متفرق مضامین

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سےعبدالسلام عالمی مرکز برائے نظریاتی فزکس اٹلی تک(قسط اول)

(ڈاکٹر محمد احمد۔ مانچسٹر۔ یوکے)

[یہ مضمون پہلے شائع ہونے والے مضامین ’’منصور احمد عارف ڈھلوں (مرحوم)کی دلنواز شخصیت اور دورِ طالب علمی میں ربوہ اور گورنمنٹ کالج لاہور کی کچھ یادیں‘‘ (مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۰؍جون ۲۰۲۴ء) اور ’’گورنمنٹ کالج لاہور سے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور پروفیسر نسیم بابر صاحب کا ذکرِ خیر‘‘ (مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل، ۵؍نومبر ۲۰۲۵ء)کا تسلسل ہے، جس میں بعد میں پیش آمدہ واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔]

اس مضمون میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک احمدی طالب علم کے دوسرے طلبہ، پروفیسران، یونیورسٹی عملہ، جماعتی اور غیر از جماعت احباب سے رونما ہونے والے واقعات کا ذکر ہو گا۔ بعد از ایم فِل مزید اعلیٰ تعلیم کی غرض سے غیر ممالک جانے کی کوششوں کا ذکر بھی ہوگا کہ کس قدر ملکی حالات خراب تھے کہ وطنِ عزیز میں ٹھہرنا تقریباً ناممکن تھا۔

یونیورسٹی سے میرا تعلیمی کام مکمل ہوچکا تھا۔ ایم فِل (M.Phil) کی ڈگری اچھے نمبروں میں حاصل کرچکا تھا۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم فِل کے بعد پی ایچ ڈی (Ph.D)بھی ہورہی تھی مگر پاکستان میں سیاسی حالات خراب سے خراب ترہونے کی وجہ سے اب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے ٹھہرنا کوئی مناسب فیصلہ نہ تھا۔ چنانچہ پاکستان سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔ میری پہلی نظر پروفیسرڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے اٹلی میں موجود انٹرنیشنل سنٹر فار تھیوریٹیکل فزکس (ICTP) پر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ICTP اٹلی جانے کا موقع ملا۔ اس مضمون میں اٹلی اور پھر انگلستان جانے کا ذکر شامل ہوگا۔

کریلا اور نیم چڑھا

پاکستان کے حالات تو مسلسل خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ان خراب حالات میں احمدی کے لیے مذہبی نفرت کی وجہ سے نوکری کے نہ ملنے کی وجہ سے مزید دُشواریاں ہوتی ہیں۔ یوں تو ایک طالب علم کو جس قدر بھی مشکلیں، تکلیفیں اور کٹھن حالات ہوں، اُن کا بذاتِ خُود مقابلہ بھی کرنا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ اچھّا اور بہتر تعلیمی ریکارڈ بھی بغیر کسی سال کے ضائع کیے یعنی بغیر گیپ کے آگے بڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم پر انحصار کرنے والے حکومتی اداروں میں نوکری کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی احمدی حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔

وطن سے محبّت

نومبر ۱۹۹۰ء میں ایم فِل ریسرچ کا زبانی امتحان ہوا۔ میرا امتحان تھیوریٹیکل نوعیت کا LASERمیں تھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ ایم فِل کی دوسالہ محنت و مشقت کا دَور ختم ہوا۔ اب امید تھی کہ آئندہ آسانی ہوگی مگر پاکستانی حکومت سازی میں اُتار چڑھاؤ بھی زوروں پر تھا۔ محترمہ بینظیر جاچکی تھیں۔ اُنہیں پانچ سال مکمل نہیں ہوئے تھے۔ نواز شریف دسمبر ۱۹۹۰ء میں وزیراعظم بنے تو پاکستان کی اقتصادی حالت نازک اور ناتواں تو تھی ہی، تعلیمی طور پر بھی پاکستان مفلوج ہوتا جارہا تھا۔ ان حالات میں پاکستان کو خیرباد کہناایک لازمی امر بنتا جارہا تھا۔ مگر یونیورسٹی کا بہترین ماحول، ربوہ اور والدین سے محبت مجھے پاکستان میں روکے رکھتی تھی۔

ہمارا لیزر گروپ

فزکس ڈیپارٹمنٹ میں کئی چھوٹے بڑے گروپ تھے جن کی سربراہی مختلف پروفیسران کررہے تھے۔ قائداعظم یونیورسٹی میں ہمارا لیزر(LASER) گروپ کافی بڑا تھا۔ پروفیسر سہیل زبیری صاحب کی سربراہی میں چھ طلبہ و طالبات نے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں اور ایم فِل کے بھی کوئی چھ طلبہ نمایاں طور پر کامیاب قرار پائے۔ پی ایچ ڈی کرنے والے ظہیر خالد، ندیم انصاری، زاہد، عمرانہ اشرف، شاہد قمراور جاوید تھےلیکن اکثر ایک ایک کرکے آسٹریلیا کے لیے کاغذات بنوا رہے تھے۔ پروفیسر زبیری صاحب ان تمام ڈاکٹروں کے گروپ کے وطن چھوڑنے پر کچھ خوش نہ تھے مگر نواز شریف کی نئی حکومت نے نئی نوکریوں کی بھرتی پر پابندی عائد کردی تھی۔ نواز شریف کی حکومت خود اپنا نظام چلانے کے لیے غیرملکی قرضوں پر انحصار کررہی تھی اس لیے ان نوزائیدہ ڈاکٹروں کا یونیورسٹی میں ٹھہرنا ممکن نہ تھا۔

میرے ایم فِل کے سُپروائزر حضرات پروفیسر ڈاکٹر حمید نیّر اور پروفیسر ڈاکٹر سہیل زبیری تھے۔ نیّر صاحب نے مجھے ایم فِل کی کامیابی کے بعد پی ایچ ڈی میں رجسٹر ہونے کے لیے کاغذات جمع کروانے کو کہا۔ میں نے کاغذات جمع کروائے اور جنوری ۱۹۹۱ء میں مجھے Ph.Dمیں قائد اعظم یونیورسٹی میں داخل کرلیا گیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی اور ربوہ کی خلافت لائبریری

قائداعظم یونیورسٹی میں کافی چیزیں ایسی تھیں جوکہ بہت اچھی تھیں۔ مثلاً اکثر ٹیچرز پی ایچ ڈی تھے۔ اکثر کی ریسرچ تازہ بہ تازہ اور سال میں اُن کے کئی ایک پیپرز عالمی جرائد میں شائع ہورہے ہوتے تھے۔ مگر عام اخبار و رسائل کی فراہمی کا فقدان تھا۔ اس فقدان کی وجہ سے ہم طلبہ میں بھی اخبار پڑھنے کا کوئی رواج نہ تھا۔ نہ ہی اُردو اور نہ ہی انگریزی اخبار۔ لائبریری اکثر بیابان و ویران ہی ہوتی تھی۔

ان اخبارات کو نہ پڑھنے کی وجہ سے ہمیں کئی نقصانات کا شکار ہونا پڑا۔ ایک تو نوکریوں کے جو بھی اشتہارات آتے، نہ ملتے۔ دوسرے سائنس و ٹیکنالوجی وزارت کے سکالرشپ کے اشتہارات کا ہم کو علم ہی نہ تھا جس کی وجہ سے سکالرشپ لے کر غیر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے کئی مواقع ضائع ہوگئے۔ اس کے برعکس جب مَیں ربوہ میں تھا تو خلافت لائبریری میں اخبارات قومی اور بین الاقوامی، اُردو اور انگریزی، سائنسی اور فنی رسائل تمام کے تمام ہمہ وقت موجود ہوتے جن کا مطالعہ کرکے ملکی اور عالمی حالات سےآگاہی ہوتی رہتی تھی۔

سکالرشپ کا فقدان

۱۹۹۱ء میں قائداعظم یونیورسٹی میں مَیں اب پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا مگر حکومت کی طرف سے کوئی وظیفہ نہ ملتا تھا۔ تاہم مجھے پروفیسر حمید نیّر صاحب کی وساطت سے فوری طور پر ایک کالج میں فزکس اور میتھ پڑھانے کی نوکری مل گئی۔ اس نوکری کے اوقات کے بعد یونیورسٹی میں اپنے پراجیکٹ پر کام کرتا۔ میرے پی ایچ ڈی پراجیکٹ میں میرے ساتھ طارق شاہین اور وقار عظیم جعفری بھی تھے۔ ہم تینوں نیّر صاحب کے شاگرد تھے۔

پی ایچ ڈی پراجیکٹس

اُن دنوں لیزر گروپ کے علاوہ درج ذیل گروپ تھے۔

۱۔سیمی کنڈکٹر فزکس (پروفیسر ظفر اقبال اور پروفیسر نسیم بابر)

۲۔ پلازما فزکس (پروفیسر غلام مرتضیٰ)

۳۔ نیوکلیئر فزکس (پروفیسر امیر علی پرویز ہود بھائی)

۴۔ کنڈینسڈ مَیٹر فزکس (پروفیسر حمید نیّر)

