اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا(باکردار و بے مثال، الاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم)
انسان کی طاقتیں محدود ہیں۔ اسے اکثر کاموں میں کسی دوسرے انسان کا سہارا چاہیے۔ اسی طرح انسان کے لیے اپنی قیمتی چیزوں کی اکیلے حفاظت یا نگرانی کرنا ممکن نہیں۔ ایک انسان کا کسی دوسرے انسان پر اعتبار کرتے ہوئے اسے کوئی کام کہنا یا وقتی طور پر اپنا قیمتی سرمایہ سپرد کرنا تاکہ دوسرا اس کی حفاظت کرے اور وہ بوقتِ ضرورت اسے واپس لے کر استعمال میں لا سکے ’’امانت‘‘ کہلاتا ہے۔
امانت کا تعلق محض کسی چیز کو حفاظت سے رکھ کر اسی طرح واپس کردینے سے نہیں بلکہ کسی کا راز بھی ہمارے پاس امانت ہے، ملازم کے پاس ادارے کا وقت امانت ہے، استاد کے پاس طالب علم کا مستقبل، ڈاکٹر کے پاس مریض کی ذاتی معلومات، عہدیدار کے فرائض منصبی اور حکمران کے پاس قوم کے وسائل سب امانت ہی کے ذیل میں آتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے رازوں کے امین ہوتے ہیں، والدین کے پاس اولاد امانت ہے اور اگر ذرا نظر کو وسعت دی جائے تو انسان کی اپنی زندگی، صحت، وقت، صلاحیتیں اور مال بھی خداتعالیٰ کی عطا کردہ امانتیں ہیں۔
امانت کی اہمیت کے بارے میں دنیا کے ہر بڑے مذہب میں تعلیمات پائی جاتی ہیں۔ تورات میں اگر کوئی شخص کسی کے پاس رقم یا سامان حفاظت کے لیے رکھوائے تو اس میں دست درازی اور نقصان کی صورت میں جواب دہی کا حکم ملتا ہے۔ (خروج باب ۷)حضرت مسیح علیہ السلام سے ایک قول منسوب ہے کہ جو شخص تھوڑی چیز میں امانت دار ہے وہ زیادہ میں بھی امانت دار ہوگا اور جو تھوڑی چیز میں بے ایمان ہے وہ زیادہ میں بھی بے ایمان ہوگا۔ (لوقا باب ۱۲)ہندو مذہبی اخلاقیات میں اَستیہ (Asteya) یعنی جو چیز اپنی نہیں اسے ناجائز طور پر لینے سے اجتناب کرنے کا اصول ملتا ہے۔ بھگوت گیتا میں سچائی، راست بازی اور لالچ سے بچنے کو اعلیٰ انسانی صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ بدھ مذہب کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں بھی ایسے احکام موجود ہیں۔ گویا تمام مذاہب اس اصول کو مانتے ہیں کہ کسی چیز کا محض ہماری دسترس میں آجانا ہمیں اس کا مالک نہیں بنادیتا۔
قرآن کریم نے اس اصول کو نہایت جامع الفاظ میں بیان فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا (النساء:۵۹) یعنی اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو۔نیز مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ (المؤمنون:۹) کہ وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کی نگہبانی کرنے والے ہیں۔ یہاں رَاعُونَ کا لفظ توجہ طلب ہے۔ مومن کا کام محض یہ نہیں کہ امانت واپس کردی بلکہ اس کی نگرانی، حفاظت اور حق ادا کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اور اس معیار کو ایک کامل انسانی شخصیت میں دیکھنا ہو تو ہمارے سامنے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی ذاتِ بابرکات آتی ہے۔ نبی امینﷺ کی زندگی کا ایک نہایت منفرد پہلو یہ ہے کہ اہلِ مکہ آپؐ کو رسالت سے بہت پہلے الامین کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنا تجارتی مال آپؐ کے سپرد کیا۔ لوگ اپنی قیمتی چیزیں آپؐ کے پاس امانت رکھواتے تھے۔ ابھی وحی کا نزول شروع نہیں ہوا، نمازیں فرض نہیں ہوئیں، اسلامی ریاست قائم نہیں ہوئی لیکن نبی امینﷺ کےپختہ کردار کے متعلق معاشرے میں دو رائے نہیں پائی جاتیں کہ اگر کوئی امانت کا حق ادا کر سکتا ہے تو وہ محمد ہے، صلی اللہ علیہ واٰلہ و صحبہ وسلم۔
