متفرق مضامین

حکیم محمود احمد مَنَّا صاحب مرحوم

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

جماعت احمدیہ ضلع جھنگ کی مشہور شخصیت

الفضل انٹرنیشنل کے ۳۰؍اگست ۲۰۲۵ء کے شمارے میں دورانِ سال وفات پانے والوں میں حکیم محمود احمد مَنّا صاحب آف جھنگ کا نام بھی درج تھا۔خاکسار نے ۲۰۱۱ء میں جامعہ پاس کیا تو ککّی نو ضلع جھنگ میں تقرری ہوئی۔ ارشاد ہوا کہ رمضان شروع ہونے سے قبل جماعتوں میں پہنچیں۔ چنانچہ یکم اگست ۲۰۱۱ء کو رمضان سے ایک روز قبل مکرم لقمان فرید احمد صاحب مربی ضلع جھنگ(حال آئیوری کوسٹ) کے پاس حاضر ہوگئے۔ اگلے روز یکم رمضان کو شورکوٹ روانہ ہوئے جہاں ایک کلاس فیلو کو ڈراپ کرنا تھا، جن کی تقرری شورکوٹ میں ہوئی تھی۔ حکیم محمود احمد منّا صاحب اس وقت صدر جماعت احمدیہ شورکوٹ شہر تھے۔ ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ ان کے گھرہی کھانے کا انتظام تھا۔ اگست کی تپتی گرمی میں ٹھنڈےپانی اور کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ہمارا روزہ نہ تھا کیونکہ مسافر تھے اس لیے کھانا کھانے میں جھجک سی تھی۔ حکیم صاحب نے ازراہِ شفقت کہا کہ کھانا ختم کرنا ہے۔ آپ کے لیے بنوایا ہے۔ اس مختصر ملاقات کے بعد مَیں اور مربی صاحب ضلع ککّی نو روانہ ہو گئے۔

عید کے بعد ربوہ میں تخصّص کے لیے انٹرویو ہوا اور ساتھ ہی نظارت اصلاح و ارشاد مقامی نے شورکوٹ ٹرانسفر کا خط پکڑا دیا۔ چنانچہ ککّی نوسے سامان اٹھایا اور ایک خادم کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر شورکوٹ آگیا۔ شورکوٹ کی مسجد اور مشن ہاؤس جھنگ روڈ کے شورکوٹ بائی پاس روڈپر ہےاور حکیم صاحب کا گھر مغربی جانب مٹی کے ٹیلے پر واقع ہے۔ آ پ کے گھر کے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر حضرت سلطان باہو کے والد ابو زید محمد صاحب اور والدہ بی بی راستی صاحبہ کے مزارات بھی ہیں۔ اسی بنا پر اسے مائی باپ کاشہر بھی کہا جاتا ہے۔ لوگ ان مزارات پر جھنگ روڈ سے پیدل، ننگے پاؤں بھی جاتے ہیں اور دسمبر کی یخ بستہ سردی بھی برداشت کرلیتے ہیں۔کسی زمانے میں یہاں کافی تعداد میں احمدی آباد تھے جو مرورِ زمانہ کے ساتھ ہجرت کرگئے اور اُس وقت شورکوٹ شہر میں صرف سات گھرانے اور ایک دو خدام انفرادی طور پر رہ رہے تھے۔

حکیم صاحب سے بطور صدر جماعت پہلی ملاقات میں تقسیم کار یوں طے ہوا کہ حکیم صاحب نے کہا کہ نمازِمغرب و عشاء ان کے مطب میں ادا کریں۔ کلاس لیں اور ساتھ رات کا کھانا کھا کر جایا کریں۔ عرض کی کہ میں بنا لیا کروں گا۔ کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہے کہ کیا ہدایت ہے آپ کو لیکن پھر بھی آپ ہمارے مہمان ہیں ۔ کیونکہ آپ نے تو تخصّص کے لیے چلے جانا ہے۔ دفتری ہدایت کے مطابق کھانے سےمنع کرنے کی از حد کوشش کی۔ لیکن حکیم صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ الامر فوق الادب۔ تو بطور صدر یہ حکم سمجھ لیں۔ پھر یوں ہوا کہ متبادل کے طور پرخاکسار پھل لے جاتا۔ لیکن کچھ عرصے بعد حکیم صاحب نے پھل لانے پر بھی سختی سے پابندی لگا دی۔ مجھے اس وقت تک اس خاندان کے بارے میں اور ان کی مہمان نوازی کی تاریخ کے بارے میں قطعاً علم نہ تھا۔

