متفرق مضامین

گردش میں ہیں کتنی کائناتیں

(عمیر علیم۔انچارج شعبہ مخزن تصاویر لندن)

آج اپنے یومِ پیدائش پر اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نصیحتیں، ان کی باتیں، ان کی دعائیں اور ان کی تربیت میری زندگی کا سرمایہ ہیں

بارہ جون ہمیشہ مجھے دو زندگیوں کی یاد دلاتا ہے؛ ایک میری، اور ایک میرے باپ کی۔ یہ وہ دن ہے جو ہم دونوں کے نام لکھا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں آج بھی اس دن کو جی رہا ہوں اور وہ برسوں پہلے اسے میرے لیے ایک یاد، ایک دعا اور ایک وراثت بنا کر رخصت ہو گئے۔

عبیداللہ علیمؔ

اگر وہ آج ہمارے درمیان ہوتے تو اپنی اٹھاسیویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ وقت گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، زندگی نے اپنے رنگ دکھائے، مگر کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں عمر کمزور نہیں کرتی بلکہ اور زیادہ واضح کر دیتی ہے۔ ایسے ہی لمحوں میں والد صاحب کا ایک شعر بے اختیار یاد آتا ہے

آنکھ سے دور سہی، دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تُو ہمیں یاد بہت آئے گا

جتنا سفر میں نے زندگی کا طے کیا ہے، اتنا ہی ان کی شخصیت کے نئے پہلو مجھ پر آشکار ہوتے گئے ہیں۔ بعض لوگوں کی جدائی وقت کے ساتھ آسان ہو جاتی ہے، مگر بعض لوگ اپنی غیرموجودگی میں بھی ہمارے اندر موجود رہتے ہیں۔ میرے والد میرے لیے ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔

ستمبر ۱۹۹۶ء میں جب میں تعلیم کے لیے لندن روانہ ہورہا تھا تو والد صاحب نے اپنی دو کتابیں میرے حوالے کیں۔ کتابیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’میرے پاس اس وقت تمہیں دینے کے لیے یہی کچھ ہے۔‘‘

اُس وقت یہ ایک سادہ سا جملہ محسوس ہوا تھا، مگر آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ دو کتابیں نہیں تھیں؛ ایک پوری فکری اور روحانی میراث تھی جو ایک باپ اپنے بیٹے کے سپرد کر رہا تھا۔ ان کتابوں کے ساتھ ان کی محبت بھی تھی، ان کا اعتماد بھی، ان کی دعائیں بھی اور ان کی زندگی کا حاصل بھی۔

ان کتابوں پر لکھے گئے انتسابات آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کے الفاظ کی معنویت میرے لیے بڑھتی ہی گئی ہے۔ ان میں جسمانی صحت کی فکر بھی ہےمسجد اور دینی ماحول سے وابستگی کی تلقین بھی اور زندگی کے مختلف رخ سمجھنے کی دعوت بھی۔ لیکن اگر ان تمام نصیحتوں کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو وہ شاید یہی ہے جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرے لیے لکھا تھا: ’’اللہ کو ہر حالت میں انتہائی شکر کے ساتھ یاد رکھو اور ہمیشہ اسی میں پناہ ڈھونڈو۔‘‘

عمر کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ یہ محض ایک نصیحت نہیں تھی بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ تھا۔ جتنا میں نے زندگی کو قریب سے دیکھا، اتنا ہی ان الفاظ کی صداقت مجھ پر کھلتی گئی۔

زندگی کے سفر میں بہت سے ایسے موڑ آئے جہاں انسان اپنی تدبیروں کی حد کو پہچان لیتا ہے۔ ایسے مواقع پر مجھے بارہا محسوس ہوا کہ انسان کی اصل طاقت اس کے بازوؤں میں نہیں، اس کے تعلق باللہ میں ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے میرے والد کی سب سے بڑی نصیحت میرے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی نصیحت رہی۔ ان کے ایک شعر میں اسی احساس کی ترجمانی ملتی ہے:

گدائے دہر کا کیا ہے اگر یہ در نہیں وہ ہے

ترے در کے فقیروں کی تو کُل دنیا فقط تُو ہے

وقت گزرنے کے ساتھ میں نے جانا کہ یہ محض شعر نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر ہے۔ دنیا کے سہارے بدلتے رہتے ہیں، حالات بدلتے رہتے ہیں، طاقت اور کمزوری کے پیمانے بدلتے رہتے ہیں، مگر جس شخص کا رشتہ اپنے ربّ کے ساتھ مضبوط ہوجائے، اس کے لیے امید کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

ان کے انتساب کا ایک جملہ مجھے آج بھی رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا: ’’جب میں تمہارے باطن میں وہ تصویر دیکھتا ہوں جو کہیں مجھ میں شاید ادھوری رہ گئی، تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘

عمر کے اس مرحلے پر پہنچ کر میں اس جملے کو پہلے سے کہیں زیادہ سمجھتا ہوں۔ یہ صرف محبت کا اظہار نہیں تھا، بلکہ ایک باپ کا اپنی اولاد پر اعتماد تھا۔ شاید وہ اپنی سوچ، اپنی آرزوؤں، اپنی قدروں اور اپنی روحانی جستجو کا تسلسل اپنی اولاد میں دیکھ رہے تھے۔ میرے لیے یہ جملہ ہمیشہ باعثِ فخر بھی رہا ہے اور باعثِ احتساب بھی۔

میرے والد ایک ممتاز شاعر تھے، مگر ان کی اصل عظمت ان کے کردار میں تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے نزدیک لفظ ایک امانت ہوتا ہے۔ وہی کہتے تھے جس پر یقین رکھتے تھے اور وہی لکھتے تھے جسے سچ سمجھتے تھے۔ ان کا یہ شعر ان کی پوری زندگی کی تفسیر معلوم ہوتا ہے۔

بولے نہیں وہ حرف جو ایمان میں نہ تھے

لکھی نہیں وہ بات جو اپنی نہیں تھی بات

یہ دو مصرعے محض شاعری نہیں، ان کی سیرت کا خلاصہ ہیں۔ جو لوگ انہیں جانتے تھے، وہ جانتے ہیں کہ ان کے لفظ اور ان کے کردار میں کوئی فاصلہ نہ تھا۔ انہوں نے زندگی بھی اسی دیانت سے گزاری جس دیانت سے شاعری کی۔

آج جب میں خود باپ ہوں تو اپنے والد کو پہلے سے کہیں بہتر سمجھتا ہوں۔ اولاد کی فکر، ان کے خوابوں کی فکر، ان کی خوشیوں کی فکر، اور اپنی خواہشوں کو ان کی ضرورتوں پر قربان کر دینے کا عمل—یہ سب اب میرے لیے مشاہدہ نہیں، تجربہ ہے۔ اب جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایک باپ اپنی اولاد کے لیے کتنی دعائیں کرتا ہے، کتنی فکریں اپنے دل میں چھپا لیتا ہے اور کتنی خواہشیں خاموشی سے ان کے راستے میں بچھا دیتا ہے۔

ایسے ہی کسی احساس کے لمحے میں مجھے والد صاحب کا ایک شعر یاد آتا ہے۔

گردش میں ہیں کتنی کائناتیں

بچہ میرا پاؤں چل رہا ہے

شاید باپ کی محبت کو اس سے بہتر اور سادہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے، زمانے بدلتے رہتے ہیں، مگر ایک باپ کی نگاہ میں اس کی اولاد کا ایک قدم، اس کی ایک کامیابی، اس کی ایک خوشی، پوری کائنات سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ آج جب میں خود اس راستے سے گزرا ہوں تو اس شعر کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔

ذکر کرنے کو بے شمار واقعات ہیں، بے شمار نصیحتیں ہیں اور بے شمار یادیں ہیں۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جنہوں نے میری ابتدائی زندگی کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ کبھی محبت سے، کبھی ڈانٹ کر، کبھی سمجھا کر اور کبھی صرف اپنے عمل سے انہوں نے مجھے زندگی کے راستے سکھائے۔ مگر آج، بارہ جون کے دن، ان سب باتوں کو اگر ایک احساس میں سمیٹنا ہو تو وہ احساس شکرگزاری کا ہے۔

شکرگزاری اُس باپ کے لیے جس نے میری تربیت کی، مجھے دعا دی، مجھے سوچنے کا سلیقہ دیا اور اپنے کردار کی روشنی میں جینا سکھایا۔ اور شکرگزاری اُس ربّ کے لیے جس نے مجھے ایسے باپ کی نعمت عطا کی۔

آج اپنے یومِ پیدائش پر اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نصیحتیں، ان کی باتیں، ان کی دعائیں اور ان کی تربیت میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔ وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، مگر ان کے دیے ہوئے اصول اور ان کے سکھائے ہوئے سبق میرے ساتھ رہے۔ اگر میری زندگی میں کوئی خیر، کوئی سمت اور کوئی استقامت ہے تو اس میں میرے والد کا نور شامل ہے، اور اسی روشنی میں میرا سفر جاری ہے۔

دیئے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے

تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لئے

اللہ تعالیٰ میرے والد پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کی محبت، تربیت اور دعاؤں کا اجر انہیں ہمیشہ عطا فرماتا رہے۔آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بیرونِ قادیان کے پہلے موصی حضرت مولوی عنایت اللہ مدرِّسؓ آف چَبّہ سَندھواں ضلع گوجرانوالہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button