معاہدہ دونوں طاقتوں کو ایک خود مختار اور محفوظ متبادل فراہم کرتا ہے۔ جنگ یا کسی بڑے عالمی بحران کی صورت میں، امریکہ کسی بھی وقت اپنے GPS (گلوبل پوزیشننگ سسٹم) تک دشمن ممالک کی رسائی بلاک کر سکتا ہے یا اس کے سگنلز کو کمزور کر سکتا ہے۔ چین اور روس کا اپنا مربوط نیٹ ورک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گائیڈڈ میزائل، ڈرون، جنگی جہاز اور سمارٹ سکیورٹی سسٹمز بغیر کسی بیرونی مداخلت کے کام کرتے رہیں گے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں تیز ہوا ہے جب حال ہی میں سامنے آنے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، چین کا بائیڈو سسٹم مدار میں تقریباً ۵۰؍سیٹلائٹس کے Multi-layer architecture کے ساتھ امریکی GPS (جو ۳۷؍ سیٹلائٹس پر مشتمل ہے) کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ بائیڈو اب زمین پر ۱ میٹر سے بھی کم کے فاصلے تک کی درست ترین پوزیشن بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس خلائی گٹھ جوڑ کو چین اور روس کے وسیع تر سائنسی تعاون کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں مئی ۲۰۲۶ء میں طے پانے والے دیگر معاہدوں کے تحت جوہری توانائی، نیوکلیئر فیوژن، اور ۲۰۳۵ء تک چاند پر ایک مشترکہ بین الاقوامی قمری تحقیقاتی اسٹیشن (ILRS) کی تعمیر بھی شامل ہے۔
کینیڈا کے ساتھ آسٹریلیا کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی برآمد کا معاہدہ
جون کے آخری ہفتے (۲۲؍جون ۲۰۲۶ء) میں آسٹریلین حکومت نے کینیڈا کے ساتھ ۲.۵؍بلین آسٹریلوی ڈالر کے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس تاریخی معاہدے کے تحت آسٹریلیا اپنی جدید ترین اور عالمی سطح پر شہرہ آفاق ٹیکنالوجی ’’اوور دی ہورائزن ریڈار‘‘ (Over-the-Horizon Radar – OTHR) کینیڈا کو برآمد کرے گا۔ یہ ریڈار سسٹم کینیڈا کے قطب شمالی (آرکٹک) کے وسیع اور حساس ترین سرحدی علاقوں کی فضائی اور بحری نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ ریڈار فضا کی اوپری تہ یعنی Ionosphere کی طرف طاقتور ریڈیو سگنلز بھیجتا ہے۔ یہ سگنلز آئیونوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین پر مڑتے ہیں، جس کی بدولت افق سے پرے انتہائی طویل فاصلے پر موجود طیاروں، میزائلوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا سراغ پہلے سے ہی لگا لیا جاتا ہے۔
کینیڈا کا آرکٹک خطہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم ہے جہاں روس اور چین کی فوجی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ ریڈار نظام کینیڈا کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور قطب شمالی کی نگرانی کو فول پروف کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم اینتھونی البانیز اور وزیرِ دفاع نے اس معاہدے کو آسٹریلیا کی دفاعی صنعت کے لیے ایک عظیم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
اس ۲.۵؍بلین ڈالر کے منصوبے سے آسٹریلیا کی مقامی دفاعی اور ٹیکنالوجی کی صنعت کو زبردست فروغ ملے گا۔ اس کے تحت ایڈلیڈ اور آسٹریلیا کے دیگر شہروں میں انجینئرنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سینکڑوں نئی اور مستقل ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
آسٹریلیا اور کینیڈا دونوں ہی دنیا کے سب سے بڑے انٹیلی جنس شیئرنگ نیٹ ورک ’’فائیو آئیز‘‘ (امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ) کا حصہ ہیں۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اتحادی ممالک اب محض انٹیلی جنس شیئرنگ تک محدود نہیں رہے، بلکہ جدید ترین سکیورٹی ٹیکنالوجی کے تبادلے میں بھی ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ کر رہے ہیں۔
ویتنام اور انڈونیشیا کی بھارت کے براہموس میزائل خریدنے میں دلچسپی
ویتنام اور انڈونیشیا کی جانب سے بھارت اور روس کے مشترکہ تیار کردہ براہموس (BrahMos) سپرسونک کروز میزائل کو خریدنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ مشرقِ بعید کے ان ممالک کے لیے براہموس میزائل کی اہمیت اور کشش کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
اس دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور بحیرہ جنوبی چین (South China Sea) کا تنازع ہے۔ ویتنام اور انڈونیشیا دونوں ہی بحیرہ جنوبی چین میں چین کے جارحانہ بحری دعووں اور سرگرمیوں سے پریشان ہیں۔
چین اور ویتنام کے درمیان جزائر (جیسے پاراسل اور اسپرٹلی) پر پرانا علاقائی تنازع ہے۔ ویتنام اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے ایک ایسے ہتھیار کی تلاش میں ہے جو چینی بحریہ کے خلاف مضبوط دفاع فراہم کر سکے۔
اگرچہ انڈونیشیا کا چین کے ساتھ کوئی بڑا براہ راست علاقائی تنازع نہیں ہے، لیکن چین کی ’’نائن-ڈیش لائن‘‘ انڈونیشیا کے نیٹونا جزائر (Natuna Islands) کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) سے ٹکراتی ہے، جہاں اکثر چینی ماہی گیر اور کوسٹ گارڈ کے جہاز گھس آتے ہیں۔
براہموس دنیا کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ میزائل آواز کی رفتار سے تقریباً تین گنا تیز (Mach ۲.۸) سفر کرتا ہے۔ اتنی تیز رفتار کی وجہ سے دشمن کے دفاعی نظام (جیسے اینٹی میزائل سسٹم) کے لیے اسے فضا میں روکنا یا تباہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
داغے جانے کے بعد یہ خودکار طریقے سے ہدف کو نشانہ بناتا ہے، جس سے آپریٹنگ فورسز کو فوری پیچھے ہٹنے یا اگلی پوزیشن سنبھالنے کا موقع ملتا ہے۔ اسے جہاز، آبدوز، زمین اور فضا (جیسے سکھوئی طیاروں) سے بھی داغا جا سکتا ہے۔ ویتنام اور انڈونیشیا دونوں کے پاس روسی ساختہ سکھوئی طیارے اور جنگی جہاز موجود ہیں، اس لیے وہ براہموس کو آسانی سے اپنے موجودہ دفاعی نظام کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
مشرقِ بعید کے یہ ممالک اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر کسی ایک سپر پاور (جیسے امریکہ یا روس) پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ امریکہ سے ہتھیار خریدنے پر سخت انسانی حقوق اور سیاسی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اورروس پر یوکرین جنگ کے بعد لگی عالمی پابندیوں کی وجہ سے وہاں سے براہ راست سپلائی حاصل کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ایسے میں بھارت ایک قابلِ اعتماد، غیر جانبدار اور مضبوط دفاعی پارٹنر کے طور پر ابھرا ہے، جو بغیر کسی سیاسی شرط کے یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو تیار ہے۔
شمالی کوریا کا اعلان: جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے
شمالی کوریا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے (ڈینوکلیئرائزیشن) کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی جوہری حیثیت اب ایک ناقابلِ واپسی حقیقت بن چکی ہے، جسے اس کے آئین اور قومی قوانین میں بھی تحفظ دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے فوجی دباؤ، پابندیوں اور مشترکہ جنگی مشقوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، اس لیے پیانگ یانگ اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے جوہری دفاع کو مزید مضبوط بناتا رہے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق ہونے والے مذاکرات اب غیرمتعلق ہو چکے ہیں، کیونکہ موجودہ سکیورٹی صورتحال میں ملک اپنے دفاع سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو سکتا۔ ترجمان کے مطابق امریکہ کی جانب سے ’’ڈی نیوکلیئرائزیشن‘‘ کا مطالبہ ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے، جسے اب حقیقت پسندانہ پالیسی سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
شمالی کوریا نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور مشترکہ فوجی مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ جب تک اس کے خلاف ’’دشمنانہ پالیسیاں‘‘ختم نہیں ہوتیں، وہ اپنی جوہری قوت میں مزید اضافہ کرتا رہے گا۔
دوسری جانب امریکہ نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنے کے اپنے مقصد پر قائم ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، تاہم شمالی کوریا کے مسلسل بیلسٹک میزائل تجربات اور جوہری پروگرام میں توسیع علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوبِ ایشیا (مئی۲۰۲۶ء)




