بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۸)
٭… اسلام میں عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔ لیکن آجکل Voice Over Artist یا یو ٹیوب پر صرف Back Ground میں اپنی آواز کے ساتھ ویڈیوز بنانے کا کام بہت عام ہو رہا ہے اور لڑکیاں گھر بیٹھے اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ کیا احمدی لڑکیاں یہ کام کر سکتی ہیں؟
٭… فاریکس ٹریڈنگ جس میں سونے اور کرنسیوں کی آن لائن ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جائز ہے کہ نہیں؟
٭… ایک دوست نے لکھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ زمین گول ہے اور گھومتی بھی ہے۔ قرآن کریم نے بھی زمین کو فلیٹ کہا ہے، اسی طرح مجھے نہیں لگتا کہ امریکن چاند پر گئے ہیں۔ زمین کے بارے میں اگر میرا خیال درست ہے تو میری راہنمائی کریں؟
٭… کیا ایک عورت ایمان میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کثرت سے الہام، کشف اور رؤیا صادقہ اسے کرے جس کا نام نبوت ہے۔یااگر عورت نبی نہیں بن سکتی تو اس کی کیا وجہ ہے۔ اور کیا ایک عورت ایمانی حالت میں ترقی کرتے ہوئے عام مردوں سے آگے نکل سکتی ہے؟
٭… اسلام Feminism کے بارہ میں کیا کہتا ہے اور کیا اسلام اور Feminism کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ ۲۔ جب کہا جاتا ہے کہ مسائل کے لیے حضور کو لکھیں تو لوگ کہتے ہیں کہ حضور کے پاس ان چیزوں کے لیے اتنا وقت نہیں ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟ ۳۔ میں حضور کو ہر روز ایک یا زیادہ خط لکھتا ہوں ، آپ کو یہ چیز بُری تو نہیں لگتی؟ ۴۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ بندہ کو اللہ سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اپنے شوق اور مرضی چھوڑنی پڑتی ہے، اس میں کیا چیز آتی ہے؟ ۵۔ کیا سورت بنی اسرائیل آیت نمبر ۵ فلسطین کے موجودہ حالات کے بارہ میں ہے؟ ۶۔ کیا سورۃالفیل میں کسی پیشگوئی کا ذکر ہے؟ ۷۔ اسلام نے میوزک کو بُرا کیوں کہا ہے؟
سوال: ربوہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ اسلام میں عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔ لیکن آجکل Voice Over Artist یا یو ٹیوب پر صرف Back Ground میں اپنی آواز کے ساتھ ویڈیوز بنانے کا کام بہت عام ہو رہا ہے اور لڑکیاں گھر بیٹھے اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ کیا احمدی لڑکیاں یہ کام کر سکتی ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب۔مجھے تواسلام کا ایسا کوئی حکم معلوم نہیں کہ عورت کی مطلقاً آواز سننا ہی حرام ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو قرآن کریم آنحضور ﷺ کی بیویوں کو یہ کیوں فرماتا کہ چبا کر (یعنی نازونخرے کے ساتھ) بات نہ کیا کرو۔ تا ایسا نہ ہو کہ جس کے دل میں مرض ہے وہ تمہارے متعلق کوئی بدارادہ کرے اور ہمیشہ لوگوں کو نیک باتیں کہا کرو۔ (الاحزاب:۳۳)
اس آیت سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت مردوں سے بات کر سکتی ہے لیکن وہ نیک باتیں ہونی چاہئیں۔ اور اس میں بھی عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے پردہ کا پوری طرح خیال رکھے اور نرم اور لچکدار آواز میں مردوں سے بات نہ کرے بلکہ اپنی آواز میں سختی پیدا کر کے ان سے بات کرے۔ سختی سے مراد یہ ہے کہ ایسی آواز نہ ہو جس سے وہ بلا وجہ مرد کو اپنی طرف Attract کر رہی ہو۔ کیونکہ اس سے مردوں کے خیالات بگڑ سکتے ہیں۔
پھر احادیث میں بھی آتا ہے کہ عورتیں اسلامی جنگوں میں بھی حصہ لیتی تھیں، جہاں لوگ ان کی آواز سنتے تھے۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ اور دوسری ازواج مطہرات سے صحابہ اور تابعین دینی سوال پوچھا کرتے تھے اور وہ ان کے جواب دیا کرتی تھیں۔
