نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم جون ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم صلاح الدین صاحب ابن مکرم چودھری شمس الدین صاحب مرحوم (Battersea۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم صلاح الدین صاحب ابن مکرم چودھری شمس الدین صاحب مرحوم (Battersea۔یوکے)
۲۶؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۵۶ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ خلافت اولیٰ کے دور میں آپ کے دادا مکرم چودھری کریم الدین صاحب مرحوم کے ذریعہ ہوا۔ آپ ۱۹۹۸ء میں یو کے آئے۔ بیٹرسی میں شفٹ ہونے سے قبل آپ اپر مچم جماعت کے ممبر تھے جہاں آپ کا گھر نماز سینٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ جماعتی کاموں میں بہت فعال تھے۔ مرحوم کو مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ عمومی اور تعلیم کے علاوہ مختلف حیثیتوں میں جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم صوم و صلوۃ کے پابند، بڑے خوش اخلاق، نیک اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم نور الدین صاحب جامعہ احمدیہ یو کے کے طالب علم ہیں۔ آپ کے بھائی مکرم منیر الدین شمس صاحب کو جماعت کی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرمہ مظہر بی صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا عبدالسمیع صاحب مرحوم ( سابق اسٹیشن ماسٹر ربوہ)
۳؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو ۹۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوۃ کی پابند، ملنسار،مہمان نواز، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سےگہرا دلی لگاؤ تھا۔ تلاوت قرآن کریم بہت خوش الحانی سے کرتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کےمنظوم کلام سے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے اور حلقہ کے اکثر اجلاسات میں انہی کی تلاوت اور نظم ہوا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم یعقوب داؤد صاحب (سابق ٹیچر احمدیہ کالج کانو نائیجیریا)
۳۱؍مارچ ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے تقریباً ۳۱ سال احمدیہ سکول کانو میں سپورٹس اور ٹیکنالوجی کے ٹیچر کے طور پر خدمت سرانجام دی۔ آپ کی کوچنگ میں احمدیہ کالج نے کئی نیشنل باسکٹ بال چیمپئن شپ جیتیں اور دیگر سکولوں کے مقابلے پر احمدیہ کالج کا نام روشن ہوا۔ آج بھی پرنسپل آفس میں بیسیوں ٹرافیاں آپ کی محنت کی تصدیق کرتی ہیں۔آپ بہت ہی محنتی اور لگن سے کام کرنے والے وجود تھے۔ نماز باجماعت میں باقاعدہ تھے اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ آپ جماعت کی دو مساجد کی تعمیر میں سپروائز ربھی رہے۔ آپ کے متعلق مقامی مبلغ صاحب کا کہنا ہے کہ آپ مسجد اور جماعت کے پیسے کو بہت ایمانداری سے استعمال کرتے تھے۔ جماعت کی حمیّت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ سب پروگراموں میں بہت کھل کر اپنی رائے دیا کرتے تھے کہ کس طرح ہم جماعت کی ترقی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ آپ نے اپنی نسبتی بہن کے یتیم بچوں کی پرورش کا بہت خیال رکھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرم جاوید احمد راشد صاحب ابن مکرم چودھری حمید احمد صاحب (ڈھیری حسن آباد۔راولپنڈی )
۲۸؍مارچ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پیشے کے اعتبار سے پی ٹی سی ایل میں انجینئر تھے۔ آپ صوم وصلوۃ کے پابند،بڑے شفیق، ملنسار، محنتی، دیانتدار، ساده مزاج اور انتہائی منکسر المزاج انسان تھے۔ آپ کی ایک نمایاں خوبی خلافت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ آپ نے خدام الاحمدیہ میں مجلس کینٹ راولپنڈی کے معتمد کے علاوہ مقامی اور ضلعی سطح پر مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ جماعتی کاموں میں آپ کی دلچسپی اورلگن بڑی مثالی تھی۔ جلسہ سالانہ کے لیے بسوں اور ٹرینوں کے انتظامات، خدام کی فہرستوں کی تیاری، کھانے پینے کے انتظامات، سفر کے تمام مراحل کی منصوبہ بندی، تحریک جدید اور وقف جدید کے چندہ جات کی تکمیل، حلقہ جات کے دورے غرضیکہ ہر میدان میں آپ سرگرم نظر آتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ آپ مکرم بشیر احمد بابر صاحب (کارکن شعبہ ضیافت اسلام آباد۔یوکے) کے بہنوئی اور پھوپھی زاد بھائی تھے۔
۴۔مکرمہ بشریٰ نسرین صاحبہ اہلیہ مکرم ہدایت علی شاہد صاحب (مربی سلسلہ)
۲۸؍مارچ ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت چودھری محمد علی پٹواری صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی تھیں۔ مرحومہ نے۱۹۷۲ء سے ۱۹۸۹ء تک مسلسل ۱۷ سال چونڈہ کی صدر لجنہ کے علاوہ مختلف خدمتوں کی توفیق پائی۔ صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر لجنہ اماء الله پاکستان کی طرف سے آپ کی خدمت کو سراہتے ہوئے آپ کو سند خوشنودی بھی عطا کی گئی۔ شادی کے بعد اپنے مربی سلسلہ شوہر کے ساتھ فیلڈ میں تعلیمی اور تربیتی کاموں میں حصہ لیتی رہیں۔ جماعت کے بچے بچیوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی رہیں۔ آپ میں یہ بڑی نمایاں خوبی تھی کہ ہر احمدی گھرانے سے ذاتی رابطہ اور تعارف حاصل کرکے ان کی ہر ممکن راہنمائی اور مدد کیا کرتی تھیں۔ جماعتی لٹریچر کا مطالعہ بہت تھا۔ کئی حوالے زبانی یاد تھے۔ حافظہ بھی اچھا تھا اور بہت سے اشعار زبانی یاد تھے۔دس شرائط بیعت اور عربی قصیدہ یا عین فیض اللہ والعرفانٖ … پورا زبانی یاد تھا۔ جس پر آپ نے اسناد بھی حاصل کیں۔ لجنہ کے علمی مقابلہ جات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتی رہیں۔ آپ کاعبادت اور دعاؤں کا رجحان بھی غیر معمولی تھا۔ خطبات جمعہ اوردیگر خطابات نیز ایم ٹی اے پر آنے والے تمام پروگراموں کو بڑی باقاعدگی اورتوجہ سے سنتی تھیں۔ خلافت سے غیر معمولی عقیدت و احترام کا تعلق تھا۔جماعتی عہدیداران کا بھی بہت احترام کرتی تھیں۔انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ بھی مثالی تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دوبیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب (ریٹائرڈ مربی سلسلہ۔حال جرمنی) کی بہن تھیں۔
۵۔مکرم ندیم احمد صاحب ابن مکرم لیفٹیننٹ غلام احمد صاحب (ایڈمنٹن۔ کینیڈا)
یکم اپریل ۲۰۲۶ء کو ۶۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت حکیم نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، نیک،ہمدرد اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے گہرا اخلاص ووفا کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ آپ کی اہلیہ اوربیٹا جماعتی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۶۔عزیزہ عِیْشَہ طٰہٰ (Esha Taha) بنت مکرمہ ثناء طٰہٰ صاحبہ (بر یسبن۔ آسٹریلیا)
۲۱؍اپریل ۲۰۲۶ء کو سڑک پارکرتے ہوئے ایک کار حادثے میں تین سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ بچی ننھیال کی طرف سے ایک مخلص احمدی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔پسماندگان میں والدہ کے علاوہ ایک بھائی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین




