کہیں تو بہرِ خدا ذکرِ یار چلے
(’ایم اے طیب‘)
اس زندگی میں ہمارا بہت سے لوگوں سے تعلق بنتا ہے، ہر کسی کی اپنی ہی تاثیر ہوتی ہے۔ آج جس شخصیت کے بارے میں کچھ ضبط تحریر میں لا نا چاہتا ہوں ان سے مجھے شرفِ تلامذ حاصل ہوا اور ہمیشہ میری طبیعت پر ایک غیر معمولی روحانی اثر قائم کیا۔ میری مراد مکرم و محترم میر محمود احمد صاحب ناصر سے ہے جن کے ساتھ ایک عرصہ گزارنے کا موقع ملا۔ آج تحدیث نعمت کے طور پر ان کی شفقتوں میں سے کچھ کا ذکر کرنا مقصود ہے۔
پہلی یاد جو میرے ذہن پر نقش ہے وہ قریبا ًسات سال کی عمر میں ایوان محمود میں ایک تقریب میں حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓ کی معرکہ آرا نعت بدرگاہِ ذیشان پڑھنے پر مسکراتے ہوئے چہرے اور بشاشت کے ساتھ انعام دے کر حوصلہ افزائی کرنے کی ہے۔

تعلیم و تربیت: میر صاحب ایک بہترین معلّم اور مربی تھے۔ آپ اپنی زبان سے زیادہ اپنے عملی نمونہ سے تربیت کرتے تھے۔ پھر تعلیم و تربیت کا تعلق بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتا ہے اور محترم میر صاحب چھوٹی باتوں کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔ جب ہم جامعہ کے کوارٹر میں رہتے تھے تو میرصاحب نے گھر فون کیا اور کسی کو پیغام دینے کا کہا اور ساتھ تاکید کی کہ گھر والدہ صاحبہ کو بتا کر جانا۔ پھر جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا تو میر صاحب کی بہت شفقتیں رہیں۔ ایک مرتبہ بغیر کسی مطالبہ کے آپ نے خرچ کے لیے کچھ رقم مجھے دی۔
ہر طالب علم سے ذاتی تعلق رکھتے۔ آپ کی عادت تھی کہ روزانہ صبح جامعہ کے نوٹس بورڈ پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کےلیےتعلق باللہ، عشق رسولﷺ، اطاعتِ خلافت یا میدان عمل کے حوالے سے کچھ نہ کچھ سبق آموز تحریر آویزاں کرتے اور بسا اوقات ضرورت محسوس کرتے تو دورانِ اسمبلی طلبہ کو خود بات سمجھادیتے نیز ہر ہفتے کو حضور کے خطبہ جمعہ کے نوٹس خود اپنے ہاتھ سے وائٹ بورڈ پر لکھتے اور اسی طرح رمضان کے دروس کے نوٹس بھی کبھی خود اور کبھی طلبہ سے لکھواتے۔ چنانچہ بعض اوقات یہ سعادت خاکسار کے حصے میں بھی آئی۔
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن کے تفسیری نوٹس شائع ہو ئے تو آپ نے وہ نوٹس پڑھنے کے لیے مجھے دیے ۔
طلبہ جامعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی بھی کتاب کے بارے میں استفسار کرتے کہ آجکل حضورؑ کی کونسی کتاب آپ کے زیر مطالعہ ہے؟ جس سے مطالعہ کتب کی طرف طلبہ کو مزید رغبت ہوتی تھی۔ آپ کہا کرتے تھے کہ جامعہ کا مقصد تو طلبہ میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنا ہے۔ جامعہ کے تدریسی اوقات کے دوران آپ راؤنڈ کر کے طلبہ کا جائزہ لیتے رہتے تھے اور جہاں محسوس کرتے کہ طلبہ وقت ضائع کر رہے ہیں تو انہیں تنبیہ کرتے۔
صحبتِ صالحین: تربیت کا ایک بنیادی اور اہم ذریعہ صحبت صالحین ہے جس کا میر صاحب بہت خیال رکھتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے جن صحابہ ؓکو آپ نے دیکھا ہوا تھا ان کے حالات کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ آپ کے علم میں آیا کہ مولانا جمیل الرحمان رفیق صاحب کے والد مکرم ملک سلیم صاحب ربوہ آئے ہوئے ہیں جو صحابی تو نہیں ہیں لیکن جب چھوٹے تھے تو حضرت مسیح موعودؑ نے انہیں دیکھا ہوا ہے تو آپ نے باری باری جامعہ کے طلبہ کو ان کے پاس ملاقات کے لیے بھجوایا۔ چنانچہ طلبہ ان سے شرفِ ملاقات حاصل کر کے آئے اور تصویر کھنچوائی۔
جب بھی کوئی بزرگ ربوہ آتے یا جامعہ میں میرصاحب سے ملنے کے لیے آتے تو میر صاحب تمام طلبہ کو جامعہ کے ہال میں اکٹھا کروا کے ان سے ملاقات کروادیتے۔ جن میں صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب، حضرت مرزا عبدالحق صاحب، مکرم نسیم مہدی صاحب ودیگر شامل ہیں۔ اسی طرح شوریٰ کے موقع پر شعراء کرام کو دعوت دے کر مشاعرے کا انتظام بھی کرواتے تاکہ طلبہ کی ادبی صلاحیتیں اُجاگر ہوں ۔