آجکل بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عورتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرتی ہیں، ٹی وی چینلز پر خبریں پڑھتی ہیں اورمرد ان کی آواز سنتے ہیں۔ اس لیے آجکل یہ کہنا کہ عورت کی آواز نہ سنی جائے اور اگر سن لو گے تو سیسہ پگھلا کے کانوں میں ڈالا جائے گا جیسے مولوی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں۔اگر وہ حدیث درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ناچ گانے والیوں کی بیہودہ آوازیں سنتے ہیں ، جوانہیں ننگ، بےحیائی اور غلاظت کی طرف مائل کرتی ہیں، تو اس قسم کی آوازیں سننے سے نبی کریم ﷺ نے ہمیں ڈرایا ہے۔ لیکن اگر دین کی خاطر آواز ہو جیسے خواتین دینی نظمیں پڑھ رہی ہوں ، اللہ اور رسول کی باتیں کر رہی ہوں اور ایسی آواز مرد کے کان میں پڑ ےتو اس سے تو کسی بے حیائی کا خیال پیدا نہیں ہوتا، اس لیے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
پس Voice Over Artist کے طور پر یا یو ٹیوب پر Back Ground میں اپنی آواز کے ساتھ عورت کا کوئی پروگرام بنانا اگر اچھے، نیک اور دینی مقصد کے لیے ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں لیکن اگر یہ کام کسی بیہودہ اور شیطانی کام کے لیے ہے تو اس کی اجازت نہیں۔
سوال: ربوہ سے ہی ایک دوست نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ فاریکس ٹریڈنگ جس میں سونے اور کرنسیوں کی آن لائن ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جائز ہے کہ نہیں؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:
جواب:فاریکس ٹریڈنگ کے تحت اگر اشیاء کی خرید و فروخت تک معاملہ رہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں اور یہ جائز ہے۔ لیکن اگر اس میں سٹہ بازی شروع کر دی جائے جیسا کہ آج کے زمانہ میں فاریکس ٹریڈنگ میں اکثر ہو رہا ہے ، تو چونکہ یہ جوئے کی ایک صورت ہے جو اسلام میں حرام ہے۔ اس لیے فاریکس ٹریڈنگ کی یہ صورت جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر اس میں کسی جگہ پر سودی لین دین کیا جائے یا فاریکس ٹریڈنگ میں سودی معاملات کا دخل ہو جائے تو ایسی فاریکس ٹریڈنگ بھی جائز نہیں ہے۔
عصر حاضر کے بعض علماء فاریکس ٹریڈنگ کی حرمت کی ایک دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ اس میں خریدار کو اشیاء کا قبضہ نہیں ملتا اور سارا کاروبار زبانی کلامی ہی ہوتا ہے، اس لیے یہ جائز نہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو آجکل تو اکثر کاروبار آن لائن ہی ہو رہے ہیں اور ایک شخص ایک جگہ سے آن لائن ایک چیز کا سودا کرتا ہے اور آن لائن ہی دوسری جگہ اسے فروخت کر دیتا ہے۔ اس زمانہ میں کاروباروں کی نوعیت بالکل بدل گئی ہے۔ پرانے زمانہ میں جو ہاتھوں ہاتھ سودا ہوتا تھا، موجودہ دور کے اکثر کاروباروں میں اس کی بعینہ وہی صورت اب ممکن نہیں رہی۔ بلکہ آجکل کاروباری معاملات میں مراسلت اور لکھت پڑھت ای میلز کے ذریعہ ہو رہی ہوتی ہے، جو ایک لحاظ سے کاروباری امور کو تحریر میں لانے کے اسلامی حکم کی پابندی ہی ہے۔ اس لیے ایسا کاروبار جو آن لائن ہو رہا ہو اور ای میلز وغیرہ کی صورت میں وہ تحریر میں آرہا ہو تو ایسا کاروبار کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
پس میرے نزدیک فاریکس ٹریڈنگ میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں سود اور جوا کا عنصر شامل نہ ہو۔ لیکن اگر اس میں سود یا جوا کی ملونی ہو جائے تو پھر یہ جائز نہیں ہے۔
سوال: سنگاپور سے ایک دوست نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ زمین گول ہے اور گھومتی بھی ہے۔ قرآن کریم نے بھی زمین کو فلیٹ کہا ہے، اسی طرح مجھے نہیں لگتا کہ امریکن چاند پر گئے ہیں۔ زمین کے بارے میں اگر میرا خیال درست ہے تو میری راہنمائی کریں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶؍مارچ ۲۰۲۴ء میں ان سوالوں کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:
جواب: وہ امور جو علم اور مشاہدہ سے ثابت ہو چکے ہوں اور دنیا کے دانا اور اس شعبہ کے ماہرین ان امور کی تصدیق کرچکےہوں اور دنیا کی اکثریت کا ان باتوں پر اتفاق ہوتو ان متحقق اور ثابت شدہ امور کے بارے میں خیالی بات کرنا کہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایسا ہو گا،خود ایسا خیال کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پس جب ساری دنیا کے سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین گول ہے اور اپنے مدار میں گھومتی ہے، پھر آپ کس دلیل کی بنا پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمین نہ گول ہے اور نہ ہی گھومتی ہے۔
