اطلاعات واعلانات
نوٹ: اعلانات صدر؍ امیر صاحب حلقہ؍جماعت کی تصدیق کے ساتھ آنا ضروری ہیں
درخواستہائے دعا
٭… نوید الرحمٰن صاحب نمائندہ الفضل انٹرنیشنل بنگلہ دیش دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ نصیر الرحمٰن عناب صاحبہ اور وسیم ستار صاحب آف جماعت مدارٹیک کی دو جڑواں بیٹیاں، جن کی عمر ۱۱؍سال ہے، دونوں موروثی گردے کے مرض (Genetic Kidney Disease) میں مبتلا ہیں اور اس وقت دائمی گردے کے مرض (CKD Stage 5) میں ہیں۔ معالجین کے مطابق ان کا Kidney Transplantکروانا ضروری ہے جس کے لیے انہیں مزید علاج اور کارروائی کے سلسلہ میں بھارت لے جانے کی کوشش جاری ہے۔
٭… فرزانہ طاہر صاحبہ تحریر کرتی ہیں کہ خاکسار کے والد محترم طاہر احمد صاحب کچھ عرصہ سے جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ بیماری بہت پھیل گئی ہے اور ڈاکٹرز نے بالکل جواب دے دیا ہے۔ علاج جاری ہے۔
احباب جماعت سے عاجزانہ دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ مریضان کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی اور بابرکت زندگی عطا کرے۔ آمین
سانحہ ہائے ارتحال
٭… نوید الرحمٰن صاحب نمائندہ الفضل انٹرنیشنل بنگلہ دیش یہ اطلاع دیتے ہیں:
۱۔ ابو القاسم ہزاری صاحب ولد مرحوم عبد الجاہر ہزاری، جماعت گھاٹورہ، ضلع برہمن باڑیہ، ۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۴؍سال کی عمر میں حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات پاگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اسی روز نماز عصر کے بعد مرحوم کی نماز جنازہ ہزاری احمد المنعم صاحب مبلغ سلسلہ نے پڑھائی جس کے بعد جماعتی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
پسماندگان میں اہلیہ، چار بیٹے، دو بیٹیاں اور متعدد پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں شامل ہیں۔
مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔ باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے تھے اور کئی سال تک جماعت گھاٹورہ کے سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔
۲۔ سریہ حق صاحبہ ولد مرحوم صدیق حسین صاحب، ۳۱؍مئی ۲۰۲۶ء کو کینسر کے باعث ۷۸؍سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اسی روز نماز عشاء کے بعد میرپور مسجد میں نماز جنازہ اسماعیل ہزاری صاحب مبلغ سلسلہ نے پڑھائی۔ بعد ازاں ان کے آبائی گاؤں، جماعت کٹیادی، ضلع کشور گنج کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
پسماندگان میں خاوند، دو بیٹے، تین بیٹیاں اور متعدد پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں شامل ہیں۔
مرحومہ پیدائشی احمدیہ تھیں۔ ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۹ء تک لجنہ اماء اللہ کٹیادی کی صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ نیک، مخلص اور غریب پرور خاتون تھیں۔ باقاعدگی سے تہجد ادا کرتیں اور قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ اپنے بچوں کو خود قرآن کریم پڑھنا سکھایا اور انہیں چھوٹی چھوٹی دعائیں بھی یاد کروائیں۔ آخری عمر میں شدید علالت کے باوجود نماز کی پابندی کرتی رہیں۔ مرحومہ کی ایک بیٹی، عشرت جہاں صاحبہ، اس وقت لجنہ اماء اللہ میرپور کی صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔
۳۔ محمد ابو الہاشم صاحب ولد محمد جنا میاں مرحوم ۱۴؍جون ۲۰۲۶ء بروز اتوار ۷۵؍سال کی عمر میں برین سٹروک کے باعث وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
اسی روز رات ۹؍بجے میرپور جماعت میں مرحوم کی نماز جنازہ اسماعیل ہزاری صاحب مبلغ سلسلہ نے پڑھائی۔ بعدازاں جماعت نصرت آباد، چار دکھیا گاؤں، ضلع چاندپور میں تدفین عمل میں آئی۔
