متفرق مضامین

حفاظت مرکز قادیان اور اراضی سندھ کی کچھ یادیں(قسط اوّل)

(از قلم محترم چودھری عبد السلام صاحب، واقف زندگی)

باری باری نماز کے لیے مسجد مبارک میں جاتے تھے۔ کچھ خدام ڈیوٹی کرتے اور کچھ نماز ادا کرتے۔ اور تمام خدام اپنے اپنے گھر میں نمازوں کے اوقات میں باقاعدہ اذانیں دینے لگے۔ اس پر ایک ہندو نے کہا جب سارا قادیان احمدیوں سے آباد تھا تو اس وقت تو اتنی اذانیں نہ ہوتی تھیں۔ اب تو ہر گھر سے اذان کی آواز آتی ہے۔ اس طرح ان اذانوں سے ہندو اور سکھ لوگوں پر ایک خاص اثر ہونے لگا

[مصنف مضمون ہٰذا محترم چودھری عبدالسلام صاحب مرحوم (واقفِ زندگی) المعروف ’بھائی عبدالسلام‘ کو فرقان بٹالین کے علاوہ ایک لمبا عرصہ بطور نائب افسر حفاظتِ خاص خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔ زیرِ نظر مضمون حفاظت مرکز قادیان اور اراضی سندھ کے حوالے سے ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو ان کے بیٹے مکرم عبدالحفیظ شاہد صاحب (ایڈیشنل وکیل الاشاعت برائے ترسیل)نے ادارے کو ارسال کیا ہے۔ ادارہ]

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے قیامِ پاکستان سے قبل تمام جماعت کو تحریک فرمائی کہ پیر اور جمعرات کو احباب روزہ رکھیں اور قیامِ پاکستان کے لیے بھرپور دعائیں کریں۔ ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو خداتعالیٰ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ اور مسلمانوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی دعاؤں اور راہنمائی سے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک پاکستان حاصل کرلیا۔ اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے ایک مسلم حکومت معرضِ وجود میں آگئی۔ الحمد للہ

تاہم انگریزوں نے بددیانتی کرتے ہوئے قادیان کو مشرقی پنجاب میں شامل کرتے ہوئے بھارت کا حصہ قرار دے دیا۔ عیدالفطر کے معاً بعد پورے مشرقی پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ لاکھوں مسلمانوں کو ان مظالم کے نتیجے میں اپنے گھر بار، کاروبار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور سینکڑوں عورتوں کو اغواء کرلیا گیا۔ سینکڑوں سال سے محبت سے رہنے والے ، ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے خون کے پیاسے ہوگئے۔

ان حالات میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃالمسیح الثانی ومصلح موعودرضی اللہ عنہ نے قادیان سے احباب جماعت کے نام ایک اہم خط تحریر فرمایا اور اس خط کی نقلیں تمام احمدیہ جماعتوں کو بھجوادی گئیں۔ یہ خط ۲۲؍اگست ۱۹۴۷ء کو لکھا گیا اور ۲۸؍اگست ۱۹۴۷ء کو بشیر آباد جماعت میں موصول ہوا۔ کسی دوست نے مجھے بتایا کہ ایک چٹھی قادیان سے آئی ہے اور وہ محترم مینیجر صاحب بشیر آباد کے پاس ہے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے آمدہ چٹھی کے بارے میں دریافت کیا کہ قادیان سے کوئی چٹھی آئی ہے۔ اس پر محترم مینیجر صاحب نے بتایا کہ ہاں قادیان سے ایک چٹھی آئی ہے۔ اس پر تمام جماعت بشیر آباد کو مسجد میں جمع ہونے کی ہدایت کردی گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں تمام احباب مسجد میں آگئے۔ وہ چٹھی درج ذیل ہے۔

حضورِ انور کا پیغام

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

خداکے فضل اور رحم کے ساتھ۔ھوالناصر

برادرانِ جماعت احمدیہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فسادات بڑھ رہے ہیں۔ قادیان کے گرد دشمن گھیرا ڈال رہا ہے۔ آج سنا گیا ہے ایک احمدی گاؤں پوری طرح تباہ کردیا گیا ہے۔ اس گاؤں کی آبادی چھ سو سے اوپر تھی۔ ریل ، تار، ڈاک بند ہے۔ ہم وقت پر نہ آپ کو اطلاع دے سکتے ہیں اور نہ جو لوگ قادیان سے باہر ہیں اپنے مرکز کے لیے کوئی قربانی کرسکتے ہیں۔ میں نے احتیاطاً خزانہ قادیان سے باہر بھجوادیا ہے۔ پھر بھی ان فسادوں کی وجہ سے بعض کو روپے ملنے میں دیر ہوتو انہیں صبر سے کام لینا چاہئے۔ کہ یہی وقت ایمان کی آزمائش کے ہوتے ہیں۔

مجھے بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ قادیان سے باہر چلا جاؤں۔ ان لوگوں کے اخلاص میں شبہ نہیں لیکن میری جگہ قادیان ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تفسیر کا کام اور کئی اور کام پڑے ہیں لیکن ان کاموں کے لیے خداتعالیٰ اور آدمی پیدا کردے گا۔ یا مجھے قادیان میں ہی دشمن کے حملہ سے بچالے گا۔ لیڈر کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہئے۔ یہ خداتعالیٰ پر بد ظنی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خداتعالیٰ ہماری مدد کرے گا۔ اور ہمیں فتح دے گا۔ مگر پھر بھی حضرت مسیح موعودؑ کی عزت اور احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مستورات کو باہر بھجوانے کا ارادہ ہے۔ بشرطیکہ اللہ تعالیٰ نے انتظام کردیا۔ اگر اللہ کی مدد اس کے وعدوں کے مطابق آگئی تو سب خدشات احمقانہ ڈر ثابت ہوں گے لیکن اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو سمجھنے میں غلطی کی ہے تو یہ احتیاطیں ہمارے لیے ثواب کا موجب ہوں گی۔

آخر میں مَیں جماعت کو محبت بھرا سلام بھجواتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ اگر ابھی میرے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہو تو آپ کو وفاداری سے اور مجھے دیانتداری سے کام کرنے کی توفیق ملے اور اگر ہمارے تعاون کا وقت ختم ہوچکا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ وناصر ہو اور اسلام کی آواز پست نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کا نام ماند نہ پڑے۔ قرآن سیکھو اور حدیث سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ خود عمل کرو اور دوسروں سے عمل کراؤ۔ زندگیاں وقف کرنے والے ہمیشہ تم میں سے ہوتے رہیں اور ہر ایک اپنی جائیداد کے وقف کرنے کا عہد کرنے والا ہو۔ خلافت زندہ رہے اور اس کے گرد جان دینے کے لیے مومن آمادہ کھڑا ہو۔ صداقت تمہار زیور، امانت تمہارا حسن اور تقویٰ تمہار ا لباس ہو۔ خداتعالیٰ تمہارا ہو اور تم اس کے ہو۔ آمین

میرا یہ پیغام ہندوستان کے باہر کی جماعتوں کو بھی پہنچادو اور انہیں اطلاع کردو کہ تمہاری محبت میرے دل میں ہندوستان کے احمدیوں سے کم نہیں تم میری آنکھ کا تارا ہو۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ جلد سے جلد اپنے اپنے ملکوں میں احمدیت کا جھنڈا گاڑ کر آپ لوگ دوسرے ملکوں کی طرف توجہ کریں گے۔ اور ہمیشہ خلیفۂ وقت کے ، جو ایک وقت میں ایک ہی ہوسکتا ہے فرمانبردار رہیں گے۔ اور اس کی حکموں کے مطابق اسلام کی خدمات کریں گے۔

والسلام۔خاکسار۔مرزا محمود احمد۔۲۲؍اگست ۱۹۴۷ء (تاریخ احمدیت جلد ۹ صفحہ۷۲۳،۷۲۲)

جب میں نے یہ چٹھی سنی تو سخت پریشان ہوگیا۔ دعاؤں میں تو پہلے ہی مصروف تھا مگر دل میں یہ تڑپ اٹھی کہ میں بھی قادیان کی حفاظت کے لیے پہنچ جاؤں۔ میں نے رخصت کے لیے درخواست دی۔ بوجوہ وہ منظور نہ ہوسکی۔ دو روز سخت بارش جاری رہی۔ ۳۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو کراچی سے ڈان اخبار آیا، جس سے حالات سے آگاہی ہوئی اور پریشانی مزید بڑھ گئی۔ کیونکہ مشرقی پنجاب میں حالات انتہائی تیزی کے ساتھ خراب ہورہے تھے۔ مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا تھا اور گاؤں کے گاؤں خالی کروائے جارہے تھے۔ میرے اصرا رپر مجھے دس ایام کی رخصت مل گئی۔ اور یکم ستمبر ۱۹۴۷ء کو نماز ظہر وعصر کے بعد گھوڑے پر سوار ہوکر ٹنڈو الہ یار روانہ ہوگیا اور اپنے ساتھ مقامی موچی کے بیٹے کو لے لیا تاکہ وہ واپسی پر گھوڑا واپس لے آئے۔ ٹنڈو الہ یار کا فاصلہ بشیر آباد سے بائیس(۲۲) میل تھا۔ بارشوں کی وجہ سے راستے خراب تھے۔ جب ٹنڈو الہ یار ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو اُس بچے کو گھوڑا اور ایک روپیہ دے کر واپس گاؤں بھجوادیا۔

میں ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں کھڑا تھا کہ ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا: باجی آپ کو بلا رہی ہیں۔ میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں۔ وہ مکرم ڈاکٹر مولا بخش صاحب کی بیوی تھیں اور دوسری خاتون مکرم نصیر احمد باجوہ صاحب کی بیوی تھیں۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ ان حالات میں قادیان نہ جائیں وہاں حالات بہت زیادہ خراب ہیں اور آپ کو قادیان جانے کے لیے راستہ نہیں ملے گا۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا پھر آپ کیسے آئی ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ میرا ایک بھائی فوج میں ہے اور آج کل میاں میر چھاؤنی لاہور میں ڈیوٹی پر ہے۔ وہ ہمیں قادیان سے اپنے ساتھ لایا ہے۔ میں نے ان کے ٹھہرنے کے ایک ہوٹل میں انتظام کروادیا اور بشیر آباد ٹیلیفون بھی کردیا کہ گاڑیاں بھجوا کر انہیں لے جائیں۔ تھوڑی دیر میں وہیں محترم حکیم محمد ابراہیم صاحب جو بشیر آباد جماعت کے صدر تھے وہ بھی بیوی بچوں سمیت قادیان سے آگئے۔ انہیں بھی اسی ہوٹل میں ٹھہرایا اور تسلّی دی کہ بشیر آباد سے رات یا صبح بیل گاڑیاں آجائیں گی اور آپ کو لے جائیں گی۔

میں ٹنڈوالہ یار سے ریل گاڑی میں سوار ہوکر حیدر آباد شہر پہنچ گیا۔ رات کے ساڑھے گیارہ بجے کراچی سے پنجاب میل ایکسپریس ٹرین آئی۔ جس نے لاہور جانا تھا۔ میں اس پر سوار ہوگیا۔ یہ گاڑی راستے میں اکثر مقامات پر رکتی ہوئی شام چھ بجے کی بجائے اگلے دن تین بجے صبح لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ اس وقت لاہور میں رات کا کرفیو آرڈر لگا ہوا تھا۔ کوئی آدمی ریلوے اسٹیشن سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ مجبوراً مجھے صبح چھ بجے تک انتظار کرنا پڑا۔ چھ بجے کے بعد کرفیو میں رعایت ہوئی تو میں وہاں سے پیدل ہی ۱۳؍ٹمپل روڈ لاہور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی کوٹھی پر پہنچ گیا۔ سب سے پہلے مکرم چودھری محمد اسحاق صاحب آف چک ۲۷۶گ ب گوکھووال باڈی گارڈ حضرت مصلح موعودؓ سے ملے۔ ان سے میں نے پوچھا حضور ؓآگئے ہیں ؟تو انہوں نے کہا خداتعالیٰ کے فضل سے حضور بخریت لاہور تشریف لے آئے ہیں۔ اس پر میں نے الحمدللہ پڑھا۔ پھر سخت بھوک اور پیاس محسوس ہوئی۔ بشیر آباد سے چلنے کے بعد لاہور تک میں نے پریشانی کی وجہ سے کوئی چیز نہ کھائی اور مسلسل دعا کا موقع ملتا رہا۔ ہوٹل میں جاکر تیسرے دن صبح کا ناشتہ کیا اور واپس آکر حضورؓ کی خدمت میں اپنی آمد کی اطلاع دے دی۔ اور اپنے لیے پوچھا کہ کیا ہدایت ہے۔ محترم میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ آپ کی چٹھی حضورؓ کی خدمت میں پیش کردی گئی ہے۔ ناصرآباد، محمود آباد، احمدآباد اور محمد آباد سندھ سے بھی خدام لاہور پہنچ چکے ہیں۔ ان سب دوستوں میں سے مکرم حافظ عبدالواحد صاحب کو روک کر باقی تمام خدام کو واپس بھجوادیا گیا۔ میں اپنی چٹھی کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ۴؍ستمبر ۱۹۴۷ء کو رتن باغ لاہور میں کوٹھی مل گئی اور حضورؓ وہاں رہائش کے لیے تشریف لے گئے۔ اور باقی احباب بھی ساتھ ہی وہاں منتقل ہوگئے۔ محترم جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی محترم عطاءاللہ ظہور صاحب جو حضوؓر کو قادیان سے لے کر آئے تھے وہ قادیان کے لیے ٹرکوں کا انتظام کررہے تھے۔ آخر کار ۶؍ستمبر کو ۳۰؍ٹرکوں کا انتظام ہوگیا۔

مکرم مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کے سپرد یہ ڈیوٹی تھی کہ وہ خدام کو قادیان بھجوائیں۔ اسی دوران مجھے بھی حضورؓکی طرف سے قادیان جانے کی اجازت مل گئی۔ اور میں خداتعالیٰ کے فضل سے حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی پر جانے والے خدام میں شامل ہوگیا۔ ٹرکوں کی آمد کے بعد حسب ارشاد تیس ٹرکوں میں ۲۵۰منتخب خدام کو بٹھا کر قادیان کے لیے روانہ کردیا گیا۔ واہگہ بارڈر پر پہلے پنجاب پولیس اور پھر پاک فوج نے چیکنگ کی اور جانے کی اجازت دے دی۔ دوسرے مرحلہ میں ہندوستان کی فوج اور پولیس نے باری باری سب کو چیک کیا اور جانے کا مقصد پوچھا۔ سب نے جواب دیا کہ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے افراد کو لینے جارہے ہیں۔

جس وقت ہندوستان کی ملٹری ان ٹرکوں کی چیکنگ کررہی تھی تو میں نے دیکھا کہ میری پلٹن ۵/۱۶پنجاب رجمنٹ کا ایک سکھ صوبیدار حنوک سنگھ وہاں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ اس کا رخ دوسری طرف تھا۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ امرتسر اور بٹالہ سے ہوتے ہوئے مغرب وعشاء کی نمازوں کے درمیانی وقت میں یہ قافلہ بخیریت قادیان پہنچ گیا۔ اور تعلیم الاسلام کالج قادیان کے سامنے جاکر رکا۔ ۱۵۰ خدام تو قادیان کے رہنے والے تھے وہ تو اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے بقیہ ۱۰۰ خدام جن میں مَیں بھی شامل تھا، باہر کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔ ان کو محترم صاحبزاہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ اور مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب کے ساتھ بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید لے جایا گیا۔ ہر دو مذکورہ احباب ان دنوں حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی میں اہم ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ سب خدام نے رات وہاں بسر کی۔