علاوہ ازیں قرآن کریم سورۃ الانبیاء میں مختلف قسم کے اجرام فلکی اور ان سے تعلق رکھنے والی چیزوں زمین، آسمان، پہاڑ، رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ کا ذکر کر کے فرماتا ہے۔ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبیاء:۳۴) یعنی یہ سب اپنے اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصنیف الہام، عقل ، علم اور سچائی میں کائنات کی مختلف اشیاء اور خصوصاً اجرام فلکی وغیرہ کی حرکات و سکنات پر بڑی سیر حاصل بحث فرمائی ہے، آپ کو چاہیے کہ اس سارے مضمون کو وہاں سے پڑھیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی مختلف جگہوں پر ان امور کو بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ آپ زمین کی شکل اور اس کے قطر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’زمین کُروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۱۵، حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
سوال: امریکہ سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے سورۃ النساء کی آیت ۷۰ کے حوالے سے پوچھا ہے کہ کیا ایک عورت ایمان میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کثرت سے الہام، کشف اور رؤیا صادقہ اسے کرے جس کا نام نبوت ہے۔ یااگر عورت نبی نہیں بن سکتی تو اس کی کیا وجہ ہے۔ اور کیا ایک عورت ایمانی حالت میں ترقی کرتے ہوئے عام مردوں سے آگے نکل سکتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان میں مرد اور عورت کی دو الگ الگ صنفیں بنا کر دونوں کی جسمانی حالتیں کچھ ایک جیسی اور کچھ مختلف بنائی ہیں۔ دونوں کو کچھ احکامات ایک جیسے اور کچھ مختلف عطا فرمائے ہیں۔ دونوں کے لیے دینی و دنیوی حقوق و فرائض بھی کچھ ایک جیسے اور کچھ مختلف مقرر فرمائے ہیں۔
نبوت کے مقام کی مشکل اور اہم ذمہ داریوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا متحمّل صرف مرد کو بنایا اور عورت پر اس ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالا کیونکہ عورت مرد کی نسبت اپنے کمزور قویٰ کی وجہ سے اس عہدہ کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم تجھ سے پہلے (بھی ہمیشہ) مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا کرتے تھے اور ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے اور اگر تم (یہ بات) نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ کر دیکھ لو۔(النحل:۴۴)
ہاں ایک عورت روحانیت میں ترقی کر کے،اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے کئی مردوں سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہاالسلام کا ایسا مقام بیان فرمایا ہے کہ ہزاروں لاکھوں مرد اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ چنانچہ ان کی پیدائش پر جب ان کی والدہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے تو لڑکی کو جنم دیدیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لڑکی تمہارے ذہن میں جس لڑکے کا تصور ہے، اس سے بہت بہتر ہو گی۔ (آل عمران:۳۷)
عورت کے نبی نہ ہو سکنے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: عورت بعض حکمتوں کی وجہ سے اس عہدہ پر مقر رنہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ نے الگ الگ کام کے لیے بنایا ہے۔ اور چونکہ نبوت کا منصب عورت کے دائرہ عمل سے باہر ہے اس لیے اس پر صرف مردوں کو مقر ر کیا جاتا ہے۔ باقی انعامات چونکہ عورتوں کے دائرہ سے باہر نہیں ان میں وہ مردوں کے ساتھ شریک ہیں۔ وہ صدیقہ ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ ولیہ ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ قانتہ ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ غرض سوائے نبوت کے کہ وہ ایک عہدہ ہے باقی سب انعامات ان کو مل سکتے ہیں اور ملتے رہے ہیں۔ (تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ ۵۲۹، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء)
اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اقدس میں سوال پیش ہوا کہ کیا کوئی عورت نبیہ ہوسکتی ہے؟ فرمایا: نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء :۳۵) اور وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ (البقرہ:۲۲۹) عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل ہوا کرتی ہیں۔ جب صاحبِ درجہ اور صاحبِ مرتبہ کے واسطے ایک دروازہ بند کردیا گیا تو یہ بیچاری ناقصات العقل کس حساب میں ہیں؟ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۶۵، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)
پس نبوت ایک عہدہ ہے، جو اپنے ساتھ بہت سی ذمہ داریاں رکھتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مردوں کے مضبوط قویٰ کے اعتبار سےاس عہدہ کے لیے ان کا انتخاب کیا ہے اور عورت جو کہ صنف نازک ہے، چونکہ وہ اس عہدہ کے فرائض ادا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی ، اس لیے اسے اس کا مکلّف نہیں بنایا۔
سوال: کینیڈا سے ایک عزیز نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسارات بھجوائے کہ اسلام Feminism کے بارے میں کیا کہتا ہے اور کیا اسلام اور Feminism کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ ۲۔ جب کہا جاتا ہے کہ مسائل کے لیے حضور کو لکھیں تو لوگ کہتے ہیں کہ حضور کے پاس ان چیزوں کے لیے اتنا وقت نہیں ہے۔ اس کا کیا جواب ہے؟ ۳۔ میں حضور کو ہر روز ایک یا زیادہ خط لکھتا ہوں ، آپ کو یہ چیز بُری تو نہیں لگتی؟ ۴۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ بندہ کو اللہ سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اپنے شوق اور مرضی چھوڑنی پڑتی ہے، اس میں کیا چیز آتی ہے؟ ۵۔ کیا سورت بنی اسرائیل آیت نمبر ۵ فلسطین کے موجودہ حالات کے بارے میں ہے؟ ۶۔ کیا سورۃالفیل میں کسی پیشگوئی کا ذکر ہے؟ ۷۔ اسلام نے میوزک کو بُرا کیوں کہا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۳۱؍مارچ ۲۰۲۴ء میں ان کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:
جواب:آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے مرد و عورت دونوں کے ان کی ذمہ داریوں کے مطابق حقوق و فرائض بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔ اس دنیوی زندگی کے متعلق فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔ (البقرہ:۲۲۹)یعنی اُن (عورتوں) کا دستور کے مطابق (مَردوں پر) اتنا ہی حق ہے جتنا (مَردوں کا) اُن پر ہے۔ نیز مردوں کو عورتوں کے بارے میں حکم دیا کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔(النساء:۲۰) یعنی ان سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔لیکن اس کے ساتھ اسلام نے اس دنیوی زندگی میں مردوں کی بعض ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کی عورتوں پر ایک گنا فضیلت کو بھی تسلیم کیا ہےجیسا کہ فرمایا کہ مرد عورتوں پر اس فضیلت کے سبب سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو دوسروں پر دی ہے اوراس سبب سے کہ وہ اپنے مالوں میں سے (عورتوں پر) خرچ کر چکے ہیں نگران (قرار دیے گئے) ہیں۔(النساء:۳۵) اسی طرح فرمایا کہ مردوں کو ان(عورتوں) پر ایک طرح کی فوقیت حاصل ہے۔ (البقرہ:۲۲۹)
اُخروی زندگی کے متعلق فرمایا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ (النحل:۹۸)یعنی مرد یا عورت میں سے جو بھی نیکیاں بجالائے بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اُسے ہم یقیناً ایک حیاتِ طیّبہ کی صورت میں زندہ کردیں گے اور انہیں ضرور اُن کا اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے جو وہ کرتے رہے۔
پس اسلام میں مردوں اور عورتوں دونوں کا اپنا اپنا ایک مقام ہے اور معاشرہ میں دونوں کا اپنا اپنا اہم کردار ہے اس لیے اسلام نے عورت و مرد دونوں کے حقوق و فرائض کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اگر مرد و عورت دونوں اسلام کی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں توان کی یہ زندگی بھی جنت بن جاتی ہے اور ان میں حقوق کی کھینچا تانی کی کوئی صورت پیدا ہی نہیں ہوتی۔
یوکے اور جرمنی کےجلسہ ہائے سالانہ کی اپنی کئی تقریروں میں ، میں مرد و عورت کے حقوق و فرائض کے بارے میں قرآن کریم، احادیث نبویہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان مضامین کو بیان کر چکا ہوں۔ انہیں بھی آپ دوبارہ سن لیں۔
۲۔ آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ لوگ مجھے مختلف مسائل کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں اور میں ان کا جواب دیتا ہوں اور ان میں سے بہت سے جوابات الفضل اور الحکم میں اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع بھی ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہے تو آپ بھی لکھ سکتے ہیں۔ اس کے جواب سے آپ کو بھی فائدہ ہو گا اور دوسرے لوگ بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔
۳۔ مجھے خط لکھنے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ خط لکھنے میں اعتدال کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔اگر کوئی اہم بات ہوتو ضرور خط لکھیں۔ لیکن عام دعائیہ خط آپ مہینہ میں ایک لکھا کریں۔
۴۔آپ کا اگلا سوال کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ بندہ کو اللہ سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اپنے شوق اور مرضی چھوڑنی پڑتی ہے، اس میں کیا چیز آتی ہے؟تو اس کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لیے اس کی رضا پر چلنا سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ اس لیے جن باتوں کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے، ان پر عمل کیا جائےا ور جن بُرائیوں سے اس نے منع فرمایا ہے، ان کو چھوڑنا ضروری ہے۔
۵۔ آپ کےاگلے سوال کا جواب ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل اور جامع کتاب ہے، جس میں قیامت تک انسان کے لیے روحانی تعلیمات کو بھی بیان کر دیا گیا ہےاور آئندہ زمانوں میں رونما ہونے والے واقعات کو بھی اشارۃً پیشگوئیوں کی صورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ سورت بنی اسرائیل میں یہود اور مسلمانوں کی حالتوں کے مطابق ان کے آئندہ حالات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اسی لیے میں نے دنیا بھر کی جماعتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں تفسیر کبیر کے اس حصہ کا درس دیں، تا کہ احباب جماعت کو اس کا علم ہو اور وہ اپنی ایمانی حالتوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
۶۔ سورۃ الفیل کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ یقیناً سورۃ الفیل میں آئندہ زمانہ کے بارے میں پیشگوئی موجود ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام مخالف طاقتیں پھر اپنے زور میں آکر اسلام کو توڑنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن جس طرح گذشتہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت کر کے اس پر حملہ آور دشمن کو نیست و نابود کردیا تھا۔ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لیے اس کے مخالفین کو ناکام و نامراد کرے گا۔ لیکن اس کے لیے مسلمانوں کو اپنی حالت بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان اپنی حالتوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ڈھالیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سےبھیجے گئے مسیح محمدی کی آواز پر لبیک نہیں کہیں گے، وہ اسلام دشمن طاقتوں سے ہزیمت ہی اٹھاتے رہیں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر کبیر میں سورۃ الفیل کی تفسیر میں اس پیشگوئی کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ وہاں سے آپ اس تفصیل کو پڑھ سکتے ہیں۔
۷۔ میوزک کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ میوزک سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ انسان میوزک میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں غلط خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام نےاسے لغویات میں شامل فرمایا ہے۔ اور قرآن کریم نے اچھے مومن کی ایک یہ نشانی بتائی کہ وہ لغو باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ (المومنون:۴) ہاں کبھی کبھار کسی اچھے اور صاف ستھرے میوزک کو سننے میں حرج نہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۷)




