حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

فتح کے وقت بھی آنحضورؐکی طرف سے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ

پھر ہم اس رنگ میں بھی آپؐ کے اخلاق کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔ برداشت اور صبر کا کیا معیار ہے اور کس طرح آپ نصیحت فرماتے تھے۔ ایک بدّو مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کی طرف روکنے کے لئے دوڑے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا دو۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ تم لوگوں کی آسانی کے لئے پیدا کئے گئے ہو نہ کہ تنگی کے لئے۔ اس پر وہ بدّو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا ذکر کیا کرتا تھا۔ (سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی البول یصیب الارض حدیث 147)

آجکل تو لگتا ہے کہ مسلمان حکومتیں بھی، علماء بھی، گروہ بھی، دنیا میں تنگی پیدا کرنے کے لئے سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ نہ چھوٹی بات پہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہیں نہ بڑی بات پہ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم برا کر رہے ہو یا اچھا کر رہے ہو تو پھر اپنے ہمسائے کی طرف دیکھو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الثناء الحسن حدیث 4222) پھر افسروں کو فرمایا کہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کا تب پتا چلے گا جب تم اپنے آپ کو قوم کا خادم سمجھو گے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عوام کی خدمت کرو گے۔ (کنز العمال جلد6 صفحہ710 حدیث 17517 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت 1885ء) یہ معیار ہمارے لیڈروں میں اور افسروں میں کہاں نظر آتے ہیں۔ پس ہمارے جو جماعتی عہدیدار ہیں ان کو بھی اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

پھر جب تمام طاقتیں آپؐ کو مل گئیں اور عرب پر فتوحات ہو گئیں تو ہم آپؐ کے معیارکا یہ حال دیکھتے ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے کس طرح اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کہ دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ ایسے دشمن جو جانی دشمن تھے جنہوں نے مسلسل تکلیفیں دی تھیں اور پھر یہی معافی جو ہے وہ بہت سوں کے اسلام لانے کا موجب بن گئی۔

(خطبہ جمعہ ۲؍مارچ ۲۰۱۸ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۳؍مارچ ۲۰۱۸ء)

مزید پڑھیں: مخلوقِ خدا سے آنحضورﷺ کی بے مثال شفقت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button