اگلی صبح محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے باری باری ان خدام کے انٹر ویو لینے شروع کردیے۔ اور ان سے پوچھنے لگے کہ کتنا عرصہ خدمت کےلیے ٹھہرو گے؟ تمام خدام کا ایک ہی جواب تھا کہ جب تک آپ کو ضرورت ہے ہم یہیں ٹھہریں گے۔ اس پر محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے موقع کی مناسبت سے خدام کو ضروری نصائح کیں۔ اس کے بعد باقاعدہ خدام کی پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ گو اس سے پہلے بھی قادیان کے خدام مسلسل ڈیوٹیاں دے رہے تھے لیکن اس تازہ دم کمک ملنے سے خدام کے حوصلے مزید بڑھ گئے۔ ان خدام میں سے ایک گروپ محترم جمعدار(نائب صوبیدار) محمد عبداللہ صاحب (جو کہ بعد میں درویشِ قادیان بنے) کی قیادت میں محلہ دارالشکر کی حفاظت کے لیے بھجوادیا گیا۔ ان ڈیوٹی والے خدام کو تین مختلف گھروں میں ٹھہرایا گیا۔ یہ تینوں مکان حالات کی وجہ سے مرکز کی ہدایت پر خالی ہوچکے تھے۔ ان کے افراد اندرون قادیان شفٹ ہوچکے تھے۔ یہ خدام نہایت مستعدی اور بہادری سے حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی میں مصروف ہوگئے۔ ان دنوں حالات کی خرابی کی وجہ سے قادیان کے ماحول کے بہت سے دیہات سے ہزاروں نہیں لاکھ کے قریب مسلمان افراد بے سروسامانی کی حالت میں اپنی اور بیوی بچوں اور عزیزواقارب کی جانیں بچانے کے لیے قادیان میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ان سب کو سنبھالنے اور کھانا دینے کے لیے اور ان کی حفاظت کے لیے تمام خدام کو دن رات ایک کرنا پڑا۔ ان تمام مہاجرین کو لنگر خانہ حضرت مسیح موعودؑ سے کھانا ملنے لگا۔ جب تک وہ مہاجرین قادیان میں رہے، لنگر خانہ سے ہی کھانا کھاتے رہے۔ یہ بھی خداتعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے کہ آنحضرتﷺ سے منسوب ہونے والے تمام مسلمان خواہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے تھے حضرت مسیح موعودؑ کے مہمان کے طور پر قادیان میں مقیم تھے اور محفوظ تھے۔ جبکہ پورے مشرقی پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی۔ ان کے علاوہ قادیان سے دور اُن دیہات میں جہاں مسلمان نسبتاً کمزور تھے اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے تھے ان کی نظریں بھی قادیان کی طرف اٹھتی تھیں۔ وہ بھی مدد کے لیے پیغام بھجوارہے تھے۔ ان دیہات سے بھی جوق در جوق مسلمان قادیان آنے لگے۔ تاہم اس وقت تک سٹھیالی ، کھارا، ننگل اور بھینی کے رہائشی اپنے اپنے گھروں میں ڈٹے ہوئے تھےاور مورچہ بند کیفیت تھی۔ تمام لوگ باری باری دن اور رات کو ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ جب حالات مزید خراب ہونے لگے تو مذکورہ بالا دیہات کے مسلمان افراد کو گاؤں سے قادیان منتقل کرنے کا کام حفاظت ِمرکز کے خدام کے سپرد ہوا۔ سٹھیالی جانیوالے خدام میں محترم صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی (جو بعد میں ربوہ آکر حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے افسر حفاظتِ خاص رہے) اور مکرم جمعدار (نائب صوبیدار) محمد اشرف صاحب گاؤں کے مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش میں زخمی ہوگئے۔ تاہم بہت سے افراد کوبحفاظت قادیان پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد میں ان دونوں زخمی خدام کی جگہ مکرم صوبیدار برکت علی صاحب (یہ میرے ساتھ قادیان گئے تھے) کو خدام کی نگرانی کے لیے بھجوادیا گیا۔ اور تلونڈی میں مکرم جمعدار (نائب صوبیدار ) اللہ یار صاحب کو خدام کے ہمراہ بھجوادیا گیا۔

مکرم میجر چودھری شریف احمد باجوہ صاحب کو جو حفاظت ِمرکز قادیان کے اصل کمانڈر تھے، ہندوستان کی حکومت نے گرفتار کرکے جالندھر جیل میں منتقل کردیا۔ ان کی جگہ پر مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب (انہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دور میں ربوہ میں افسر حفاظتِ خاص رہنے کا اعزاز حاصل ہوا) کو حفاظت ِمرکز قادیان کا نیا کمانڈر مقرر کردیا گیا اور ان کے نائب کے طور پر مکرم صوبیدار عبدالغفور خان صاحب آف ٹوپی صوبہ سرحد ( ان کو بھی حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں ربوہ میں افسر حفاظتِ خاص کام کرنے کا موقع ملا) کو مقرر کیا گیا۔ مزید حالات کی خرابی پر جلد ہی محترم چودھری فتح محمد صاحب سیال ممبر پنجاب اسمبلی ،مکرم مولوی احمد خاں صاحب نسیم اور مکرم مولوی عبدالعزیز صاحب بھامبڑی کو بھی ہندوستان حکومت نے گرفتار کرکے جیل بھجوادیا۔

سٹھیالی اور تلونڈی میں جب مسلمانوں کا رہنا ناممکن ہوگیا تو قادیان کے خدام نے اپنی جان پر کھیل کر وہاں سے سب مسلمانوں کو نکال کر بحفاظت قادیان پہنچایا۔ جب خدام بھی واپس آگئے تو محترم جمعدار( نائب صوبیدار) عبداللہ صاحب نے میری ڈیوٹی لگائی کہ ان خدام کو سنبھالیں اور ہر ممکن سہولت پہنچائیں۔

محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے وہاں مقیم خدام کو جمع کیا اور سمجھایا کہ اب حالات دن بدن خراب ہورہے ہیں اس لیے کوئی پتہ نہیں کہ حکومت کب کس کو گرفتار کرلے۔ اس لیے تمام خدام پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی دیں اور بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اپنی رہائش بھی تبدیل کرتے رہیں۔ ایک دن محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ مجھے اپنےلیے کسی مناسب مکان کی تلاش ہے۔ اس سلسلہ میں فوری کوشش کریں۔ میری ان دنوں قادیان میں کوئی خاص واقفیت نہ تھی۔ مگر افسر کے حکم کی اطاعت میں دوپہر کے وقت ہی باہر نکلا اور سخت پریشانی کی حالت میں ایک میدان میں کھڑے ہوکر دعا کرنے لگا۔ ابھی میں نے دعا ختم نہ کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کردیا کہ کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیارپور کا ایک لڑکا عبداللطیف صاحب (رانا نعیم الدین صاحب کاٹھ گڑھ سابق اسیر راہِ مولیٰ ساہیوال کا بڑا بھائی) سامنے سے آیا۔ وہ ان دنوں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے ساتھ بطور باڈی گارڈ ڈیوٹی کررہا تھا۔ میں نے اس سے مکان کی تلاش میں مشکل کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ ہمارے ایک رشتہ دار یہاں ہیں۔ ان سے پتہ کرتا ہوں وہ مجھے لے کر ایک مکان کی طرف چلا گیا۔ اور مکان کے دروازے پر دستک دی۔ وہاں سے ایک آدمی نکلا۔ اس وقت میرے ساتھ میرے گروپ لیڈر مکرم جمعدار عبداللہ صاحب بھی تھے۔ انہوں نے اسے دور سے دیکھتے ہی کہا یہ تو ہماری ۸/۱۵ پنجاب رجمنٹ کا حوالدار محمود احمد ہے۔ ملنے پر وہ بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں۔ اس سے مکان کی مشکل کا ذکر کیا تو وہ خداتعالیٰ کا نیک بندہ واپس گھر کے اندر گیا اور چار پانچ منٹ میں گھر کی مستورات کو برقعہ پہنا کر باہر لے آیا اور انہیں اپنے کسی اور رشتہ دار کے گھر چھوڑ آیا اور واپس آکر کہنے لگا یہ لو مکان حاضر ہے اور اب خالی ہوگیا ہے۔ تاہم میرے بزرگ والد محترم محمد اسماعیل صاحب ( جو کہ بعد میں ربوہ میں معلم وقف جدید رہے) فلاں کمرے میں ہیں اور ضعیف ہیں۔ ہروقت دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں۔ کہو تو انہیں بھی کسی اور جگہ ساتھ لے جاؤں۔ میں نے انہیں کہا کہ ان کو یہاں ہی رہنے دیں۔ شام کو محترم کیپٹن شیر ولی صاحب کو مکان کا بتایا تو انہوں نے مکان کا خود معائنہ کرنے کا کہا۔ رات کو جب انہوں نے مکان دیکھا تو اسے بے حد پسند کیا کیونکہ ان کی ضرورت کے مطابق تھا۔ چند دن کے بعد مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب نے بتایا کہ وہ دعا کررہے تھے تو کشفی حالت میں دیکھا کہ اس مکان پر ملٹری اور پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔ جب کشفی حالت ختم ہوئی تو میں نے باہر جا کر گلی میں دیکھا کہ ایک پھٹے پرانے کپڑے والا آدمی جارہا ہے جیسے کوئی فقیر ہے۔ ان کے بتانے پر محترم جمعدار عبداللہ صاحب اور میں نے اس فقیر کو بہت تلاش کیا مگر وہ دوبارہ نظر نہ آیا چنانچہ یہ سارا واقعہ مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب کو بتایا۔

