تازہ ترین: اگر انقلاب پیدا کرنا ہے تو قربانیوں اور دعاؤں کی ضرورت ہے (حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء کے موقع پر مستورات سے خطاب کا خلاصہ)

٭…اسلام اعلیٰ تعلیم سے نہیں روکتا بلکہ اس کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام ترقی کرنے اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی طرف توجہ دلاتا ہے لیکن ساتھ کہتا ہے کہ اپنے فرائض بھی ادا کرو
٭…آج احمدی خواتین کو یہ سامنے رکھنا ہے کہ انہوں نے ان فرائض کو کس طرح ادا کرنا ہے۔ گھر ، معاشرے، بچوں اور خاندان کی بہتری کے لیے اپنا نمونہ دکھانا ہے۔ اور اس پر غور کرنا ہے کہ ان کے خیال میں یا حقیقت میں مرد اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے تو انہوں نے آئندہ نسلوں میں اعلیٰ کردار اور دین دار مرد اور عورتیں پیدا کرنی ہیں تاکہ حضرت مسیح موعودؑ سے جو عہدِ بیعت کیا ہے اس پر عمل کر کے ہم ایک حسین معاشرہ قائم کریں۔ اس لیے حضرت مسیحِ موعودؑ کیاچاہتے ہیں وہ دیکھنا ہو گا
٭… آج کل میں آنحضرت ﷺ کے اسوے اور اس زمانے میں آپﷺ کے غلام صادقؑ کے اسوے کے بارے میں مختلف اوصاف کا ذکر کر رہا ہوں۔ کس طرح آپْ کے نمونے تھے اور کس طرح اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے وہ نمونے ہمارے سامنے پیش کیے۔ ان پر غور کریں، دیکھیں اور سنا کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں
(۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) آج جماعت احمدیہ جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کا دوسرا روز ہے۔ اس روز حسب روایت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مستورات سے خطاب فرماتے ہیں۔ حضورِانور اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے جلسہ سالانہ میں شمولیت فرما رہے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں سے حضور انور کے جلسہ سالانہ جرمنی پر براہ راست خطابات کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ایوانِ مسرور اسلام آباد میں اجلاس مستورات میں شمولیت کے لیے خواتین کے بیٹھنے کا انتظام تھا اور یہیں کے سٹیج سے حضور انور نے خطاب فرمایا۔ تمام کارروائی کے دوران ایم ٹی اے پر ساتھ ساتھ جرمنی سے مردانہ جلسہ گاہ کے مناظر بھی دکھائے جارہے تھے۔ علاوہ ازیں حضورِانور کے سامنے جو سکرین موجود تھی اس میں جرمنی کا جلسہ گاہ مستورات دکھایا جا رہا تھا۔
برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب حضورِانور ایوانِ مسرور میں رونق افروز ہوئے۔ اس موقع پر جلسہ گاہ مستورات سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے گئے۔ حضور انور کرسیٔ صدارت پر تشریف لائے اور تمام حاضرین کو ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کا تحفہ عنایت فرمایا۔
حضور انور نے اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز فرمایا۔ جلسہ گاہ مستورات جرمنی سے عائشہ محمود صاحبہ نے سورۃ الفرقان کی آیات ۶۴ تا ۷۰ کی تلاوت کی اور تفسیر صغیر سے ان آیات کا ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں در ثمین سے منظوم اردو کلام ’’لوگو سنو کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں‘‘ انیقہ شاکر باجوہ صاحبہ نے خوش الحانی سے پيش کيا۔
بعد ازاں سیکرٹری امور طالبات لجنہ اماء اللہ جرمنی صائمہ نصیر صاحبہ نے تعليمی ميدان ميں نماياں کاميابی حاصل کرنے والی طالبات کے نام پڑھ کر سنائے۔
خلاصہ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ آج جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لیے جمع ہیں۔ اللہ تعا لی کا جماعت پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے جماعت کی خواتین میں وہ احساس پیدا کیا ہے جو ان کو اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہے کہ ہم نے دین کا علم حاصل کرنے کی طرف توجہ کرنی ہے تاکہ ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی اللہ کے فضلوں کو حاصل کرنے والی بنیں۔ اس وقت جب دنیا لہو ولعب میں حد سے زیادہ ڈوب رہی ہے اور خدا کو بھلا رہی ہے۔ ہم دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد پر چلیں۔ اس زمانے میں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر طرف سے دجال کے حملوں نے احمدیوں کو بھی کچھ نہ کچھ متاثر کر دیا ہے۔ اور بعض احمدی خواتین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ خاص طور پر ان ممالک میں تعلیم و ترقی کے نام پر شیطان متاثر کرتا ہے۔
اسلام اعلیٰ تعلیم سے نہیں روکتا بلکہ اس کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام ترقی کرنے اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکتا بلکہ اس کی طرف توجہ دلاتا ہے لیکن ساتھ کہتا ہے کہ اپنے فرائض بھی ادا کرو۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ اور دیگر خواتین کا ذکر ملتا ہے جو اپنی دینی اور روحانی حالت اور بزرگی میں بڑھی ہوئی تھیں۔ ساتھ علم سے بھی آگاہ تھیں۔ بلکہ ان کی روایت اکثر فقہاء کو مسائل حل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہیں پتہ تھا کہ عورت کی ذمہ داری کیا ہے۔ گھر اور معاشرے میں اپنی ذمہ دایاں ادا کرنے میں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ وہ اپنا حق لینے کی بجائے حق دینے اور فرائض ادا کرنے کی بات کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نام اسلام کی تاریخ میں بڑے سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔
آج احمدی خواتین کو یہ سامنے رکھنا ہے کہ انہوں نے ان فرائض کو کس طرح ادا کرنا ہے۔ گھر ، معاشرے، بچوں اور خاندان کی بہتری کے لیے اپنا نمونہ دکھانا ہے۔ اور اس پر غور کرنا ہے کہ ان کے خیال میں یا حقیقت میں مرد اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے تو انہوں نے آئندہ نسلوں میں اعلیٰ کردار اور دین دار مرد اور عورتیں پیدا کرنی ہیں تاکہ حضرت مسیح موعودؑ سے جو عہدِ بیعت کیا ہے اس پر عمل کر کے پم ایک حسین معاشرہ قائم کریں۔ اس لیے حضرت مسیحِ موعودؑ کیاچاہتے ہیں وہ دیکھنا ہو گا۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ اس معاشرے میں رہتے ہوئے ترقی کے نام پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن ایک احمدی مسلمان بننے کے لیے ہم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ آپؑ نے مخلتف موقعوں پر نصائح فرمائیں ان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور یہ تب ہو سکتا ہے کہ ان کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو دہراتے رہیں۔ ورنہ احمدی ہونے کا مقصد پورا نہیں ہوسکتاہے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے توجہ دلائی کہ اس بات کو یاد رکھو کہ جو لوگ میرے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے عمل صحیح نہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ اپنی حالتوں کو بدلنے کے لیے یاد رکھو کہ جہاں اللہ کو یاد رکھنا ہے اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے وہاں یاد رکھو کہ دوسروں کے حق ادا کرنے کے لیے ہر نیکی کرنے والے کے ساتھ نیکی ہونی چاہیے۔ اعلیٰ اخلاق اس بات کا نام نہیں کہ نیکی کرنے والے کے ساتھ نیکی کرو بلکہ بدی کرنے والے ساتھ بھی نیکی کرو۔ فرمایا جب تک یہ معیار پیدا نہیں ہوگا اس وقت تک سچی روح پیدا نہیں ہوسکتی جس کے لیے اس جماعت کا قیام ہوا ہے۔
پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ جہاں اللہ کی عبادت کرنی ہے وہاں بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔ معاشرے میں امن پیدا کرنے اور لڑائی جھگڑوں اور فسادوں کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرنی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ساس بہو، خاوند بیوی کی لڑائی ہو جاتی ہے۔ جب تک ہم احساس پیدا نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے تب تک پاک معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا ۔
