حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

(گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍جون ۲۰۲۶ء)

احمدی ڈاکٹر وقف کریں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : ’’حبی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب۔ یہ جوان صالح اور کم گو اور خلوص سے بھرادقیق فہم آدمی ہے (یعنی بڑی باریک نظر سے دیکھنے والے ہیں)۔ استقامت کے آثار و انوار اس میں ظاہر ہیں۔ وفاداری کی علامات و امارات اس میں پیدا ہیں۔ ثابت شدہ صداقتوں کوخوب سمجھتاہے۔ اور ان سے لذت اٹھاتاہے۔ اللہ اوررسول سے سچی محبت رکھتاہے اور ادب ، جس پر تمام مدار حصول فیض کاہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیرتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ جزاھم اللہ خیر الجزاء۔ (یعنی فیض اٹھانا اور حسن ظن رکھنا۔ جن کا یہ مجموعہ ہے یہ دونوں صفتیں ان میں پائی جاتی ہیں)۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ۸۰۰-۸۰۱۔ روحانی خزائن۔ جلد۳۔ صفحہ ۵۳۲-۵۳۳)

پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت میاں عبداللہ سنوریؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’حبی فی اللہ میاں عبداللہ سنوریؓ۔ یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھینچا گیا۔ مَیں یقین رکھتاہوں کہ وہ ان وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لاسکتا‘‘۔ یعنی کوئی ابتلا ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔ ’’وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور مَیں ہمیشہ بنظر امعان اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتارہاہوں‘‘یعنی مَیں بڑے غور سے دیکھتا رہاہوں۔ ’’سو میری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان درحقیقت اللہ اوررسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتاہے اورمیرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کے بجز اس بات کے اور کوئی بھی وجہ نہیں جو اس کے دل میں یقین ہو گیاہے کہ یہ شخص محبان خدا اور رسول میں سے ہے‘‘۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ ۷۹۶۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر۳۔ صفحہ ۵۳۱)

پھر حضرت منشی اروڑا صاحبؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’حبی فی اللہ منشی محمد اروڑا نقشہ نویس مجسٹریٹی۔ منشی صاحب محبت اور خلوص اور ارادت میں زندہ دل آدمی ہیں۔ سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔ خدمات کو نہایت نشاط سے بجا لاتے ہیں‘‘ بڑی خوشی سے بجا لاتے ہیں۔ ’’بلکہ وہ تو دن رات اسی فکرمیں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔ عجیب منشرح الصدر اورجان نثار آدمی ہے‘‘۔ یعنی کھلے دل سے قبول کرنے والے اور جان نثار آدمی ہیں۔ ’’مَیں خیال کرتاہوں کہ ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔ شاید ان کو اس سے بڑھ کر اورکسی بات میں خوشی نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اوراپنے مال اور اپنے وجود کی ہریک توفیق سے کوئی خدمت بجا لاویں۔ وہ دل و جان سے وفادار اور مستقیم الاحوال اور بہاد ر آدمی ہیں‘‘۔ ہرحال میں وفادار ہیں۔ اور مضبوط ہیں ایمان میں اور بہادر آدمی ہیں۔ ’’خدائے تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔ آمین ‘‘۔

پھر آپؑ نے فرمایا:’’حبی فی اللہ میاں محمد خاں صاحب ریاست کپور تھلہ میں نوکر ہیں۔ نہایت درجہ کے غریب طبع، صاف باطن ،دقیق فہم ،حق پسند ہیں ‘‘۔ یعنی باریکی سے غور کرنے والے اورحق کو پہچاننے والے ، سچ کو پسند کرنے والے۔ ’’اور جس قدر انہیں میری نسبت عقیدت وارادت و محبت و نیک ظن ہے مَیں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ مجھے ان کی نسبت یہ تردّد نہیں ہے کہ ان کے اس درجہ ارادت میں کبھی کچھ ظن پیدا ہو بلکہ یہ اندیشہ ہے کہ حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ وہ سچے وفادار اور جاںنثار اور مستقیم الاحوال ہیں۔ خدا ان کے ساتھ ہو۔ ان کا نوجوان بھائی سردار علی خاں بھی میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہے۔ یہ لڑکا بھی اپنے بھائی کی طرح بہت سعید و رشید ہے ‘‘۔ بہت نیک اور سیدھے رستے پر چلنے والا۔ ’’خداتعالیٰ ان کامحافظ ہو‘‘۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ ۷۹۸ تا۸۰۰۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر۳۔ صفحہ ۵۳۲)

پھر آ پؑ فرماتے ہیں : ’’میرے نہایت پیارے بھائی اپنی جدائی سے ہمارے دل پر داغ ڈالنے والے میرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم و مغفور رئیس سامانہ علاقہ پٹیالہ کے ہیں جو دوسری ربیع الثانی۱۳۰۸ہجری میں اس جہان فانی سے انتقال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اَلْعَیْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ یَحْزُنُ وَاِنَّا بِفِرَاقِہٖ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ (یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہیں اور ہم اس کی جدائی سے غمزدہ ہیں)۔ ’’میرزا صاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض للہ محبت رکھتے اور جس قدرمجھ میں فنا ہو رہے تھے مَیں کہاں سے ایسے الفاظ لائوں تااس عشقی مرتبہ کو بیان کرسکوں۔ اورجس قدر ان کی بے وقت مفارقت سے مجھے غم اور اندوہ پہنچاہے مَیںاپنے گذشتہ زمانہ میں اس کی نظیر بہت ہی کم دیکھتاہوں۔ وہ ہمارے فرط اور ہمارے میر منزل ہیں‘‘ یعنی ہماری نظرمیں ان کا بڑامقام ہے اور بڑے اچھے آگے بڑھنے والے تھے، لیڈرانہ صلاحیت تھی۔ ’’جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے۔ جب تک ہم زندہ رہیں گے ان کی مفارقت کا غم ہمیں نہیں بھولے گا……۔ ان کی مفارقت کی یاد سے طبیعت میں اداسی اور سینہ میں قلق کے غلبہ سے کچھ خلش اور دل میں غم اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ ان کا تمام وجود محبت سے بھرگیا تھا۔ میرزا صاحب مرحوم محبانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے‘‘۔ (فتح اسلام۔ صفحہ ۶۵-۶۶۔ روحانی خزائن۔ جلد نمبر۳۔ صفحہ ۳۹)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۶۳تا۲۶۶)

مزید پڑھیں: حضرت امام حسینؓ…سردارانِ بہشت میں سے ہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button