جماعتِ احمدیہ ضرور کامیاب ہو گی(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۲؍دسمبر۱۹۳۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے افراد جماعت کو اس بات پر یقینِ کامل پیدا کرنے کی نصیحت فرمائی کہ جماعتِ احمدیہ ضرور کامیاب ہوگی۔قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
صحیح طور پر قابلیت کے معلوم کرنے کا کوئی معیار انسان کے پاس نہیں ہاں ایک اور ہستی ہے جو عالم الغیب ہے اور جو سب باتوں کو جاننے والی ہے اور وہ اگر بتا دے تو کوئی شُبہ نہیں رہ سکتا
تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
دنیا میں بہت سی ناکامیاں صرف اِس وجہ سے ہوتی ہیں کہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جس کام کو وہ اختیار کر رہے ہیں اس کے کرنے کی قابلیت بھی ان میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔
ہزار ہا ڈاکٹر دنیا میں ایسے موجود ہوں گے جو اپنے پیشہ میں نہایت ہی ناکام ہوں گے اگر وہ کلرک ہوتے تو بہت ترقی کر جاتے یا اگر ان میں سے بعض وکیل ہوتے یا انجینئر ہوتے تو بہت زیادہ ترقی کر جاتے یا دکاندار ہوتے یا زمیندارہ کرتے تو بہت عروج حاصل کر لیتے لیکن محض اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی قابلیت کا صحیح اندازہ نہ لگایا یا وہ ایسے پیشہ میں جو دولت کمانے اور عزت حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ناکام رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح کئی ایسے انجینئرہوں گے جو اپنے پیشہ میں نہایت ناکام ہوتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں نکال دیئے جاتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے اندر کسی قسم کی قابلیت نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ انجینئرنگ کی قابلیت ان کے اندر نہیں ہوتی۔ ان میں سے کئی اگر ڈاکٹر یا کلرک ہوتے تو بہت ترقی کر سکتے تھے۔ یہی حال وکلاء کا ہے کئی ایسے وکیل مل سکتے ہیں جو بحیثیت وکیل نہایت ناکارہ سمجھے جاتے ہیں لیکن اگر وہ جوڈیشنل یا ایگزیکٹو لائن میں چلے جاتے یا اگر وہ ڈاکٹر ہوتے تو کامیاب ہو جاتے۔
تو گو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر مختلف قابلیتیں رکھی ہیں اور اگر انسان اپنی طبیعت پر زور دے تو ہر فن میں کمال حاصل کر سکتا ہے مگر ہر انسان اپنی طبیعت پر اتنا زور نہیں دے سکتا۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس وجہ سے ترقی کرتے چلے جاتے ہیں کہ انہیں اس رَو میں بہتے چلے جانے کا موقع مل جاتا ہے جو ان کی طبیعت کے لئے موزوں ہوتی ہیں ایسے لوگ اس خاص طبعی مؤانست کے سِوا جب کوئی اور پیشہ اختیار کرتے ہیں تو باوجود اپنے اندر بڑھنے کی قابلیت رکھنے کے ناکام ہوتے ہیں۔ پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اسی پیشہ کو اختیار کرتے ہیں جس کے کرنے کی قابلیت ان میں ہوتی ہے مگر باوجود اس کے وہ ناکام رہ جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے اندر قابلیت موجود ہے اگر انہیں اس بات کا علم ہو جائے تو وہ فوراً ترقی کی طرف قدم اُٹھانے لگ جائیں۔ پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ابتدائی مشکلات یا عارضی ناکامیوں کی وجہ سے سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے اندر قابلیت موجود نہیں۔ حالانکہ
مشکلات کا پیدا ہونا اور ناکامیوں کا پیش آنا کوئی بڑی بات نہیں ناکامیاں انسان کو آتی ہیں
اور مشکلات بھی پیدا ہوتی ہی ہیں مگر باوجود اس کے بعض لوگ چوٹی کے مقام پرپہنچ جاتے ہیں۔
دو مشہور تاریخی واقعات یعنی بابر اور تیمور کے ہمارے سامنے ہیں۔ لکھا ہے کہ انہیں ابتداء میں سخت ناکامیوں کا سامنا ہوا۔ بابر کو بارہ دفعہ خطرناک شکست ہوئی حتّی کہ وہ محصور ہوگیا اور آخر اُسے اپنا مرکز بھی چھوڑنا پڑا۔ وہ ایک دن قضائے حاجت کیلئے بیٹھا ہوا تھا کہ اُس نے دیکھاکہ ایک چیونٹی بوجھ اُٹھائے ہوئے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ چڑھتی تھی اور گرتی تھی۔ پھر چڑھتی اور پھر گرتی تھی، پھر چڑھتی تھی اور پھر گرتی تھی، غرضیکہ کئی بار اس کے سامنے وہ چڑھی اور کئی بار گری۔ بابر کی طبیعت پر اس کا خاص اثر ہواوہ متواتر اُسے دیکھتا رہا آخر ایک دفعہ وہ اتنا اونچا چڑھ کر گری کہ اَدھ موئی سی ہو گئی۔ بابر نے خیال کیا شاید مر گئی ہے اور وہ بھی کچھ دیر بے حس و حرکت پڑی رہی اس کے بعد اسے ہوش آیا اور اس نے پھر چڑھنا شروع کر دیا۔ اس نظارہ کو دیکھ کر بابر بے تحاشا یہ کہتا ہوا اُٹھا کہ اگر یہ چیونٹی ہو کر بار بار گرنے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹتی تو میں انسان ہو کر مایوس کیوں ہوں۔ چنانچہ اس نے پھر اپنے دوستوں کو جمع کیا اور دشمنوں کو شکست دی اور اُس کی فتوحات کا سلسلہ اِس قدر وسیع ہوا کہ وہ ایران و کابل وغیرہ کو فتح کرتا ہوا ہندوستان آ پہنچا۔ تو وہ وہی شخص تھا جسے پہلے اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا مگر اُس نے ایک چیونٹی سے سبق حاصل کیا اور محسوس کر لیا کہ یہ عارضی ناکامیاں ہیں اور بالآخر کامیاب ہوگیا۔ اگر بابر اور تیمور ابتدائی ناکامیوں سے ہی پیچھے ہٹ جاتے تو دنیا دو بہترین بادشاہوں سے محروم رہ جاتی اور انسانی ہمت کے دو بہترین نتائج نہ دیکھ سکتی۔ مگر انہوں نے محسوس کر لیا کہ ہم میں قابلیت ہے اور یہ ناکامیاں عارضی ہیں اس بات کو سمجھ کر انہوں نے کوشش جاری رکھی اور اس طرح کامیاب ہو گئے۔
تو
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایسی راہ اختیار کر لیتا ہے جس پر چلنے کی قابلیت اس میں نہیں ہوتی اور کبھی عارضی ناکامیوں سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اعلیٰ ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کسی کام کے کرنے کی قابلیت کا پتہ کس طرح لگ سکے کہ فلاں انسان میں فلاں کام کرنے کی قابلیت ہے۔ دنیا نے اس کے لئے بڑے بڑے ذرائع اختیار کئے ہیں۔ ولایت میں خفیہ پولیس میں کسی کو بھرتی کرنے کے لئے یہ طریق ہے کہ جب کوئی شخص عام پولیس میں بھرتی ہوتا ہے تو بعض تجربہ کار افسر اس کی خاص طور پر نگرانی کرتے ہیں۔ اس کی حرکات،چلنا، پھرنا، ہوشیاری وغیرہ کو دیکھتے ہیں اور نوٹ کر کے افسرانِ بالا کے پاس رپورٹ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں آدمی خفیہ پولیس کے قابل ہیں وہاں سے انہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر چاہو تو تم خفیہ پولیس میں بھرتی ہو سکتے ہو۔ اسی طرح فوجوں کا حال ہے گورنمنٹ نے اس کے لئے بھی TEST رکھے ہوئے ہیں قد ناپا جاتا ہے چھاتی دیکھی جاتی ہے اور اس طرح معلوم کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر فوجی ملازمت کی قابلیت ہے یا نہیں۔ اسی طرح حکام کے لئے بھی کئی قیدیں رکھی ہوئی ہیں عمر اتنی ہو، تعلیم اس قدر ہو، صحت ایسی ہو مگر جنہیں اس طرح چُن کر لیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ناکام رہ جاتے ہیں۔
آخر ہر ملک کی فوج چُن کر ہی تو بھرتی کی جاتی ہے مگر پھر بھی کئی ممالک کی افواج ناقابل ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح وزارتوں وغیرہ کا حال ہے بہتر سے بہتر آدمی منتخب کئے جاتے ہیں مگر پھر بھی بعض اوقات وہ ناقابل ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحیح قابلیت کا معیار جو ہے وہ بہت مخفی ہے اور دنیا کو اب تک کوئی ایسا ذریعہ نہیں ملا جس سے پورے طور پر قابلیت معلوم ہو سکے۔ ہوائی جہازوں کے لئے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کے اندر ہی ایسے آلات موجود ہوتے ہیں جنہیں ہاتھ میںپکڑنے سے معلوم ہو سکے کہ کسی آدمی کا دل کس حد تک خوف کو برداشت کر سکتا ہے پھر یہ بھی کہ وہ کتنی جلدی بات سمجھ سکتا ہے ۔ ایسے بھی آلات موجود ہوتے ہیں جن سے سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کا بھی علم ہو سکتا ہے کیونکہ ہوائی جہازوں کے متعلق تو بہت ہی جلد فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ فرض کرو راستہ میں پہاڑ آ جائے یا کوئی طوفان وغیرہ آئے اُس وقت جہاز کو فوراً نیچا اونچا یا اِدھر اُدھر کرنا پڑتا ہے اگر آدمی ایسا زیرک نہ ہو کہ سیکنڈ کے بھی بہت تھوڑے عرصہ میں فیصلہ کر سکے تو وہ راستہ تبدیل نہیں کر سکے گا اور اس طرح جہاز تباہ ہو جائے گا۔ تو ہوائی جہازوں کے لئے بھرتی کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ آدمی کتنی جلدی کسی صحیح فیصلہ پر پہنچنے کی قابلیت رکھتا ہے اور ایسے آلات ایجاد کئے گئے ہیں جن سے سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کا بھی پتہ چلتا ہے اور ایسے کاموں میں سیکنڈ کے دسویں حصے کی دیر بھی مُہلک ثابت ہو جاتی ہے مگر اِس قدر احتیاط کے باوجود بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور کئی لوگ ناکام رہ جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ
صحیح طور پر قابلیت کے معلوم کرنے کا کوئی معیار انسان کے پاس نہیں۔ہاں ایک اَور ہستی ہے جو عالم الغیب ہے اور جو سب باتوں کو جاننے والی ہے اور وہ اگر بتا دے تو کوئی شُبہ نہیں رہ سکتا۔
قرآن کریم میں اس حقیقت کا خاص طور پر ذکر ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فوج کے متعلق آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے بچا لیا اور فرعون کو تباہ کر دیا حالانکہ وہ بہت بڑا بادشاہ تھا اس نے ظلم کر کے بنی اسرائیل کی طاقت کو کچل دیا تھا قرآن کریم میں آتا ہے: اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔(الدخان:۳۲)عَالِیًا کے لفظ میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ صاحبِ شان و شوکت تھا اور مُسۡرِفِیۡنَ میں بنی اسرائیل کی تباہ حالی کا ذکر ہے جو فرعون نے پیدا کی گویا اس کی اپنی طاقت تو انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کی طاقت اس نے کچل دی تھی، ان کے اخلاق تباہ کر دیئے تھے مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے اسے تباہ کر دیا۔ یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے عظیم الشان بادشاہ کو کیوں تباہ کر دیا گیا اور بظاہر ناکارہ قوم کی خاطر اس کام کرنے والے کو کیوں برباد کر دیا گیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اسے قائم رکھا جاتا اور اسی سے کام لیا جاتا ظاہر میں تو بنی اسرائیل تمام قابلیت کھو چکے تھے اور فرعونیوں کے اندر ہر قسم کی قابلیت نظر آرہی تھی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا:وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ۔ (الدخان:۳۳) ہم نے جب بنی اسرائیل کو چُنا تو یہ جانتے ہوئے چُنا تھا کہ ان میں ترقی کرنے اور روحانی امور کے سمجھنے کی طاقت موجود ہے اور اس زمانہ کی سب قوموں سے زیادہ موجود ہے۔ اب غور کرو خدا تعالیٰ کی نگاہ کہاں جاکر پڑی۔ حکومت فوج میں بھرتی کرنے کے لئے طاقت وغیرہ دیکھتی ہے اور قد آور لوگوں کو لیتی ہے مگر دیکھاگیا ہے کہ کئی بڑے بڑے قدآور اور بڑے چوڑے چکلے سینہ والے کئی دفعہ ذرا سے کھٹکے سے ڈر کر مر جاتے ہیں خوف سے ان کے دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے اور کئی چھوٹے چھوٹے قد والے دنیا میں اندھیر مچا دیتے ہیں۔ گورنمنٹ کے افسروں کو اگر کہا جائے کہ جاؤ جا کر کوئی جرنیل تلاش کرو تو وہ ضرور کسی بڑے جسم اور چوڑے سینہ والے کو لیں گے اور پھر اس کا دماغی امتحان کریں گے مگر ممکن ہے وہ قابل نہ ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ چونکہ ہر جگہ پڑتی ہے اس لئے وہ دُور اُفتادہ مقامات اور دنیا کی نظروں سے اوجھل لوگوں کو جو بادشاہ اور سرکاری افسروں کی نظر سے مخفی ہوتے ہیں دیکھے گا اور ان سے بظاہر معمولی حیثیت رکھنے والے مگر دراصل صحیح قابلیت والے کسی شخص کو چُن لے گا۔ کئی جرنیل دنیا میں ایسے ملتے ہیں جو ابتداء میں نہایت ذلیل اور پست ہمت سمجھے گئے مگر بعد میں انہوں نے دنیا کو حیران کردیا۔ نپولین اتنا کمزور تھا کہ اس کے لئے خاص طور پر بندوق بنوائی جاتی تھی کیونکہ وہ بوجھل بندوق نہ اُٹھا سکتا تھا اور اگر وہ سپاہیوں میں بھرتی ہونے کے لئے آتا تو یقیناً ردّ کیا جاتا مگر یہ اتفاق تھا کہ وہ براہ راست افسروں میں بھرتی ہو گیا اور ابتداء میں اُس نے کوئی خاص ترقی بھی نہیں کی بلکہ بالکل معمولی حیثیت میں رہا یہاں تک کہ فرانس پر ایک نہایت نازک وقت آیا جو تمام مدبّرین کے دماغی امتحان کا وقت تھا اس میں وہ سب رہ گئے اور صاف نظر آنے لگا کہ دشمن بہت جلد پیرس کو فتح کر لے گا اور اُسے بچانے کے لئے بڑے بڑے جرنیل تدبیر کرنے سے عاجز آگئے۔اُس وقت ایک ممبر پارلیمنٹ میں اُٹھا اور اُس نے کہا پیرس تباہ ہو رہا ہے اگر میری بات مانو تو اِس وقت صرف ایک شخص ہے جو ہمیںبچا سکتا ہے اور وہ نپولین ہے۔ نپولین اُس وقت نہایت معمولی عہدیدار تھا اور اسے کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ اس ممبر نے کہا۔ نہایت نازک وقت ہے اس کا بھی تجربہ کر لو۔ چنانچہ نپولین کو بلایا گیا اور اُس کے سپرد تمام انتظام کر دیا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی دن گزرے تھے کہ وہی سپاہی جو روز بروز کم ہوتے جا رہے تھے اور وہ افسر جو دن رات شراب کے نشہ میں چُور رہتے تھے ان میں یکدم تغیرشروع ہو گیا اور دشمن کی فوج بُری طرح شکست کھا کر بھاگی اور نپولین بعد میں فرانس کا بادشاہ ہو گیا حالانکہ جسمانی لحاظ سے وہ اتنا کمزور تھا کہ کوئی نگاہ اُسے منتخب نہ کر سکتی تھی۔ انسانی نگاہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ اگر بھرتی کرتا تو ابتداء میںہی نپولین کو ضرور چنتا یا ممکن ہے اس سے بھی بہتر آدمی اس کی نگاہ میں کوئی اور ہوتا۔ تو
اللہ تعالیٰ کسی کام کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کرتا ہے اُن کے اندر اس کام کے کرنے کی قابلیت ضرور ہوتی ہے پھر اگر کوئی کوتاہی ہو تو ان کے ہمت ہار دینے کی وجہ سے ہی ہو سکتی ہے۔
(جاری ہے)




