گلدستہ معلومات
حکایت
بعض خواہشات مضر ہوتی ہیں
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ مومنوںکو اس بارہ میںنصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَلَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی(طٰہٰ: 132) یعنی تم اپنی گردن لمبی کرکرکے یہ نہ دیکھا کرو کہ فلاں کو جوکچھ ملا ہے وہ مجھے کیوں نہیں ملا۔تمہیں کیا پتہ کہ اس چیز کاملنا تمہارے لئے فائدہ بخش تھا یانہیں۔اگر وہی کچھ تمہیں مل جاتا توممکن تھا تم تکلیف میں پڑ جاتے۔بیشک اگر کسی کے پاس د س ارب روپیہ بھی موجود ہو تووہ یہ دعاکرسکتا ہے کہ خدایا میں تیرے مزید فضلوں کا محتاج ہوںلیکن اگر کسی کے پاس صرف دس روپے ہوں اور وہ ہروقت کُڑھتارہے اور ایک بے چینی اوراضطراب اس میں پایاجائے اوروہ کہے کہ فلاں کے پاس تو سوروپیہ ہے اور میرے پاس صرف دس روپے ہیں اوروہ خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا پھرے تویہ درست نہیں ہوگا۔پس بے شک اللہ تعالیٰ کے فضلوں اوراس کے انعاموں کو طلب کرو۔مگر ہمیشہ یہ عادت ڈالو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں جس مقام پر رکھا ہے اس مقام کے متعلق تمہارے دل میں کبھی خفگی پیدانہ ہو۔اور تم یہ نہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں گرایاہواہے اور تمہاراغیرتم سے اچھا ہے۔
مثنوی رومی والوں نے ایک حکایت لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں ایک سپیراتھا جس نے ایک ایساسانپ پکڑا جو کسی اورسپیرے کے پاس نہیں تھا۔وہ سانپ اس نے نہایت سنبھال کر رکھا ہواتھا اس کے دوست آشنا آتے تووہ بڑے شوق سے وہ سانپ ان کو دکھا تا۔ایک دن جووہ صبح کو اٹھا تواس نے دیکھا کہ گھڑے میں سے سانپ نکل گیا ہے۔اتفاقاًاس کا ڈھکنا کھلا رہ گیااورسانپ نکل گیا۔اب اسے بڑی گھبراہٹ ہوئی اوراس نے خدا تعالیٰ کے حضور رونا اورچلانا شروع کردیا۔کہ خدایامیراسانپ مجھے مل جائے۔خدایا میراسانپ مجھے مل جائے۔گھنٹہ دوگھنٹہ دعاکرنے کے بعد وہ گھڑ ے کامنہ کھول کر دیکھتاکہ سانپ اس میں واپس آگیاہے یا نہیں۔مگر سانپ کہاں آتا۔وہ پھر دعامیں مشغول ہوجاتا اسی طرح وہ ساراد ن اورساری رات دعاکرتارہا۔جب صبح ہوئی تو ایک شخص آیا اوراس نے اسے آکر کہا کہ فلاں گھر میں چلئے وہاں ایک نئی قسم کے سانپ نے ایک شخص کوکاٹا ہے اوروہ مرگیا ہے۔سب سپیرے وہاں جمع ہیں سانپ پکڑاہواہے اورآپ کو بھی بلایا گیاہے تاکہ آپ اس سانپ کو دیکھ لیں۔جب وہ گیا اوراس نے سانپ دیکھا تووہ وہی تھا جواس کے گھر سے بھاگاتھا اورجس کے لئے چوبیس گھنٹے سے دعائیںکررہاتھا۔معلوم ہوتا ہے اس کے اندر کوئی نیکی تھی جو اللہ تعالیٰ کو پسند آگئی۔سانپ اس کے گھر سے بھا گا اور دوسرے گھر میں چلا گیا۔