حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے ۶؍ارب ڈالرز کے اثاثے جلد جاری کر دیے جائیں گے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر ۱۲؍ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آرہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

٭… جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد ۱۲۷۴؍تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ۳۶۰؍ ہو گئی ہے، جس کی کانگو حکومت نے تصدیق کر دی۔اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس غیر معمولی تیز رفتار سے پھیل رہا ہے، یہ وبا ایبولا وائرس کی بنڈی بگیو قسم سے پھیلی ہے جس کا اعلان ۱۵؍مئی کو کیا گیا تھا۔ایبولا وائرس کے پیشِ نظر سعودی عرب نے تین افریقی ملکوں کے مسافروں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔سعودی خبر ایجنسی کے مطابق تین افریقی ممالک جنوبی سوڈان، جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا سے سفر کرنے والے افراد کو اگلے نوٹس تک مملکت کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔گذشتہ ہفتے کانگو سے فرانس پہنچنے والے ڈاکٹر میں بھی ایبولا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔فرانسیسی حکام کے مطابق متاثرہ شخص کانگو کے متاثرہ علاقے میں انسانی ہمدردی کے مشن سے واپس آیا تھا۔

٭… فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ایک ہزار اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر ۶۵؍ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزارتِ صحت کے ماتحت صحتِ عامہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ گھروں اور نگہداشت مراکز کے اعداد و شمار ابھی مکمل نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ ۲۰؍جون سے جاری شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث عجائب گھروں اور تعلیمی اداروں کو بھی قبل از وقت بند کرنا پڑا ہے۔جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ، سلوواکیا، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہیں۔جرمنی میں شدید گرمی کے دوران جھیلوں اور دریاؤں میں نہاتے ہوئے مختلف حادثات میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی علاقوں میں درجۂ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔دوسری جانب آئندہ دنوں میں شدید گرمی میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button