یورپ (رپورٹس)

سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ ۲۰۲۶ء

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصاراللہ برطانیہ کو مورخہ ۱۸ تا ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء اپنا سالانہ اجتماع ’’درود و استغفار‘‘ کے مرکزی موضوع پر شہر گلفورڈ کے مضافاتی علاقے پٹنہم (Puttenham) میں منعقد کرنے کی توفیق پائی۔

پہلا روز: اجتماع کے پہلے روز کا آغاز جمعۃ المبارک کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے نمازِ تہجد، نمازِ فجر اور درس القرآن سے ہوا۔ اس روح پرور آغاز کے بعد اجتماع گاہ میں موجود تمام انصار کی خدمت میں پُرتکلف ناشتہ پیش کیا گیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی اور طعام کے بعد شام چار بجے افتتاحی اجلاس کے آغاز سے قبل امیر جماعت احمدیہ برطانیہ، محترم رفیق احمد حیات صاحب نے لوائے انصاراللہ لہرایا اور دعا کروائی۔ بعد ازاں ان کی زیرِ صدارت افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم کے بعد صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ مکرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب کے ساتھ تمام انصار نے عہد دہرایا۔

نظم کے بعد صدرِ اجلاس نے اجتماع کے مرکزی موضوع کے حوالے سے افتتاحی تقریر کی اور انصاراللہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ دعا کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

پینل ڈسکشنز: اجتماع کے پہلے روز دو پینل ڈسکشنز کا بھی انعقاد ہوا۔ پہلی نشست ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشقِ رسول ﷺ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی جس کی میزبانی مکرم راجہ برہان احمد صاحب مربی سلسلہ نے کی۔ نشست میں مکرم منصور احمد ضیاء صاحب اور مکرم حافظ سید مشہود احمد صاحب مربیانِ کرام نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ دوسری نشست ریویو آف ریلیجنز کی ٹیم کے زیرِ اہتمام ’’میری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ اس نشست میں ماہرین نے دعا کی حقیقت، قبولیتِ دعا اور اس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔

شام چھ بجے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ اسی دوران شعبہ ایثار کے تحت ہیلتھ ایڈوائزری سروس کا بھی انتظام کیا گیا تھا جہاں انصار کے بلڈ پریشر کی جانچ اور ڈاکٹرز کی جانب سے مختلف صحت کے مسائل کے حوالے سے راہنمائی فراہم کی گئی۔

شام سات بجے کھانا پیش کیا گیا جس کے بعد رات آٹھ بجے نمازِ مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں۔ نمازوں کے بعد اردو مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں منتخب شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔

دوسرا روز: اجتماع کے دوسرے روز کا آغاز بھی نماز تہجد، نماز فجر اور درس القرآن سے ہوا۔ بعد ازاں شاملین اجتماع کی خدمت میں ناشتہ پیش کیا گیا۔

دوسرے روز مختلف علمی و ورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے۔ ان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے انصار اور کامیاب ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنز: اجتماع کے دوسرے روز چار پینل ڈسکشنز منعقد ہوئیں جن میں تربیت، تاریخ، سائنسی موضوعات اور ذاتی تجربات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔

پہلی نشست ’’اگلی نسل کی پرورش: ہمارے بچوں کو ہم سے کیا چاہیے؟‘‘ کے عنوان سے ہوئی۔ مکرم ڈاکٹر عزیز حفیظ صاحب نے نشست کی میزبانی کی جبکہ پینل میں مکرم محمد احمد خورشید صاحب مربی سلسلہ اور مکرم نثار آرچرڈ صاحب سیکرٹری تربیت یوکے شامل تھے۔

دوسری نشست ’’دو ہجرتیں اور اُن کی برکات‘‘ کے موضوع پر ہوئی جس کی میزبانی مکرم رضا احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے کی۔ پینل میں مکرم حافظ محمد ظفراللہ عاجز صاحب مدیراعلیٰ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل، مکرم منیر دین صاحب، مکرم راحیل احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم باری ملک صاحب اور مکرم قدوس ملک صاحب شامل تھے۔ گفتگو میں خلافت کی پہلی ہجرت قادیان سے پاکستان اور دوسری ہجرت پاکستان سے برطانیہ کے تناظر میں پیش آنے والی مشکلات، تجربات اور حاصل ہونے والی برکات کا جائزہ لیا گیا۔

تیسری نشست ’’جب سورج اور چاند ایک قطار میں ہوئے: کائنات کے معجزات‘‘ کے عنوان سے ہوئی۔ مکرم حمزہ الیاس صاحب نے نشست کی میزبانی کی جبکہ مکرم نوید ملک صاحب، مکرم ڈاکٹر انس رانا صاحب اور مکرم منصور احمد کلارک صاحب مبلغ سلسلہ پینل کا حصہ تھے۔

چوتھی نشست ’’آزمائش سے نکھرتا وجود: صحت، ایمان اور ثابت قدمی کا ایک ذاتی سفر‘‘ کے عنوان سے ہوئی۔ مکرم رفیق بھٹی صاحب نے بطور میزبان فرائض انجام دیے جبکہ مکرم حافظ اعجاز صاحب نائب صدر صف دوم مجلس انصاراللہ و چیئرمین سائیکلنگ کلب، مکرم ابوہریرہ صاحب (گنیز بک ریکارڈ ہولڈر) اور مکرم ڈاکٹر حمزہ صدیق صاحب نے پینل ممبران کے طور پر حصہ لیا۔ نشست میں صحت کے لیے سائیکلنگ کی افادیت اور اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

حضور انور کا اجتماع لجنہ اماء اللہ سے خطاب: مجلس انصاراللہ کے اجتماع کے ساتھ لجنہ اماء اللہ کا سالانہ اجتماع بھی جاری رہا۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لجنہ اماء اللہ سے بصیرت افروز خطاب فرمایا جسے ایم ٹی اے کے ذریعے اجتماع گاہ سے دنیا بھر میں براہ راست نشر کیا گیا۔ (ملاحظہ ہو صفحہ اوّل)

بعد ازاں صدر صاحب مجلس انصاراللہ یوکے نے اجتماع کے مرکزی موضوع کے حوالے سے تقریر کی اور انصار کو ان کی دینی و تربیتی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔

شام ۷؍بجے شاملین کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں رات ۸؍بجے نماز مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں۔

نمازوں کے بعد ’’اپنے بزرگوں کی یاد: احمدیت تک ہمارا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک نشست ہوئی جس میں جماعت احمدیہ کی روحانی ترقی کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے بعض انصار نے اپنے بزرگوں کی زندگیوں سے چند ایمان افروز واقعات بیان کیے۔

تیسرا روز: اجتماع کے آخری دن کی صبح بھی عبادت اور ذکرِ الٰہی کی روح پرور کیفیات سے آغاز ہوا۔ نمازِ تہجد اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد درس القرآن کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد حاضرینِ اجتماع کے لیے ناشتے کا انتظام تھا۔

پینل ڈسکشنز:اجتماع کے آخری روز بھی دو پینل ڈسکشنز کا اہتمام کیا گیا، جن میں انسانی خدمت اور امن و معاشرت کے حوالے سے اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ پہلی نشست ’’انصاراللہ کی انسانی خدمات‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ مکرم لطف الرحمٰن صاحب نائب صدر انصاراللہ نے اس نشست کی میزبانی کی، جبکہ پینل میں محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ یوکے اور ڈاکٹر چودھری اعجاز الرحمان صاحب شامل تھے۔ گفتگو کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں مجلس انصاراللہ یوکے کی طرف سے جاری انسانی خدمت کے منصوبہ جات اور ان کے ذریعے ضرورت مند انسانوں تک پہنچنے والی امداد اور خدمات کے بارے میں تفصیلی معلومات پیش کی گئیں۔

دوسری نشست ’’امن کی راہ: ایک پُرسکون اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام سے متعلق اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر ہوئی۔ مکرم خلیل یوسف صاحب نے نشست کی میزبانی کی، جبکہ مکرم قدوس ملک صاحب، مکرم طاہر مہدی امتیاز صاحب مینیجر روزنامہ الفضل انٹرنیشنل اور مکرم عابد وحید خان صاحب پینل میں شامل تھے۔

اجتماع کے تیسرے روز بھی مختلف کھیلوں کے مقابلہ جات کا اہتمام کیا گیا۔ اسی طرح اجتماع کے آخری روز انصار اور خدام کی ٹیموں کے مابین رسہ کشی کا ایک نمائشی مقابلہ بھی منعقد ہوا۔ مقابلے کے دوران دونوں ٹیموں نے غیر معمولی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا۔ سنسنی خیز مقابلے کے بعد خدام کی ٹیم نے بیسٹ آف تھری میں دو کے مقابلے میں ایک سے کامیابی حاصل کی۔

تیسرا اجلاس: اجتماع کے تیسرے اجلاس کی صدارت مکرم عبد الماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر یوکے نے کی۔ تلاوتِ قرآن کریم اور نظم کے بعد ۲۰۲۳ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی جانب سے لیا جانے والا عہد دہرایا گیا۔ مکرم نصیراحمد قمر صاحب ایڈیشنل وکیل الاشاعت طباعت نے اجتماع کے مرکزی موضوع پر تقریر کی۔

بعد ازاں مختلف تعلیمی و ورزشی مقابلہ جات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے انصار اور ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ یوکے اور مکرم ایڈیشنل وکیل التشبیر صاحب نے اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات پیش کیے۔ اس سال طاہر ریجن کو بہترین ریجن قرار دیا گیا جبکہ مجلس بیت الفتوح ساؤتھ نے علمِ انعامی حاصل کیا۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری: دوپہر کے کھانے کے بعد اجتماع کے شرکاء نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اقتدا میں نمازِ ظہر و عصر باجماعت ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انصاراللہ سے بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے ذریعے اجتماع گاہ سے دنیا بھر میں براہِ راست نشر کیا گیا۔ (حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا خلاصہ اس شمارے کے صفحہ نمبر ایک پر ملاحظہ فرمائیں۔)

اجتماع کے اختتامی لمحات میں حاضرین کے دلوں میں شکرگزاری اور روحانی کیفیات نمایاں تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجتماعی دعا کے ساتھ یہ بابرکت اجتماع اختتام پذیر ہوا۔

امسال پہلی مرتبہ شعبہ ایثار کی مارکی میں انصار کی تفریح کے لیے کیرم بورڈ، شطرنج اور لڈو کھیلنے کا انتظام کیا گیا۔ دن بھر کی مصروفیات کے دوران جسمانی تھکن دور کرنے کے لیے پاؤں کے مساجرز رکھے گئے ہیں جبکہ مختصر آرام کے لیے ایک خصوصی ریسٹ روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پانچ بستر اور کرسیاں موجود ہیں۔انصار کی صحت کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک جی پی ڈاکٹر، دانتوں کے معائنے کے لیے ڈینٹسٹ جبکہ آنکھوں اور کانوں کے معائنے کے لیے متعلقہ ماہرین موجود تھے جنہوں نے معائنے کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے مفید مشورے بھی فراہم کیے۔

(رپورٹ: لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ آسٹریا کا ۲۱واں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button