۵۔ سپیکٹروسکوپی فزکس (پروفیسر اسلم بیگ)

۶۔ سُپر کنڈکٹر فزکس (پروفیسر خورشید حسنین)

ان تمام گروپس میں Ph.Dکے پراجیکٹس پر کام ہورہا تھا۔ سب سے بڑا گروپ پروفیسر اسلم بیگ صاحب کا تھا جہاں ریسرچ پیپرز کے شائع (Publish)ہونے کی شرح سب سے زیادہ تھی اور داخلے کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنی یقینی ہوتی تھی۔ جبکہ دوسرے گروپس میں بے یقینی تو نہ تھی مگر پراجیکٹ کے لمبا ہونے کا خدشہ ہوتا تھا۔ چار یا پانچ سال تو لازمی ہوتے۔

کہتے ہیں کہ Talentیعنی ہنرمندی یا فنی مقامِ اعلیٰ کے حصول کے لیے پانچ خواص کی ضرورت ہے۔

1.Opportunity یعنی مواقع

2.Encouragement یعنی حوصلہ افزائی

3.Training یعنی عملی مشق

4.Motivation یعنی تحریک

5.Practice یعنی مشق

مَیں دیکھتا ہوں کہ ٹیلنٹ (Talent)کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے پانچوں خواص میں ربوہ کا ماحول ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

میری پڑھنے کی جستجو میں ربوہ کا ماحول بہت ممدّ تھا۔ نظارت تعلیم کا وجود، خلافت لائبریری، اچھے اچھے احباب سے واقفیت اور بات چیت جن میں قابلِ ذکر مرزا خورشید احمد صاحب، مرزا غلام احمد صاحب، مرزا انس احمد صاحب تھے اور فزکس کے احباب پروفیسر حبیب الرحمٰن صاحب، پروفیسر شمس صاحب (حال امریکہ) اور پروفیسرعبدالخالق صاحب ہیں۔

اُوپر بیان کیے گئے خواص کے لیے انسان خُود ہی کوشش کرتا اور اُن کو قابو کرلیتا ہے۔ انسان اپنے کام، فنی مہارت اور علم کو استعمال میں لاکر Practiceکرکے اپنے آپ کو Motivationکے بلند مقام پر لاکھڑا کرتا ہے اور کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہو تو کامیابی ضرور مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو محنت کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے۔ انسان کی کچھ حاصل کرنے کی جستجو (Ambition)اور اس انسان کی روزمرّہ کارکردگی (Performance)کے درمیان جنگ لگی رہتی ہے۔ صرف جستجوتو ناکامی کا موجب بنتی ہے جبکہ جستجو اور اچھی کارکردگی کامیابی کا راز ہے۔ ربوہ، گورنمنٹ کالج لاہور اور قائداعظم یونیورسٹی میں بہتر سے بہتر تعلیمی ماحول اچھی کارکردگی کے لیے میرے لیے بہت ہی مفید تھا۔ صرف کمی تھی تو وہ حکومتِ وقت کے تعلیمی بجٹ میں بہت کم رقم اور یونیورسٹی میں مالی مدد کا فقدان۔

اچھی کارکردگی یعنی پرفارمنس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ زیادہ وقت مفید و کارآمد کام میں خرچ کیا جائے۔ اس طرح جستجو اور کارکردگی کو بلند مقام پر رکھا جاسکتا ہے۔ پھر جاکر کامیابی انسان کا مقدّر ہوتی ہے۔ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی۔انسان کے لیے وہی ہے جو اُس نے کوشش کی۔

فیض احمد فیض اور پروفیسر عبدالسلام

پاکستان ٹیلی ویژن (PTV)کے چیئرمین جناب اسلم اظہر مارچ ۱۹۸۹ء میں فزکس ڈیپارٹمنٹ تشریف لائے۔ اُن کے ہمراہ احمد فراز بھی تھے۔ کچھ شعروشاعری چلی اور احمد فراز صاحب اور اسلم اظہر صاحب کی زندگی کے دِلچسپ واقعات بیان ہورہے تھے۔ پھر اسلم اظہر صاحب نے فزکس کی ایک دِلچسپ بات کی۔

اسلم اظہر:فیض احمد فیض کا فزکس سے ایک تعلق بیان کرتا ہوں۔ یہ واقعہ ماسکو سوویت یونین کا ہے۔ (اُس وقت USSRقائم تھا)۔ فیض صاحب ایک کافی شاپ میں ماسکو کی ٹھنڈی شام سے لُطف اندوز ہورہے تھے۔ کافی شاپ میں بہت رَش تھا۔ ایک آسٹریلین گورا آپ کے پاس خالی جگہ پر اجازت لے کر بیٹھا اور اپنا تعارف کروایا۔

آسٹریلین: مَیں فزکس کا سائنسدان ہوں۔ آسٹریلیا سے ہوں۔ یہاں ماسکو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ آپ؟

فیض : مَیں ایک شاعر ہوں۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ مَیں یہاں سیاسی پناہ گزین ہوں۔ میرا نام فیض احمد فیض ہے۔

آسٹریلین: مَیں آپ کے نام سے واقف ہوں۔

فیض : کیسے؟

آسٹریلین: میرا دوست پروفیسر عبدالسلام ہے۔ وہ اٹلی میں ہوتا ہے اور بہت بڑا سائنسدان ہے۔ وہ بھی پاکستانی ہے۔ اُن سے آپ کا سُنا ہے۔ کچھ شاعری بھی اُن سے آپ کی سُنی ہے۔

فیض : جی مَیں اُن کو جانتا ہوں۔

آسٹریلین:کیا بات ہے۔ آپ ایک اعلیٰ شاعر وطن سے دُور اور عبدالسلام اعلیٰ سائنسدان وہ بھی وطن سے دُور۔

فیض : ہم دونوں کا قصور ہے کہ I am writing a wrong kind of poetry whereas he is practicing a wrong kind of religion

اس واقعہ کو سُن کر یوں لگا کہ فزکس ڈیپارٹمنٹ پُورے کا پُورا احمدی ہے۔ اس کے بعد احمد فراز صاحب نے فزکس کے تعلق میں چند نظمیں بیان کیں جو وُسعتِ کائنات کے بارے میں تھیں۔

خانہ کعبہ کا طواف

مارچ ۱۹۸۹ء کو مَیں ربوہ میں تھا کہ مجھے خواب آئی کہ مَیں خانہ کعبہ کا طواف کررہا ہوں اور کعبہ کے اِردگِرد تازہ تازہ بارش ہوئی ہے۔ ابھی پانی کی کُچھ کُچھ ٹکڑیاں موجود ہیں۔ یہ مختصر سی خواب مَیں نے محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب مؤرخِ احمدیت کو خلافت لائبریری میں راہ چلتے ہوئے بتائی۔ اُنہوں نے تعبیر کی کہ آپ عنقریب حضرت خلیفۃ المسیح سے ملاقات کریں گے۔ مولانا کی یہ تعبیر پانچ ماہ کے مختصر عرصہ میں تاویل بن کر واضح ہوئی۔ الحمدللہ

انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج

جون ۱۹۸۹ء میں نتھیاگلی میں ایک کانفرنس میں جانے کےلیے مجھے پروفیسر زبیری صاحب نے کہا اور تیاری کی ہدایت کی۔ مجھے کانفرنس میں صرف LASERکے چند پروفیسران کی ریسرچ کو ہی سُنانا تھا۔

یہ کانفرنس ہر سال ہوتی ہے۔ اس کی سرپرستی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کرتا ہے۔ اس کو پاکستان کے عظیم ترین سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے جاری کروایا تھا۔ شاید اٹلی کا پروفیسر سلام صاحب کا سنٹر یہاں نتھیاگلی میں ہی قائم ہونا تھا مگر پاکستانی حکومت نے تعاون سے انکار کردیا۔ دوسری متبادل جگہ اٹلی تھی جہاں اب سنٹر کام کررہا ہے۔

چند احمدی دوست صدسالہ جوبلی جلسہ سالانہ یوکے ۱۹۸۹ء میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ میرا فزکس کا دوست بھی اچانک لندن چلا گیا تھا۔ یوں نتھیاگلی کانفرنس میں مَیں اکیلا ہی احمدی تھا۔ ویسے ہماری یونیورسٹی سے دو عدد ویگنوں میں فزکس کے لوگ، چند کیمسٹری کے پروفیسر مظہر صاحب کے ساتھ اور چند ایک بیالوجی سے بھی ہمارے ساتھ آئےتھے۔

نتھیاگلی کیا کمال کی جگہ تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی بستی جبکہ جون کے مہینے میں پُورے پاکستان میں ایک تندور کی طرح ۴۰سینٹی گریڈ سے زیادہ کی گرمی۔ کُچھ لوکل آبادی اور چند ایک سیاح۔ چیزوں کی دستیابی بھی اچھی تھی۔ ہر چیز مہیّا تھی۔ ہمیں جاتے ساتھ ہی ہوٹل مل گئے۔