اس سے اگلے ہی روز جب خدام مغرب کی نماز اسی مکان میں باجماعت ادا کررہے تھے اور مکرم نذیر احمد صاحب پٹھان آف پشاور باہر پہرے کی ڈیوٹی پر تھے۔ ملٹری اور پولیس والے وہاں آگئے۔ انہوں نے ان کو نماز ختم ہونے تک روکے رکھا۔ جب نماز سے فراغت ہوئی تو ملٹری اور پولیس والے گھر میں داخل ہوگئے۔ اور سب نمازیوں کو گھرسے باہر نکال دیا اور تمام گھر کی مکمل تلاشی لی۔ اس کے بعد تمام موجود احمدی احباب کی بھی مکمل تلاشی لی جب ان کو کچھ بھی نہ ملا تو اپنی شرمندگی دور کرنے کے لیے سب کو اکٹھا کرکے ایک کھلے میدان میں لے گئے۔ جہاں پر ٹرک کھڑے تھے۔ ان دنوں قادیان میں کرفیو آرڈر لگا ہواتھا۔ ان سب افراد کو ملٹری کی طرف سے حکم ملا کہ ان ٹرکوں میں بیٹھو تم سب کو صبح پاکستان بھجوادیا جائے گا۔ سب نے انکار کردیا۔ اس پر ملٹری اور پولیس کی طرف سے سب کو سخت برا بھلا کہا گیا اور آخر پر کہا کہ تم مرزا صاحب کی فوج کے آدمی ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ سب نے کہا کہ ہم پڑھنے کے لیے یہاں پر آئے ہیں۔ اس پر دوبارہ سب کی تلاشی ہوئی۔ ان خدام کی جیبوں سے جتنے روپے ملے وہ سب نکال لیے۔ اس وقت میری جیب میں اسّی۸۰ روپے تھے۔ میری تین دفعہ تلاشی لی اور پھر پوچھا یہ کیا ہے میں نے کہا روپے ہیں۔ اس کے باوجود کسی سپاہی نے میری جیب میں ہاتھ نہ ڈالا۔ اس طرح میرے اسی روپے محفوظ رہے۔ تلاشی کے اختتام پر سب احمدی احباب کو ملٹری اور پولیس نے چھوڑ دیا۔ اگلے دن ہی میں نے شکرانہ کے طورپر اپنے اسّی ۸۰روپے میں سے پچاس۵۰روپے صدقہ دے دیے اور بقیہ تیس روپے اپنے خرچ کے لیے رکھ لیے۔

دارالشکر کی آبادی کے انخلا کے بعد میں اور میرے ساتھی محلہ دارالفضل میں محترم صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓکی کوٹھی میں منتقل ہوگئے۔ اور مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب بھی یہیں آگئے اور خدام سے کہا کہ مجھے ابھی تک آپ کے گروپ کے تمام افراد سے تعارف حاصل نہیں ہوا۔ اس لیے میں ایک دو روز آپ کے پاس رہوں گا۔ تاکہ تمام خدام سے واقفیت ہوجائے۔ چونکہ محترم صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓکی کوٹھی ان دنوں کھلی ہوئی تھی اس لیے اس کی مکمل چانچ پڑتال کی تاکہ کوئی قابل اعتراض چیز وہاں موجود نہ ہو جس کی وجہ سے ہندوستان حکومت کو گرفت کا موقع مل سکے۔ حالات بڑی تیزی سے خرا ب ہورہے تھے۔ دو دن کے بعد جب محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے تمام خدام سے واقفیت حاصل کرلی تو تین خدام کے ساتھ اکبر منزل کی طرف پیدل ہی روانہ ہوئے۔ ان دنوں اکبر منزل حفاظت ِمرکز کا دفتر تھا۔ ابھی راستے میں ہی تھے کہ پولیس نے ان چاروں کو گرفتار کرلیا۔ اور محترم کیپٹن شیر ولی صاحب کا لائسنس یافتہ شاٹ گن اور ریوالور بھی ضبط کرلیا۔ ان کو گرفتار کرکے تھانہ قادیان میں لے گئے۔

ان دنوں ہزارہ سنگھ قادیان کا تھانہ انچارج تھا۔ ان سب کو انہوں نے حوالات میں بند کردیا۔ اندرون قادیان اس واقعہ کا کسی کو علم نہ تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ مومن کو فراست عطا کرتا ہے۔ محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے تھانے دار سے کہا اب تو ہم آپ کے قیدی بن چکے ہیں میں نے ایک دوست کو پیغام دینا ہے میرے ساتھ دو سپاہی بھیج دیں تاکہ میں پیغام دے دوں۔ اس پر تھانیدار نے دوسپاہی ان کے ساتھ کردئیے۔ محترم کیپٹن شیر ولی صاحب ان دوسپاہیوں کے ساتھ اکبر منزل پہنچے تو وہاں نماز ہورہی تھی نماز کے بعد انہوں نے مکرم صوبیدار عبدالغفور خان صاحب آف ٹوپی کو بلایا اور سپاہیوں سے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریں میں ان کو پیغام دے دوں۔ وہ انہیں لے کر تھوڑے سے فاصلہ پر چلے گئے اور انہیں اپنی اور تین ساتھیوں کی گرفتاری کا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ اگر ہوسکے تو محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی اطلاع کردیں۔ اس کے بعد وہ واپس اس جگہ آگئے جہاں دونوں سپاہیوں کو کھڑا کیا تھا۔ اور ان کے ساتھ واپس تھانہ قادیان حسب وعدہ آگئے اور انہیں حوالات میں بند کردیا گیا۔ تھوڑی دیر میں دو خدام یہ اہم اطلاع لے کر محترم صاحبزادہ مرز ا ناصر احمد صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اسی وقت مکرم مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹ ناظر امور عامہ سے کہا کہ ابھی تھانہ چلے جائیں اور محترم کیپٹن شیر ولی صاحب اور ان کے ساتھیوں کو چھڑوا کر لائیں۔ مکرم مولوی صاحب تھانے گئے اور ان چاروں کو رہا کرواکر لے آئے۔ تاہم تھانیدار نے ان کا ضبط شدہ اسلحہ واپس کرنے سے انکار کردیا۔