ہر احمدی مرد اور عورت کو یاد رکھنا چاہیے کہ صلح کی بنیاد ڈالنی ہے۔ یہ بنیاد اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے اور یہی اگلی نسل کو سبق ملے گا اور وہ اپنے ماحول میں بھی پیار اور امن قائم کرنے والے ہوں گے۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ پھر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جماعت کو باہم اتفاق اور محبت سے رہنا چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا کہ میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔ ایک یہ اللہ کو مانو دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی دکھاؤ۔ صحابہؓ میں بھی اسی طرح انقلاب پیدا ہوا۔ جب تک تم میں سے ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ہو وہ اپنے بھائی کے لیے پسند کرے تو وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ یہ بڑا ڈرانے والا، انذار کرنے والا فقرہ ہے۔ ہر مرد اور عورت کو غور کرنا چاہیے کہ آپؑ کے مقصد کو پورا کرنے لیے اور بیعت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپس میں محبت پیدا ہو۔آپؑ نے فرمایا کہ مہدی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بغض اور کینہ دلوں سے نکل جائے گا۔ اب مسیحؑ اور مہدیؑ کو مانا ہے تو سوچنا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بغض اور کینہ دلوں سے نکالیں گی تو بیعت کا حق ادا کرنے والی ہوں گی۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ پھر آپؑ نے فرمایا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بناؤ بلکہ دین کو بناؤ۔ آپ لوگ ان ممالک میں آئی ہیں اور اللہ نے آپ کو کشائش بھی دی ہے۔ اس سے بہت بہتر حالات ہیں جو پاکستان میں تھے یا جہاں سے بھی ہجرت کر کے آئیں ہیں۔ لیکن اگر دین مقصود بالذات نہیں بلکہ دنیا ہے توپھر یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ آپ کی اکثریت تو آئی ہی اس بات ہر ہے کہ دوسرے ملکوں میں خاص طور پر پاکستان میں آپ کو دین پر صحیح طرح عمل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تو پھر ہر معاملے میں دین کو مقدم رکھیں ، یہ نہیں کہ دولت پیسہ آگیا تو دین بھول جائیں۔ دین سامنے رہے یہی ایک احمدی کی نشانی ہے۔
پھر آپؑ نے فرمایا کہ مال و دولت اور اولاد کی محبت میں اتنا نہ گرفتار نہ ہوجاؤ کہ تمہارے اور خدا تعالیٰ میں حجاب پیدا ہو جائے۔ اولاد بھی فتنہ ہوتی ہے۔ اور عورتیں بھی بعض اوقات اولاد کی خاطر جھگڑے میں ملوّث ہو جاتی ہیں۔ ساس بہو کے جھگڑے میں عوتوں کا ایک کردار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان ہونے کے بعد تم نے ان جھگڑوں کو ختم کرنا ہے۔ جب یہ کرو گی تو یہ حق ادا کرنے والی ہوگی جس کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی ہے۔
آپؑ نے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے۔ مرنے کے بعد تو اللہ تعالیٰ سوال و جواب کرے گا اور غلط کاموں کی سزا بھی دیتا ہے۔ اس جہان اور اگلے جہان میں بہتری کے لیے سامان پیدا کرو۔ پھر فرمایا کہ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اور اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے کے لیے قرآن کا علم حاصل کرو۔ اس سے نہ صرف اپنی حالت بہتر ہوگی بلکہ تبلیغ کے میدان میں بھی بہتری ہوگی۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ پس ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے ۔ عورتوں کو بھی تبلیغ کے میدان میں آگے آنا چاہیے۔
دنیا کے ان حالات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اوراس کے پیغام پہنچانے کے کوشش کریں تاکہ دنیا کو پتہ چلے ان کی بقا اللہ تعالی کی طرف جھکنے میں ہے نہ کہ دنیا کی جاہ و حشمت میں ۔
فرمایا کہ یہ مت خیال کرو کہ بیعت کرنے سے خدا راضی ہو جاتاہے یہ تو صرف ظاہری کھال ہے اس کا مغز تو اس کے اندر ہے۔ اور مغز یہی ہے کہ جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہے اس پر عمل کرو۔ یہ عمل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قرآن کریم کا مطالعہ نہ کرو گی۔ اور پڑھ کر سمجھنے کی کوشش نہ کرو گی۔ یہ مردوں کا صرف کام نہیں کہ پڑھ کر عمل کریں۔ مردوں کا کام ہے کہ عورتوں کو پڑھائیں۔ جبکہ جماعتی نظام میں ایک لجنہ کا نظام بھی قائم ہے، عورتوں کی تنظیم قائم ہے۔ قرآن پڑھنے اور تعلیم دینے کا نظام قائم ہے عورتوں کو چاہیے کہ اس طرف بھرپور توجہ دیں اور کوشش کریں۔ اب تو بہت سی پڑھی لکھی عورتیں اور لڑکیاں ہیں۔ وہ جہاں قرآن کریم پڑھنا سکھیں وہاں ترجمہ بھی سیکھیں۔ اور پھر دیکھیں کہ الللہ تعالیٰ کے احکامات کیا ہیں۔ قران کریم کی ترتیل کی کلاس لگتی ہے۔ صرف پڑھانا مقصد نہیں بلکہ یہ نیت ہو کہ اس پر عمل کرناہے۔ کن باتوں کے کرنے اور ان سے رکنے کا حکم دیا ہے ۔ جب یہ کریں گی تب ہی حقیقی احمدی کہلا ئیں گی۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ
قرآن کریم نے پردے ، حیادار لباس،حجاب اور مردوں سے ایک فاصلہ رکھنے کا حکم دیا۔ یہ باتیں اس معاشرے میں نظر انداز کر دی جاتی ہیں ۔اور توجہ نہیں دی جاتی۔ آپ کا فرض ہے کہ قرآن کریم کے ان احکام پر عمل کریں۔ تبھی ایک حسین معاشرہ بھی قائم کر سکیں گی۔ تبھی مردوں کی اصلاح کرنے والی بھی ہو سکیں گی۔ اور اسلام کا پیغام پہنچانے والی بھی ہو سکیں گی۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ یاد رکھیں کہ ہر احمدی مسلمان کو چاہیے مرد ہو یا عورت، اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کا نمونہ دکھاؤ اور حضور ﷺ کا کیا نمونہ تھا۔ فرمایا کہ ہمارے نبی ﷺ نے تو اپنا نمونہ دکھایا کہ میرا مرنا اور جینا خداکے لیے ہے۔ اب کیاحال ہے۔ کلمہ پڑھ لیتے ہیں کہ مسلمان ہیں۔ لیکن حقیقی مسلمان کا مقصد تو خدا تعالیٰ کا قرب پانا ہے۔ کس طرح اس کا حقیقی عبد بننا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان کیا ہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں بھی پتہ لگ جائے گا کہ ہم کیا ہیں۔ دنیا کے لیے جینا ہے اور دنیا کے لیے مرنا ہے۔ یورپ میں آ کر ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ دنیا کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں نہیں سنتا اس کی کیا وجہ ہے؟ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میری باتیں تو مانو پھر میں دعائیں بھی سنوں گا۔
آپؑ نے فرمایا کہ مسلمان بننا آسان بات نہیں۔ جب تک رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور آپؐ کا نمونہ اپنے اندر پیدا نہ کرو مطمئن نہ ہو۔ صرف چھلکے میں نہ رہو بلکہ اس کے مغز اور روح کو تلاش کرو۔ روح اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش نہ کرو گے اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر غور نہ کرو گے۔
حضور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ
آجکل میں آنحضرت ﷺؑ کے اسوہ پر خطبات دے رہا ہوں انہیں بھی غور سے سننے ،ان پر عمل کرنے اور اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حضرت مسیح موعودؑ کو اسلام کی حالت کی بڑی فکر رہتی تھی۔ ایک موقع پر ایک بڑی آہ بھر کر کہا تھا کہ مَیں کس طرح بتاؤں کہ اسلام کی کیا حالت ہو رہی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ جس میں تم لوگوں کو قربانیاں کرنے، دین سیکھنے اور دین پھیلانے ضرورت ہے۔ پس جب تک ہم اپنی حالتیں نہیں بدلیں گے۔ ہماری عورتیں ، ہمارے بچے ، مرد اور جوان اس بات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ ہم نے اپنی حالتوں کو خدا تعالیٰ کی مرض اور تعلیم کے مطابق چلانا ہے تو اس وقت تک ہم دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہم حقیقی مسلمان ہیں۔ اس بات پر بہت زیادہ کوشش اور توجہ دینے کہ ضرورت ہے۔ اور معاشرے میں جو برائیاں ہیں ان سے بچنے کی ضرورت ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ ان صعوبتوں سے بچتے رہو جو آج کل کے زمانے میں ہیں اور دعاؤں میں لگے رہو اور اسلام کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرو۔ یہ صعوبتیں کیا ہیں؟ ٹی وی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہے۔ان میں سوائے گندگی، غلاظت اور غلط قسم کی راہنمائی کے اور کچھ بھی نہیں ملتا۔ اسی نے ان کے اخلاق کو بھی بگاڑ دیا ہے اور اخلاقی قدروں کو انتہائی نیچے گرا دیا ہے۔ اس حالت میں احمدی مرد عورت اورجوان کا کام ہے کہ ان سے بچے اور ان کا توڑ، ردّ اور زائل کرنے کے لیے کوشش بھی کرے۔ اور اپنا نمونہ بھی دکھائے۔ اورنئی ٹکنالوجی میں سوشل میڈیا کے ذریعہ برائی کے مقابل نیکی اور اچھائی بیان کریں۔ یہ کام اپنی مرضی سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اور فرمایا کہ دعاؤں میں لگے رہو اور اسلام کا حقیقی نمونہ دکھاؤ جس سے پھر ایک انقلاب آیا تھا۔ پس
اگر انقلاب پیدا کرنا ہے تو قربانیوں اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔
جب تک یہ نیہں ہو گا تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ اپنے گھروں میں نمازوں کو رائج کریں۔ بعض عورتیں کہتی ہیں جب مردوں کو کہیں تو وہ غصہ دکھاتے ہیں۔ پس حکمت سے کہتی رہیں۔ بچوں کو کہتی رہیں۔ بچوں کے بارے میں مردوں کو کہتی رہیں کہ اگر تم نے عمل نہیں کیا تو بچے بھی عمل نہیں کریں اور خدا تعالیٰ سے دور ہو جائیں گے۔ پھر شکوہ کریں گے کہ اللہ کا فضل نہیں ہوتا اور وہ دعا نہیں سنتا۔ پس اللہ کے فضل کو سمیٹنا ہے تو اپنی حالتوں کو بدلنا ہوگا۔ پس اگر یہ ہو گا تو وہ انسان اور وہ احمدی بن سکتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے۔
حضورایدہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ
آج کل میں آنحضرت ﷺ کے اسوے اور اس زمانے میں آپﷺ کے غلام صادقؑ کے اسوے کے بارے میں مختلف اوصاف کا ذکر کر رہا ہوں۔ کس طرح آپْ کے نمونے تھے اور کس طرح اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے وہ نمونے ہمارے سامنے پیش کیے۔ ان پر غور کریں، دیکھیں اور سنا کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں
حضرت مسیح موعودؑ واضح طور پر فرماتے ہیں کہ اس پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہم نماز روزہ کرتے ہیں۔ یا چھوٹے موٹے جرائم سے ہم بچے ہوئے ہیں۔ ان خوبیوں میں غیر فرقے کے لوگ اور مشرک بھی تمہارے ساتھ شامل ہیں۔ آجکل تو میڈیا میں ایسے ایسے پروگرام آتے ہیں کہ جنہیں دیکھنے سے انسان عملی نہیں تو ذہنی اور خلاقی برائیوں میں پڑ جاتا ہے اور ان چیزوں کو بعض احمدی مسلمان بھی بلکہ بااخلاق اور شریف لوگ بھی پسند نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اخلاق برباد کر کے معاشرے پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ کے حق اور اس کی مخلوق کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اگر یہ باتیں نہیں اور دنیا داروں کے پیچھے چلنا ہے، ہم نے حقوق لینے کی کوشش کرنی ہے اور فرائض ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دینی اور دنیا کو مقصود بنانا ہے تو ہمارا احمدی مسلمان ہونا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
اللہ کرے کہ سب عورتیں اور مرد بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کو پورا کرنے لیے مددگار ہوں اور جلسے میں آنے کے مقصد کو پورا کرنے والی ہوں۔ تب یہ کہہ سکتی ہیں کہ ہم احمدی مسلمان ہیں اور اس کے بغیر ہماری کوئی زندگی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطافرمائے۔
حضور انور کا خطاب بارہ بج کر ۲۸؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔ دعا کے بعد گروپس کی صورت میں ناصرات و لجنہ اماءاللہ کی ممبرات نے ترانے پیش کیے۔ بعد ازاں حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ اماء اللہ جرمنی کی حاضری ۱۹؍ہزار ۴۹۴ ہے۔ نیز تقلین فرمائی کہ
ترانا جو آپ لوگ پڑھتے ہیں، ترانوں کو پڑھنے کا مقصد صرف گانا نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سلام کرنے کے بعد بارہ بج کر ۴۳؍ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایوان مسرور سے تشریف لے گئے۔
٭…٭…٭