شروع میں ہی آپ نے ایک خادم کو میرے سپرد کر دیا کہ اس کی تربیت کرنی ہےاور جماعت سے جوڑناہے۔ اس کے والد فوت ہوگئے تھے اور والدہ ربوہ شفٹ کر گئیں۔ مَیں اس کی دکان پر چلا جاتا اور ہم ظہر یا عصرکی نماز وہاں ادا کرتے۔ یا مغرب سے پہلے جاتا اور اسے لیتا ہوا مطب پہنچ جاتا۔ بعد ازاں حکیم صاحب بہت خوش ہوئے کہ یہ خادم ضائع نہیں ہوا۔ اب وہ خادم ملائیشیا میں ہے۔ نجانے کیوں اب بھی اس سے رابطہ رکھنا اپنی ذمہ داری ہی سمجھتا ہوں جو حکیم صاحب نے لگائی تھی۔

پھرآپ نے ایک اَور خادم کو مسجد لانے کی ذمہ داری لگائی۔ ان کا گھربھی راستے میں آتا تھا۔ پھر وہ راستہ اپنا لیا۔ پھر ایک اَور خادم کا بتایا تو وہ بھی جمعہ پر باقاعدہ ہوگیا۔ حکیم صاحب کی ہدایت پر انہیں دسمبرکی چھٹیوں میں ربوہ زیارت کے لیے بھی لے گیا۔ انفرادی تربیت کا یہ طریقہ آئندہ زندگی میں نہایت کارگر ثابت ہوا۔ اور یہ وہی طریقہ ہے جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بھی کئی بار بیان فرماچکے ہیں۔ بہر حال شورکوٹ سے واپسی تک حکیم صاحب کی راہنمائی میں کام کرنے سے نمازِجمعہ اور مطب میں حاضری میں نمایاں فرق پڑا تھا۔

شروع میں پنجابی کے الفاظ سمجھ تو آتے لیکن جھنگ کے مخصوص لہجے نے تھوڑا مشکل کر دیا۔ اس مشکل کو دیکھتے ہوئے میرے ساتھ حکیم صاحب اکثر اردو میں ہی گفتگو کرتے۔ اور سادہ، صاف اور سلیس لہجے سے بالکل معلوم نہ ہوتا کہ آپ مقامی لہجے میں بھی بات کرسکتے ہیں۔

حکیم صاحب روزانہ کوئی نہ کوئی واقعہ سناتے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس وقت نوٹ نہیں کیے ۔ ان کے نواسے (مربی سلسلہ) نے بتایا کہ کچھ واقعات حکیم صاحب نے از خود بھی تحریر فرمائے اور کچھ انہوں نے سن کر لکھے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کے پُرآشوب ایام کے کئی دلخراش واقعات بھی سنائے۔ آپ کے گھر کے ساتھ ہی مسجد موجود ہے جس پر قبضہ کرلیا گیا۔ خاندان میں احمدیت کے واقعات بھی سناتے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ ملتان تشریف لائے تھے تو ان کے دادا نے ملتان میں رہائش کا انتظام کیا ۔ یہ واقعہ ۱۸۹۷ء کا ہے۔ یہاں بغرض ریکارڈ یہ روایت بھی درج ہے۔

