احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
مولوی چراغ علی صاحب کی کتابیں بھی موجود ہیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتابیں بھی۔ انہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لو کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟
[گذشتہ سے پیوستہ]
VIII۔کلام الامام …امام الکلام:
مولوی عبدالحق صاحب کے اس شوشے پر جرح اور تنقید کے حوالے سے خاکسار نے تین مقامات سے مدد لی ہے۔ تفصیل ان کے مقالہ جات وکتب سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے:
۱۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ جو کہ سلسلہ احمدیہ کے اولین مؤرخ اورحضرت اقدسؑ کے ابتدائی سیرت نگار ہیں انہوں نے اپنی تصنیف ’’حیاتِ احمدؑ‘‘ جلد دوم کے صفحات ۳۵ تا ۴۵ میں تفصیل کے ساتھ اس پر روشنی ڈالی ہے۔
۲۔دوسرے نمبر پر خاکسار کے ایک دوست جنہیں علمی تحقیق کا ذوق اورشوق ہے اورجن کے مضامین پاکستان اور دوسرے ممالک کے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مکرم محمدعبدالمالک صاحب۔ جو ’’عاصم جمالی‘‘ کے نام سے بھی لکھتے ہیں انہوں نے تقریباً ۶۰ فل سکیپ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ لکھا۔ جس کاعنوان ہے ’’مولوی عبدالحق کے مقدمۂ ’’اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام‘‘ میں براہین احمدیہ کے متعلق مندرجات کا تنقیدی جائزہ‘‘۔یہ مقالہ ابھی تک شائع نہیں ہوا۔البتہ ان کے بقول محترم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ لاہور نے اسے ایڈٹ کیاہواہے۔ انہوں نے ازراہِ نوازش یہ غیرمطبوعہ مقالہ خاکسار کو فراہم کیا اور اجازت دی کہ خاکسار اس کو اپنی کتاب میں جس طرح چاہے شامل کرلے یا استفادہ کرے۔ فجزاہما اللّٰہ احسن الجزاء (لیکن اب کتاب کے شائع ہونے سے پہلے وہ مقالہ براہین احمدیہ اور مولوی عبد الحق (بابائے اردو)کا مقدمہ ’’اعظم الکلام …‘‘ کے نام سے شائع ہوچکاہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔)
۳۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر اس الزام کے ردّ میں جو قابل قدر اورہمارے لیے سعادت کاباعث ہے وہ حضرت صاحبزادہ مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب خلیفة المسیح الثانیؓ کاجوا ب ہے کہ جوایک عالم ،محقق،مصنف تو تھے ہی لیکن ان سب سے بڑھ کرنورِالہام سے فیضیاب ہستی تھے۔ اورباقی سب کے مقابل پر اوراس "اعظم الکلام” کے دعاوی کے لیے یہ کلام الامام ، امام الکلام کی حیثیت رکھتاہے۔
آپؓ فضائل القرآن انوار العلوم جلد ۱۴ صفحہ ۳۵۰ پرفرماتے ہیں: ’’آجکل تو ’’زمیندار‘‘ اور ’’احسان‘‘ وغیرہ مخالف اخبارات یہ بھی لکھتے رہتے ہیں کہ کوئی مولوی چراغ علی صاحب حیدرآبادی تھے وہ آپ کو یہ مضامین لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ جب تک اُن کی طرف سے مضامین کا سلسلہ جاری رہا آپ بھی کتاب لکھتے رہے مگر جب انہوں نے مضمون بھیجنے بند کر دیے تو آپ کی کتاب بھی ختم ہو گئی۔ گو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مولوی چراغ علی صاحب کو کیا ہوگیا کہ اُنہیں جو اچھا نکتہ سُوجھتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو لکھ کر بھیج دیتے اور اِدھر اُدھر کی معمولی باتیں اپنے پاس رکھتے۔ آخر مولوی چراغ علی صاحب مصنّف ہیں۔ براہین احمدیہ کے مقابلہ میں اُن کی کتابیں رکھ کر دیکھ لیا جائے کہ آیا کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ پھر وجہ کیا ہے کہ دوسرے کو تو ایسا مضمون لکھ کر دے سکتے تھے جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی اور جب اپنے نام پر کوئی مضمون شائع کرنا چاہتے تو اُس میں وہ بات ہی پیدا نہ ہوتی۔ پس اوّل تو انہیں ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مضمون لکھ لکھ کر بھیجتے؟ اور اگر بھیجتے تو عُمدہ چیز اپنے پاس رکھتے اور معمولی چیز دوسرے کو دے دیتے۔ جیسے ذوق کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ظفر کو نظمیں لکھ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ مگر ’’دیوانِ ذوق‘‘ اور ’’دیوانِ ظفر‘‘ آجکل دونوں پائے جاتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر صاف نظر آتا ہے کہ ذوق کے کلام میں جو فصاحت اور بلاغت ہے وہ ظفر کے کلام میں نہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ظفر کو کوئی چیز دیتے بھی تھے تو اپنی بچی ہوئی دیتے تھے اعلیٰ چیز نہیں دیتے تھے حالانکہ ظفر بادشاہ تھا۔ غرض ہر معمولی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر مولوی چراغ علی صاحب حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام کومضامین بھیجا کرتے تھے تو انہیں چاہئے تھاکہ معرفت کے عُمدہ عُمدہ نکتے اپنے پاس رکھتے اور معمولی علم کی باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو لکھ کر بھیجتے۔ مگر مولوی چراغ علی صاحب کی کتابیں بھی موجود ہیں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتابیں بھی۔ انہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لو کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ انہوں نے تو اپنی کتابوں میں صرف بائیبل کے حوالے جمع کئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے وہ معارف پیش کئے ہیں جو تیرہ سَوسال میں کسی مسلمان کو نہیں سُوجھے۔ اور اِن معارف اور علوم کا سینکڑواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی ان کی کتابوں میں نہیں۔‘‘ (فضائل القرآن (۶) انوار العلوم جلد ۱۴ صفحہ ۳۵۶)
براہین احمدیہ کی پیشگی قیمت لینا اورکتاب پوری نہ دینا
مولویوں کی جانب سے یہ اعتراض کیاجانا شروع کیاگیا کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے لیے پیشگی قیمت لی لیکن کتاب دی نہ قیمت واپس کی اور اس طرح لوگوں کا پیسہ کھاگئے۔ نعوذباللّٰہ
دراصل یہ اعتراض ان لوگوں کی طرف سے تب بھی کیاجاتارہا ہے جو حقیقت میں براہین احمدیہ اوراس کے مصنف سے حسد کی آگ میں جل رہے تھے اور اعتراض کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے تھے اعتراض بنتاہویا نہ، اس سے ان کی کوئی غرض نہ ہوتی تھی۔اور انہیں مخالف اورحاسد مولویوں کی کتابوں میں یہ اعتراض اب تک موجودہے اور چونکہ اب انٹرنیٹ کے باعث اس میں وسعت ہورہی ہے ایک ویب سائٹ ہے Answering Islam اس پر ایک مضمون A study of Ahmadiyya Movement شامل کیاگیا ہے۔اس مضمون کے لکھنے والے Mr.Gilchristہیں۔ جیساکہ عرض کیاگیا ہے کہ یہ کوئی نیااعتراض نہیں ہےہرنیاآنے والا مخالف بس اسی قے کو چاٹتاچلاآرہاہے۔ ویب سائٹ کامکمل لنک یہ ہے :
http://www.answeringislam.org/Gilchrist/Vol1/9c.html
یہ اعتراض اس ویب سائٹ پر بھی تھا اور اس معترض نے مولوی ابوالحسن ندوی کی کتاب کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا: پہلے چار حصے چھپنے کے بعد پانچواں حصہ 25سال کی تاخیرسے شائع ہواجب کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد جنہوں نے کتاب کی قیمت حضور کی تحریک پر پیشگی اداکردی تھی ،فوت ہوچکی تھی۔(قادیانیت مطالعہ و جائزہ صفحہ ۴۳)
براہین احمدیہ کی قیمت کے متعلق ہم تفصیلی بحث کرآئے ہیں کہ اس کتاب کی اصل لاگت فی جلد ۲۵ روپے آتی تھی جو کتاب کاحجم بڑھنے کے ساتھ ساتھ، ایک سوروپے فی جلد تک چلی گئی۔ حضرت اقدسؑ نے اس نیت سے کہ عام غریب مسلمانوں تک یہ کتاب پہنچ جائے اس کتاب کی قیمت ۵ پانچ روپے مقررفرمائی اورباقی خرچ اعانت سے پوراکرنے کا اعلان فرمایا اورمخیراحباب کو اس کی طرف باربار بلایا اورپوری کوشش فرمائی۔ مسلمان امراء کی توجہ اوراعانت سے یہ کتاب شائع ہوجائے اورجلد شائع ہوجائے لیکن بمشکل چار حصے شائع ہوسکے۔ جس کسی نے جتنی بھی مددکی اورجو بھی کوئی خریداربنا ان میں سے بیشترکے نام حضرت اقدسؑ نے براہین احمدیہ میں ہی شائع کردیے۔
اب سوال پیداہوتاہے کہ اس کتاب کے لیے اعانت کی مد میں کتنی رقم جمع ہوچکی تھی ؟ کیا وہ ہزاروں میں تھی ؟کہ جس کی بابت یہ اعتراض کیاجاتاہے کہ نعوذباللہ آپؑ لوگوں کا روپیہ کھاگئے۔آخر کتنی رقم ہوگی ؟ اب اس میں کوئی لمبا چوڑا اور ایسا باریک حساب نہیں کہ کسی پاندے یاحساب دان کی ضرورت پڑے۔ صاف سی بات ہے اعانت کرنے والوں اور خریداروں کے نام تو حضور ساتھ ساتھ شائع کرہی رہے تھے۔ اگرکسی نے رقم دی ہے اورحضورؑ نے درج نہیں فرمائی یا زیادہ دی ہے اوررقم کم درج کی ہے تو کتاب تو شائع ہوچکی تھی فوراً سوال کیاجاتا،جواب طلبی ہوجاتی کہ جناب ہم نے تو اتنے ہزارروپے دیے ہیں اورآپؑ نے چند سوروپے لکھ دیے یا نام ہی نہیں لکھا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔
جنابِ من! ایساہوہی نہیں سکتاتھا حضورؑ تو آخر ی حصہ تک ان امراء کو توجہ دلاتے رہے بلکہ رمزوکنایہ میں ایسے ایسے الفاظ اورفقرات سے غیرت کوجھنجوڑا کہ حیرت ہوتی ہے کہ اسلام اورمحمدمصطفیٰ ﷺ کی محبت اورغیرت سے کتنے دوروہ لوگ جاپڑے تھے کہ وہ ٹس سے مَس نہیں ہوئے۔ بلکہ مجھے تو لگتاہے کہ بعض امراء کو شاید یہ اعتراض ہواہوکہ جنا ب آپ نے ہمارانام لکھ کرکیوں شرمندہ کیا۔لوگ کیاسوچیں گے کہ لاکھوں کروڑوں کے ہم مالک۔ بیاہ شادیوں اوردھوم دکھاووں کے موقعہ پراور رنڈیوں کے ناچ تماشے پرتوہم لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنی نوابی اورامارت کا رعب جمانے والے لوگ ہیں اورآپ نے توہمارابھانڈاہی پھوڑدیا۔
خیر یہ توجملہ معترضہ تھا۔آپؑ کے پاس اگر رقم ہوتی اور آپؑ نے چھپائی ہوتی تو ہونہیں سکتاتھا کہ کوئی اعتراض نہ کرتا۔ جبکہ آپؑ یہ بھی فرمارہے تھے کہ سرمایہ نہیں ہے کہ کتاب کا مزیدحصہ اب شائع کیاجائے۔اس سے یہ تو ثابت بآسانی ہوجاتاہے کہ کوئی ہزاروں لاکھوں روپے اس مداعانت میں نہیں آئے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ جن سے پیشگی قیمت لی تھی اس کاکیابنا؟ اس میں اول تو یہ ذہن میں رکھناچاہیے کہ جو قیمت لی گئی تھی وہ”قیمت” نہ تھی۔ وہ رعایتی قیمت تھی۔ اس کو اچھی طرح ذہن میں رکھناچاہیے۔ اس لیے کہ عوام الناس پر یہ تاثر دیناکہ نہ جانے کتنی دولت اکٹھی کرلی گئی ہوگی یہ درست نہیں ہے۔
پھر یہ کہ اس کتاب کے خریدارکوئی ہزاروں اور سینکڑوں میں نہ تھے۔ گو کہ اس وقت ہمارے پاس کوئی ایسا حساب کتاب یا روزنامچہ یا کھاتہ نہ ہے کہ ہم خریداروں کی تعداد کو معین کرسکیں۔ ہاں کچھ اندازہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں۔
پہلے ہمیں دیکھنا ہوگاکہ کتاب کتنی تعداد میں شائع ہوئی تھی۔ غالب امکان ہےکہ براہین احمدیہ سات سوسے ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوئی ہوگی۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعودؓ اور تربیت اولاد کے چند بنیادی اصول




