یہ درسِ محمدﷺ، ہے دنیا کو دینا
یہ جنگ و جدل یہ تباہی کی باتیں
یہ آتش یہ خنجر لڑائی کی باتیں
ہے کیوں قتل و غارت یہ تخریب کیسی
یہ اُجڑی ہوئی سی ہے تہذیب کیسی
ہیں بچوں کی چیخیں جوانوں کی آہیں
بھیانک یہ منظر بھی مانگیں پناہیں
ہُوا کیا کہ انساں ہے انساں کا دشمن
زمیں کیوں بنا دی ہے لاشوں کا مدفن
سنو پھر تماشہ یہ کیوں ہو رہا ہے
زمانہ بھی خاموش کیوں سو رہا ہے
بھلا دی ہے سب نے وہ تعلیمِ قرآں
کہ تھا درگزر عدل و انصاف و احساں
وہ امن و اماں کے پیمبر کا اسوہﷺ
وہ ہادی وہ کامل وہ رہبر کا اسوہﷺ
جہاں سیف سے پہلے اخلاق بولے
وہاں رحمتوں کے دریچے تھے کھولے
بُجھا دی گئی تھی جو نفرت کی آتش
ہوئی پھر محبت کی شفقت کی بارش
کہا جنگ میں حد سے آگے نہ بڑھنا
نہ بچوں پہ حملہ نہ عورت پہ کرنا
ملے کامرانی تو عاجز ہی بننا
حلیمی کا دامن بھی تھامے ہی رکھنا
امانت تھا مالِ غنیمت کو جانا
تو قیدی کی عزت کو اول تھا مانا
نہ دنیا کی دولت، نہ تھی خواہشِ زر
قناعت کی دولت سے روشن تھا ہر گھر
زمانے کو پھر ہے اسی کی ضرورت
مٹانی جہاں سے ہے ساری کدورت
چلانا ہے دنیا کو پھر راہِ حق پر
اخوت کا پرچم لگانا ہے گھر گھر
نہ بدلے کی چاہت نہ نفرت کا جذبہ
رہے صبر و تقویٰ ہی ہر اک کا رستہ
جہاں میں محبت کو رائج ہے کرنا
یہ درسِ محمدﷺ، ہے دنیا کو دینا
رضائے الٰہی جو پیشِ نظر ہو
تو قائم زمانے میں امن و ظفر ہو
(منصورہ فضل منؔ۔ قادیان)
مزید پڑھیں: نظامِ آسمانی