حضرت مولوی بدر دین صا حب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیڈماسٹر اسلامیہ سکول کے بارے میں مکرم انیس رئیس صاحب مبلغ انچارج جاپان نے ایک سیمینار میں بتایا کہ آپ حضرت اقدس علیہ الصلوٰة والسلام کے مخلص صحابی اور با رسوخ آدمی تھے۔سبز عمامہ پہنتے۔ اور ظاہری و روحانی اعتبار سے ایک قد آور شخصیت تھے۔آپ کی رہائش اندرون بوہڑ گیٹ نزد النگ تھی۔ ۱۹۲۵ء میں آپ کی وفات ہوئی ،آپ موصی تھے لیکن بعض وجوہات کے باعث بہشتی مقبرہ میں دفن نہ ہو سکے۔ اورملتان میں حسن پروانہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں لیکن اب آپ کی قبر کے آثار نہیں ملتے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو صاحبزادوں کو دیکھا تو فرمایا کہ ان کے نام کیا رکھے ہیں عرض کیاکہ حضور! محمد زاہد اور محمد عابد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ان کو زاہد اور عابد ہی بنائے ‘‘۔ اِس وقت آپ کا خاندان شورکوٹ اور لاہو ر وغیرہ میں سکونت پذیر ہے۔ (سیمینار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا سفرِ ملتان جو اکتوبر ۱۸۹۷ء میں پیش آیا ۔ بحوالہ مقالہ جامعہ احمدیہ ربوہ سال ۲۰۱۱ء ’’پاکستان کے مقدس مقامات جہاں حضرت مسیح موعودؑ تشریف لائے‘‘)

حکیم صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ سے تبرک کروائی گئی ایک انگوٹھی بھی دکھائی اور مجھے بھی پہننے کے لیے دی۔ اس انگوٹھی کا نقش بصورت مہر تھا: شد منور از محمد بدر الدین‘‘۔ اس حوالے سے آپ کے نواسے مربی سلسلہ نے حکیم صاحب کے ہاتھ کی لکھی روایت اور اس انگوٹھی کی تصویر بھجوائی جو بطور ریکارڈ درج ہے: ’’خاکسار حکیم محمود احمد ولدحکیم محمد زاہد صاحب ولد مولوی محمد بدر دین صاحب ساکن شورکوٹ شہر ضلع جھنگ عرض گذار ہے کہ ہمارے خاندان میں احمدیت حضرت محمد بدر دین صاحبؓ کے ذریعہ آئی۔ مولوی بدر دین صاحب بسلسلہ ملازمت بطور ہیڈ ماسٹر پرائمری سکول ملتان میں تعینات تھے۔ وہیں پر انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھیں۔ ۱۸۹۴ء میں تحریری بیعت کی اور پھر ۱۸۹۵ء میں آپ کو الہام ہوا ’’شد منور از محمد بدر الدین‘‘۔ چنانچہ آپ فوراً قادیان چلے گئے اور دستِ مبارک پر بیعت کی۔ حضورؑ نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں تو آپ نے کہا ملتان سے آیا ہوں اور مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ یہ الہام تو میرے متعلق ہے۔ اب آپ انگوٹھی بنوا کر اس پر یہ الہام کندہ کروا کر لائیں۔ چنانچہ آپؓ گورداسپور گئے اور وہاں سےانگوٹھی بنوا کر لے آئے۔ آپؑ نے وہ انگوٹھی لے کر خود پہنی اور واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ یہ انگوٹھی پہنے رکھا کریں۔ اگر دستخط کرنے ہوں تو یہی مہر لگا دیا کریں۔ وہ انگوٹھی اس وقت ہمارے پاس ہے۔ (تحریر حکیم محمود احمد منا صاحب)