نتھیاگلی کانفرنس کا مشاہدہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ یوں مجھے یہ کانفرنس جلسہ سالانہ کی کارروائی کی طرز ہی نظر آرہی تھی۔ ہرروز تین سیشن۔ ہر سیشن کا ایک چیئرپرسن جو کارروائی کو لِیڈ کرتا۔ ہر تقریر کرنے والے کا مختصر تعارف، پھر تقریر اور بعد میں سوال و جواب۔

نتھیاگلی میں مَیں نے LASER فزکس کے علاوہ Solid State Physicsکی کارروائی بھی اچھی طرح سُنی۔ مگر سوال و جواب کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ یوں مجھے اپنے علم کی سطح کا اندازہ ہوا کہ بہت ہی کم ہے۔ اس کانفرنس نے مجھے فزکس کا مزید علم جاننے کا شعور دیا۔

کانفرنس کے آخری دن تمام شرکاء حضرات کی نتھیاگلی کے قریب ایوبیہ چیئر لِفٹ کے ذریعے فضائی سیروسیاحت کا انتظام کیا گیا جوکہ نہایت دِلفریب نظاروں پر مشتمل ایک سیر اور کچھ پہاڑی علاقہ کی ہائیکنگ بھی تھی۔ فضا میں ایک تار لٹکی کئی چھوٹی چھوٹی ڈولیوں کو آہستہ آہستہ حرکت دیتی اور یہ ڈولیاں یا چھوٹے کیبن (Cabins)ایک پلیٹ فارم پر آتے جہاں مسافر اُترتے اور نئے مسافر پھرتی سے بیٹھتے۔ کچھ عملے کے لوگ بھی موجود ہوتے جو مسافروں کے سفر کو محفوظ بنانے میں مسافروں کی مدد کرتے۔ زمین کا نظارہ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی سے کرنے کا یہ نیا تجربہ تھا۔ کوئی پندرہ بیس منٹ کی یہ فضائی سیر بہت اعلیٰ تھی۔

اس کانفرنس کے ہمارے یونیورسٹی کے دوستوں میں عمر سعید قریشی مرحوم، نوازش علی خان، فرحت، شفقت، سلامت، ذکاء، یٰسین چوہان، عارف ممتاز، آفتاب رضوی، نوید اصغر، مقبول طارق، نوید راجہ اور چند اَور لوگ اور چند پروفیسران ڈاکٹر صغریٰ مقصود، ڈاکٹر اسلم بیگ، ڈاکٹر خورشید حسنین، ڈاکٹر فہیم حسین، ڈاکٹر امیر علی پرویز ہود بھائی، ڈاکٹر حمید نیّر وغیرہ شامل تھے۔

اس سیر کے بعد شام کو پاکستان اٹامِک انرجی کمیشن کی طرف سے تمام حاضرینِ کانفرنس کی خدمت میں ایک پُرشکوہ دعوتِ زرّیں کا اہتمام کیا گیا جس میں سٹائر مچھلی، چکن اور لیمب کباب، سموسے، پکوڑے، مین کورس دس کے قریب مختلف ترکاریاں زیادہ تر چکن یا پھر سبزی، آخر میں میٹھا اور چائے کافی وغیرہ تھی۔ اس دعوت میں تمام کھانوں سے اچھی طرح دو دو ہاتھ کیے۔ خُوب مزہ آیا۔ مگر مجید ہَٹس کا کھانا خاص کر کرائسس (Crisis) کا تو جواب ہی نہیں۔

رات کی دعوت کے بعد غیر ملکی دانشور پروفیسران کی ہم پاکستانیوں سے ایک اجتماعی مُلاقات ہوئی۔ کچھ پروفیسر حضرات ہمارے ہمسایہ مُلک بھارت سے بھی آئے ہوئے تھے۔

پھر اگلے دِن صبح بعد از ناشتہ ہمارا یونیورسٹی گروپ چند ویگنوں پر سوار ہوکر نتھیاگلی سے اسلام آباد روانہ ہوا۔ راستے میں ہم لوگ گھوڑا گلی میں واقع ایک عظیم درسگاہ ’لارنس کالج‘ جو خاص کر امیر ترین لوگوں کےلیے ۱۸۶۰ء میں انگریزوں نے بنائی تھی، میں رُکے۔ یہ درسگاہ اُن لوگوں کےلیے تھی جن کو تعلیم کے ساتھ ساتھ آدابِ محفل، گُفتگو اور زیادہ تر کھانا کھانے کے نوّابی طور طریقے سِکھانا مقصود ہوتا تھا۔ پاکستان کے زیادہ تر سیاسی لوگ اور اعلیٰ افسران اسی درسگاہ لارنس کالج گھوڑاگلی کے تعلیم یافتہ ہیں۔ ہمارے کچھ پروفیسر اور طلبہ دوست بھی یہاں کبھی پڑھتے تھے۔ اُنہوں نے کچھ دیر اپنے کالج کی زیارت کی۔ ہمیں بھی اس کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ مِلا۔

طلبہ یونین میں تصادم

۱۹۹۱ء میں گرمیوں کی چھٹیوں سے قبل قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبہ کے دو گروپس پیپلز پارٹی اور جمعیت کے طلبہ میں تصادم کے نتیجہ میں کچھ جھڑپیں اور خون ریزی ہوئی جس کی وجہ سے یونیورسٹی چند دِن بند رہی۔ میرا کالج بھی گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بند تھا جہاں مَیں پڑھاتا تھا۔ اگرچہ پروفیسر نیّر صاحب کی ہدایت پر امریکہ اور انگلستان کی چند یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اَپلائی کرنا شروع کیاہوا تھا مگر بھاری بھرکم فِیس رُکاوٹ تھی۔

یونیورسٹی تصادم کی وجہ سے بند تو تھی ہی، رات کو بھی کسی کو یونیورسٹی کے احاطہ میں ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی۔ صرف دِن کے وقت یونیورسٹی کُھلی رہتی۔ یوں ہم ہاسٹل کے طلبہ کے لیے کچھ دُشواری تھی۔

جون میں امریکہ کی چند یونیورسٹیوں کی طرف سے کچھ تسلّی بخش جواب موصول ہوئے۔ انگلستان کی چھ سات یونیورسٹیوں سے بھی اچھے جواب ملے۔ کافی تسلّی ہوئی کہ ہمارا اگلا قدم بہرحال پاکستان سے باہر ہوگا۔

تعلیمی مشاورت کا فقدان

ایم فِل کے بعد ہم احمدی دوستوں میں مشاورتی عمل کا فقدان تھا۔ اس سے قبل گورنمنٹ کالج جانے اور پھر قائداعظم یونیورسٹی آنے کے سلسلے میں ہم لوگ ربوہ میں کافی سوچ بچار کرتے تھے مگر اب مشاورت ممکن نہ تھی۔ ایک تو میرے دونوں دوستوں کے فزکس کے گروپ مختلف تھے اور دوسرے دونوں کی شادی کی بات ایک کی انگلستان میں اُس کی خالہ کی لڑکی سے اور دوسرے کی کینیڈا میں لندن شہر میں طے پاچکی تھی۔ تاہم،ہم سب کے رستے جُدا جُدا تھے۔ یہ فائدہ مند نہ تھا کہ کسی خاص یونیورسٹی یا خاص شہر جانے کی مشاورت کی جاتی۔

دعوت نامہ برائے اٹلی کانفرنس

اب احمدی دوستوں سے زیادہ بات چیت مستقبل کے بارے میں نہیں ہوتی تھی۔ تاہم میرے یونیورسٹی فیلو جو LASER GROUPمیں میرے سینئر اور اب پی ایچ ڈی کورس میں میرے ساتھ تھے، اُن سے اکثر بات چیت ہوتی۔

مارچ کے مہینہ میں ہم (محمد احمد اور نوید اصغر) نے اٹلی میں ایک کانفرنس کےلیے اَپلائی کیا ہوا تھا۔ جون کے آخر میں اس کانفرنس کے لیے ہمیں دعوت نامے موصول ہوئے۔ اگرچہ ہم کو تو بھول ہی گیا تھا کہ اٹلی میں بھی اَپلائی کیا ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اٹلی کا ویزا فری تھا۔ نوید امریکہ اور انگلستان اَپلائی کرنے کے سلسلے میں میرے ساتھ ہوتا اور کافی مددگار بھی تھا۔

مَیں جماعت کی مہیّاکردہ رہائش واقع G-10میں رہائش پذیر تھا۔ وہاں میرے علاوہ تمام احمدی طلبہ بھی موجود تھے۔ G-10سے ہی یونیورسٹی کی بس پر یونیورسٹی آتے اور واپس جاتے تھے۔ کبھی کبھی نوید مجھے اپنے گھر بھی لے جاتا۔ نوید کی والدہ، اُس کے والد اور اُس کی خالہ کا ایک لڑکا گھر پر ہوتے۔ میری بہت عزت کرتے۔ ہم کاغذات تیار کرتے اور یونیورسٹیوں کی طرف سے آئے خطوط کے جوابات تحریر کرتے اور یوں دیارِغیر کی تیاری زوروں پر تھی۔

نوید کی والدہ بہت حلیم اور نیک خاتون تھیں۔ مَیں بھی اُن کو امّی کہہ کر پکارتا تھا اور نوید کے والد کو چچا۔ نوید کے گھر والے شام کا کھانا مجھے بھی ساتھ بٹھاکر کھاتے۔ اگرچہ اُن کو بخوبی علم تھا کہ احمد تو جماعتِ احمدیہ کا فرزند ہے مگر میرے اندازِ گفتگو اور سچّائی سے متاثر تھے۔ نوید بھی بہت ہی نفیس اور اخلاق کے اعلیٰ معیار کا انسان تھا جو نفرت اور فرقہ پرستی کا قائل نہ تھا۔ نوید کے میرے علاوہ بھی احمدی دوست کالج یونیورسٹی دَور میں تھے جن سے وہ بہت متاثر تھا۔

نوید رات کو مجھے اپنے Vespaسکوٹر پر اسلام آباد کی عارضی رہائش گاہ G-10چھوڑ دیتا۔ جب اٹلی کا دعوت نامہ موصول ہوا تو سب گھر والے -نوید کی والدہ، والد اور خود نوید -بہت خُوش تھے۔ شام کو آگے کا طریقِ کار طے ہوا۔ مگر مَیں نے اپنے ایک دوست رفیع سندھو جو اسلام آباد میں ٹریول ایجنٹ تھے، کا تذکرہ کیا اور کوئی بھی پروگرام رفیع کی ملاقات تک مؤخر رکھا۔ اگلے دن رفیع سے اُس کے دفتر واقع جناح سُپر ملاقات کی۔ اُس نے ہمیں ہدایت کی کہ اٹلی کا ویزا فوری حاصل کریں، دیر نہ کریں۔

رفیع کی ہدایت کے مطابق ہم نے تمام کاغذات ایک فائل کی طرز میں تیار کیے اور دوسرے ہی دن اٹلی کی ایمبیسی واقع اسلام آباد جاپہنچے۔ صبح صبح ایمبیسی میں کوئی بھی ویزا کا خواہاں موجود نہ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ چند آدمی ویزا کی خاطر آئے مگر ایک درجن سے زیادہ نہ تھے۔ ہم نے ویزا فارم پُر کیا، اپنے کاغذات فائل سے نکالے اور ویزا فارم ایمبیسی کے عملہ کے حوالے کیے۔ اُنہوں نے ہمیں ایک کاغذ یونیورسٹی کے کسی پروفیسر صاحب کا خط بھی لانے کو کہا۔ ہم پھر یونیورسٹی آئے تو ہم نے کئی پروفیسروں میں سے ایک پروفیسر مجید کے ہٹ پر بیٹھے چائے پیتے ہوئے دیکھے۔ اُن سے ہی درخواست کی اور اُنہوں نے اپنے دفتر سے ایک خط ہم دونوں کو الگ الگ دے دیا۔ وہ خط ہم نے اٹلی کی ایمبیسی کو دیا۔ اس خط کی ہی دیر تھی۔ آدھ گھنٹہ ہی انتظار کیا تھا کہ ہمیں پاسپورٹ مع ویزا واپس دے دیے گئے۔ ہمارے سبز رنگی پاکستانی پاسپورٹوں پر پہلا ویزا اٹلی کا لگ چکا تھا۔ الحمدللہ

ویزا ملنے کی اطلاع نوید کے گھر جاکر رفیع کو دی۔ رفیع نے ہمیں کہا کہ اب مزید کاغذات تیار کریں اور برٹش ہائی کمیشن میں جاکر یوکے کا ویزا حاصل کریں۔

نوید کے پاس تو مزید کاغذات موجود تھے مگر میرے پاس کاغذات کا فوری انتظام ممکن نہ تھا۔ رفیع کے مطابق ہم کو اٹلی ویزا کے ایک دو دن کے اندر اندر یوکے کے ویزا کے لیے اَپلائی کرنا تھا۔ یوں ہم ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن رات کے وقت تین بجے تمام کاغذات کے ساتھ برٹش ایمبیسی آپہنچے۔ رفیع نے ہمیں بتارکھا تھا کہ رات تین بجے بھی رَش ہوتا ہے مگر تین بجے ہمارا نمبر ۵۰واںتھا۔ ایمبیسی کی طرف سے ایک آدمی نے ہمارے بعد کسی کو ٹوکن نہیں دیا۔ یوں ہم صحیح وقت پر پہنچ چکے تھے۔ پھر کافی انتظار کے بعد ایمبیسی کا اصل عملہ ایمبیسی آیا اور ایمبیسی کے دروازے کُھلے۔ ہم ایمبیسی کے اندر گئے اور اپنے ویزا فارم اور ویزا فیس جمع کروائی۔ ویزا فیس کوئی چھ ہزار روپے تھی۔ ایمبیسی والوں نے تمام کاغذات اور پاسپورٹ وصول کرکے ہمیں ایک رسید دی اور انٹرویو کے لیے انتظار کرنے کو کہا۔

