جماعت احمدیہ تھائی لینڈ کا تئیسواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء
٭… جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال کردہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام
٭… جلسہ کی کارروائی یوٹیوب پر براہ راست دکھائی گئی ٭…۴۵۰؍احباب کی شمولیت
اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ جماعت احمدیہ تھائی لینڈ کو اپنا ۲۳واں جلسہ سالانہ مورخہ ۲۴و۲۵؍اپریل ۲۰۲۶ء کو منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ
امسال جلسہ سالانہ کو منعقد کروانے کےليے نئی جگہ منتخب کی گئی تھی یعنی Bangkok شہر میں موجود Nouvo City ہوٹل۔ چونکہ اس ہوٹل میں۴۵۰؍افراد کی گنجائش تھی اس ليے تمام حلقہ جات کو جلسہ میں شامل ہونے کے ليے کوٹہ دیا گیا۔ تمام شاملین جلسہ کی رجسٹریشن کی گئی اور رجسٹریشن کارڈ جاری کيے گئے۔

مکرم انگ کرنیا فضل احمد صاحب نیشنل صدر جماعت احمدیہ تھائی لینڈ نے جلسہ سالانہ کا باقاعدہ آغاز دُعا کے ساتھ کیا اور پھر مکرم محمد یوسف صاحب نے تلاوت قرآن کریم اور ڈاکٹر شہزاد احمد صاحب نے نظم پیش کی۔ بعدازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام انگریزی، اردو اور تھائی زبان میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’وقف زندگی‘‘ تھائی زبان میں از مکرم نیشنل صدر صاحب تھائی لینڈ، ’’اسلام میں شادی کا مقصد‘‘ اردو میں از خاکسار (نیشنل جنرل سیکرٹری و سیکرٹری رشتہ ناطہ)، نظم کے بعد ’’امام مہدی اور مسیح کی آمد ثانی‘‘ تھائی زبان میں از مکرم جمعہ خان صاحب افسر جلسہ سالانہ، ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ اردو میں از مکرم محمد سالک صاحب مبلغ انچارج Myanmar اور ’’امن کا پیغام‘‘ اردو میں از مکرم عبدالسمیع صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت۔

جلسہ کے پہلے اجلاس میں کل ۵؍تقاریر ہوئیں ۳ اردو میں اور ۲ تھائی زبان میں۔
پہلے اجلاس کے بعد کھانے کا انتظام کیا گیا اور نماز ظہر و عصر ادا کی گئی۔

جلسہ کے دوسرے اجلاس کا آغاز مکرم عتیق احمد صاحب کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم اور نظم کے ساتھ ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ مکرم حارث احمد طور صاحب اور نظم مکرم عارف احمد صاحب نے پیش کی۔ اس اجلاس میں ۶؍اُردو تقاریر اور ایک تھائی زبان میں تقریر کی گئی: ’’علامات المقربین‘‘ تھائی زبان میں از مکرم عبدالحکیم صاحب نیشنل سیکرٹری جائیداد، ’’اللہ کی راہ میں خرچ کرنا‘‘ اردو میں از مکرم عابد وحید صاحب نیشنل سیکرٹری امور عامہ، ایک نظم کے بعد ’’برکات دعا‘‘ اردو میں از مکرم نیّر عمران صاحب نیشنل سیکرٹری وقف نو، ’’حضرت محمد ﷺ کا مبارک نمونہ‘‘ اردو میں از مکرم علی رضا صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ تھائی لینڈ، ’’عبادت کا فلسفہ‘‘ اردو میں از مکرم محمد ایوب خان صاحب صدر مجلس انصاراللہ تھائی لینڈ، ’’ضرورت الامام‘‘ اردو میں از مکرم اہتشام الاسلام صاحب مبلغ سلسلہ (آن لائن)، ’’یسوع کی آمد ثانی‘‘ اردو میں از مکرم رانا ارسلان احمد صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت نو مبائعین۔ اسی دوران مستورات نے اپنے ہال میں اپنے اجلاس کا انعقاد کیا۔

تیسرے اجلاس کا آغاز مکرم عبدالسمیع صاحب کی زیر صدارت ہوا۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ مکرم طٰہٰ عزیزصاحب اور نظم مکرم علی رضا صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ تھائی لینڈنے پیش کی۔ اس کے بعد خدام اور اطفال کی جانب سے ترانہ پیش کیا گیا۔ اور مہمانوں کی جانب سے مثبت تبصرے پیش کيے گئے۔ اس کے بعد خاکسار (نائب افسر جلسہ سالانہ و چیئر مین اسائلم کمیٹی) نے اسائلم کمیٹی تھائی لینڈ کی پراگریس رپورٹ اور جلسہ سالانہ کی فائنل رپورٹ پیش کی۔ کل حاضری ۴۵۰؍رہی۔ جلسہ کی کارروائی یوٹیوب پر بھی براہ راست دکھائی گئی جس سے تقریباً ۳۰۰۰؍افراد نے استفادہ کیا۔ اختتامی تقریر کے بعد مکرم نیشنل صدر صاحب نے دعا کروائی جس کے ساتھ یہ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
جلسہ کے موقع پر غیر از جماعت احباب بھی موجود تھے جن کو جماعت کا تعارف کروایا گیا۔
جلسہ کے موقع پر بُک سٹال بھی لگایا گیا جس میں تھائی زبان میں جماعتی کتب موجود تھیں۔ کُل ۱۱۵۰؍بھات کی کتب فروخت ہوئیں۔
جلسہ کے تمام پروگرام اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور مدد میں بخوبی تکمیل کو پہنچے۔
اللہ تعالیٰ ہماری حقیر کوششوں کو محض اپنے فضل سے باثمر کر دے اور حضرت مسیح موعودؑ نے شاملین جلسہ کےليے جو دعائیں کیں ہیں وہ ہمارے حق میں بھی قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین
(رپورٹ:مبارک احمد۔ جنرل سیکرٹری تھائی لینڈ و نائب افسر جلسہ سالانہ)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جماعت احمدیہ تھائی لینڈ کے جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
پیارے احباب جماعت احمدیہ تھائی لینڈ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا تئیسواں جلسہ سالانہ مورخہ ۲۴و۲۵؍اپریل ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین بے شمار برکات کے وارث ہوں۔
میں آپ کو جلسہ سالانہ کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں۔ اگرچہ جلسوں میں ہماری شرکت روحانی ترقی کے قیمتی مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن ان کا اصل مقصد عبادت کا ایک ماحول پیدا کرنا ہے۔ جلسہ کے نظام کے ذریعہ، جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الٰہی ہدایت کے تحت قائم فرمایا، ایک روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دوبارہ جوڑتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:’’اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اوراعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اوراس کے لیے قومیں طیار کی ہیں۔ جو عنقریب اس میں آملیں گی۔ کیونکہ یہ اس قادر کافعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس دنیا میں اس لیے تشریف لائے کہ اسلام کی تعلیمات پر وقت گزرنے اور گمراہ لوگوں کے اعمال کے باعث جو گرد جم گئی تھی اسے دور کریں اور اسلام کو دوبارہ اُس کی خالص اور پاکیزہ شکل میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ آپؑ کا مشن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اصل دین کو زندہ کرنا، مسلمانوں کو اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی ترغیب دینا اور اسی مقصد کے لیے ایک جماعت تیار کرنا تھا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جو لوگ آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کریں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کریں اور تہجد کی ادائیگی کے لیے بھی کوشش کریں۔ انہیں آنحضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل درود بھیجتے رہنا چاہیے، اپنے گناہوں کی مغفرت مانگنی چاہیے اور استغفار کا مستقل ورد کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے دلوں کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے اور اس کی حمد و ثنا کو اپنے روزمرہ معمول کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔
اس ضمن میں ہمیں اپنی بیعت سے وابستہ ذمہ داریوں اور جماعت میں تقویٰ یعنی راستبازی کے پختہ طور پر قائم ہونے کی ضرورت کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے واضح فرمایا کہ ہم اپنی بیعت کی شرائط صرف اس وقت پوری کر سکتے ہیں جب ہم ایسی حالت کو پہنچ جائیں کہ آپؑ کی مکمل پیروی کریں اور کوئی دنیاوی رشتہ، لگاؤ یا ذمہ داری اس عہد کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
لہٰذا یہ جلسہ آپ کو نہ صرف اپنے تقویٰ کے معیار کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے بلکہ ان اعلیٰ اخلاقی اور نیک عمل کے معیاروں کو حاصل کرنے کا بھی جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی جماعت کے افراد سے توقع رکھتے تھے۔
میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں اور خلیفۃ المسیح کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کریں اور ہمیشہ وفادار رہیں۔ آپ کو ایم ٹی اے کثرت سے دیکھنا چاہیے اور اپنے اہل خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ خصوصی طور پر میرے خطبات جمعہ کو باقاعدگی سے سنیں نیز دیگر تقریبات اور مواقع پر میرے خطابات بھی سنیں۔ اس سے آپ خلافت کے ساتھ ایک مستقل تعلق اور رشتہ برقرار رکھ سکیں گے۔
میں آپ کو تبلیغ کے حوالہ سے آپ کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ہر احمدی مسلمان کے ليے لازمی ہے۔ آپ کو حکمت عملی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور تھائی لینڈ کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کا پُرامن پیغام پہنچانے کے لیے نئے ذرائع پر غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک کام میں ہر کامیابی عطا فرمائے۔
آخر میں، مَیں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور آپ کو اپنی زندگیوں میں تقویٰ، نیک عمل اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی طرف ایک حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر رحم کرے۔
مزید پڑھیں: فجی میں جلسہ ہائے یوم خلافت کا بابرکت انعقاد




