صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۲)(قسط ۱۴۷)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

فیرم فاس

Ferrum phosphoricum

(Phosphate of Iron)

فیرم فاس کےمریض کو کھلی ہوا تکلیف دیتی ہے۔اس لحاظ سے اس کا مزاج ٹھنڈا ہے۔ فاسفورس کے عنصر کی شمولیت کی وجہ سے اس کی کچھ علامتیں فاسفورس سے بھی ملتی ہیں۔مریض کے ذہن میں کوئی معین خوف تو نہیں ہوتا مگر ویسے ہی دل بےچین اور بیزار رہتا ہے اور عمومی طور پر پریشانی ذہن پر قبضہ کیے رکھتی ہے۔کمزوری بہت ہوتی ہے۔ہومیوپیتھک پوٹینسی میں فیرم فاس خون کی کمی اور کمزوری کو دور کرنے کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔(صفحہ۳۸۳)

فاسفورس کے مرکبات ان مریضوں میں مفید ثابت ہوتے ہیں جن کا خون پتلا ہو اوربہت جلد بننے کا رجحان رکھتا ہو۔ ہیموفیلیا (Haemophilia) کے مریضوں میں بھی یہ تینوں مفید ہیں یعنی فاسفورس، ایسڈ فاس اور فیرم فاس۔ فاسفورس ہو میو پیتھک دوا کی شکل میں خون کو گاڑھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اگر یہ خون کو بہت گاڑھا کر دے تو مضر نتائج بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور دل کے حملہ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے فاسفورس کو لمبے عرصہ تک آنکھیں بند کرکے استعمال کرتے رہنا مناسب نہیں۔ فاسفورس، ایسڈ فاس اور فیرم فاس استعمال کرنے والوں کا دو تین ماہ کے بعد خون کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ خون صرف اس حد تک گاڑھا ہونا چاہیے جو جریان خون کے رحجان کو ختم کر دے اس کے بعد ان دواؤں کا استعمال روک دینا چاہیے۔ دوبارہ خون پتلا ہونے کا رجحان ہو تو پھر شروع کروا دیں۔ (صفحہ۳۸۳-۳۸۴)

فیرم فاس کے مریضوں کے عضلات بعض دفعہ بوجھ اٹھانے کی کوشش سے کھنچ جاتے ہیں اور ایسے مریضوں کو پھر تھوڑا سا بوجھ اٹھانے سے بھی ان عضلات میں ہمیشہ تکلیف ہوتی ہے۔ ملی فولیم میں بھی یہ رجحان پایا جا تا ہے۔ یہ دونوں دوائیں جریان خون کی بھی بہترین دوائیں ہیں۔ جن مریضوں میں خون کی کمی ہو ان میں جلد غصہ آنے کا رجحان بھی پایا جا تا ہے۔ ایسے مریضوں کا پسینہ پھوٹ پڑتا ہے اور سارا جسم کانپنے لگتا ہے اور ان کا سارا غصہ اپنی ذات پر ہی ٹوٹتا ہے۔ مریض بہت جلد جذباتی ہو جاتا ہے، کبھی خوش ہو تا ہے اور کبھی ہذیان بکتا ہے۔ یہ فیرم فاس کی علامت ہے جو فاسفورس اور آئرن کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے۔فیرم فاس کا مریض تنہا رہنا پسند کرتا ہے، دوسرے لوگوں کی موجودگی میں گھبراتا ہے۔ شور بھی اس کے لیے نا قابل برداشت ہو تا ہے۔ کبھی کبھی جوش میں آکر بہت بولتا ہے لیکن یہ اس کا دائمی مزاج نہیں ہے۔ فیرم فاس کے مریض عموماً کم بولنے والے اور تنہائی پسند ہوتے ہیں۔(صفحہ۳۸۴)

سر درد میں ٹھنڈی ہوا سے فائدہ ہوتا ہے۔ سیڑھیاں چڑھنے سے سر درد شدت اختیار کر جا تا ہے اور بعض دفعہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔ دراصل یہ بھی خون کی کمی انیمیا (Anaemia) کی نشانی ہے۔ خون کی کمی ہو تو ایک دم اٹھنے سے اور سیڑھیاں چڑھنے سے خون نیچے کی طرف آتا ہے اور سر کو پوری طرح خون نہیں پہنچتا۔ اگر سر میں درد ہو تو اس صورت میں اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آنکھوں کے اوپر گدی میں کنپٹیوں پر اور آدھے سر میں پھاڑنے والے درد ہوتے ہیں، نظر بھی (عارضی طور پر) غائب ہو جاتی ہے۔ پُر خون دواؤں کی فہرست میں جلسیمیم میں بھی یہ علامت ملتی ہے کہ سردرد کے دورے کے ساتھ اچانک نظر غائب ہو جاتی ہے۔ خون کا دباؤ زیادہ ہو جائے تو بیلاڈونا میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے مگر فیرم فاس میں خون کی کمی کی وجہ سے اور سر میں خون نہ پہنچنے کے نتیجہ میں وہی اثر ظاہر ہو تا ہے جو پر خون دواؤں میں خون کا دباؤ بڑھ جانے سے ہو تا ہے اور نظر غائب ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۳۸۴-۳۸۵)

فیرم فاس میں کان کی نالیوں کا نزلہ ہوتا ہے اور نزلاتی اخراجات میں خون کی آمیزش بھی ملتی ہے کیونکہ اس دوا میں جریان خون کا رجحان ہو تا ہے۔ بچوں میں عموماً نٖکسیر کا عارضہ ملتا ہے۔ (صفحہ۳۸۵)

فیرم فاس کے مریضوں کے منہ کی جھلیوں اور مسوڑوں سے اگر خون بہے تو اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور یہی بات ملی فولیم میں بھی پائی جاتی ہے۔ گلے کے غدود پھول جاتے ہیں، خراش، خون بہنا، جلن، سوزش اور نگلنے میں دقت فیرم فاس کی علامتیں ہیں۔ یہ علامتیں بہت سی دواؤں میں نمایاں ہیں۔ محض ان کی وجہ سے فیرم فاس کو پہچاننا مشکل ہے۔ مریض پر عمومی نظر ڈال کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ فیرم فاس کا مریض ہے یا نہیں۔ اس میں خون کی کمی کا نشان اس کی پہچان میں مدد دے سکتا ہے مگر پر خون لوگوں میں بھی فیرم فاس کئی عوارض میں کام آتی ہے۔(صفحہ۳۸۵)

فیرم فاس کی علامات چھونے،جھٹکا لگنے، حرکت کرنے سے شدت اختیار کرتی ہیں جبکہ ٹھنڈ ی ٹکور سے افاقہ ہوتا ہے۔(صفحہ۳۸۷)

فلوریکم ایسڈ Fluoricum acidum

(Hydrofluoric Acid)

فلورک ایسڈ ایسی بیماریوں میں بہت مفید، وسیع الاثر اور گہرا اثر کرنے والی دوا ہے جو رفتہ رفتہ جزو بدن ہو چکی ہوں اور جسم کی گہرائی میں چلی جائیں اور زندگی کا حصہ بن جائیں، مگر یہ آہستہ آہستہ اثر کرتی ہے۔ آناً فاناً اور فوری اثرات ظاہر نہیں کرتی۔ فلورک ایسڈ ایک پہلو سے سلفر سے مشابہ ہے اور ایک پہلو سے نیٹرم میور سے۔ بہت سے ایسے مریض ہیں جو سلفر یا نیٹرم میور کے مریض سمجھے جاتے ہیں لیکن انہیں ان دونوں دواؤں سے فائدہ نہیں پہنچتا۔ دراصل وہ فلورک ایسڈ کے مریض ہوتے ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ بہت دلچسپ دوا ہے۔ (صفحہ۳۸۹)

نیٹرم میور میں ناخنوں کی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ ناخن بدنما اکھڑے اکھڑے اور بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ کنارے پھٹ جاتے ہیں اور پچک کر بے جان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بال بے رونق کمزور اور بے جان ہو جاتے ہیں اور ان کی نوکیں پھٹ کر دو نیم ہو جاتی ہیں ۔ ان علامات سے عموما ًنیٹرم میور کی طرف دھیان جاتا ہے۔ جبکہ ہاتھ پاؤں میں گرمی، جلن اور پسینہ کی علامات سے سلفر کا خیال آتا ہے۔ یہ سب علامات فلورک ایسڈ میں اکٹھی ملتی ہیں۔ یہ گہرا اثر کرنے والی دوا ہے اور اگر علامات کے باوجود اس دوا کو نظر انداز کر دیں تو بہت گہرا نقصان پہنچتا ہے۔ (صفحہ۳۸۹)

ایسے مریض جن کی بیماریاں بڑھتے بڑھتے ایسی حالت کو پہنچ جائیں جہاں دوسری دوائیں کام نہ کریں وہاں لازماً بہت گہری دوائیں تلاش کرنی پڑتی ہیں ۔ فلورک ایسڈ ان میں سے ایک ہے۔ وہ تمام گہری بیماریاں جو نسل در نسل انسانی صحت پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں مثلاً سفلس ، سوزاک اور کوڑھ۔ اکثر ہومیو پیتھ معالجین نے ان تین بنیادی بیماریوں میں تمام مریضوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ فلورک ایسڈ میں ان تینوں بنیادی بیماریوں کی علامات پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح پھیپھڑوں میں سلی مادے بھی نسل در نسل انسانی جسم میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا بیماریوں کی چوتھی قسم سمجھ کر الگ علاج ہونا چاہیے۔ (صفحہ۳۸۹-۳۹۰)

فلورک ایسڈ میں سردی اور گرمی کی علامتیں ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔ رات کے وقت بستر میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ تپش محسوس ہوتی ہے ، نتیجۃً مریض ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ سلفر میں گرمی کے احساس کے باوجود مریض پانی سے متنفّر ہوتا ہے لیکن فلورک ایسڈ والے مریض کو ٹھنڈا پانی پسند ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ پلسٹیلا سے مشابہ ہے۔ پاؤں جلتے ہیں اور مریض بستر سے پاؤں باہر نکالتا ہے۔ ہاتھ پاؤں دونوں پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ پسینہ میں جلن ہوتی ہے۔ انگلیوں کے درمیان پسینہ آنے کی وجہ سے انگلیاں گل جاتی ہیں۔ اس میں فلورک ایسڈ بہت مفید دوا ہے۔ (صفحہ۳۹۰)

فلورک ایسڈ کی ایک علامت اسے نیٹرم میور اور سلفر سے ممتاز کر دیتی ہے یعنی فلورک ایسڈ کے مریض چائے اور کافی سے بہت جلد اثر قبول کرتے ہیں اور یہ مشروب ان کے مزاج کے موافق ثابت نہیں ہوتے۔ ان سے نیند اڑ جاتی ہے یا دوسری تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نیٹرم میور اور سلفر میں یہ علامت نہیں ملتی۔ (صفحہ۳۹۰)

فلورک ایسڈ میں بال بہت کمزور اور بے جان ہو جاتے ہیں اور کناروں سے پھٹ جاتے ہیں۔ نیٹرم میور میں تمام سر پر اثر پڑتا ہے لیکن فلورک ایسڈ میں سر پر کہیں کہیں بال کمزور ہوتے ہیں اور کہیں بالکل صحت مند نظر آتے ہیں یہ پہچان فلورک ایسڈ کو واضح طور پر دوسری ملتی جلتی دواؤں سے ممتاز کر دیتی ہے۔ (صفحہ۳۹۱)

فلورک ایسڈ نیلی رگوں کے جالے (Vericose Veins) دور کرنے اور اس کے زخموں کو ٹھیک کرنے کی بہترین دوا ہے۔ بسااوقات ویری کوز وینز دو سری دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ عورتوں میں بار بار بچوں کی پیدائش سے جو بوجھ پڑتے ہیں اس سے ٹانگوں میں نیلی رگیں ابھر آتی ہیں اور جالے بن جاتے ہیں۔ کئی دفعہ ان سے خون بھی نکلتا ہےاور بہت تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس تکلیف میں کوئی معین دوا کام نہیں کرتی کہ اسے دستور کی دوا سمجھ لیا جائے اور ہمیشہ وہی کام کرے مگر جو دوا بھی علامتوں کے مطابق درست ہو وہ فوری فائدہ دیتی ہے۔ اس بیماری کے لیے چوٹی کی دواؤں میں آرنیکا ،ایسکولس، لیکیسس ، سلفیورک ایسڈ اور نائیٹرک ایسڈ ہیں۔ اس فہرست میں فلورک ایسڈ بھی لکھ لیں۔

ویری کوز وینز کے حوالے سے کوئی دوا یاد نہ آئے تو بہتر طریقہ علاج یہ ہے کہ مریض کے مزاج کی تشخیص کر یں اس طرح بسا اوقات مزاجی دوا ہی ویری کو ز وینزمیں بھی فائدہ پہنچا دیتی ہے۔ (صفحہ۳۹۱۔۳۹۲)

بعض لوگوں کے سر کی جلد سن ہو جاتی ہے ۔ حس ختم ہو جاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سر کا پچھلا حصہ لکڑی سے بنا ہوا ہے۔ اس تکلیف میں فلورک ایسڈ بہترین دوا ہے۔ ہاتھ پاؤں سن ہونے کا رجحان بھی فلورک ایسڈ میں ملتا ہے۔ اس میں عموماً جسم تلے دبا ہوا حصہ سن نہیں ہو تا بلکہ دوسرا حصہ سن ہو جا تا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں بھی سن ہونے کا احساس ہو تو فلورک ایسڈ مفید ہے ۔ اسے فوراً اور بروقت استعمال کرنا چاہیے کیونکہ سن ہونے کا احساس کسی وقت اچانک فالج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ چونکہ فلورک ایسڈ آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے اس لیے ایسے مریضوں کو فلورک ایسڈ دے کر جلد یہ دوا تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مریض کی حالت مزید خراب ہونے سے رک جائے اور ٹھہر جائے اور کچھ کچھ فرق پڑنے لگے تو اس دوا کو جو آہستہ آہستہ اثر کرنے والی ہو اسے لمبے عرصہ تک اثر دکھانے کا موقع دینا چاہیے کیونکہ صبر سے دو تین مہینے تک استعمال کرنے سے بہت خوشگوار علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ صرف یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس دوا کے استعمال کے دوران مریض کی حالت مزید بگڑے نہیں بلکہ بہتری کی طرف مائل رہے۔(صفحہ۳۹۲)

فلورک ایسڈ میں گرمی سے گرم مشروبات سے اور صبح کے وقت تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ سردی میں آرام محسوس ہو تا ہے۔ (صفحہ۳۹۴)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۱)(قسط ۱۴۶)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button