نبی امینؐ کی صفتِ امانت ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح اس وقت افق پر نمودار ہوتی ہے جب آپؐ ایسے حالات میں سے گزرتے ہیں جن میں بظاہر ایک دنیادار شاید امانت میں خیانت کا مرتکب ہو جاتا تو حق بجانب کہلاتا۔ہجرت کی رات ذہن میں لائیے۔ وہی اہلِ مکہ جنہوں نے اپنی قیمتی اشیاء رسول اللہﷺ کے پاس امانت رکھوائی ہوئی تھیں آپؐ کے قتل کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ آپؐ کے گھر کا محاصرہ کرلیا گیا، وطن چھوڑنا پڑ رہا ہے، جان خطرے میں ہے اور دوسری طرف انہی لوگوں کی امانتیں آپؐ کے گھر میں موجود ہیں۔ نبی اکرمﷺ حضرت علیؓ کو مکہ میں پیچھے چھوڑتے ہیں تاکہ لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کرنے کا انتظام کرکے پھر مدینہ آئیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ آپؐ کی جان لینے پر تُلے ہوئے تھے کیا وہ اس بات کے حق دار تھے کہ ان کی امانتیں محفوظ رکھی جائیں؟ اگر رسول امینﷺ کی سیرت کو پیش نظر رکھا جائے تو یقیناً اس کا جواب اثبات میں ہو گا۔ کیونکہ ایک مضبوط کردار کا حامل انسان دوسرے کے اعمال کے ردِعمل میں اپنا کردار تبدیل نہیں کرتا۔ اہلِ مکہ نے اپنے کردار کے مطابق محمدﷺ کے ساتھ سلوک کیا اور جواب میں نبی کریمﷺ نے اپنا اعلیٰ ظرف دکھاتے ہوئے ان کی امانتوں کا حق ادا فرمایا۔
عام حالات میں دیانت دار رہنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب انسان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو اپنی زیادتی کا جواز بناسکے۔ رسول کریمﷺ اس چیز سے بالا تر تھے۔
پھر چشمِ فلک نے وہ وقت بھی دیکھا جب مکہ میں بےاختیار سمجھے جانے والے محمدﷺ ریاستِ مدینہ کے سربراہ بن گئے۔ اب آپؐ کے پاس وسائل بھی تھے، لشکر بھی اور فیصلہ کرنے کا اختیار بھی۔ مگر وہی بات، حالات بدلنے سے مضبوط کردار کے لوگوں کا وطیرہ بدل نہیں جایا کرتا۔ آپؐ تب بھی امین تھے اور اب بھی۔ غزوۂ حنین کے موقع پر مسلمانوں کو زرہوں کی ضرورت پڑی۔ رسول امینﷺ نے صفوان بن امیہ سے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی زرہیں مانگیں۔ صفوان نے پوچھا: اَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ؟اے محمدؐ! کیا یہ زبردستی لی جارہی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ نہیں، یہ ضمانت کے ساتھ عاریتاً لی جارہی ہیں۔ جنگ کے بعد زرہوں میں کچھ کمی بیشی ہوئی تو آپؐ نے اس کے معاوضے کی پیشکش بھی فرمائی۔ (سنن ابی داؤد)ایک دنیا دار فاتح جنگ کے موقع پر اپنے مخالف مغلوب شخص سے چیز چھین بھی لیتا تو اسے کیا کہا جا سکتا تھا۔ لیکن الامینﷺ دنیا کے ہادی تھے۔ آپؐ نے دنیا کو جنت نظیر بنانے کی مضبوط بنیادیں استوار فرمانی تھیں۔ آپؐ سے یہ زیادتی بعید از قیاس تھی۔
ایک شخص رسول اللہﷺ سے اپنا قرض واپس مانگنے آیا اور سخت لہجے میں گفتگو کرنے لگا۔ باوجودیکہ عشاق کی ایک جماعت آپؐ کے ایک اشارے پر جانیں قربان کر سکتی تھی نبی امینﷺ نے نہ صرف اس کے اس عمل سے صرفِ نظر فرمایا بلکہ اس کے حق سے بہتر اونٹ واپس دلوایا اور اپنے صحابہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنے واجبات بہترین طریق پر ادا کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری)
رسول امینﷺ کی زندگی امانت کی حفاظت کی ایک حیرت انگیز عملی تصویر تھی۔ غربت تھی تو امین، مال آیا تو امین، مکہ میں بے اختیار تھے تو امین، مدینہ میں حکمران ہوئے تو امین، امن میں امین، جنگ میں امین، دوست کا مال ہو تو امین، مخالف کی زرہ ہو تو امین، قرض خواہ کا مالی حق ہو تو اس کے امین اور کسی انسان کی عزت و آبرو آپؐ کے اختیار میں آجائے تو اس کے بھی امین۔اس سے زیادہ قابلِ تقلید شخصیت کیا ہو سکتی ہے؟
دوسری جانب امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید موجود ہے۔ جنگِ خیبر کے دوران ایک شخص جان دے کر بھی صرف اس وجہ سے شہادت کے عظیم مقام سے محروم رہ گیا کیونکہ وہ مالِ غنیمت میں معمولی خیانت کا مرتکب ہوا تھا۔
آج انسانی تاریخ میں امانت کی حفاظت کے لیے شائد سب سے زیادہ سامان موجود ہیں۔ جابجا کیمرے لگے ہوئے ہیں، گاڑیوں میں ٹریکرز، بینکوں میں آڈٹ کا انتظام، کمپیوٹر میں ہسٹری کا محفوظ ہونا اور بعض اداروں میں تو کام کرنے والوں کی ایک ایک حرکت محفوظ ہونا معمول بن چکا ہے۔ کیا اس کے باوجود مالی بدعنوانی، دھوکادہی، اختیارات کا ناجائز استعمال جو خیانت کی ہی اقسام ہیں ختم ہو گئیں؟ نہیں۔ کیونکہ کیمرہ انسان کے عمل کو دیکھ سکتا ہے لیکن اس کے دل میں موجود نیت کو نہیں۔ نگرانی انسان کو جرم سے روک سکتی ہے لیکن اس کی کردار سازی نہیں کر سکتی۔ کردار کی تعمیر کے لیے کامل اُسوے کی پیروی کرنا ضروری ہے اور مسلمان خوش نصیب ہیں کہ نبی امینﷺ کی ذاتِ بابرکت میں تمام انسانی ضرورتیں پوری کر دی گئی ہیں۔
ذرا ایسے معاشرے کا تصور کریں جس میں قوانین بھی ہوں، حفاظتی انتظامات بھی ہوں، نگرانی بھی کی جا رہی ہو لیکن انسان باکردار ہوں، امانت دار ہوں۔ لوگوں کے مال محفوظ ہوں، راز محفوظ ہوں، کاروبار میں خیانت نہ ہو، یتیم کا مال کسی کے سپرد کرتے ہوئے خوف نہ آئے ، قومی خزانے کی چابی جس شخص کے ہاتھ میں ہو قوم اس پر اعتماد کرتی ہو۔ اور ایسے معاشرے کے قیام کے لیے ہمیں کسی نئے فلسفے کی تلاش نہیں۔ مکے کی گلیوں میں شدید مظالم برداشت کرنے سے مدینے کی ریاست کے سربراہ بننے تک کے سفر میں لمحہ لمحہ ایک کامل نمونہ پیش کرنے والا ایک وجود ہمارے سامنے بطور اسوہ موجود ہے۔ وہ وجود جس کے دشمن بھی اپنی امانتیں اس کے پاس رکھنے سے نہیں گھبراتے تھے، جس کی کمزوری کی حالت اس کی شخصیت کو نہ بدل سکی اور جس نے طاقت میں بھی اپنے کردار کے اعلیٰ ہونے کا ثبوت دیا۔
الامینﷺ کے کردار کو جتنے مرضی خوب صورت الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تشنگی پھر بھی رہ جاتی ہے۔ اگر آج کا انسان اس دل رُبا سیرت سے صرف اتنا ہی سیکھ لے کہ حالات جیسے بھی ہوں میرا کردار میرے نبیﷺ کے کردار کا عکس ہونا چاہیے تو انسان میں حیرت انگیز مثبت تبدیلی آ سکتی ہے اور معاشرے کی اکائی، فردِ واحد کے کردار کی بہتری پورے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا دے گی۔ دنیا تبھی جنت کا نمونہ بنے گی جب اس میں بسنے والا انسان اسوۂ محمدﷺ سے سبق سیکھ کر ہر لحاظ سے امین بننے کے مشکل سفر پر گامزن ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: اداریہ: وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(سخی وہ جسے غربت کا خوف نہیں)