حضرت مسیح موعودؑ کا سفرِ ملتان ایک تاریخی واقعہ اور ایک خدائی نشان ہے۔ اس سفر میں حضرت بدر الدین صاحبؓ نے اس زمانے میں شاہانہ استقبال کا بندوبست کیا تھا۔ اس بارے میں حضرت میاں معراج الدین صاحب عمرؓ  بیان فرماتے ہیں کہ ’’جب ہم ملتان پہنچے تو وہاں استقبال کا بہت بڑا انتظام کیا گیا تھا۔ مولوی بدرالدین صاحب ہیڈ ماسٹر اسلامیہ سکول ایک بہت بڑے بارسوخ آدمی تھے۔ تمام سکول کے لڑکوں کی سڑک پر دو رویہ جماعت بندی کی،یک رنگ پگڑیاں بندھائے ہوئے اور ہاتھوں میں جھنڈیاں دیے ہوئے جن میں مختلف قسم کے فقرات لکھے ہوئے تھے کھڑا کیا ہوا تھا۔ جب ہم گزرتے تھے تو لڑکے دعائیہ کلمات ، السلام علیکم اور بعض نظمیں پڑھتے تھے پھر ہم فرودگاہ پر پہنچے ۔ انہوں نے ہی مکان کا انتظام کیا ہوا تھا۔ وہاں شہر کے ہر طبقہ کے لوگ مؤدبانہ آتے اور ملاقات کرتے۔ گردیزی خاندان کا ہیڈ جو بہت بڑا مشہور رئیس تھا اکثر آیا کرتا تھا۔ شہر کے لوگ عموماً آپ کا ذکر مؤدبانہ طریق سے کرتے تھے۔ میں نے وہاں وہ بدزبانی اور بے ادبی نہیں سنی جو دوسرے شہروں میں سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ (رجسٹر روایات غیر مطبوعہ جلد ۹۔ روایات میاں معراج دین صاحب عمر۔ تاریخ احمدیت لاہور صفحہ ۱۴۴)

حکیم صاحب ایک مشفق انسان تھے۔ مہمان نوازی کی یہ خاندانی صفت آپ میں بھی خوب نمایاں تھی۔ اکثر گرمی اور حبس کے سبب نماز مغرب سے قبل ہی صندل کا شربت بنواتے جو نہایت لذیذ اور خوشبو دار ہوتا۔ کبھی کبھار مَیں عرض کرتا حکیم صاحب نماز کے بعد پی لیں گے۔ فرماتے کہ مربی صاحب پہلے پی لیں، ابھی وقت ہے۔

نماز کے بعد خلفاء سے محبت اور ان کی شفقت کے واقعات سناتے۔ چار خلفاء کا دَور آپ نے مشاہدہ کیا۔ کسی بھی خلیفہ کا ذکر ہوتا تو محبت سے ذکر کرتے اور الفاظ سے محبت جھلک رہی ہوتی۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ سے تو جیسے عشق تھا۔ بات بات میں کوئی واقعہ، کوئی ہدایت اور کوئی راہنمائی یاد آجاتی۔ کبھی ملاقات کی طویل قطار ، کبھی سلام کے ساتھ بوسہ لینا تو کبھی معانقہ کرنا یاد آجاتا۔

حکیم صاحب کو شوگر تھی۔ اس بارے میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ سنایا کرتے تھے۔ یہ واقعہ کئی بار سنایا تو جیسے ازبر ہوگیا۔ حکیم صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں ۱۹۸۱ء میں شوگر کا مرض لاحق ہوا تھا۔ وہ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ وہ بتاتے تھے کہ ان سے حضورؒ کا نہایت دوستانہ ، مشفقانہ اور ہمدردانہ تعلق رہا ہے۔ حکیم صاحب نے جب اپنے مرض کے بارے میں حضور ؒکو آگاہ کیا تو حضورؒ نے کسی کو فرمایا کہ دراز سے فلاں دوائی نکال کے دیں۔ نامعلوم کونسی دوا تھی۔ چار گولیوں کا پتہ تھا اور تین گولیاں موجود تھیں۔ حضورؒ نے فرمایا کہ یہ باہر سے منگوائی ہے۔ یہ کھالیں۔ ٹھیک ہو جائیں گے۔ایک گولی اسی وقت حضور نے کھانے کا ارشاد فرمایا۔ حکیم صاحب کہتے کہ حضورؒ کی دعا کے سبب مجھے تیس سال شوگر کی شکایت نہیں ہوئی۔ ہر گولی نے دس سال تک محفوظ رکھا۔ اب اس سال یعنی ۲۰۱۱ء میں پھر ہوگئی۔کہتے تھے کہ میں سمجھتا ہوں جو گولی کا خانہ خالی تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کم و بیش دس سال شوگر کی بیماری میں زندہ رہوں گا۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ایک دہائی اور چند سال بعد وفات ہوئی۔

