حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

(گذشتہ سے پیوستہ)

احمدی ڈاکٹر وقف کریں

حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں۔ دعا ہے، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ بیان دے رہے تھے کہ : ’’اے میرے آقا! مَیں اپنے دل میں متضاد خیالات موجزن پاتاہوں۔ ایک طرف تو مَیں بہت اخلاص سے اس امر کا خواہاں ہوں کہ حضور ؑکی صداقت اور روحانی انوار سے بیرونی دنیا جلد واقف ہوجائے اور تمام اقوام وعقائد کے لوگ آئیں اور اس سرچشمہ سے سیراب ہوں جو اللہ تعالیٰ نے یہاں جاری کیاہے۔ لیکن دوسری طرف اس خواہش کے عین ساتھ ہی اس خیال سے میرا دل اندوہ گین ہوجاتاہے کہ جب دوسرے لوگ بھی حضورؑ سے واقف ہوجائیں گے اور بڑی تعداد میں یہاں آنے لگیں گے تو اس وقت مجھے آپؑ کی صحبت اور قرب جس طرح میسر ہے اُس سے لطف اندوزہونے کی مسرت سے محروم ہوجائوںگا۔ ایسی صورت میں حضور دوسروں کے گھرجائیں گے۔

حضور والا! مجھے اپنے پیارے آقا کی صحبت میں بیٹھنے اوران سے گفتگو کرنے کا جو مسرت بخش شرف حاصل ہے اس سے مجھے محرومی ہو جائے گی۔ ایسی متضاد خواہشات یکے بعد دیگرے میرے دل میں رونما ہوتی ہیں۔

قاضی صاحب نے مزید کہا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام میری یہ بات سن کر مسکرا دئے‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۶۔ صفحہ ۱۰)

پھرقاضی ضیاء الدین صاحبؓ کا ہی ایک نمونہ ہے۔ ’’قاضی عبدالرحیم صاحبؓ سناتے تھے کہ ایک دفعہ والد صاحبؓ نے خوشی سے بیان کیاکہ مَیں وضو کررہا تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے آپ کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ نے میرے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ تو حضور ؑنے میرانام اورپتہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایاکہ اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔ چنانچہ قاضی صاحبؓ اس بات پر فخر کیا کرتے اور (تعجب سے ) کہا کرتے تھے کہ حضورؑکو میرے دل کی کیفیت کا کیونکر علم ہو گیا۔ یہ اسی عشق کا ہی نتیجہ تھا کہ حضرت قاضی صاحب ؓنے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ مَیںبڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعود ؑکے در پر لے آیاہوں۔ اب میرے بعد اس دروازہ کوکبھی نہ چھوڑنا۔ چنانچہ آپ کی اولاد نے اس پر کامل طورپر عمل کیا‘‘۔ (اصحاب احمد۔ جلد ۶۔ صفحہ ۸-۹۔ مطبوعہ ۱۹۵۹ء)

حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کو کابل میں ۱۹۲۴ء میں شہید کیا گیا۔ شہادت سے پہلے انہوں نے قید خانہ سے ایک احمدی دوست کو خط لکھا اور اس میں فرمایا ’’ میں ہر وقت قید خانہ میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الٰہی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔ میںیہ نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے اور قتل ہونے سے نجات دے بلکہ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ الٰہی اس بندۂ نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ اسلام پر قربان کر‘‘۔ (تاریخ احمدیت۔ جلد نمبر۵۔ صفحہ ۴۵۰۔ مطبوعہ ۱۹۶۴ء)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۶۶تا۲۶۸)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: لغویات سے پرہیز

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button