اگلے روز جمعہ کا دن تھا احباب نماز جمعہ کی تیاری میں مصروف تھے کہ قادیان کے مرکزی حصہ سے فائرنگ کی آواز آنی شروع ہوگئی اور ایک بہت بڑا شور برپا ہوگیا۔ ہمارے نگران مکرم جمعدار( نائب صوبیدار) عبداللہ صاحب نے مجھے کہا کہ آپ چھت پر چڑھ کر جائزہ لیں کہ فائرنگ کس طرف سے ہورہی ہے تاکہ ان کی مدد کے لیے کچھ کیا جاسکے اور یہ بھی معلوم کریں کہ وہاں کیا صورت حال ہے۔ جب میں نے چھت پر جا کر دیکھا تو افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ بد حواسی میں ہر سمت بھاگتےنظر آئے۔ اب معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کی مقدس بستی پر چاروں طرف سے حملہ ہوگیا ہے۔ اور حملہ آور آتشین اسلحہ سے مسلح ہیں۔ اتنی دیر میں وہاں موجود خدام کو نگران صاحب نے اکبر منزل فوراً پہنچنے کا کہا اور سب خدام اسی وقت ،وہاں سے چلے گئے۔ جب میں چھت سے نیچے اترا تو وہاں صرف ایک لڑکا ہی نیچے رہ گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ باقی تمام خدام تو اکبر منزل چلے گئے ہیں آپ بھی ابھی وہاں پہنچیں۔ اس پر میں بھی اس لڑکے کے ساتھ اکبر منزل روانہ ہوگیا۔ انتہائی مشکل حالات میں وہاں پہنچے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ابھی خدام محلہ دارالرحمت پہنچیں اور وہاں سے عورتوں اور بچوں کو بحفاظت بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید میں لائیں۔ جب خدام یہ اہم ذمہ داری اداکررہے تھے تو ایک خادم نیاز علی آف کھاریاں وہاں شہید ہوگیا۔ تمام خدام نے نہایت بہادری اور دلیری سے اپنے مفوضہ ذمہ داری کو احسن رنگ میں اداکیا۔ اسی روز شام کے وقت ملٹری اور پولیس کی طرف سے قادیان میں بار بار یہ اعلان کروایا گیا کہ ایک قافلہ کل صبح پاکستان جائے گا اور تما م لوگ اس قافلے میں پاکستان چلے جائیں۔ اس وقت قادیان کے حالات اس قدر خراب تھے کہ کرفیو کی کیفیت تھی۔ ان حالات میں بیرونی محلہ جات کے خدام کا رابطہ قصرِ خلافت اور بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید سے باربار کٹ جاتا رہا مگر خدام اپنی جان پر کھیل کر دوبارہ رابطے بحال کرلیتے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نئی ہدایات حاصل کرلیتے۔ ان حالات میں ایک بھی خادم ایسا نہ تھا جو حالات کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار ہو۔ ہر خادم جان کی بازی لگانے کے لیے تیار تھا اور حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی میں ہر وقت مستعد تھا۔

حکومتی اعلان کے بعد محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے خدام کو مشورہ کے لیے بلایا اور کہا کہ دو خدام رات ہونے پر قصرِ خلافت جائیں اور محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کو تمام حالات سے آگاہ کریں۔ اور حکومتی اعلان کا ذکر کرکے نئی ہدایت لے کر آئیں۔ اس اہم کام کے لیے محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے دو خدام کو منتخب کیا۔ ان میں سے پہلے مکرم فضل الٰہی صاحب (جو کہ بعد میں درویشِ قادیان بنے) اور دوسرا یہ خاکسار۔ محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے وہاں لنگر والوں کو ہدایت کی کہ ابھی دونوں کےکھانے کا انتظام کریں ان کو کہیں بھجوانا ہے۔ چنانچہ ہم دونوں کو فوراً ہی کھانا کھلادیا گیا۔ اب ہم اس کام کے لیے بالکل تیار تھے۔

اس وقت قادیان کے حالات اس قدر مخدوش تھے کہ ہر راستے میں ملٹری اور پولیس کا پہرہ تھا۔ اور عملاً تمام قادیان کے باشندوں کو قید خانہ میں ڈالا ہوا تھا۔ اس وقت حکومت بھارت کے مقامی عہدیداروں نے قادیان کی تمام آٹا چکیاں حکماً بند کروادیں اور سیل کردیں تاکہ مجبور ہوکر یہ لوگ قادیان چھوڑ دیں۔ جب میں اور میرے ساتھی محترم فضل الٰہی صاحب نے اپنی منزل کی طرف جانے کا قصد کیا تو ہر موڑ اور چوک میں سپاہی موجود تھے۔ آخر کار رات کے دویا اڑھائی بجے ہمیں ہدایت ملی کہ جیسے بھی ہو فوراً راستہ نکال کر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے مل کر ضروری ہدایات لے کر آئیں۔ خواہ بہشتی مقبرہ کی طرف سے ہی چلے جائیں۔

ان دنوں جلسہ گاہ قادیان جو مسجد نور کے ساتھ تھا مہاجرین سے بھراپڑا تھا۔ جو گیٹ محلہ دارالفضل کی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کر محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے دعا کرواکر ہم دونوں خدام کو رخصت کیا اور جاتے ہوئے بعض نصائح بھی کیں۔ ہم دونوں محلہ دارالفضل میں داخل ہوئے تو سڑک پر مکرم ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب کا مکان تھا۔ ان کے چوبارہ پر ایک سنتری کھڑا تھا۔ اندھیرے میں یہ تو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ ملٹری کا ہے یا پولیس کا۔ اسے دیکھ کر ہم رک گئے۔ تھوڑی دیر انتظار کیا تو وہ سنتری تھک کر دیوار سے ٹیک لگا چکا تھا۔ اور ٹیک لگانے کے بعد چند لمحوں میں نیند میں چلا گیا اور ہمارا راستہ خالی ہوگیا۔ ہم دونوں خدام دعائیں کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ جب گلی کے آخر پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ آگے جاکر یہ گلی تو بند ہے۔ ان دنوں میں قادیان کے بیرونی محلوں کے اکثر مکان خالی ہوچکے تھے۔ آخری مکان میں داخل ہوئے تو گھر میں موجود ایک گائے اور بچھڑا بھوک کی وجہ سے بول رہے تھے۔ ان دونوں کے رسّے کاٹ دیے۔وہ آزاد ہوکر باہر نکل گئے۔ اس کے بعد ہم دونوں اس مکان کی چھت پر گئے تو دیکھا کہ پچھلی طرف کھیت ہیں اور مکئی لگی ہوئی ہے۔ ہم دونوں نے چھت سے کود کر اپنا سفر جاری رکھا۔ مکئی کے کھیتوں کے اختتام پر باہر نکلے تو سامنے ریلوے روڈ تھا۔ وہاں پولیس کے سپاہی گشت کررہے تھے۔ دوبارہ مجبوراً مکئی کے کھیت میں پناہ لینی پڑی۔ پھر راستہ بدل کر ایک درخت کے سایہ میں سڑک کو عبورکیا اور ایک باغ میں داخل ہوگئے۔ یہ باویاں والا باغ کے نام سے مشہور تھا۔ وہاں سے محلہ دارالانوار میں محترم چودھری ظفراللہ خاں صاحبؓ کی کوٹھی کی طرف چلے گئے تو ہمیں سامنے دارالواقفین نظر آیا۔ تو میں نے محترم فضل الٰہی صاحب سے کہا کہ ہم تو بھول گئے ہیں۔ انہوں نے واپسی کا ارادہ ظاہر کیا۔ تو میں نے کہا اب آگے کچھ فاصلہ پر تو احمدیہ چوک ہے اگر راستے میں ملٹری یا پولیس کا پہرہ نہ ہوا تو ادھر سے ہی نکل جائیں گے ورنہ پھر کوئی اور راستہ دیکھیں گے۔ ہم جلدی سے وہاں سے نکل کر ہندوؤں والی گلی میں آگئے اور وہاں سے تحریک جدید کے دفتر پہنچ گئے۔ وہاں پر حضرت منشی برکت علی خاں صاحب وکیل الما ل اور مکرم سلطان احمد صاحب بسراء نماز تہجد کے لیے وضوکررہے تھے۔ ان دنوں قادیان میں موجود تمام افراد حتّی المقدور نماز تہجد ادا کرتے تھے۔ وہاں سے گزر کر مین گیٹ قصرِ خلافت پہنچ گئے۔ اس وقت گیٹ پر عملہ حفاظت کے کارکن مکرم ابراہیم صاحب شکار ماچھیاں والے ڈیوٹی پر تھے۔ انہوں نے ہم دونوں کو پہچان کر گیٹ کھول دیا اور ہم اندر آگئے تو سیدھے مسجد مبارک پہنچے وہاں جمعدار مبشر احمد اور جمعدار جمال دین صاحب اور ان کے کچھ اور ساتھی ڈیوٹی پر تھے۔ ان سےمحترم صاحبزادہ مرزاناصر احمد صاحب کا پوچھا۔ انہوں نے سامنے کھلے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہیں۔