حکیم صاحب کےساتھ ایک بار شورکوٹ کینٹ دعوت الی اللہ کی ایک میٹنگ میں گئے۔ مرکزی نمائندہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے آتے ہوئے کہیں ٹریفک میں پھنس گئے اور سہ پہرہوگئی۔ حکیم صاحب کے کھانے اور دوا کا وقت نکل گیا۔ وہ دوا بھی شاید ساتھ نہ لائے تھے کہ میٹنگ کے بعد واپس جا کر کھا لیں گے۔ میٹنگ کے دوران حکیم صاحب کے چہرے کی حالت پر کمزوری، کپکپاہٹ اور شوگر low ہونے کے آثار نمایاں تھے۔ میٹنگ کے بعد کھانا کھایاتو کچھ جان میں جان آئی۔ لیکن اس پورے دورانیہ میں حکیم صاحب نےنہ کوئی شکوہ کیا اور نہ شکایت۔ تحمل، صبر اور خاموشی سے کارروائی مکمل ہونے تک تشریف فرما رہے حالانکہ چہرے پر تکلیف عیاں تھی۔

شورکوٹ کا مشن ہاؤس کافی عرصہ سے بند تھا۔ شروع کے کچھ دن بعد جلد پر خارش نکل آئی۔ پہلے ڈاکٹر سے چیک کروا کر مرہم لگائی۔ لیکن آرام نہ آیا۔ حکیم صاحب نے دوا دینی چاہی تو یونانی دوا کھانے کی جھجک سے منع کر دیا۔ تیسرے دن تو تکلیف دہ صورتحال تھی۔ حکیم صاحب نے فوری دواتیار کروائی اور اللّٰہ شافی اللّٰہ کافیکہتے ہوئے حکماً کھلائی۔ حیرت انگیز طور پر اگلی صبح تک خارش کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی طرح جب موسم تبدیل ہواتو خشک کھانسی ہوگئی۔ ایک دو دن سیرپ بھی پیا لیکن فلو نے مکمل غلبہ کر لیا۔ حکیم صاحب نے نمازوں کے بعد شاگرد کو دوائیوں کے نام اور مقدار بتائی ۔ وہ پڑیا بنا کے لے آیا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ایک ابھی کھائیں اور باقی کل صبح شام۔ ایک دو دن آرام کریں اور پھر آئیں۔ لیکن صبح جیسےفلو، سردی کا نام و نشان نہ تھا۔ شام کو پھر گیا تو خوش ہوئے اور کہنے لگے ’مربی صاب وَل ہو گئے او‘۔

قائد صاحب کو جمعہ کے دن بھرپور وقارِ عمل کروانے کے ہدایت کی۔ پھر جمعہ کو بھرپور وقارِ عمل ہوا۔ مشن ہاؤس اور مسجد کی صفائی کی گئی۔ جمعہ کی نماز کے بعد خود بھی معائنہ کیا ۔

آپ کے مطب کے اردگرد بیسیوں مطب ہیں۔ اور ان میں سے اکثر آپ کے تربیت یافتہ شاگرد ہیں۔ اس وقت کے قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کہتے تھے کہ یہ لوگ حکیم صاحب کے نسخے تو لے گئے لیکن شفا نہیں لے کے جا سکے۔ وہ اللہ تعالیٰ نے حکیم صاحب کے پاس ہی رکھی ہوئی ہے۔

حکیم صاحب کے مطب کو کئی راستے جاتے تھے۔ شروع میں ہم روز نیا راستہ لے کر جاتے۔ ایک بار مغرب پر جاتے ہوئے ایک راستے سے گزرے۔ایک چھوٹے سے مطب کے سامنے ایک حکیم چھڑکاؤ کر رہا تھا، ہمیں دیکھ کر بھی چھڑکاؤ جاری رکھا ۔ میرے ساتھ والے خادم نے اس کا نام لے کر روکا بھی لیکن وہ پانی ختم ہونے تک نہ رکا بلکہ جان بوجھ کر ایسے پانی پھینکا جس سے ہمارے کپڑوں پر بھی چھینٹے پڑے۔ اس خادم نے بتایا کہ یہ جماعت کا مخالف ہے لیکن حکیم صاحب سے ہی کام سیکھا ہے۔ اب اپنی دکان کھول کر بیٹھا ہے۔ جب حکیم صاحب کو علم ہوا تو کہا کہ وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا۔ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ مَرُّوۡا کِرَامًا۔ (الفرقان: ۶۴ و ۷۳) بس آپ لوگ بھی آرام سے گزر جایا کریں اور اسے سلام کیا کریں۔ پھر ہم جب بھی وہاں سے گزرتے تو اسے زور سے سلام کر کے جاتے۔

آپ یونانی طب کے ماہر خاندانی طبیب تھے ۔ بتایا کرتے کہ ان کے پاس کئی پرانے خاندانی نسخے موجود تھے۔ کچھ تو حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کے بھی ہیں۔ آپ کا گھر آبادی کی وجہ سے اور بے ہنگم تعمیرات کے سبب شاہراہ سے کافی دور ہوگیا ۔ اور اسی راستے میں آپ کے سابقہ شاگردوں نے اپنے مطب کھول لیے۔ لیکن جو شفا حکیم صاحب کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے رکھی وہ اس گھر تک مریضوں کو لے آتی۔ ہمارے سامنے ہی ملتان ، خانیوال، لودھراں ، کبیر والا، جھنگ کے مریض تو قریباً روزانہ ہی بیٹھے ہوتے۔ حتیٰ کہ ربوہ ، لالیاں، سلانوالی اور سرگودھا سے بھی مریض پہنچے ہوتے۔ صبح کے وقت تو حکیم صاحب سے ملاقات ممکن ہی نہ تھی۔ شورکوٹ میں کئی مخالف مولوی موجود ہیں۔ تاہم ان کی بیماری انہیں احمدیہ دواخانہ پر آنے پر مجبور کر دیتی۔

اس بارے میں آپ کےنواسےنے بتایا کہ انہوں نے ایک بار حکیم صاحب سے مطب کی وجہ تسمیہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ ۷۴ء کے حالات کے سبب کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حضورؒ سے راہنمائی لی تو حضور نے فرمایا تھا کہ اللہ فضل فرمائے گا آپ نے شورکوٹ چھوڑنا نہیں ہے۔ اور دواخانہ کا نام احمدیہ دواخانہ رکھیں۔ ان شاء اللہ، اللہ مولویوں کو گردن سے پکڑ پکڑ کر آپ کے پاس لائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ حضورؒ نے حکیم صاحب کو نرمی اور مفت دوا دینے کی بھی تلقین فرمائی تھی۔ جس پر حکیم صاحب تادمِ آخر قائم رہے۔

۱۹۷۴ء کے حوالے سے مجھے بتایا کہ اکثر لوگ شورکوٹ سے ہجرت کر رہے تھے۔ حضورؒ نے فرمایا تھا کہ شورکوٹ کو نہ چھوڑنا۔ اور واقعی انتہائی صبر آزما دور گزارا لیکن آپ نے شورکوٹ نہ چھوڑا۔ آپ موصی بھی تھے۔ وصیت کے معاملات مکمل ہونے کے باوجود بھی شورکوٹ میں دفن ہونا پسند کیا۔ میرے خیال میں یہاں وہی اطاعت امام کا عنصر شامل ہے جسے مرنے کے ساتھ بھی نبھا گئے۔

حکیم صاحب نرم خُو، بااخلاق، بامروت انسان تھے۔ غریب و نادار مریضوں کا رش لگا رہتا۔ معمولی قیمت، مفت دوا اور شفا یہ آپ کی پہچان تھی۔ میں نے روز مشاہدہ کیا کہ غریب نادار عورتیں اپنی بولی میں حکیم صاحب کو پیسے نہ ہونے کی دہائی دیتیں اور حکیم صاحب کا مثبت اشارہ دوا بنانے والے شاگرد کی ناگواری اور لہجے کو تلخ کر دیتی ۔ حکیم صاحب مریض کے جانے کے بعد اسے کہتے ہتھ ہولا یعنی ہمدردی سے پیش آؤ۔

نہایت متوکّل بھی تھے۔ ایک روز باتوں باتوں میں کہا کہ حکیم صاحب کسی بڑے شہر میں مطب کیوں نہ کھولا ۔ یا جھنگ ملتان روڈ پر تاکہ مزید مریض آئیں۔ تو یہ شعر پڑھا

میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر

اور کچھ یوں کہا کہ خلیفة المسیح کی دعا سے اللہ نے یہاں ہی روزی لگائی رکھی ہے اورگھر بیٹھے بیٹھے ہی وہ عطا کرتا رہتا ہے۔ یہاں تلاوت کرتا رہتا ہوں۔ نمازیں بھی پڑھتا ہوں۔ اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہیں۔

حکیم صاحب کا حافظہ کمال کا تھا۔شورکوٹ،ککی نو، ۱۰ گگھ اور ۴۹۷ میں اکثر احمدی رانا برادری کے گھر اور زمینیں ہیں۔ حکیم صاحب کبھی کوئی واقعہ سناتے تو اس کے معروف احمدی رشتہ دار کا نام لیتے اور ساتھ اَور رشتے بتاتے کہ فلاں اس کا وہ لگتا ہے فلاں وہ لگتا ہے۔ ان کے باہمی نزاعات کی تفصیل پر بھی گہری رائے رکھتے تھے۔ ان دنوں مرکز سے ایک معاملہ آیا۔ حکیم صاحب نے برادری کا بالکل خیال نہ رکھتے ہوئے بصیغہ راز صداقت پر مبنی حقیقی رائے دی۔

حکیم صاحب کی تحریر بھی نہایت پختہ تھی اور خط بھی عمدہ۔ ان کی تحریر سطر کے بغیر بھی سیدھی مسطور ہوتی۔ معلوم ہوتا کہ جیسے نیچے کوئی line guide مستور ہو۔

انتخاب کےایام آئے، حکیم صاحب کی جگہ کافی عرصے بعد کوئی اَور نام تجویز ہوا۔ حکیم صاحب نے بعد میں مجھے فرمایا کہ بیماری کے سبب بھی خدمت جاری رکھنا مشکل تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی ہے۔ لیکن میں اب بھی ہر وقت خدمت کے لیے حاضر ہوں۔

پھر فروری ۲۰۱۲ء میں حکیم صاحب سے الوداع ہوکر مَیں ربوہ چلا گیا۔ اس کے بعد نہ حکیم صاحب سے بات ہوئی نہ ملاقات۔شورکوٹ سے ربوہ آنے والے احباب کے توسط سے سلام کا سلسلہ قائم رہا۔

۴۰ سال مختلف عہدوں پر جماعت کی خدمت کرتے ہوئے یہ دیرینہ خادم سلسلہ حکیم محمود احمد مَنّا صاحب۱۱؍فروری ۲۰۲۵ء کو ۷۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔(الفضل ۹؍جون ۲۰۲۵ء ) لیکن بطور صدر جماعت حکیم صاحب کا شفقت بھرا لہجہ اور ہمدردانہ سلوک ہمیشہ یاد رہے گا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح محمدی کی حالتِ نزیل میں اکرامِ ضیف کرنے والے اس خاندان کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا(باکردار و بے مثال، الاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button