اسلام آباد میں واقع برٹش ہائی کمیشن کمال کی بلڈنگ تھی۔ اندرون بلڈنگ بہت خُوشنما اور ایئرکنڈیشنڈ۔ ٹھنڈک گرمی کا کوئی احساس نہیں۔ کرسیاں اور کمرے کُھلے ہوئے اور ویزا خواہاں کے لیے آرام دہ جگہیں موجود تھیں تاکہ لوگ کچھ منٹ آرام کرسکیں۔ ایک گھنٹہ انتظار کے بعد ہماری انٹرویو کی باری آئی۔ ہم دونوں کو بُلایا گیا۔ مَیں نے نوید کو پہلے کردیا مگر ویزا آفیسر نے مجھے پہلے بُلایا۔ سوال جواب انگریزی زبان میں تھے۔

سوال: یوکے کس لیے جارہے ہیں؟

جواب: میرا اٹلی کا ویزا لگا ہوا ہے۔ یوکے میں چند دوستوں کو جو لندن میں ہیں، اُن سے ملاقات کا ارادہ ہے اور لندن کی سیر کا پروگرام ہے۔

سوال: اٹلی کیوں جارہے ہیں؟

جواب: ایک ریسرچ کانفرنس ہے اٹلی کے شہر تریستے میں۔ وہاں جارہے ہیں، مَیں اور ایک میرا کلاس فیلو۔ ہم دونوں Ph.D کررہے ہیں۔

سوال: ٹکٹ لے لیا ہے؟

جواب: نہیں یوکے کے ویزا کے بعد۔

سوال: لندن کتنا Stayہوگا؟

جواب: چند دن ۱۵ سے ۲۰ دن۔ لندن کی اور یوکے کی سیر کے لیے یہ ۲۰ دن کافی نہیں۔ پھر بھی ہم ۲۰ دن تک کچھ کرلیں گے۔ پھر واپسی اسلام آباد۔

سوال: کیا پاکستان کی سیر کرلی ہے؟

جواب: نہیں۔ یہاں تو نہ ہی سہولتیں ہیں اور نہ ہی اپنے شہر سے دوسرے شہر محض سیر کے لیے جانے کا رواج۔ صرف شادی یا فوتگی کی صُورت میں ہم لوگ دوسرے شہر جاتے ہیں۔

سوال: ٹھیک ہے۔ آپ اپنا پاسپورٹ ۲ بجے باہر سے حاصل کرلینا۔

انٹرویو کے بعد ہم ایمبیسی کے اندر ہی مگر انٹرویو کی جگہ سے باہر موجود رہے اور ۲بجے کا انتظار کرتے رہے۔ نوید کا انٹرویو بہت مختصر تھا اور سوالات میرے جیسے ہی تھے۔

پھر ۲بجے اَور لوگوں کی قطار لگ گئی۔ اکثر لوگ تو پریشان واپس مڑ رہے تھے کہ ویزا نہیں لگا۔ یوں ہم نے بھی اپنی رسید دی اور پاسپورٹ حاصل کیا۔ اور کھولا تو اس میں ویزا لگا ہوا پایا۔ الحمدللہ

مَیں نے ویزا ملنے کی خوشی میں ایمبیسی میں ہی سجدۂ شکر ادا کیا اور ایمبیسی سے باہر آیا۔ نوید نے مجھے اپنے سکوٹر پر بٹھایا اور راولپنڈی اپنے گھر لے آیا۔ دوپہر کا وقت، جون کا مہینہ۔ گھر پر اس کے والد کرنل محمود نے مجھ سے پوچھا“ احمد کیا بنا ”؟ بتایا “چچا یوکے کا ویزا ہم دونوں کا لگ گیا ہے۔ اب ہمارا لندن کا پروگرام پکّا ہے”۔ نوید کی والدہ کو بھی بہت خوشی ہوئی اور اُنہوں نے بتایا کہ لندن میں نوید کی بہن رہتی ہے۔ نوید اپنی بہن کو مل آئے گا۔ نوید کے گھر کھانا کھا کر نوید مجھے اسلام آباد G-10چھوڑنے آیا۔ یہاں موجود یونیورسٹی کے تمام احمدی دوستوں کو خُوشخبری دی کہ میرا لندن کا ویزا لگ گیا ہے۔ سب نے بہت خُوشی کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: گردش میں ہیں کتنی کائناتیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button