اتنے میںمحترم صاحبزادہ صاحب نے ہماری آواز پہچان لی اور کہا اندر آجائیں۔ وہ اس وقت نماز تہجد ادا کررہےتھے۔ اور مصلّٰی پر بیٹھےہوئے تھے۔ ہم نے تمام حالات پیش کئے اور حکومتی اعلان کا بھی ذکر کیا۔ اس پر محترم میاں صاحب نے بتایا کہ کل قصرِ خلافت پر چاروں طرف سے حملہ ہوگیا تھا۔ بلوائیوں کے ساتھ ملٹری اور پولیس بھی تھی۔ ہمیں ہر طرف سےگھیر لیا گیا اور ہماری بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی دوران مکرم غلام محمد صاحب مسجد اقصیٰ میں شہید ہوگئے۔ بعد میں خدام نے ان بلوائیوں کو وہاں سے ہٹادیا۔

اس کے بعد محترم صاحبزادہ مرز اناصر احمد صاحب نے قافلہ والوں کے لیے پیغام دیا کہ یہ بلوائیوں ،ملٹری اور پولیس کی مشترکہ سازش ہے۔ اور شرارت ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اس قافلے میں نہ جائے۔ دوسرا محلہ دارالفضل کو دوبارہ آباد کیا جائے اور تیسرے جس راستے سے تم دونوں آئے ہوا اس راستے سے رات کو ۳۰خدام بھجوادیےجائیں۔ اسی اثناء میں فجر کی اذان ہوگئی تو محترم میاں صاحب نے ہمیں مزید ہدایات دیتے ہوئے فوراً واپس جانے کا کہا کیونکہ ان دنوں قادیان میں کرفیو آرڈر لگا ہواتھا۔ ہم فوراً وہاں سے نکل کر اپنے راستے پر چل دئیے۔ جب ہم محترم چودھری ظفراللہ خاں صاحب کی کوٹھی کے پاس پہنچے تو ہم پر فائرنگ کی گئی۔ ہم جلدی سے زمین پر لیٹ گئےاور کرولنگ کرتے ہوئے قریبی کھیتوں میں داخل ہوگئے اور بقیہ تمام سفر کھیتوں میں کرتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں سے ہمیں محترم کیپٹن شیر ولی صاحب نے رخصت کیا تھا۔ وہاں پر محترم کیپٹن شیر ولی صاحب کو موجود پایا۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے رات کا بقیہ حصہ وہاں گزارا یا وہ اپنے دفتر بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید سے دوبارہ آئے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ ہم دونوں ان کے معیار کے مطابق صحیح منتخب ہوئے تھے۔ جلدی سے وہ ہدایات انہیں پہنچائیں اور آخر پر محترم میاں صاحب کی تاکید دوہرائی کہ قافلے میں ہر گز لوگ نہ جائیں۔ جماعت احمدیہ کے منع کرنے کے باوجود ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل مسلمانوں کا یہ قافلہ قادیان سے روانہ ہوگیا۔ ان جانے والوں پر راستے میں پے در پے حملے ہوئے اور کافی جانی نقصان ہوا۔ جب ہم رات کے اس سفر سے واپس لوٹے تو مکرم مشتاق احمد صاحب آف گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ( جو بعد میں جامعہ احمدیہ ربوہ میں ناصر ہوسٹل کے گیٹ کیپر رہے) نے کہا کہ ابلی ہوئی گندم مجھ سے کھائی نہیں جاتی ( کیونکہ ان دنوں گورنمنٹ کی طرف آٹاچکیاں بندہونے کی وجہ سے لوگ ابلی ہوئی گندم استعمال کررہے تھے۔ عموماً ایسا لوگ پہلے نہیں کرتے تھے یہ سب مجبوری کی وجہ سے ہورہا تھا۔ ) اور بھوک سے مررہے ہیں۔ اس پر میں نے کہا ہندو اور سکھ تمہارے گھروں سے ہر قسم کی چیزیں لے کر جارہے ہیں تم اپنے گھروں سے کھانے پینے کی چیزیں لے آؤ۔ چنانچہ دو تین خدام اکٹھے گئے( ان دنوں اکیلا آدمی کا جانا خطرہ سے خالی نہ تھا) اور پندرہ بیس منٹ میں ایک احمدی گھر سے جس کے مکین اپنا گھر حالات کی وجہ سے خالی کرکے جاچکے تھے ایک ٹین آٹا اور ایک ٹین گھی لے آئے۔ انسان بھی بڑا عجیب ہے۔ چند منٹ پہلے وہ دوست بھوک سے مرنے کا شکوہ کررہے تھے انہوں نےگھی میں آٹا گوندھنا شروع کردیا۔ اب اس آٹے سے تو روٹی پکنے سے رہی۔ ایک احمدی خادم جو کھانے پکانا جانتا تھا اس میں مزید آٹا اور پانی ڈال کر اسے دوبارہ گوندھا تب کہیں جاکر وہ آٹا اس قابل ہوا کہ روٹی پک سکے۔ پھر تمام آٹے کے پراٹھے بنا کر خدام نے کھائے۔ اسی رات تیس خدام قصرِ خلافت گئے تو ان کے ہاتھ حضرت منشی برکت علی خاں صاحب وکیل المال کے لیے محترم صوبیدار عطاء اللہ صاحب نے پراٹھے بنوا کر بھجوائے۔ اس سے اگلی رات ۲۸؍خدام اور بھجوائے اور آخری رات مزید ۳۰؍خدام قصرِ خلافت بھجوائے۔

ایک دن فجر کی نماز بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید میں ادا کررہے تھے کہ فائرنگ کی آواز سنی۔ ڈیوٹی والے خدام میں سے چند سمت کا تعین کرکے محلہ دارالعلوم کے اس مکان کی طرف دوڑے جہاں سے فائرنگ کی آواز سنی تھی۔ ان خدام کو آتے دیکھ کر وہاں موجود سکھ باوجود مسلح ہونے کے خوف کے مارے دوڑ کر محلہ دارالرحمت کی طرف فرار ہوگئے۔ اس طرح خدام کی بروقت کارروائی سے بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید میں مقیم عورتیں اور بچے محفوظ رہے۔ بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد کے مقیم ہونے کی وجہ سے رفع حاجت کے نتیجہ میں فضلہ کافی تعداد میں ادھر جمع ہوگیا۔ اور کافی گند نظر آنےلگا۔ شام کو خدام نے ایک لمبی خندق کھود کر اس پر پردہ لگا کر باقاعدہ لیٹرین بنادیں۔ جسے بیک وقت ۷۰؍افراد بآسانی استعمال کرسکتے تھے۔ اور خندق کی کھدائی سے نکلنے والی مٹی سے وہ گند ڈھانپ دیا۔ پھر بھی کچھ گند باقی تھا۔ وہ خاکروب بلوا کر صاف کردیا گیا۔ یہ صفائی اس لیے بھی ضروری تھی کہ برسات کے نتیجے میں اس گند سے بیماری پھیل سکتی تھی۔