مرحوم ۱۹۵۰ء کی دہائی میں بیعت کرکے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
مرحوم جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی جماعتی خدمات سے وابستہ رکھا۔
٭… سید گلزار احمد طاہر ہاشمی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کی اہلیہ سیدہ مبارکہ شاہدہ ہاشمی صاحبہ ۲۶؍مئی۲۰۲۶ء کو ۶۹؍سال کی عمر میں بائی پاس آپریشن کے چند دن بعد بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
آپ سید شریف احمد صاحب آف جڑانوالہ ابن سید عنایت علی شاہ صاحب، جنہوں نے ۱۹۱۱ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ہاتھ پر بیعت کرکےاحمدیت میں شمولیت اختیار کی تھی، کی بیٹی نیز سلسلہ کے دیرینہ خادم سید مختار احمد ہاشمی صاحب ابن حضرت قاضی شا ہ دین ہاشمی صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ نمبر دار و جاگیردار و امیر جماعت ماہل پورضلع ہوشیارپور( سنہ بیعت ۱۹۰۳ء)کی بہو تھیں۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ آپ کی نماز جنازہ مورخہ ۲۸؍مئی کو ادا کی گئی جس کے بعد تدفین عمل میں آئی۔
مرحومہ کو خلافت احمدیہ سے بے پناہ محبت اور والہانہ عشق تھا۔ ۲۰۲۵ء کے جلسہ سالانہ یوکے میں شرکت اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی توفیق ملی۔ اس کا ذکر اکثر شکرانے کے طور پر کیا کرتی تھیں۔ آپ کولمبا عرصہ لجنہ اماء اللہ پاکستان کے تحت ہونے والے پروگراموں میں رضاکارانہ سیکیورٹی کی ڈیوٹی کرنے کی توفیق تا وفات ملتی رہی۔ اکثر پروگراموں میں کھانا گھر سے پکا کر لے جاتی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃکی پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، غریبوں کی ہمدرد، خدمت خلق کے جذبے سے سر شار، ہمسایوں کے حقوق کا بےحد خیال کرنے والی، مہمان نواز، سب کا احترام کرنے والی خاتون تھیں۔ مرحومہ نے پسماندگان میں خاکسار کے علاوہ دو بیٹے، عمران آصف ہاشمی صاحب(جرمنی ) اور فرحان کاشف ہاشمی صاحب(جرمنی)جبکہ ایک بیٹی ثمرہ نگہت ہاشمی صاحبہ سوگوار چھوڑی ہیں۔ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے شادی شدہ و صاحب اولاد ہیں۔ آپ کے بھتیجے حافظ سید عبدالہادی صاحب ابن سید تنویر احمد صاحب مبلغ سلسلہ فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ یوکے آج کل اسلام آباد ٹلفورڈ میں خدمات دینیہ بجا لارہے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت مورخہ ۱۱؍جولائی بروز ہفتہ اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
٭…مبارک احمد صاحب آف جماعت مہدی آباد، جرمنی تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کے تایا زاد بھائی مرزا وسیم احمد صاحب ولد مرزا شریف احمد صاحب مرحوم آف جماعت احمدیہ نوشہرہ کینٹ، طویل علالت کے بعد مورخہ ۲۵؍جون ۲۰۲۶ء کو وفات پا گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
مرحوم انتہائی محنتی، سلسلہ کے وفادار اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ایک مخلص احمدی تھے۔ انہیں سلسلہ کے کاموں، خصوصاً وقار عمل اور ضیافت میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم پچھلے کچھ عرصہ سے واہ کینٹ میں مقیم تھے اور تدفین بھی وہیں عمل میں آئی۔مرحوم نے اپنے پیچھے اہلیہ کے علاوہ چار بچے سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
احباب جماعت کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلندکرے، انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے اور ان کی اولاد کو ہمیشہ خلافت احمدیہ کا مطیع و فرمانبردار بنائے رکھے۔ آمین



