ایک تاریخی دن
(ڈاکٹر داؤد طاہر۔ فائنانس سیکرٹری احمدیہ مسلم میڈیکل ایسوسی ایشن یوکے)
سالگرہ اور شادی کے دن کے علاوہ بھی زندگی کے چند دن ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو اپنی یاد دلاتے رہتے ہیں۔ لیکن پھر کچھ دن تو ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ کسی نہ کسی وجہ سے بھول ہی نہیں سکتے۔ ۱۲ دسمبر ۲۰۱۵ء بھی ان دنوں میں سے ایک ہے۔
یہ لندن میں ایک برفانی سرد اور خشک دن تھا۔ ایک ریٹائرڈ شخص ہونے کے باوجود جو ایسے دنوں میں سست، صوفے، پر بیٹھ کر ٹی وی یا کمپیوٹر پر کام کرتا تھا، میں یہاں سوٹ پہنے اپنے کچھ ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ سرائے انصار میں صبح کے ۱۰؍بجے فعال اور پُرجوش محسوس کر رہا تھا۔ میز پر ناشتہ پڑا تھا لیکن اس کے کھانے سے زیادہ ہم سب آنے والے بابرکت لمحے کا شدت سے انتظار کررہے تھے۔ ہم احمدیہ مسلم میڈیکل ایسوسی ایشن یوکے کی مجلسِ عاملہ کے اراکین، اپنے پیارے حضور کے ساتھ ملاقات کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ کچھ فکرمند بھی تھے کہ نہ جانے کس سے کیا پوچھ لیا جائے گا۔ سب صدر صاحب سے پوچھ رہے تھے کہ ہم سے کوئی سوال تو نہیں پوچھا جائے گا؟ حضور سے یہ ہماری پہلی اجتماعی ملاقات تھی۔ ہم سب کے جذبات ملے جلے تھے کیونکہ یہ کوئی معمول کی مختصر خاندانی ملاقات نہیں تھی جہاں آپ کے پاس اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے چند منٹ ہوتے ہیں۔

یہ بلاشبہ ایک خاص لمحہ تھا۔احمدیہ مسلم میڈیکل ایسوسی ایشن یوکے نے آئیوری کوسٹ، افریقہ میں ایک جدید ترین فلیگ شپ ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اگرچہ ہماری جماعت سو سال سے برطانیہ میں قائم ہے، مگر ہماری ایسوسی ایشن ابھی نوزائیدہ بچے کی طرح تھی۔ یوکے جلسہ سالانہ میں ابتدائی طبی امداد کی خدمات انجام دینے کے سوا، اور سو سے کم حاضری کے ساتھ نور ہال یا نصرت ہال میں سالانہ تقریب کے انعقاد کے علاوہ، ہماری کوئی قابلِ ذکر کارگزاری نہ تھی۔مگر آج ہم تین لاکھ پچاس ہزار پونڈ کی تخمینی لاگت سے ایک فلیگ شپ ہسپتال بنانے کا عزم لیے حاضر ہو رہے تھے۔ یہ ابھی بڑے کام کی پہلی سیڑھی تھی۔ ہم یہاں اپنے آقا خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں آپ کی راہنمائی، منظوری اور دعائیں حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔
یہ ملاقات چالیس منٹ طویل رہی۔ ایسوسی ایشن کے صدر سید مظفر احمد صاحب حضورانور کے پاس فرش پر بیٹھے منصوبے کے مختلف نقشوں کے ساتھ اس کی تعمیر کے مختلف مراحل اور دیگر تفصیلات بیان کر رہے تھے۔ ہم سب زمین پر سامنے بیٹھے اپنے پیارے حضور کی گفتگو سن رہے تھے۔صدر صاحب منصوبے کے تمام امور تفصیل سے بیان کر رہے تھے اور حضورانور ہر قدم پر اپنی رائے اور راہنمائی عطا فرمارہے تھے، جسے ہم سب انتہائی توجہ سے سن رہے تھے۔ اس میٹنگ سے پہلے، ہماری ناقص رائے میں ہم نے یہ منصوبہ اچھی طرح پلان کیا تھا، لیکن اس لمحے ہمیں احساس ہوا کہ ہماری ساری سوچ کتنی محدود تھی۔ہم نے سوچا کہ یہ منصوبہ تین لاکھ پچاس ہزار پونڈ کا ہوگا، لیکن جب اسے پیش کیا گیا اور ساری تفصیلات بتائی گئیں تو حضور انور نے فرمایا کہ اس کی لاگت پانچ لاکھ پونڈ سے کم نہیں ہوگی۔ یہ کتنا سچ تھا، آنے والے وقت نے اسے درست ثابت کیا۔

اس پوری ملاقات کے دوران ہم سب کی حالت ایسی تھی کہ ہم شاید اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے کے دل کی دھڑکن سن سکتے تھے۔ حضورِ انور کے ارشادات پر ہمیں یہ احساس ہو رہا تھا کہ ہمارا منصوبہ ہر لحاظ سےجس میں منصوبہ بندی، ڈیزائن، بجٹ اور ٹائم شیڈول سب شامل تھے،بہت نامکمل ہے۔ اس بات سے ہم سب پریشان بھی ہو رہے تھے، مگر بہتری کی امید اور دعا کے ساتھ پُرامید بھی تھے۔
چالیس منٹ کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد، ہم سب کے انتہائی اطمینان کے لیے، حضورِ انور نے ہمارے اس پہلے میگا پراجیکٹ کی منظوری دے دی۔ الحمدللہ
صرف چالیس منٹ پہلے ہم سب قدرے پریشان اور بے چین تھے، لیکن اس ملاقات کے بعد، جو ایک تاریخی گروپ فوٹو کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، ہم آپ کے دفتر سے ایک جدید ترین فلیگ شپ آئیوری کوسٹ ہسپتال کے پراجیکٹ کی منظوری کے ساتھ نکلے۔
یقیناً احمدیہ مسلم میڈیکل ایسوسی ایشن یوکے کی تاریخ میں ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۵ء ایک تاریخی دن رہے گا۔
٭…٭…٭