ایک دن حضرت امیر المؤمنین خلیفۃالمسیح الثانی مصلح موعودؓ کی ہدایت پر لاہور سے ۷۰؍ٹرکوں پر مشتمل ایک قافلہ قادیان آیا تاکہ قادیان کے کمزور ،بوڑھے، عورتوں اور بچوں کولاہور منتقل کیا جاسکے۔ جب سب کو ان ٹرکوں میں سوار کرانا شروع کیا تو ہندوستان کی ملٹری اور پولیس وہاں پہنچ گئی۔ اور کہا کہ ہم تمام سامان کی تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ ٹرکوں کا قافلہ جو لاہور سے آیا تھا اس کا انچارج ایک میجر تھا جو اینگلوانڈین تھا(اینگلو انڈین سے مراد وہ جوڑا جس کا ایک فرد انگریز ہو اور ایک فرد انڈین ہو) وہ بہت دلیر آدمی تھا۔ اس نے کہا۔ سب کی تلاشی نہیں دی جائے گی۔ جس پر کوئی شک ہے وہ بتائیں۔ اس کی تلاشی دے دی جائے گی۔ اسی جھگڑا میں دوپہر ہوگئی اور ایک دفعہ سب سوار عورتوں اور بچوں کو نیچے اتاردیا گیا۔ بعد میں اس میجر اور ہندوستانی ملٹری کے درمیان باہمی افہام وتفہیم کے بعد یہ طے پایا کہ اب دوبارہ سامان رکھ لیا جائے اور لوگ بھی سوار ہوجائیں۔ اسی روز حضورِ انور نے لاہور سے مزید چالیس ٹرک قادیان کے باشندوں کی نکاسی کے لیے بھجوادئیے۔ ان ٹرکوں کی آمد کے بعد طے یہ پایا کہ اب سارے ٹرک کل ہی واپس جائیں۔ پہلے ستّر ۷۰اور یہ چالیس ۴۰ ملا کر کُل ایک سو دس۱۱۰ ٹرکوں کا یہ قافلہ ہوگیا۔ اس میں قادیان کی تمام عورتیں، بچے ،ضعیف اور بڑی عمر کے احباب سما گئے۔ پیچھے اب وہی نوجوان ہی رہنے تھے جو حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی کے لیے وہاں حاضر تھے۔ حسب پروگرام اگلے دن تمام لوگ جانے والے ٹرکوں میں سوار ہوئے اور قافلہ لاہور روانہ ہوگیا۔ اس قافلے کے انچارج میجر نے قافلے کے بخیریت لاہور پہنچ جانے پر حضورِ انور سے ملاقات بھی کی۔ اور اس نے حضور سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ دورانِ ملاقات اس نے عرض کیا حضور قادیان کے حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ ان نوجوانوں کو وہاں سے بلوالیں۔ حضور نے حیران ہوکر پوچھا کیوں بلوالیں۔ تو اس نے کہا کہ میں نے وہاں نوجوانوں کا مورال جتنا اونچا دیکھا ہے اتنا میں نے اس سے قبل کبھی نوجوانوں کا بلند مورال نہیں دیکھا۔ اتنے خراب حالات کے باوجود ان نوجوانوں کے چہروں پر افسردگی کے کوئی آثار نہیں دیکھے یہ بہت ہی بہادر نوجوان ہیں اور یہ مرنے والے نہیں ہیں۔ اس پر حضور نے مسکرا کر انہیں جواب دیا وہ اسی لائق ہیں کہ وہ حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی کے لیے وہاں مقیم رہیں۔ یہ بات مجھے لاہور واپس آنے پر معلوم ہوئی۔

بورڈنگ ہاؤس تحریک جدید خالی ہوجانے پر ہندوستان حکومت کے مقامی عہدیداران نے احمدیوں کو حکم دیا کہ وہ قادیان کے مرکزی حصہ میں منتقل ہوجائیں اور تمام بیرونی محلہ جات خالی کردیں۔ ان کا مقصد قادیان سے احمدیوں کا مکمل انخلاء کے منصوبہ کو کامیاب کرنا تھا۔ لیکن احمدی خدام اپنے مرکز کی حفاظت کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ایک دن محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے خدام سے کہا کہ ڈھاب کے کناے فلاں گھر میں کچھ ضروری سامان لانے سے رہ گیاہے۔ اور اب ایک ہندو وہاں مقیم ہے۔ اس لیے چند خدام وہاں جائیں اور وہ سامان لے آئیں۔ چنانچہ خدام وہاں گئے اور گھر پر جاکر دستک دی اور کہا خاموشی سے اپنے کمرہ میں چلے جائیں اور دروازہ کھول دیں ہمارا سامان پڑا ہے اس کی ہمیں ضرورت ہے۔ وہ ہم لینے آئے ہیں۔ انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ خدام نے چند منٹوں میں اپنا سامان سمیٹا اور واپسی کی راہ لی۔ جب محترم میاں صاحب کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے بڑی خوشنودی کا اظہارکیا۔

ان ہی دنوں میں مَیں اور میرے ساتھی جس جگہ رہ رہے تھے اس کے نزدیک ایک چھوٹی سی مسجد تھی اور وہ آبادی کے انخلاء کی وجہ سے بے آباد ہوچکی تھی۔ وہ مسجد ہم نے مل کر صاف کی اور اس میں نمازیں ادا کرنی شروع کردیں۔ غالباً یہ مسجد فضل (محلہ احمدیہ ) تھی۔ اس سے قبل باری باری نماز کے لیے مسجد مبارک میں جاتے تھے۔ کچھ خدام ڈیوٹی کرتے اور کچھ نماز ادا کرتے۔ اور تمام خدام اپنے اپنے گھر میں نمازوں کے اوقات میں باقاعدہ اذانیں دینے لگے۔ اس پر ایک ہندو نے کہا جب سارا قادیان احمدیوں سے آباد تھا تو اس وقت تو اتنی اذانیں نہ ہوتی تھیں۔ اب تو ہر گھر سے اذان کی آواز آتی ہے۔ اس طرح ان اذانوں سے ہندو اور سکھ لوگوں پر ایک خاص اثر ہونے لگا۔

جب عیدالاضحی قریب آئی تو خدام کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ گوشت کا کوئی انتظام ہو۔ الحمدللہ خداتعالیٰ نے انتہائی خراب اور مخدوش حالات میں بھی خدام کی دلجوئی کے لیے گوشت کا خاطر خواہ اور مناسب انتظام کردیا اور عید کے دنوں میں مکرم محمود احمد صاحب ( جو کہ بعد میں درویشان قادیان میں شامل ہوئے) چک نمبر ۹۹شمالی ضلع سرگودھا نے جو اکثر خدام کا کھانا تیار کیا کرتے تھے۔ انہوں نے خدام کو گوشت کی مختلف ڈشیں تیار کرکے کھلائیں اور تمام خدام ان کی اس خدمت پر ان کے شکر گزار ہوئے۔

جب قادیان کے حالات مزید خراب ہوگئے اور حکومت نے احمدیوں کو موجودہ محلہ احمدیہ تک محدود کردیا تو حضورِ انور کی ہدایت پر خدام کی قرعہ اندازی کرکے ۳۱۳منتخب افراد کے علاوہ باقی افراد کو لاہور واپس آنے کی ہدایت کردی گئی۔ چنانچہ آخری قافلہ محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی قیادت میں لاہور جانے کے لیے تیار تھا میں بھی اس آخری قافلے میں شامل تھا۔ قافلے کی روانگی کا منظر بڑا رقّت آمیز تھا۔ ہماری واپسی کے بعد اب قادیان میں صرف درویشان قادیان ہی مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کے لیے رہ گئے۔ خداتعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائے۔ وہ بڑی جوانمردی کیساتھ اپنے عہد وفا کو نبھا رہے ہیں۔

قادیان سے واپسی پر راستے میں جس جگہ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۷ءکو قادیان سے آنےوالے ۶۰ساٹھ ہزار افراد کے قافلے کا جو قتلِ عام ہوا وہاں قرآن شریف کے شہید اوراق اور لاتعداد لاشوں کے پنجر پڑے ہوئے تھے اور تعفن کی فضا تھی۔ احمدی خدام نے وہاں سے قرآن کے بکھرے ہوئے اوراق اکٹھے کئے اور شام کو یہ قافلہ بخیریت لاہور پہنچ گیا۔ مجھے ان مشکل حالات میں دیگر خدام کے ساتھ حفاظت ِمرکز قادیان کی ڈیوٹی دینے کی توفیق ملی۔ بسا اوقات ایسے حالت پیدا ہوجاتے تھے کہ بظاہر امن ختم ہوتا ہوا نظر آتا تھا۔ پھر خداتعالیٰ وہ حالات بدل دیتا۔ ان دنوں وہاں جو خدام قادیان میں ڈیوٹی کررہے تھے سب کا ایک ہی جذبہ تھا کہ مرکز کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردیں گے۔ ان میں سے بعض خدام کو شہادت بھی نصیب ہوئی اور بعض ان میں سے زخمی بھی ہوئے مگر ان کے جذبۂ ایمان میں کوئی لغزش نہ آئی۔ اور یہ خدا م بہادری کے ساتھ مرکز ِقادیان کی حفاظت کرتے رہے۔ دنوں ،ہفتوں اور مہینوں جاگ جاگ کر ڈیوٹی دیتے رہے۔