خلافت سے تعلق: خلافت کے لیے تو آپ گویا سونتی ہوئی تلوار تھے۔ آپ اطاعتِ خلافت پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے جب بھی کوئی کام آتا تو باقی سب کام چھوڑ کر ترجیحی بنیاد پر حضور کی طرف سے آئے ہوئے کام کو مکمل کرتے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒکی آخری بیماری کے موقع پر آپ نے حضورؒ کی صحت کے لیے دعا اور صدقہ کی خصوصی تحریک کی بلکہ صدقہ کے حصول کے لیے آفس کی ڈاک کا ٹرے ہاتھ میں لے کر ہر کلاس کا دورہ کیا اور جس طالب علم نے جو دیا اس سے وصول کیا اور صدقہ کر دیا۔
ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضورﷺ کی ایک مختصر دعا کا ذکر اپنے ایک خطبہ میں فرمایا جو یہ تھی اللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی رِزْقًا طَیِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا تو اگلے روز ہم سب سے آپ نے وہ دعا سنی۔
ایک جملہ جس کا ذکر آپ اکثر فرماتے تھے کہ’’ ق‘‘ قرآن کریم ’’ب‘‘ بخاری اور’’ر‘‘ روحانی خزائن، کے ذریعے قبر کی تیاری کرو اور خود بھی آخر دم تک آپ باقاعدگی سے ان تینوں کتب سے گویا چمٹے رہے۔ اور جب صحت کی کمزوری کے باعث خود سے مطالعہ کرنا آپ کے لیے مشکل ہوگیا تو اس کام کے لیے مربیان کی ڈیوٹی لگادی کہ وہ پڑھ کرسنا دیا کریں۔
طلبہ سے اگر کبھی کوئی غلطی سرزد ہوجاتی توبسااوقات مسجد میں استغفار کرواتےاور بسااوقات تو خود بھی استغفار میں شامل ہوجاتے۔ آپ کا ایک نمایاں وصف ہر ایک طالب علم کے ساتھ آپ کا ذاتی تعلق تھا جسے ہر طالب علم محسوس کرتا تھا۔ آپ کی مجالس کا رنگ بھی بہت بے تکلّفانہ تھا اور اس تعلق کی بدولت طلبہ میر صاحب سے بلاتکلف ذاتی باتیں بھی کر لیا کرتے تھے۔ تعمیری مزاح بھی میر صاحب کی شخصیت کا خاصہ تھا۔
ایک دفعہ ابا جان مسجد مبارک میں نماز عشاء پڑھاتے ہوئے کچھ بھول گئے۔ میں نے لقمہ دیا تو میر صاحب نے اگلے روز دفتر میں مجھے کہا کہ باپ تو بیٹے کو لقمہ دیا کرتا ہے کیا بیٹا بھی باپ کو لقمہ دیا کرتا ہے؟
ایک مرتبہ آپ نے مجھے خوشبو کا تحفہ یہ کہتے ہوئے دیا ’’لَا یَرُدُّ الطِّیْبَ‘‘ کہ آنحضرت ﷺ خوشبو کے تحفہ کو لوٹاتے نہیں تھے۔ عموماً آپ طلبہ کی سفارش کردیا کرتے تھے اور ساتھ حضورﷺ کی یہ حدیث پڑھتے کہ’’ اِشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا‘‘۔ یعنی سفارش کرو تو اجر پاؤ گے۔ عید کے دن آپ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے جامعہ تشریف لا تے اور طلبہ سے عید ملتے اور ان کے ساتھ میٹھا تناول کرتے۔
ایک بات جسے بسا اوقات میں نے اور میرے ساتھیوں نے ملاحظہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کا قرآن کریم اور حدیث کا مطالعہ اتنا وسیع تھا کہ کسی مضمون سے متعلق حوالہ آپ کو فوراً ذہن میں آجاتا اور اگر فوری حوالہ نہ بھی ملتا تو تلاش کے بعد ضرور مل جاتا۔
خاکسار کو چونکہ آپ کے ساتھ ترجمہ احادیث کے حوالے سے خدمت کا موقع بھی ملا تو یہ دیکھنے میں آیا کہ ہمیشہ ترجمہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ کی عظمت ِشان کا آپ ضرور خیال رکھتے۔
درس حدیث کا منفرد انداز: میر صاحب کے درس کا بھی ایک منفرد انداز تھاجو روایتی انداز سے ہٹ کر ایک ندرت اپنے اندر رکھتا تھا اور سامعین کی توجہ کو کھینچنے والا ہوتا تھا۔ آپ سب سے پہلے تو جس موضوع پر درس ہوتا اس سے متعلقہ قرآنی آیت کی تلاوت کرتے پھر درود شریف پڑھتے پھر حدیث پڑھتے پھر اس حدیث سے متعلقہ کسی تاریخی واقعہ یا حالاتِ حاضرہ سے کچھ بیان کرتے پھر اس مضمون کو حدیث پر چسپاں کرتے اور تشریح میں حضرت مسیح موعودؑ کے حوالہ جات شامل کرتے اور اسلامی تعلیم میں پائی جانے والی وسعت اور خوبیوں کو بھی پیش کرتے جس سے سامعین مضمون کو بخوبی سمجھ جاتے۔ مثلاً ایک دفعہ آپ نے بیان کیا کہ اگرچہ یورپ میں Greetings کا بہت رواج ہے لیکن اسلام میں سلام کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اپنے اندربہت زیادہ وسعت رکھتی ہے ۔
نماز کی امامت کرنے والے مربیان کی بھی آپ تربیت کرتے رہتے۔ ایک خاص بات جس کی آپ امام الصلاۃ کو تلقین کرتے یہ تھی کہ جب آپ قرآن کریم بالخصوص سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کریں تو ایک سانس میں نہ پڑھیں بلکہ حضورﷺ کی سنت کے مطابق ایک آیت کے بعد وقفہ کریں تاکہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لیں کیونکہ حدیث نبوی ﷺ کے مطابق سورۃ الفاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
قادیان سے اور حضرت مصلح موعودؓ سےعشق: قادیان سے آپ کو عشق تھا ۔ قادیان جاتے تو بالخصوص حضرت مصلح موعودؓ سے متعلقہ اپنی یادیں ہمیں بتاتے۔ ایک دفعہ ہوشیارپور میں جب تصویر ہونے لگی تو مجھے اور میرے والد صاحب کو دیکھ کر کہا کہ یہ دونوں میرے شاگرد ہیں اس پر بی بی (صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ) نے مجھے کہا کہ بات تو تب ہے کہ تمہارا بیٹا بھی میر صاحب کا شاگرد ہو۔اس پر ابا نے کہا کہ یہ آپ میر صاحب کو دعا دے رہی ہیں یا مظہر کو؟ لیکن بی بی کی یہ بات اس طرح پوری ہوئی کہ میرے بڑے بیٹے مطہر احمد کی تقریب آمین پر میر صاحب ازراہِ شفقت گھر تشریف لائے اور مطہر احمد سے قرآن کریم کا کچھ حصہ سن کر اس کی آمین کروائی ۔
محترمہ صاحبزادی امۃ المتین صاحبہ کی رحلت کے بعد خاکسار کو محترم میر صاحب کے پاس کچھ عرصہ ڈیوٹی دینے کا موقع ملا۔اس دوران بھی میر صاحب کی روحانی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور آپ سے استفادہ کا موقع ملا ۔
ہر ایک کا خیال رکھتے: ایک بات جو میں نے محسوس کی یہ تھی کہ آپ ہر آنے والےمہما ن کا بہت خیال رکھتے خواہ کوئی امیر ہو یا غریب اس کی کسی نہ کسی چیز سے تواضع ضرور فرماتے۔ اسی طرح ڈیوٹی پر آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ آخری بیماری میں خاکسار میر صاحب کی عیادت کے لیے طاہر ہارٹ گیا تو اس دوران آپ نے ایک کارکن کو چپس کھاتے ہوئے دیکھا۔ میر صاحب نے بیماری کی حالت میں ان سے کہا کہ ان کو بھی پوچھیں۔
وقت کا صحیح استعمال: آپ ایک معمور الاوقات شخصیت تھے۔ میں نے کبھی آپ کو فارغ بیٹھے نہیں دیکھا۔ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف دیکھا بلکہ شادی وغیرہ کی تقریبات میں آپ کوئی نہ کوئی کتاب اپنے ہمراہ لے جاتے تاکہ انتظار میں وقت کا ضیاع نہ ہو۔
آپ ایک دعا گو بزرگ تھے۔ رات سونے سے قبل مسنون اذکار کر کے سوتے اور نماز فجر سے کافی پہلے بیدا رہوکر نماز تہجد ادا کرتے اور سنتیں ادا کر کے نماز فجر کے لیے مسجد جاتے۔ نماز فجر سے واپس آکر سب سے پہلے قرآن کریم کی کم از کم ایک ربع کے قریب بآواز بلند تلاوت کرتے۔
غرض آپ نے وقف زندگی کا جو عہد اپنے والد بزرگوار کی وفات کے موقع پر سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی موجودگی میں کیا تھا اسے خوب نبھایا اور اپنے شاگردوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اپنے وقت کی قدر کرو گے اور اس کا صحیح استعمال کرو گے تو کامیاب ہو گے۔
اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو، آپ کے درجات بلند فرمائے اور اپنے پیاروں میں آپ کو جگہ دے اور ہمیں آپ کی نصائح پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جیسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کی وفات پر فرمایا تھا کہ آپ جیسے مزید سلطان نصیر جماعت کو عطا فرمائے آمین ۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکرم طاہر محمود صاحب شہید