دوسرا شخص یہ سمجھ کر کہ یہ نئی قسم کاسانپ ہے اسے پکڑنے لگا توسانپ نے اسے ڈسا اور وہ مر گیا جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ میں گر گیااورکہنے لگا خدایا میں توسمجھتاتھاکہ تونے میری دعانہیں سنی۔مگر درحقیقت تونے میری دعاسن لی تھی اوراس کانہ ملنا ہی میرے لئے مفید اوربابر کت تھا (مثنوی مولانا روم دفتر دوم صفحہ 31،مارگیر)۔تو ہزاروں دفعہ انسان ایسی خواہشیں کرتاہے جو مضر ہوتی ہیں۔(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 280-281)
سوال جواب
ملاقات طلبہ جامعہ احمدیہ
مہینہ میں ایک یا دو خط لکھو تا کہ تعلق قائم ہو جائے
٭… جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ایک طالب علم نے سوال کیا: بعض لوگ حضور نور کو ہفتہ وارخط نہیں لکھنا چاہتے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حضور انور کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ یہ بہانہ ہے۔ اگرتوحقیقت میں ایسا ہے تو پھر
ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ میرے لئے دعا کر رہا ہو اور کم از کم دو نفل تو روز پڑھتا ہو۔
لیکن اگر دعا بھی نہیں کر رہے اور خط بھی نہیں لکھ رہے تو تعلق نہیں قائم ہوسکتا۔
لمبے لمبے خط نہ لکھو۔ ایک دو صفحے کے لکھو۔ مہینہ میں ایک یا دو خط لکھوتا کہ تعلق قائم ہوجائے۔ کام کی بات بھی لکھنی ہوتو مختصر خط لکھا جاسکتا ہے۔
میں تو ہمیشہ جماعتی طور پر بھی اور ذاتی طور پر بھی جب حضرت خلیفہ المسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کو خط لکھا کرتا تھا تو پہلے سوچتا تھا کہ کیا مضمون ہونا چاہیے۔ پھرسوچتا تھا کہ چارپانچ لائنوں سے زیادہ خط نہیں ہونا چاہئے۔ تا کہ ان کی نظروں کے سامنے سارے Points آجائیں۔ ایسے خط کے جواب بھی آجاتے ہیں۔ تین صفحوں کا خط بھی لکھوگے تو میری ڈاک کی ٹیم کو چلا جائے گا اور وہ ایک لائن کا خلاصہ نکال کر مجھے دے دیں گے۔ ہو سکتا ہے جو خلاصہ وہ بنائیں اس میں وہ Points نہ آسکیں جسے تم واضح کرنا چاہتے ہو۔ اس لئے
مختصر بات کرنی چاہئے۔ جامعہ کے طلباء اور مربیان کو تو ضرور لکھنا چاہئے۔
٭…٭…٭
خط تو بےشمار آتے ہیں
٭… ایک اور طالب علم نے سوال کیا: آپ کو ایک دن میں کتنے خط آتے ہیں؟
اس پر حضور انور نے فرمایا کہ
خط تو بیشمار آتے ہیں، پندرہ سولہ سو تو آتے ہوں گے۔ لیکن جو میں خود دیکھتا ہوں وہ پانچ چھ سو ہیں۔
باقی میں اپنی ٹیم کو دے دیتا ہوں جو پڑھ کر اور خلاصے بنا کر مجھے دے دیتے ہیں۔ ہفتہ میں سات آٹھ ہزار خط کا خلاصہ بن کر آتا ہے۔ اس طرح روزانہ ہزار خطوں کا خلاصہ بن کر آجاتا ہے۔ پھر کہو گے لکھتے کتنا ہو، جواب کتنے دیتے ہو۔ کبھی تمہیں میرے دستخط کے ساتھ جواب آیا ہے۔ بہت سارے خط پرائیویٹ سیکرٹری کے دستخط کے ساتھ آجاتے ہیں۔
میں بھی بہت سے خطوط پر دستخط کرتا ہوں۔ پانچ چھ سو پر روزانہ کر دیتا ہوں۔
(دورہ کینیڈا2016ء۔الفضل ربوہ 19 نومبر 2016ء)
٭…٭…٭