لاہور پہنچ کر میں عملاً حفاظت ِمرکز کی ڈیوٹی سے تو فارغ ہوچکاتھا۔ تو مجھے اپنے والد ، بہن بھائیوں اور اپنے اہل وعیال کا خیال آیا کہ پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوں گے۔ اور کہاں ہوں گے۔ پھر گھر کے تمام افراد کے چہرے ایک ایک کرکے یاد آنے لگے۔ لاہور میں پاکستان آنے والے مہاجرین کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لٹے اور غریب الحال ، بھوکے پیاسے مسلمان ہر روز لاہور پہنچ رہے تھے۔ کسی کا بھائی اس ہجرت میں شہید ہوگیا۔ کسی کی بہن برباد ہوگئی۔ کسی کا والد مارا گیا کوئی اپنے عزیزو اقارب سے بچھڑ گیا۔ گویا بدحواسی کے اس عالم میں کسی کا اپنے کسی عزیز کو تلاش کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ میں روزانہ مہاجر کیمپوں میں جاتا اور ان کو تلاش کرتا مگر شام کو تھک ہار کر واپس آجاتا۔ اگلے دن پھر تازہ دم ہوکر نکلتا۔

ایک روز میں رتن باغ لاہور میں تھا کہ میرے ماموں حضرت منشی امیر محمد صاحب اہرانویؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ سخت پریشانی کے عالم میں وہاں آئے۔ انہیں دیکھ کرمیں بہت خوش ہوا۔ اور باری باری تمام عزیزوں کی خیریت دریافت کی۔ اس پر حضرت منشی صاحب نے فرمایا پنجاب کے دیگر دیہات کی طرح جب ہمارے گاؤں اہرانہ اور قریبی گاؤں پھگلانہ اور میٹیانہ میں حالات خراب ہوئے تو تینوں جماعتوں نے مل کر ہجرت کا پروگرام بنایا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے ہم سب خیریت سے واہگہ پہنچ گئے۔ مالی نقصان تو سب کا ہوا ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے مگر جانی نقصان خداتعالیٰ کے فضل سے کوئی نہیں ہوا۔ تاہم راستے میں صرف مکرم رانا نیاز احمد خاں صاحب آف میٹیانہ کی بیوی طبعی طور پر فوت ہوئی ہیں۔ جسے راستے میں ہی دفن کردیاگیا۔ اس کے علاوہ قافلہ والوں کے ساتھ سب نے صعوبتیں تو برداشت کی ہیں لیکن پھر بھی امن کے ساتھ آگئے۔ الحمد للہ

اس کے بعدحضرت منشی صاحب نے کہا کہ مجھے حضرت نواب عبداللہ خان صاحب سے ملناہے۔ میں نے ان سے کام کا پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ان سے کچھ روپے لینے ہیں۔ اس وقت میری جیب میں وہی تیس روپے تھے جو قادیان میں تلاشی کے بعد بچ گئے تھے۔ میں نے وہ انہیں دے دیے۔ اس پر حضرت منشی صاحب نے کہا کہ اب حضرت نواب صاحب سے ملنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد میں حضرت منشی صاحب کے ساتھ احمدیہ مسجد دہلی دروازے گیا وہاں جاکر انہوں نے بتایاکہ ہمیں سیالکوٹ کے قریب ایک گاؤں جوڑیاں میں رہنے کے لیے جگہ ملی ہے۔ اس لیے وہاں جانے کا ارادہ ہے۔ وہیں مسجد میں مکرم بشیر احمد صاحب بی اے پنام والے( جو رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں کام کرتے تھے)ملے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کے سب گھر والے خیریت سےہیں۔ اور لائل پور (جسے آج کل فیصل آباد کہتے ہیں) کے کسی گاؤں میں ہیں۔ لیکن مجھے گاؤں کا نام معلوم نہیں ہے۔ کل آپ ۳۲؍ڈیوس روڈ آجائیں وہاں مکرم عبدالمنان صاحب کریام والے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ان کو گاؤں کا پتہ ہے۔ اگلی شام میں رتن باغ سے پیدل ہی ۳۲ڈیوس روڈ پہنچا جو کہ بطور ہوسٹل استعمال ہورہا تھا۔ وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ مکرم عبدالمنان صاحب ٹھہرے ہوئے تو یہاں ہی ہیں۔ مگر بڑی دیر سے رات گئے واپس آتے ہیں۔ میں نے رات دس بجے تک ان کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ اس پر میں واپس رتن باغ آگیا ار رات وہاں قیام کیا۔ اگلی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد پھر ۳۲؍ڈیوس روڑ گیا۔ ابھی سب لوگ اپنے بستروں میں ہی تھے۔ اپنے کاموں پر نہیں گئے تھے۔ وہاں مکرم عبدالمنان صاحب مل گئے۔ انہوں نے بتایا لائلپور[حال فیصل آباد] سے تقریباً پندرہ میل کے فاصلے پر گوجرہ کی طرف جانے والے ریلوے پر سر شمیر ریلوے اسٹیشن ہے۔ اسٹیشن کے قریب ہی لنگیری گاؤں کے حضرت چودھری غلام قادر خاں صاحب مقیم ہیں۔ ان کے گاؤں کا نمبر چک نمبر۸۴ج ب ہے اور وہاں سے دو میل کے فاصلہ پر ایک دوسرا گاؤں چک نمبر ۸۹ج ب رتنا ہے وہاں مکرم بابو غلام جیلانی صاحب پنام والے اور ان کا بیٹا مکرم رانا منیر احمد خاں صاحب رہتے ہیں اور سر شمیر سے تقریباًدو میل کے فاصلہ پر ایک چک نمبر ۸۸ج ب ہسیانہ ہے۔ وہاں پر آپ کے والد صاحب بہن بھائی اور ان کے بچے مقیم ہیں۔ جب مجھے اپنے عزیزواقارب کا علم ہوگیا تو میں چاہتا تھا کہ اولین فرصت میں ہی ان سے جاکر ملوں۔ اس سلسلہ میں جب میں نے دفتر سے چھٹی مانگی تو جواب ملا کہ جلسہ سالانہ نزدیک ہے اس لیے چھٹی ملنی مشکل ہے۔ اس پر میں نے سارا حال احوال بتایا تو محترم مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب نےکہا حفاظت ِمرکز کی کچھ چٹھیاں لے جاؤ اور وہ بھی دے آؤ اور اپنے گھر والوں سے بھی مل آؤ۔ اور ان کی خیرخیریت معلوم کرلو۔ چنانچہ لائلپور اور سرگودھا کی جماعتوں کی چٹھیاں دے دیں۔ میرے پاس اس وقت ایک پیسہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے میرے سفر کا زادِ راہ مہیا کردیا۔

اب جو سفر کی مشکلات سامنے تھیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان دنوں ریل گاڑیوں کی شدید قلت تھی اور مہاجروں کی بے پناہ زیادتی کے باعث کسی مسافر کا ٹکٹ حاصل کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ اگر کسی کوٹکٹ مل گیا تو پھر ریل میں جگہ حاصل کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی اچھا انتظام کردیا۔

میں چند دن وہاں رہا ۔پھر حفاظت ِمرکز کی چٹھیاں ضلع سرگودھا اور ضلع لائلپور دے کر لاہور اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گیا۔ اور جلسہ سالانہ منعقدہ رتن باغ لاہور دسمبر ۱۹۴۷ء کے لیے مجوزہ ڈیوٹی دینے لگا۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button