اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
معمول سے ہٹ کر نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی گذشتہ چند سالوں میں عید الاضحی پر پابندی کا ایک شاخشانہ ہے۔ جہاں پر احمدیوں سے قربانی کا گوشت ضبط کیا گیا، ان پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور مساجد کو منہدم کیا گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اصل مقصد مذہبی رسومات کی ادائیگی پر روک لگانا ہے۔ ۲۰۲۵ء کے رمضان میں تو اس بات کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پورے ماہ میں پولیس نے کم سے کم چوبیس مقامات پر مداخلت کرکے نماز جمعہ کی ادائیگی کو روک دیا۔ کچھ جگہوں پر نمازیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اور کچھ جگہوں پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ دریں اثناء احمدی نمازیوں کو حراساں کیا جاتا رہا،مساجد کو بند کرنے کا تقاضا کیا جاتا رہا اور ان پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا جاتا رہا۔ چک ۷۱ جنوبی ضلع سرگودھا میں۲۸؍فروری کے دن مخالفین نے احمدیہ مسجد کو سیل کرنے کے لیے احتجاج کیا۔ بعد ازاں پولیس نے توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت ۲۳؍احمدی احباب پر مقدمہ درج کر لیا۔ گو کہ اس دن کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہ آئی لیکن گاؤں کی تمام احمدی آبادی اس مقدمے میں نامزد ہو گئی۔ اس کے باعث بہت سے احمدی احباب کو گاؤں چھوڑنا پڑا اور باقی ماندہ احباب پولیس کی زیر نگرانی یا خفیہ طور پر نماز ادا کررہے ہیں۔
اسی روز ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پولیس نے دو بچوں سمیت ۲۳؍احمدیوں کو حراست میں لے لیا اور ان کا جرم یہ تھا کہ وہ پہلے سے منہدم ایک مسجد کے ایک مرمت شدہ کمرے میں نماز ادا کررہے تھے۔ مخالفین نے احمدیت مخالف نعرے بازی کی اور احمدیوں پر حملہ کرکے ان کو زخمی کر دیا اور پولیس نے ان مجرموں کو گرفتار کرنے کی بجائے مظلوم احمدیوں کو ہی حراست میں لے لیا۔پولیس نے ۲۲؍افراد کا ریمانڈ لیاجنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس فتہ و فسا د کی شدت میں اضافہ ۷؍مارچ کو دیکھنے میں آیا جب ملک بھر سے نماز جمعہ کی ادائیگی پر منظّم پابندی کی رپورٹیں موصول ہوئیں۔ سرجانی ٹاؤن کراچی میں ۲۰۰ کے قریب مظاہرین، احمدیہ مسجد کے باہر جمع ہو گئے اور مسجد کو سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے عورتوں اور بچوں سمیت ۴۰؍احمدی احباب پر توہین مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے حراست میں لے لیا۔ جن میں سے ۶؍افراد زیرحراست ہی رہے اور مسجد کو بھی سیل کر دیا۔ فاروق آباد، جوہرآباد اورگوجرانوالہ میں پولیس نے احمدیوں کے مسجد آنے پر پابندی عائد کر دی، یا کڑی نگرانی کی اور کچھ جگہ احمدیوں کو نماز ادا نہ کرنے یا کسی اور جگہ پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
۱۴؍مارچ کو پھر سے تحریک لبیک کے شدّت پسندوں نے مختلف اضلاع میں احمدیہ مساجد پر حملہ کیا۔ لیّہ میں ۳؍مقامات پر پولیس نے احمدیہ مساجد کو نمازوں کے اوقات میں بند رکھنے کا حکم صادر کر دیا۔ سیالکوٹ کے گاؤں ٹھروہ میں مخالفین کی نعرہ بازی کے باعث پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ۲۵؍احمدیوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ پولیس کی جانب سے نماز سے روکنے، کڑی نگرانی کرنے یا نماز کی جگہ کی تبدیلی کے احکامات کی رپورٹس فیصل آباد،گوجرانوالہ،راولپنڈی اور کراچی سے موصول ہوئیں۔ فتنہ و فساد کا یہ سلسلہ ۲۲؍مارچ کو بھی جاری وساری رہا۔رائے ونڈ لاہور میں پولیس نے ۴؍احمدی احباب کو توہین مذہب کی دفعات کے تحت گرفتار کر لیا جبکہ اس مقدمے میں ۳۵؍احمدیوں کو نامزد کیا گیا اور مسجد کو بھی سیل کر دیا گیا۔ فیصل آباد میں مسجد جاتے ہوئے احمدیوں پر ہلّہ بولا گیا۔ گجرات اور کوٹلی آزاد کشمیر کے اضلاع میں پولیس نے یا تو احمدیہ مساجد تک رسائی ناممکن بنا دی یا پھر نماز کی جگہ تبدیل کرنے کا کہا۔ ا ن تمام واقعات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نمازیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے مولویوں کو خوش کرنے میں مصروف دکھائی دیے۔
احمدیوں کو ان کی عبادت کے حق سے محروم کرنے کا یہ عمل رمضان کے اختتام پرعید الفطر کے موقع پر سنگین صورتحال اختیار کر گیا۔ پنجاب اور سندھ میں انتظامیہ نے احمدیہ مساجد تک رسائی کو ناممکن بنا دیا،عید الفطر کی ادائیگی کو منسوخ کر دیا اور نمازیوں کو ذاتی طور پر اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے پر مجبور کر دیا۔ لاہور میں صرف ۸ مقامات پر نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی جبکہ تمام بڑے مراکز میں نماز عید پر پابندی عائد کر دی گئی جن میں دارالذکر اور ماڈل ٹاؤن کی مساجد شامل ہیں۔ سیالکوٹ مالیانوالہ اور عزیز آباد کراچی میں شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر مساجد کو سیل کر دیا گیا، مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ نارتھ کراچی میں ۳۴؍احمدی احباب کو حراست میں لے لیا گیا اور ملک بھر میں عید کے روز ۱۰ مساجد کو سیل کر دیا گیا۔
جمعہ کی نماز پر پابندی صرف رمضان میں ہی نہیں لگائی گئی بلکہ رمضان کے بعد بھی ناجائز پابندیوں، پولیس کی مداخلت اور شدت پسندوں کے دباؤ کے زیر اثراحمدیوں کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی کو یکسر ناممکن بنا دیا گیا۔۱۱؍اپریل کو کراچی، لاہور، سرگودھا،اور سیالکوٹ میں پولیس نے احمدیوں کو نہ صرف نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا، بلکہ مساجد کو بھی سیل کیا۔ کئی جگہ پر نماز کے اوقات کو تبدیل کیا اور کئی جگہ زبردستی گھروں میں نماز کی ادائیگی کے لیے مجبور کیا۔ اور بعض جگہ تو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر ہی انتظامیہ نے یہ کارروائیاں سر انجام دیں۔
۱۸؍اپریل کو کراچی کے پریڈی ایرا میں احمدیہ ہال کے باہر ایک ہجوم جمع ہو گیا اور احمدیت مخالف نعرے بازی شروع کر دی۔ دریں اثناء پولیس مکمل طور پر اغماض نظر کا مظاہرہ کرتی رہی۔ اس شورش کے دوران ایک احمدی نوجوان لیاقت احمد چیمہ صاحب کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ جان کی باز ی ہار گئے۔ ان کی شہادت نے ریاست کے اس تجاہل عارفانہ کا پردہ چاک کردیاجو وہ مذہبی غنڈوں کے رویے سے پردہ پوشی برت رہی ہے۔
مئی سے جولائی کے درمیان روپذیر ہونے والے واقعات نے ایک بات تو ثابت کر دی کہ رمضان کے بعد بھی اب نماز جمعہ کی ادائیگی کو احمدیوں کےلیے ناقابل برداشت حد تک کٹھن بنا دیا گیا ہے۔ جولائی میں تحریک لبیک کے کارکنان نے لاہور میں ایک احمدیہ مسجد پر دھاوا بول دیا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس مسجد کو خالی کروایا جائے اور اسے سیل کیا جائے۔ گوجرانوالہ میں تو پولیس نے ایک ذاتی رہائش گاہ پر نماز ادا کرتے ہوئے احمدیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا۔ان واقعات نے اس بات کی بھی شہادت دی کہ رمضان میں احمدیوں کی مخالفت کا طوفان تھما نہیں بلکہ یہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔
۲۰۲۵ء کے رمضان میں پاکستان کے اندر احمدیوں کے حقوق کی زبوں حالی میں فیصلہ کن اضافہ ہوا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی جو کہ احمدیوں کی اجتماعی مذہبی زندگی میں روزمرہ کامعمول تھا اب مستقل ہراسانی،ظلم وستم، نگرانی اور تشدد کا رنگ اختیار کر گیا۔
گذشتہ کچھ عرصے سے عید الاضحی پاکستان میں احمدیوں پرظلم وستم کا خاص موقع بن چکا ہے۔ ایک ایسا تہوار جس میں نماز ادا کی جاتی ہے اور جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے اب ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کی جانب سے احمدیوں کی مذہبی زندگی کے تحفظ کی جگہ ان کی کڑی نگرانی کا تہوار بن چکا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر نہ صرف اس طریقۂ واردات کو دہرایا گیا بلکہ یہ ہولناک حقیقت بھی منصہ شہود پر آئی کہ اب احمدیوں کا اپنی مذہبی سرگرمیوں کو انجام دینا ایک قانونی جرم ہے اور ریاست اس پر اپنی مرضی سے نظم و ضبط مسلط کر سکتی ہے۔ عید سے کچھ روز قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک گیر مہم کی کال دی گئی جس میں عیدکے ایام میں احمدیت مخالف پابندیوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔ بار کے عہدیداروں نے ایک باضابطہ خط کے ا ندر صوبائی اور ریاستی اداروں سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ احمدیوں کو عید کے موقع پر نماز کی ادائیگی،خطبے، قربانی یا کسی بھی ایسی سرگرمی سے روکیں جو کہ براہ راست اسلام کے ساتھ منسوب ہے۔ اس خط کے اندر ایسی آئینی اور قانونی شقوں کاذکر اور تشریح پیش کی گئی جن کا مقصدعدم تعمیل کی صورت میں احمدیوں کو سزائیں دینا تھا۔ عدلیہ کے ایک معروف ادارے کی جانب سے ایسی مداخلت نے مذہبی شدت پسندوں کے مطالبات کو ایک قانونی جواز فراہم کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کی بار کی جانب سے جاری اس مراسلے کی نقل کرتے ہوئے ہر ضلع کی بار اور تحریک لبیک سے منسوب جماعتوں نے بھی ایسے ہی مراسلے جاری کر دیے۔ ان میں واضح دھمکی دی گئی کہ اگر احمدیوں کوعید الاضحی منانے کی اجازت دی گئی تو وہ شورش برپا کریں گے۔ تقریباً تمام موقعوں پر ہی ہر طرح کی بد امنی کا الزام احمدیوں پر دھر دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے خط کا متن یوں ہے:
بخدمت جناب انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب، لاہور
درخواست برائے صادر فرمائے جانے حکم جانب پولیس و انتظامیہ صوبہ پنجاب بابت روکوائے جانے قادیانی/ لاہوری/گروہ غیر قانونی اجتماعات مماثل مسلم نماز عید و مسنون خطبہ قربانی وغیرہ دیگر شعائر اسلام بر موقع عید الاضحی۱۰,۱۱,۱۲ ذوالحجہ زیر دفعات ۲۹۸B-C ت ب برائے عمل درآمد کروائے جانے نوٹیفکیشن No.SO(IS-III)۶-۳۵/۲۰۲۳ء مورخہ ۲۳؍جون ۲۰۲۳ء
جناب عالی!
گزارش ہے کہ عید الاضحی ۱۰، ۱۱، ۱۲ ذوالحجہ کے موقع پر نماز عید و مسنون خطبہ قربانی وغیرہ سنت حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ مسلمانوں کا اہم مذہبی تہوار اور شعائر اسلامی ہے۔ اور یہ فریضہ ادا کرنا مسلمانوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اور دیگر مذاہب و گروہ بالخصوص قادیانی / لاہوری کو مسلمانوں کے شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت قطعاً نہ ہے۔
لیکن قادیانی / لاہوری گروہ غیر مسلم اقلیت(کافر) ہونے کے باوجودبحثیت مجموعی غیر قانونی طور پر خود کو مسلمان او راپنے کفریہ عقیدے کو بطور اسلام اعلانیہ ظاہر کرتے ہوئے عیدالاضحی۱۰,۱۱,۱۲ ذوالحجہ کے موقع پرغیر قانونی اجتماع مماثل مسلم نماز عید و مسنون خطبہ قربانی وغیرہ دیگر شعائر اسلامی کے انعقاد و اہتمام کا برملا اعلان کر رہے ہیں جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۶۰(۳) کے تحت اور پاکستان کے تعزیرات کی دفعات ۲۹۸B، ۲۹۸C اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے عدالتی نظائر بالخصوص ظہیر الدین بنام سرکار اور سرکار بنام مبارک احمد ثانی ریویو پٹیشن فیصلہ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کی صریحاً خلاف ورزی اور قانون شکنی ہے۔ اور یہ جرائم قابل دست انداز پولیس اور ناقابل ضمانت ہیں۔ قادیانی / لاہوری غیر مسلم گروہ کے ان غیر قانونی اقدامات اور شر انگیزی سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سخت مجروح ہو رہےہیں۔ جس سے نقص امن اور فساد فی الارض کا قوی خطرہ ہے۔
اس بابت تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۸B-C ت ب کے تحت ایک نوٹیفکیشن No.SO(IS-III)۶-۳۵/۲۰۲۳ء مورخہ ۲۳ جون ۲۰۲۳ء ہوم سیکرٹری پنجاب کے دفتر سے بھی جاری ہوا جس میں اس پابندی پر عمل درآمد کا حکم صادر فرمایا گیااور قرار دیا گیا کہ یہ امورصرف مسلمان ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔
اندریں حالات استدعا ہے کہ صوبائی انتظامیہ بالخصوص RPOs، CPOs، CCPOs، DCs، DPOs، SHOs صاحبان کو حکم صادر فرمایا جائے کہ قادیانی/ لاہوری/گروہ کو عیدالاضحی ۱۰,۱۱,۱۲ ذوالحجہ کے موقع پرغیر قانونی اجتماع مماثل مسلم نماز عید و مسنون خطبہ قربانی وغیرہ دیگر شعائر اسلامی کےاستعمال سے باز رکھتے ہوئے انہیں آئین و قانون شکنی سے روکیں اور خلاف ورزی کی صورت میں ملوث قادیانی ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ملک آصف احمد نسوانہ۔صدرلاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن
فرخ الیاس چیمہ۔سیکرٹری لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محب وطن پاکستانی احمدیوں کو عبادات سے روکنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے



