توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیر ت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء
٭… آنحضرتﷺکو جب اللہ تعالیٰ نے انسانِ کامل بناکر تمام انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تو پھر ہر خلق کو آپؐ کی ذات میں پیدا فرما کر اسےخلق عظیم بنادیا اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا چاہتے ہو تو پھر اس عظیم رسول ؐکی پیروی کرو۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جہاں ہر خلق کو اعلیٰ معیار تک پہنچایا وہاں مومنوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اِن اخلاق کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو
٭…اگر تم توکّل کرو اللہ پر جیسے اُس کے توکّل کا حق ہے تو ضرور تمہیں رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں (حدیث نبویﷺ)
٭… رسول کریمﷺ کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہلِ دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔ہر کام میں آپؐ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا۔ گویا توکّل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیا میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد کوئی آپؐ جیسے توکّل والا انسان پیدا ہوا ہے (حضرت مصلح موعودؓ)
٭…مکرم مرزا صفدرمحمود صاحب شہید آف منڈی بہاؤالدین، محترمہ امۃ العزیز صاحبہ بنت سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور مکرم رشید احمد ایاز صاحب پنشنر صدر انجمن احمدیہ ربوہ کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۴؍تبوک ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۴؍ستمبر۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
آنحضرتﷺکو جب اللہ تعالیٰ نےانسانِ کامل بناکر تمام انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تو پھر ہر خلق کو آپؐ کی ذات میں پیدا فرما کر اسےخلق عظیم بنادیا اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا چاہتے ہو تو پھر اس عظیم رسول ؐکی پیروی کرو۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جہاں ہر خلق کو اعلیٰ معیار تک پہنچایا وہاں مومنوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اِن اخلاق کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
جیسا کہ آج کل آنحضرتﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہو رہا ہے، اس ضمن میں
آج توکّل علیٰ اللہ کے حوالےسے آپؐ کی سیرت کے پہلو، آپؐ کا مقام اور آپؐ کے عمل کا ذکر کروں گا۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے اے نبی! …اللہ پر توکّل کر یقیناً اللہ کارسازی میں کافی ہے۔پس اس آیت میں مومنوں کو بھی کوشخبری ہے کہ اگر وہ ان احکامات پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ اُن کے لیے بھی کافی ہوگا۔
پھر مومنوں کو توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اللہ کہ سوا کوئی معبود نہیں، اورمومنوں کو اللہ ہی پر توکّل کرنا چاہیے۔
پس
اگر اللہ تعالیٰ پر توکّل کریں گے، اس کی عبادت کا حق ادا کریں گے تو یقیناً نشانات بھی دیکھیں گے۔ اس کا اعلیٰ ترین نمونہ ہمیں آنحضرتﷺ کی ذات میں ملتا ہے اور آپؐ کے طفیل اس سے صحابہؓ نے بھی فیض پایا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لیے جانباز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکّل کرنے والے تھے۔فرمایاکہ تبتّل یعنی خدا تعالیٰ سے دل لگانا اور دنیا کو چھوڑنا اس کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبرِ خداﷺ ہیں۔ نہ آپؐ کو کسی کی مدح کی پرواہ نہ زمّ کی۔ کیا کیا آپؐ کو تکالیف پیش آئیں مگر کچھ بھی پرواہ نہ کی۔فرمایا کہ جو شخص متبتل ہوگا وہ متوکّل بھی ہوگا۔
حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر تم توکّل کرو اللہ پر جیسے اُس کے توکّل کا حق ہے تو ضرور تمہیں رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔
حضرت ابوزرؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں بے رغبتی حلال کو حرام کرنا نہیں ہے اور نہ مال ضائع کرنا ہے۔ دنیا میں بےرغبتی یہ ہے کہ جو تمہارے دونوں ہاتھوں میں ہے وہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہےا ور مصیبت کے ثواب کے بارے میں تم ایسے ہو کہ جب تمہیں مصیبت پہنچے تو تم اس میں زیادہ راغب ہو کہ کاش! وہ تمہارے لیے زیادہ باقی رہتی۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابنِ آدم کے دل سے ہر وادی میں ایک راستہ ہے۔ جس شخص کے دل نے اس کے تمام راستوں کی پیروی کی اللہ نہیں پرواہ کرتا کہ اسے کسی وادی میں چلا دے یا ہلاک کردے اور
جو اللہ پر توکّل کرے تو اللہ اس کے لیے مختلف راہوں میں چلنے کے لیے کافی ہوگا۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر یعنی دین کی فکر بنالے، اپنا دین دیکھےکیا ہے، اپنی روحانی حالت دیکھے، اللہ تعالیٰ سے تعلق دیکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی تمام فکروں کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔
آنحضرتﷺکس باریکی سے اللہ تعالیٰ پر توکّل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے روزمرّہ کے معمولات میں دعا کیا کرتے تھے۔ حضرت ام سلمہ ؓنے بیان کیا کہ نبیﷺ جب اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے تھے اللہ کے نام کے ساتھ، مَیں نے اللہ پر توکّل کیا ۔اے اللہ!ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس سے کہ ہم پھسل جائیں یا ہم بھٹک جائیں یا ہم ظلم کریں یا ہم پرظلم کیا جائے یا ہم جہالت سے پیش آئیں یا ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔
نبیﷺ جب گھرسے باہر تشریف لاتے تو کہتے اللہ کے نام کے ساتھ مَیں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، اور اللہ ہی کی توفیق سے نیکی کی طاقت ہے اور برائی سے بچنے کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اے اللہ!مَیں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مَیں گمراہ ہوجاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے۔ مَیں لغزش کا شکار ہوجاؤں یا مجھے لغزش میں ڈال دیا جائے۔ مَیں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، مَیں جہالت کا ارتکاب کروں یا میرے ساتھ جہالت کا برتاؤ کیا جائے۔ مَیں کسی سے زیادتی کروں یا میرے ساتھ زیادتی کی جائے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ یہ کہے اے اللہ! مَیں تجھ سے گھر میں داخل ہونے کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اور گھر سے باہر نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوتے ہیں اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلتے ہیں اور اللہ پر جو ہمارا ربّ ہے ہم توکّل کرتے ہیں۔ پہلے یہ دعا پڑھے اور پھر اپنے گھروالوں کو سلام کرے۔
مسیلمہ کذاب نےاپنے لشکر کے ساتھ آپؐ کی جماعت میں آنے کی پیشکش کی مگر ساتھ شرط لگادی کہ اگر محمد(ﷺ)اپنے بعد مجھے جانشین بنادیں تو مَیں ان کا پیرو ہوں گا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کےماننے والے ایک لاکھ لوگ تھے۔ رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں ایک کھجور کی چھڑی تھی آپؐ جب اس کے پاس آئے تو فرمایا کہ اگر تُو مجھ سے یہ (لکڑی کا ٹکڑا) بھی مانگے تو مَیں یہ بھی نہ دوں گا۔ تُو کبھی بھی اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ
رسول کریمﷺ کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہلِ دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔ہر کام میں آپؐ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا۔ گویا توکّل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیا میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد کوئی آپؐ جیسے توکّل والا انسان پیدا ہوا ہے۔
خطبے کے دوسرے حصے میں حضورِانور نےدرج ذیل مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب پڑھانےکا اعلان فرمایا:
٭…مکرم مرزا صفدر محمود صاحب ابن مکرم غلام رسول صاحب ساکن منڈی بہاؤالدین۔ مرحوم کو گذشتہ دنوں ۲؍ستمبر کو شہید کردیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کسی نامعلوم شخص نے تعاقب کرکے پیچھےسے فائر کرکے آپ کو شہید کیا۔ شہادت کے وقت مرحوم کی عمر ۶۵؍سال تھی۔ شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کی نانی محترمہ حسین بی بی صاحبہ آف کھاریاں ضلع گجرات کے ذریعے سے ہوا تھا جنہوں نے خلافتِ ثانیہ کے ابتدائی ایام میں احمدیت قبول کی تھی۔ شہید مرحوم اپنے علاقے میں نمایاں احمدی تھے اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتے تھے۔ پیشے کے لحاظ سے مکینک تھے، اور اپنی وَرک شاپ تھی، اچھا کاروبار تھا۔ راست گوئی، اصولوں کی پابندی، جھوٹ سے نفرت نمایاں وصف تھے۔ ہر آنے والے سے بشاشت سے ملتے۔ خلافت سے عشق تھا، پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد میں باقاعدہ تھے۔ ایم ٹی اے سے استفادہ کرنے والے، ہر ماہ کی یکم تاریخ کو اپنے چندے کی ادائیگی کا اہتمام کرنے والے تھے۔ روزانہ باقاعدگی سے صدقہ دیتے، ہرماہ صدقہ بکرا کیا کرتے، نظامِ وصیت میں خود بھی شامل تھے، اور اہلِ خانہ کو بھی نظامِ وصیت سے منسلک کیا۔ ملازمین کا بھی خیال رکھنے والے تھے، کوئی ضرورت پڑتی تو انہیں پورا کرتے۔ بوقتِ شہادت بطورنائب صدر جماعت، سیکرٹری جائیداد، نائب زعیم انصار اللہ، منتظم مال انصاراللہ منڈی بہاؤالدین شہر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ مسجد کا انتظام بھی ان کے سپرد تھا، چابی ان کے پاس تھی، ہر نماز پر جاکر مسجد کھولا کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو شادی شدہ بیٹے مکرم کامران صفدر صاحب اور مکرم لقمان صفدر صاحب شامل ہیں ۔
٭…محترمہ امة العزیز صاحبہ جن کی گذشتہ دنوں ۶۲؍سال کی عمر میں وفات ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت سیدہ امِ طاہر صاحبہ کی نواسی تھیں اور صاحبزادی امة الحکیم صاحبہ اور مکرم داؤد مظفر شاہ صاحب کی بیٹی تھیں۔حضورِانور نے فرمایا میری خالہ زاد بھی تھیں اور میری اہلیہ کی سب سے چھوٹی بہن بھی تھیں۔ ان کا نکاح مکرم خالد زُفر صاحب کے ساتھ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے پڑھایا تھا۔ مرحومہ کے دو بیٹے ہیں۔دونوں اچھے لائق ہیں۔ دونوں بیٹوں نے اپنی والدہ کی حتیٰ المقدور خدمت کی ہے۔ حضورِ انور نے مرحومہ کے صبر کی تعریف کی اور فرمایا کہ مَیں نے ان جیسا صبر کرنے والا شاذ ہی دیکھا ہے۔ ہمدرد اور غریب پرور تھیں، خلافت سے محبت کرنے والی، ہر کسی سے دل صاف رکھنے والی، تکلیف برداشت کرنے والی، جھگڑوں سے بچنے کے لیے خود کو دنیا سے الگ کرلیا تھا۔غیرمعمولی توکّل کرنے والی تھیں۔ چندوں میں باقاعدہ تھیں، بچوں کی اچھی تربیت کرنے والی، ستاری کرنے والی تھیں۔
٭…مکرم رشید احمد ایاز صاحب پنشنر صدر انجمن احمدیہ جو گذشتہ دنوں ۸۶؍برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کےعلاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم طاہر احمد ظفر صاحب مربی سلسلہ نائب پرنسپل جامعةالمبشرین گھانا ہیں۔ جومیدانِ عمل میں ہونے کی وجہ سے والد کے جنازے میں شریک بھی نہیں ہوسکے۔
حضورِانور نے تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا فرمائی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء




