متفرق مضامین

قیامِ توحید کے لیےرسول کریم ﷺکی عظیم الشان جدوجہد

(عبدالسمیع خان)

’’آپؐ فوت نہ ہوئے جب تک آپؐ کی قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

اس کائنات کی بنیادی حقیقت توحید میں بیان کی گئی ہے جو ہزار ہا مطہر انبیاء کے سینوں سے ہوتی ہوئی محمد رسول اللہﷺ کے زمانے میں اپنے کمال کو پہنچنا مقدر تھی اور آسمانوں پر خدا کا یہی فیصلہ تھا کہ کل عالم میں توحید کے قیام کا آخری سہرا اس ایک ذات کے سر ہوگا اور اس کی یہ محیر العقول کامیابی بذات خود اس کے فرد و حید اور توحیدباری تعالیٰ کے مظہر اتم ہونے کی ایک زندہ اور ناقابل تردید دلیل ہوگی۔

صرف۲۳؍برسوں میں

یہاں انسانی عقل سوچتی ہے کہ نبی اکرم ﷺکے ذریعے قیام توحید کی تکمیل کا یہ دور سینکڑوں نہیں تو بیسیوں سالوں تک تو ضرور پھیلا ہوگا مگر یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ عرصہ صرف تئیس برسوں پر مشتمل تھا۔ اس عرصہ میں انسانیت نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سالاری میں کثرت سے وحدت اور شرک سے توحید کی طرف جو قدم اٹھائے ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کی جدّوجہد کا نکتہ آغاز بھی تو حید تھا اور اس کا حاصل بھی توحید۔ اس بیج کے ایک تناور درخت ہونے اور اس ذرہ بے مقدار کے ثریا بننے کے عمل کا نام حیاتِ محمد مصطفیٰ ﷺہے۔

مظہر اتم الوہیت

ربِّ قدیر نے آپؐ کو دل موہ لینے والے حسن اور غالب آنے والے کردار سے مزین کیا تھا جو قیام توحید کے لیے اساسی ہتھیار کا کام دیتا تھا۔ آپؐ کو حق تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات کا کامل عرفان بخشا۔ آپؐ نے اتنے قریب سے وہ حسن بے پایاں دیکھا کہ الوہیت کے بحر اعظم میں وہ ذرّہ بشریت گم ہوگیا۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہؑ کے بقول: آنحضرتﷺاس قدر خدا میں گم اور محو ہوگئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لیے ہوگئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرّہ آمیزش نہیں رہی تھی۔ (عصمت انبیاء علیہم السلام۔ روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۶۶۵۔۶۶۶)

دلربا داستان

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ قیام توحید کی یہ دلربا اور سحر آفریں داستان غار حرا سے لے کر غار ثور تک، مسجد حرام سے مسجد نبوی تک، شعب ابی طالب سے حنین کے گھمبیر میدانوں تک، جنگ بدر سے جنگ تبوک تک اور ازواج مطہرات کے حجروں سے لے کر شاہان عالم کے درباروں تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کا حرف حرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی عظمتوں کو سلام کرتے ہوئے گزرتا ہے۔ ربّ جلیل کے اس پہلوان کو اپنے مولیٰ اور اس کی توحید سے جو محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے مشہور عیسائی مستشرق ڈاکٹر سپرنگر لکھتا ہے: نبی عربی کے خیال میں ہمیشہ خدا کا تصور غالب رہتا تھا۔ اس کو نکلتے ہوئے آفتاب اور برستے ہوئے پانی اور اگتی ہوئی روئیدگی میں خدا ہی کا دستِ قدرت نظر آتا تھا۔ رعد اور طیور کے نغمات میں خدا ہی کی آواز سنائی دیتی تھی اور سنسان جنگلوں اور پرانے شہروں کے کھنڈروں میں خدا ہی کے قہر کے آثار دکھائی دیتے تھے۔(بحوالہ برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول صفحہ ۲۹)

