آنحضرت ﷺ کی بچوں پر شفقت
گرمیوں کی سہانی شام تھی۔ دادی جان صحن میں بیٹھی تھیں۔ احمد، محمود اور گڑیا صحن میں پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے کہ اچانک گڑیا کو چوٹ لگ گئی۔
گڑیا: آہ! میرے پاؤں میں چوٹ لگ گئی ہے!
احمد: گڑیا! تمہیں زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟
محمود: رکو، میں پانی لے کر آتا ہوں۔
دادی جان: شاباش بچو! یہی تو محبت اور شفقت ہے۔ تم جانتے ہو، ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ بھی بچوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔
احمد: دادی جان! آپﷺ بچوں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے؟
دادی جان: ہمارےآقاﷺ بچوں سےنہایت محبت سے پیش آتے تھے۔ آپﷺ بچوں کے جذبات کا بھی خیال رکھتے تھے۔ حضرت انس ؓفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ خداﷺ سے زیادہ بچوں سے محبت و شفقت کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔ آپؐ کا طریق مبارک یہ تھا کہ بچوں کے پاس سے گزرتے تو خود اُن کو سلام کرتے۔ ان کے سروں پر پیار سے ہاتھ رکھتے، ان کو محبت سے گود میں اُٹھالیتے، جب کوئی پھل آتا تو سب سے پہلے اس میں سے اس بچے کو دیتے جو عمر میں سب سے چھوٹا ہوتا۔ اِسی محبت کا کرشمہ تھا کہ بچے رسولِ اکرمﷺ کی طرف اِس طرح کھنچے چلے آتے تھے جس طرح لوہے کے ذرے مقناطیس سے چمٹ جاتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ بچوں کا یہ شفیق آقا، دین و دنیا کا بادشاہ، جب گلیوں میں پیدل چلتا یا کہیں سفر پر جانے لگتا یا سفر سے واپس آتا تو مٹی میں کھیلتے ہوئے بچے وفورِمحبت سے آپ کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے۔ پیارے آقاؐ کی انگلی تھام کر بچے بڑی بے تکلفی سے ساتھ چلتے۔ حضورؐ ایک ایک سے محبت بھری گفتگو فرماتے اور سب کو دُعاؤں سے مالا مال کر کے رخصت فرماتے۔ حضرت علیؓ ،جنہیں بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اِس محبت و الفت کی کیفیت کا نقشہ اِن الفاظ میں کھینچتے ہیں کہ میں رسول پاکﷺ کے پیچھے یوں رہتا تھا جس طرح اُونٹنی کا بچہ اُونٹنی کے پیچھے پیچھے رہتا ہے اور اُس سے جدا نہیں ہوتا۔ بچوں کی یہ کیفیت، یہ کشش اور والہانہ محبت اُس بے پایاں شفقت کا طبعی نتیجہ تھی جس کا اظہار صبح و شام ہوتا تھا۔
محمود: یعنی آپﷺ بچوں کو اہم سمجھتے تھے؟
دادی جان: بالکل! حضورؐ بچوں سے بہت بے تکلف تھے۔ بچوں کو بڑا پیار اور توجہ دیتے۔ ان سے ہنسی مذاق کرتے ،انہیں چھیڑتے۔ ان سے دل لگی کرتے۔ ان کو بہلاتے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کا ہمارے گھر آنا جانا تھا۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کو ابوعمیر کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کی ایک سرخ چونچ والی بلبل تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا وہ مرگئی۔ اس کے مرنے کے بعد حضورؐ ہمارے ہاں آئے تو عمیر کو افسردہ دیکھا پوچھا اس کو کیا ہوگیا ہے۔ چپ چپ ہے۔ گھر والوں نے عرض کیا کہ اس کی نُغیریعنی بلبل مرگئی ہے۔ اس پر آپؐ نے ابوعمیر کو بہلانے کے لیے اس کو یہ کہہ کر چھیڑنا شروع کیا کہ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ کہ اے ابوعمیر نغیرتجھ سے کیا کرگئی۔
محمود : اور بھی کوئی بات بتائیں ناں پیارے نبیﷺ کی ؟
دادی جان : اکثر اوقات حضورؐ باہر سے تشریف لاتے۔ بچے آپؐ کو دیکھ کر آگے بڑھتے ،آپؐ ان کو سواری پر آگے پیچھے بٹھالیتے ایک بار ایک بدو یعنی دیہات کا رہنے والا آیا۔ اس نے دیکھا آپؐ بچوں سے پیار کر رہے ہیں۔ اس نے عرض کی حضورؐ !میرے تو اتنے بچے ہیں۔ میں نے کبھی کسی سے پیار نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر خدا نے تمہارے دل سے شفقت لے لی ہوتو میں کیا کرسکتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ خدا بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔
محمود جوش میں : یہ حدیث تو میں نے یاد کی ہوئی ہے۔
دادی جان : شاباش بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو پیارے نبیﷺ کی اتنی اچھی بات یاد ہے۔
احمد : دادی جان پھر تو آنحضرتﷺ اپنے بچوں سے تو بہت زیادہ پیار کرتے ہوں گے۔
دادی جان : بالکل آنحضرتﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ جب حضورؐ سے ملنے کے لیے آتیں تو حضور ؐکھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے۔ ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ بلکہ نہ صرف اپنے بچوں سے بلکہ اپنے نواسے نواسیوں سے بھی بے تحاشہ محبت کرتے تھے۔ آنحضرتﷺ کے صحابی حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپؐ نماز کے لیے تشریف لائے تو حضرت زینبؓ کی بیٹی امامہ کو اپنی گردن پر اٹھایا ہوا تھا۔ حضورؐ اسی طرح امامہ کو اٹھائے ہوئے آگے بڑھے اور اپنی نماز کی جگہ پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔ ہم بھی حضورؐ کے پیچھے کھڑے ہوگئے لیکن امامہ اسی طرح حضورؐ کی گردن پر بیٹھی رہی اور اسی حالت میں حضورؐ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی۔ حضورؐ نے امامہ کو اٹھائے ہوئے قیام کیا اور جب رکوع کرنے لگے تو انہیں گردن سے اتار کر نیچے بٹھا دیا پھر رکوع کیا اور سجدے کئے۔ جب سجدوں سے فارغ ہو کر قیام کے لیے کھڑے ہونے لگے تو امامہ کو اٹھا کر پھر اپنی گردن پر بٹھالیا اور حضورؐ ساری نماز میں اسی طرح کرتے رہے۔ رکوع کرنے سے پہلے اتار دیتے اور سجدوں کے بعد قیام کے وقت اٹھالیتے یہاں تک کہ حضورؐ نماز سے فارغ ہوگئے۔
پھر بیان ہوا ہے کہ جب ہجرت کے موقعہ پر مدینہ میں داخل ہوئے تو انصار کی چھوٹی چھوٹی بچیاں خوبصورت لباس پہنے، گھروں سے باہر نکل کر گیت گا رہی تھیں۔ آپؐ اُن کے پاس سے گزرے تو پیمانۂ محبت چھلک اٹھا۔ آپؐ نے ان سے پوچھا: اے بچیو!کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو؟ سب نے یک زبان کہا؛ ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: سنو! میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔ جس طرح آپ بچوں اور بچیوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے اُسی طرح اُن کے درد اور غم کو بھی شدت سے محسوس فرماتے۔ ایک دفعہ مکّہ کے بازار میں ایک یتیم بچہ روتا ہوا جا رہا تھا۔ کوئی اور ہوتا تو پرواہ کیے بغیر پاس سے گزر جاتا مگر آپﷺنے آگے بڑھ کر اُس بچہ کو اپنی مقدس گود میں اٹھالیا۔ بچہ سخت غربت کا شکار تھا۔ اس کے پاس تن ڈھانپنے کو کپڑے بھی نہ تھے۔ پاؤں میں جوتی تک نہیں تھی۔ پاؤں زخمی ہو چکے تھے۔ یہ درد ناک حالت دیکھ کر آپﷺ کی آنکھیں بھر آئیں۔ آپؐ اُسے اپنے گھر لے آئے۔ بچے نے کئی روز سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔ آپؐ نے اُسے کھانا کھلایا۔ نئے کپڑے پہنائے اور گھر میں اپنے بچوں کی طرح رکھا اور بالا ٓخر اُس کے رشتہ داروں تک پہنچادیا۔
گڑیا: حسرت سے : دادی جان! کاش ہم بھی اُس زمانے میں ہوتے اور نبی کریمﷺ سے ملتے!
دادی جان: بیٹی، آپﷺ سے محبت کرنے کے لیے اُس زمانے میں ہونا ضروری نہیں۔ آپﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی محبت کی نشانی ہے۔ توبچو! یہی ہے ہمارے نبیﷺ کی سیرت کا خوبصورت سبق’’محبت، نرمی اور شفقت‘‘۔
بچے: ہم اس سبق کو ہمیشہ یاد رکھیں گے! ان شاء اللہ
(درثمین احمد۔ جرمنی)
٭…٭…٭