توحید کی تعلیم

یہ وہ یگانہ اور منفرد وجود تھا جو خدا کا سب سے بڑا مقرب تھا۔ جس پر روح القدس کامل ترین تجلی کے ساتھ نازل ہوا اور خدا نے اپنا پر زور ہیبت ناک اور وجد آفرین کلام اس کے ہمراہ کیا جس کے ہر مضمون کی انگلی توحید کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ تمام الہامی صحیفوں میں قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جس نے اللہ کا اسم ذات بیان کیا ہے یہ پاک نام قرآن میں ۲۷۰۰؍سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ قرآن کریم کی سورۂ اخلاص کے متعلق تو حضرت اقدس علیہ السلام نے بڑی تحدّی سے فرمایا ہے کہ جس قدر سورہ اخلاص کی ایک سطر میں مضمون توحید بھرا ہوا ہے وہ تمام توریت بلکہ ساری بائیبل میں نہیں پایا جاتا اور اگر ہے تو کوئی عیسائی ہمارے سامنے پیش کرے۔ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر۲ جلد اول صفحہ ۳۰۳)

قرآن کریم نے صحف سماوی کے متبعین کو ان کی کتب سے نقلی دلائل مہیا کیے۔ مشرکین کو ان کے بتوں کی بے بسی اور کم مائیگی کی طرف توجہ دلا کر توحید کا قائل کیا۔ اہل نظر کو زمین و آسمان اور دنیا وما فیھا پر غور کرنے کی دعوت دی۔ صاحبان فکر و دانش کو فطرت کی گواہی پیش کی اور آفاقی نشانوں کی طرف بلایا اور ہر قسم کے فساد سے مبرا ہونے کا نشان پیش کیا۔ ماضی کی تاریخ کے اوراق کھول کھول کر دنیا کے سامنے رکھے اور دکھایا کہ توحید کے فرزند اپنی بے کسی اور بے چارگی کے باوجود ہمیشہ مشرکوں کی بے پناہ افواج پر غالب آتے رہے ہیں اور ان کا غلبہ اس اکیلے اور متصرف بالارادہ خدا کی ہستی پر دلیل ہے۔ الغرض آپ نے ہر قوم، ہر ملت اور ہر طبقہ تک یہ سرمدی پیغام پہنچایا۔

خدا کی وحدانیت کا اعلان بم کا گولہ تھا جو عرب کے صحرا میں پھٹا اور ایک حشر برپا کر گیا۔ نفرتوں کی آندھی ہے جو ماحول کو تاریک کر کے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مشکلات و مصائب کے ہاون دستے میں پیس دینا چاہتی ہے مگر اس عاشق یار ازل کے ہونٹوں پر ایک غیر فانی مسکراہٹ ہے اور وہ ببانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔ (ازالہ اوہام حصہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۱۱)

والہانہ شوق تبلیغ

چنانچہ کبھی آپ اس کو نوحؑ کی طرح خفیہ اور اعلانیہ تبلیغ کرتے ہوئے دیکھیں گے تو کبھی ابراہیمؑ کی طرح پُرزور دلائل کے ساتھ توحید کا قائل کرتے ہوئے۔ کبھی آپ اسے موسیٰؑ کی طرح جابر سلطانوں کو کلمۂ حق سناتے ہوئے دیکھیں گے اور کبھی خدا کی خاطر دکھوں کی صلیب اٹھا کر مقتل کی طرف جاتے ہوئے دیکھیں گے۔ ایک چومکھی لڑائی ہے جو حضرت محمد عربی ﷺساری دنیا کے بت پرستوں سے شروع کر چکے ہیں۔ اس رسول کو کوہ صفا پر دیکھو وہ قریش کو زندگی کا پیغام دیتا ہے اور وہ اس کی موت کی تمنا کرتے ہیں۔ (بخاری کتاب التفسیر باب وانذر عشیر تک الاقربین)اسے مکہ کی گلیوںمیں دیکھو وہ انسانیت کے لیے بہاروں کا پیامی بن کر آیا ہے اور انہوں نے اس کی راہوں کو خارزاروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ (سیرۃ ابن ہشام ذکر بعض مالقی رسول اللہ من قومہ) اسے عکاظ اور مجنہ اور ذو المجاز کے بازاروں میں دیکھو وہ انسان کو خدا کے قریب کرنے کے لیے دیوانہ وار پھرتا ہے مگر اسے ہر طرف سے دھتکارا جاتا ہے۔ (شرح المواھب للزر قانی جلد اول صفحہ ۳۰۹) اسے ایام حج میں لوگوں کے ایک ایک گروہ کے پاس جاتے ہوئے دیکھو وہ کہتا ہے لوگو توحید کا اقرار کرو تو فلاح پاؤ گے۔ ابو لہب جو اس کے تعاقب میں ہے وہ کہتا ہے لوگو اس کی بات نہ سننا اور ساتھ ہی پتھر برساتا چلا جاتا ہے۔ (تفسیر روح المعانی جلد ۳۰صفحہ ۲۶۰طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ ۲۱۶) توحید کے اس جری شہزادے کو طائف کی وادیوں میں دیکھو وہ انہیں جہنم کا ایندھن بننے سے بچانا چاہتا ہے مگر ان پتھر دلوں نے اس معصوم کو پتھروں سے لہو لہان کر دیا ہے۔ (طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ ۲۱۲ باب ذکر خروج النبی الی الطائف)

یہ واقعہ توحید کے لیے آنحضرت ﷺ کی غیر معمولی لگن اور شجاعت کا پتہ دیتا ہے۔ سر ولیم میور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سفر طائف میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک تنہا شخص جسے اس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور ردّ کر دیا وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متی نینوا کو گیا اسی طرح وہ ایک بت پرست شہر میں جا کر اُن کو توحید کی طرف بلاتا اور توبہ کا وعظ کرتا ہے۔ (بحوالہ سیرت خاتم النبیین ؐاز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ،صفحہ ۲۰۶)

بتوں کے پجاری تدبیر کے ترکش سے دھمکی اور تہدید کے آخری تیر بھی نکال لائے اور ابو طالب کے واسطے سے آپؐ کو انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی دی تو آپؐ نے فرمایا یہی تو کام ہے جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لیے اس موت کو قبول کرتا ہوں میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے اور میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا۔ خدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور میں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتی کہ خدا اسے پورا کر دے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔ (سیرۃ ابن ہشام جلد اوّل ،صفحہ ۳۷۸)

ستاروں کی کہکشاں

اس شمس روحانی نے اپنی مسلسل تمازت اور تابناکی سے ستاروں کی ایک کہکشاں تخلیق کی۔ انہوں نے توحید کے منادی کی آواز پر لبیک کہی۔ جان دے کر یہ دولت حاصل کر لی اور تمام وجود کھو کر یہ لعل خرید لیا۔ پاکباز انسانوں کی یہ جماعت اب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ تھی۔ دیکھو وہ بھاری پتھروں کے نیچے اور جلتے ہوئے انگاروں کے اوپر، گلیوں میں گھسٹتے ہوئے اور سیف و سنان کی جھنکاروں میں بھی اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے ہیں۔ مجھے ایک طرف تو ابو جہل اور ابولہب اور امیہ کے وحشیانہ قہقہے سنائی دیتے ہیں اور دوسری طرف بلال اور خباب اور آل یاسر کی بے کسی اور بےچارگی نظر آتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے کیا خوب لکھا ہے:عیسائیت کو ایک سولی پر بہت ناز ہے مگر دیکھو کہ اسلام کے دامن میں کتنے مقتل، کتنی سولیاں اور کتنے مذبح خانے ہیں۔ (خطبات مدراس صفحہ ۱۱۱)

ظلمتوں کی ہجوم در ہجوم یلغاروں، خار زاروں اور تاریک ہیبت ناک جنگلوں سے راستہ بناتی ہوئی کلمہ توحید کی شعاعیں اب حجاز کی حدود کو چیرتی ہوئی عرب کے کناروں تک پہنچ کر سعید روحوں کو کشاں کشاں در محمدی پر لیے آتی ہیں۔ آئیے!اس درسگاہ توحید کا مطالعہ کریں۔

یہ ابوبکرؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ ہیں جو مکہ کے قریشی طالب علم ہیں۔ یہ تہامہ کے غفار قبیلہ کے ابو ذر ؓاور انیسؓ ہیں یہ قبیلہ ازد کے ضماد بن ثعلبہؓ ہیں یہ خباب بن ارت ؓ قبیلہ تمیم کے ہیں۔ یہ قبیلہ دوس کے ابو ہریرہؓ اور ابو موسیٰ اشعریؓ ہیں جو عرب کے جنوب میں یمن سے آئے ہیں۔ یہ قبیلہ عبدالقیس کے منقذ بن حبانؓ اور منذر بن عائذؓ ہیں جو عرب کے مشرق میں بحرین سے آئے ہیں۔ یہ ایران کے سلمان فارسیؓ ہیں۔ یہ ترکی کے صہیب رومیؓ ہیں۔ یہ عراق کے حضرت عداسؓ ہیں اور یہ حبشہ کے حضرت بلالؓ ہیں۔ یہ اہل کتاب کے مشہور عالم عبداللہ بن سلام ؓاور کعب الاحبارؓ ہیں۔ یہ نصیبین کے پاک دل لوگ ہیں جو ایمان کی دولت پاکر اپنے علاقوں میں لٹا رہے ہیں۔ یہ پیغام اور آگے بڑھتا ہے اور بادشاہوں کے دلوں کو بھی فتح کرتا ہے۔ یہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ؓہے یہ حدود شام کا رئیس فردہؓ ہے۔ یہ حمیر کا رئیس عامر ؓہے۔ یہ یمن کا رئیس مرکبودؓ ہے یہ عبیدؓ اور جعفرؓ ہیں جو عمان کے رئیس ہیں۔

وحدت اقوام

مگر دیکھو کہ مؤحدوں کے بادشاہ کے اس دربار میں یہ تمام صاحب جبروت اور باعظمت بادشاہ بے خانماں اور کم مایہ غلاموں اور لونڈیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ امیر و غریب، شاہ و گدا اور آقا و غلام ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور ایک خدا کے سامنے اپنے سر جھکا رہے ہیں۔ کیا یہ زمین پر توحید کا ایک عجیب منظر نہیں ہے۔

ایک جلالی منزل

اس سحر آفرین داستان کی ایک بہت ہی جلالی اور دلکش منزل فتح مکہ کا وہ مبارک دن بھی ہے جب فاتح عالم دس ہزار قدوسیوں کے جلو میں خانہ کعبہ میں پہنچے اور خدا کے اس گھر کو بتوں سے پاک کیا۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الفتح وباب این رکز النبی الرایۃ یوم الفتح، سیرت ابن ہشام جلد چہارم صفحہ ۵۹ باب سقوط اصنام الکعبۃ)

خدا کی قسم! اگر کائنات کا مقصود محمد مصطفیٰﷺ تھا تو محمد مصطفیٰ کا مقصود توحید کا قیام تھا جس کی گواہی وادیٔ بطحا کا ذرّہ ذرّہ دے رہا ہے۔ جس کی گواہی ہندہ یہ کہہ کر دے رہی ہے کہ آپؐ اکیلے خدا کے ساتھ جیت گئے اور ہم اپنے ۳۶۰؍ دیوتاؤں کے ساتھ ہار گئے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد اول صفحہ ۳۵۳) اس کی گواہی وہ ہزاروں روحیں دے رہی ہیں جنہیں شرک کی ایک طویل رات کے بعد توحید کی روشن صبح دکھائی دے رہی ہے اور وہ گروہ در گروہ اور فوج در فوج خدائے واحد کے غلاموں میں شامل ہو رہے ہیں۔ (سیرت ابن ہشام جلد چہارم صفحہ ۲۰۵ باب انقیا د العرب و اسلامہم) دیکھو کہ وہ توحید جسے اس زمین پر ایک انچ جگہ بھی میسر نہ تھی وہ لاکھوں سینوں پر نقش ہو چکی ہے یہ شمع نور ۲۷۴؍مربع میل یومیہ کے حساب سے پھیلتی ہوئی حجۃ الوداع کے زمانہ تک دس لاکھ مربع میل پر بسنے والے انسانوں کو منور کر چکی ہے۔ (ماخوذ از عہد نبی کے میدان جنگ ڈاکٹر محمد حمید اللہ صفحہ ۷)اور اس کی تپش روم اور ایران کی حکومتیں، چین اور ترکستان کی سر زمین، افریقہ کے تپتے ہوئے صحرا، یورپ کے کلیسا اور ہندوستان کے بتکدے بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔

خلائق کے دل تھے یقیں سے تہی

بتوں نے تھی حق کی جگہ گھیر لی

ضلالت تھی دنیا پہ وہ چھا رہی

کہ توحید ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی

ہوا آپؐ کے دم سے اس کا قیام

علیک الصلوٰۃ علیک السلام

نپولین بونا پارٹ اس انقلاب کا نظارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پندرہ سال کے عرصہ میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کر لی۔ مٹی کی بنی ہوئی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں۔ بت خانوں میں رکھی مورتیوں کو توڑ دیا گیا۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرت کی تعلیم کا اور یہ سب کچھ صرف پندرہ سال کے عرصہ میں ہوا ۔ (بحوالہ محمد رسول اللہ غیروں کی نظر میں صفحہ ۳۷)

کڑے اصول

اسی غیرت توحید نے ذات مصطفیٰ ﷺ کے لیے احتیاط کے سب سے کڑے اصول قائم کیے کیونکہ گذشتہ انبیاء کی طرح آپؐ کے عظیم الشان منصب کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں ممکن تھا کہ نافہم آپؐ کی ذات کو شرک کا منبع بنا لیتے۔ مگر آنحضرتﷺاپنے عاجز بندہ ہونے میں ہی خوشی اور فخر محسوس کرتے تھے اور ہر موقع پر جہاں جذبات آپ کی بڑائی کی طرف لے جاتے ہوں اسے خدا کی طرف منتقل کر دیتے تھے اپنی زندگی کی بلکہ تاریخ مذہب کی سب سے بڑی فتح کے موقع پر جب آپ کی عظمت کے نعرے لگ سکتے تھے آپ اس حال میں مکہ میں داخل ہوئے کہ آپؐ کا سر جھکتے جھکتے اونٹ کے کجاوے سے جا لگا اور سوائے خدا کی عظمت اور کبریائی کے وہاں اور کوئی نعرہ نہ لگا۔ (مستدرک حاکم جلد چہارم صفحہ ۳۱۷ سیرۃ ابن ہشام جلد چہارم صفحہ ۴۸) شرک میں گرفتار قومیں نئی نئی توحید میں داخل ہوئیں تو ایک شخص نے آکر کہا شاہان فارس اور روم کو ان کی رعایا سجدہ کرتی ہے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ فرمایا کہ سجدہ اللہ کے سوا اَور کسی کے لیے روا نہیں۔ (بحوالہ فصل الخطاب جلد اوّل ،صفحہ ۱۸)

سجدہ تو درکنار آپؐ کو تو مشرکوں سے مشابہت رکھنے والی تعظیم بھی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ صحابہؓ سے فرمایا :’’لَا تَقُومُوْا کَمَا یَقُوْمُ الْاَعَاجَم‘‘ میرے لیے اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جس طرح عجمی کھڑے ہوتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قیام الرجل للرجل) ایک دفعہ آپؐ بیمار تھے کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ گئے۔ صحابہؓ پیچھے کھڑے تھے انہیں اشارہ کیا کہ تم بھی بیٹھ جاؤ ایسا نہ ہو کہ یہ بات میری خاص تعظیم خیال کی جاوے(صحیح بخاری کتاب الاذان باب انما جعل الامام لیو تم بہ – فصل الخطاب از حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل جلد اوّل ،صفحہ ۱۸)

توحید کا یہ سبق آپؐ جرعہ جرعہ اور گھونٹ گھونٹ کر کے پلا رہے تھے ایک دفعہ ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ کے سامنے کہا کہ مَاشَاء اللّٰہُ وَ مَاشِئتَ یعنی فلاں معاملہ میں اس طرح ہوگا جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یا آپ چاہیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: اَجَعَلْتَنِی لِلّٰہِ نِدًّا کیا تُو نے مجھے خدا کا شریک بنایا ہے؟ یوں کہو کہ ماشاء اللہ وحدہ یعنی وہی جو خدائے واحد و یگانہ چاہے گا۔ (تفسیر ابن کثیر جلد اول ،صفحہ ۹۹)

آپؐ روحانی علوم کا دعویٰ رکھتے تھے اور نبوت کے منصب میں آئندہ خبریں دینا ایک لازمی اور ضروری امر ہے مگر جب اس میں بھی ایک دفعہ بعض عورتوں نے مبالغہ کرتے ہوئے کہا :وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ۔یعنی ہم میں ایک رسول ہے جو کل ہونے والی باتیں جانتا ہے۔ تو حضورﷺ نے ان کلمات میں بھی شرک کی بو محسوس کی ان کو فوراً ٹوکا اور فرمایا ایسی باتیں مت کہو جو خلاف واقعہ ہیں۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب شھود الملائکۃ بدراً)

آخری پیغام

آپؐ زندگی کے آخری لمحات میں بھی لاالہ الا اللہ کا ورد کر رہے تھے اور اپنی ڈوبتی ہوئی سانسوں سے بھی امت کو یہی پیغام دے رہے تھے کہ میری قبرکو شرک کی آما جگاہ نہ بنا لینا جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کو قبروں کو انسان پرستی کا ذریعہ بنا لیا ہے میں تو صرف ایک بندہ اور اللہ کا رسول ہوں۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ)

توحید کی اس فتح کو جو آپ کے ساتھ آسمان سے آئی تھی، دائمی بنانے کے لیے آپ نے لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کے کلمات شامل کر دیے اور ان کو دین متین کی بنیاد اور اساس قرار دیا۔ ( بخاری کتاب الایمان باب دعاؤ کم ایمانکم)حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓاس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کلمہ کے ساتھ حضرت نبی کریم ﷺ نے اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ کا جملہ اس لیے لگایا کہ آپ نے دیکھ لیاتھا کہ زمانہ گزشتہ میں جو ہادی دنیا کی ہدایت کے لیے وقتاً فوقتاً آئے ایک زمانہ گزرنے کے بعد ان کو معبود بنا لیا گیااور خداتعالیٰ کی معبودیت میں ان کو شریک کر لیا گیا اس گند سے دنیا کو بچانے کے لیے آپؐ نے اس حصہ کو رکھا تا کہ آنحضرت کو لوگ ایک عبد سمجھیں اور آئندہ چونکہ اس امت میں ولی ہوں گے اس لیے انہیں بھی کوئی معبود قرار نہ دے لے۔ (مرقاۃ الیقین ،صفحہ ۶۰۔۶۱)

پختہ سبق

ساقیٔ کوثر کے ہاتھوں توحید کا چشمہ لینے والوں نے یہ سبق خوب ذہن نشین کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ قبلہ نہیں قبلہ نما ہیں۔ مقصود بالذات نہیں رہبر کامل ہیں۔ منزل نہیں وسیلہ ہیں۔ ذرا قریب ہو کر ابوبکرؓ  کی زبان سے حجرہ رسول میں گونجنے والا یہ اعلان سنو کہ مَنْ کَانَ مِنْکُم یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْمَاتَ وَمَنْ کَانَ مِنْکُم یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز)یعنی جو شخص محمدؐ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ آپ فوت ہوچکے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین رکھے کہ اللہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔

یہ اعلان ہر فرد کی غیر طبعی اور مشرکانہ زندگی کی موت اور خدائے حیّ و قیوم کے لافانی اور ازلی و ابدی ہونے کا غیر مشروط اعلان ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی امت سے یہ تاریخی سوال کیا تھا کہ اَلَاھَل بَلَّغتُ۔کیا میں نے ابلاغ کر دیا؟ (صحیح بخاری کتاب المغازی باب حجۃ الوداع)اور آج آپؐ کی قوم اس کا ناقابل تردید عملی ثبوت مہیا کر رہی تھی۔ یہی وہ آسمانی بادشاہت تھی جس کی مسیح ؑ دیوانہ وار منادی کرتے رہے تھے۔

حقیقی آدم

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :’’آج صفحۂ دنیا میں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجز امت آنحضرت ﷺ کے اور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑ ہا مخلوقات کو وحدانیت الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو۔ ہریک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنا لیا اور مسلمانوں کا خدا وہی ہے جو قدیم سے لازوال اور غیر مبدل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔‘‘ (براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۱۸،۱۱۷)

ایک ہندو لالہ بشن داس یہ نظارہ دیکھ کر پکار اٹھتے ہیں: آپ نے وحدانیت کا ننھا سا بیج عرب کے ریگستان میں ایسا بویا اور بجائے پانی کے اپنے خون جگر سے ایسا سینچا کہ آج وہ اتنا بڑا درخت ہو گیا ہے کہ اس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیل گئی ہیں اور کروڑہا روحیں اس کے سایہ میں بیٹھ کر ایک سچے خدا کی سچی عبادت کا نہایت ہی لذیذ پھل کھا رہی ہیں۔ (بحوالہ برگزیدہ رسول غیروں میں مقبول صفحہ ۲۸)

منارۂ نور

آپؐ نے سچی توحید کو قائم کیا اور خدائے لم یزل ولا یزال تک پہنچنے اور اس سے ملنے کی ساری راہیں اور ساری منزلیں طے کر کے انسان کے لیے غیر محدود انعامات کے دروازے کھول دیے جن پر گامزن ہو کر لاکھوں انسان اپنے مولیٰ کے دربار تک جا پہنچے اور سرخرو ہوئے خدا نے ان کی خاطر کئی دنیائیں تہ و بالا کر دیں اور کئی دنیاؤں کو نئی زندگی عطا کی۔

جدو جہد جاری ہے

لیکن قیام توحید کی خاطر روح مصطفوی کی جد و جہد جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ تمام ابنائے آدم اپنے آسمانی واحد خدا کو پہچان کر زمین پر امت واحدہ نہیں بن جاتے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ظاہری جسم پر تو موت آچکی ہے مگر اسے یقین کرنا چاہیے کہ آپؐ کی روحانی زندگی پر فنا کا ہاتھ نہیں چل سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے آقاکے حضور کتنی سچی بات عرض کی تھی:وَاللّٰہِ لَا یَجمَع اللّٰہُ عَلَیْکَ مَوْتَتَیْنِ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب الدخول علی المیت بعدالموت اذا أدرج فی کفنہ)خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر ہرگز دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ آپؐ اپنی قوّتِ قدسیہ اور روحانی فرزندوں کے ذریعہ زندہ رہیں گے اور زندگیاں عطا کرتے رہیں گے۔ آپؐ کی روحانی توجہ خلفائے راشدین اور مجددین امت اور اولیاء اللہ کا روپ دھار کر توحید کی منادی کرتی رہی اور کر رہی ہے اور ہر نئے چڑھنے والے دن میں توحید کا یہ پیغام نئے علاقے نئے سرزمینیں اور نئے دل فتح کر رہا ہے۔ سنو سنو کہ یہ بشارت دل و نظر میں کیا رس گھول رہی ہے۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: آخر توحید کی فتح ہے۔ غیرمعبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کیے جائیں گے… وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں، ملکوں میں پھیلے گی۔ اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔ اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا۔ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۱۸۲۔۱۸۳)

یہ سب کچھ ضرور ہوگا مگر اسی ذات کے طفیل جو کل برکۃ من محمد ﷺ فتبارک من علم و تعلم کی مصداق اور تمام برکتوں کا منبع ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: کہیں تو بہرِ خدا ذکرِ یار چلے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button