آخر عقل داڑھ کیوں نکلتی ہے؟
دوستو! کہتے ہیں انسان پڑھ لکھ کر عقل مند ہوتا ہے اور عمرو تجربے کے ساتھ سوچنے، سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت بڑھتی جاتی ہے۔ مگر کبھی یہی عقل درد بھی خوب دیتی ہے!
کچھ دن پہلے دانت میں درد شروع ہوا۔ پہلے برداشت کیا، پھر شیشے اور موبائل کی مدد سے خود ہی ’’تحقیق‘‘ کر ڈالی، مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ آخر اپنی عقل پر مزید زور ڈالنے کے بجائے ایک باقاعدہ عقل مند یعنی ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ قصور عقل داڑھ کا ہے اور علاج اسے نکلوانا ہے۔

دل سے آہ نکلی کہ ہائے! بڑی مشکل سے اس عمر میں عقل آئی تھی، اب عقل داڑھ بھی نکل گئی!
اسی درد کی کیفیت میں سوچا ’عقل‘ داڑھ تو چلی گئی چلو اس کے متعلق کچھ پڑھ لوں کہ آخر یہ کیوں نکلتی ہے؟ اسے عقل داڑھ کیوں کہتے ہیں؟ کیا سب کو نکلتی ہے اور اس کے فائدے یا نقصانات کیا ہیں؟ اسی تجسس میں کچھ سائنسی تحقیق پڑھی جس کا حاصل قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
عقل داڑھ کیا ہے؟:انسان کے منہ میں سب سے آخر میں نکلنے والی مستقل داڑھ کو عام زبان میں عقل داڑھ (Wisdom Teeth) جبکہ سائنسی زبان میں Third Molarکہا جاتا ہے۔ یہ دوسری بڑی داڑھ کے پیچھے، جبڑے کے بالکل آخری حصے میں ہوتی ہے۔ ایک شخص کی زیادہ سے زیادہ چار عقل داڑھیں ہو سکتی ہیں۔ دو اوپری اور دو نچلے جبڑے میں۔
اس کو عقل ڈاڑھ کیوں کہا جاتا ہے؟:اس نام کا ذہانت یا عقل بڑھنے سے کوئی طبی تعلق نہیں۔ اسے عقل داڑھ یا Wisdom Teeth اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دوسرے مستقل دانتوں کی نسبت کافی دیر سے، یعنی اس عمر میں نکلتی ہے جب انسان بچپن سے نکل کر جوانی میں داخل ہو رہا ہوتا ہے۔
عقل داڑھ کب بنتی اور نکلتی ہے؟: اگرچہ عقل داڑھ منہ میں عموماً جوانی میں نظر آتی ہے، اس کی نشوونما اس سے کئی سال پہلے شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کے نکلنے کی صحیح عمر ہر انسان میں یکساں نہیں ہوتی۔ عمومی طور پر ۱۷ سے ۲۶؍سال کا عرصہ اس کے نکلنے کی عام عمر سمجھا جاتا ہے، مگر کسی فرد میں یہ اس سے پہلے یا بعد میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
کیا عقل داڑھ سب کو نکلتی ہے؟: نہیں۔ بعض لوگوں میں چاروں عقل داڑھیں بنتی ہیں، بعض میں ایک، دو یا تین اور بعض افراد میں ایک بھی نہیں بنتی۔ کسی دانت کا پیدائشی طور پر نہ بننا Agenesis کہلاتا ہے۔ ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دنیا بھر کے ۸۷,۲۸۲؍افراد کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق کم از کم ایک عقل داڑھ کے پیدائشی طور پر نہ بننے کی عالمی شرح تقریباً ۲۳.۰۷؍فیصد تھی۔ یعنی تقریباً ہر چار سے پانچ افراد میں سے ایک میں کم از کم ایک عقل داڑھ سرے سے بنتی ہی نہیں۔ (Angelakopoulos N, et al., 2026, Third molar agenesis: An updated systematic review and meta-analysis, Archives of Oral Biology) اس لیے اگر کسی کی عقل داڑھ منہ میں نظر نہیں آتی تو ضروری نہیں کہ وہ اندر پھنسی ہوئی ہو بلکہ ممکن ہے وہ بنی ہی نہ ہو۔
عقل داڑھ کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟: اگر عقل داڑھ سیدھی اور مکمل طور پر نکلی ہوئی ہو تو وہ دوسری بڑی داڑھوں کی طرح خوراک چبانے اور پیسنے کے لیے اضافی سطح فراہم کرتی ہے۔ اسے محض اس وجہ سے بے کار قرار دینا درست نہیں کہ انسان اس کے بغیر بھی معمول کے مطابق کھانا کھا سکتا ہے۔
ہر عقل داڑھ نقصان دہ نہیں، لیکن پھنسی ہوئی یا آدھی نکلی ہوئی عقل داڑھ بعض مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ ان میں درد، مسوڑھے کی سوزش (pericoronitis)، دانت میں کیڑا، periodontal disease، ساتھ والی دوسری داڑھ کو نقصان، جڑ کا گھلنا اور بعض حالات میں cyst شامل ہیں۔
کیا ہر عقل داڑھ نکلوا دینی چاہیے؟: ہر عقل داڑھ کو محض احتیاطاً نکلوانا سائنسی طور پر ثابت نہیں۔
ایک تحقیق میں محققین نے ایسے impacted wisdom teeth کا جائزہ لیا جن میں نہ درد تھا اور نہ واضح بیماری۔ محققین کے مطابق ابھی تک کے دستیاب سائنسی شواہد اتنے مضبوط نہیں کہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ہر ایسی عقل داڑھ کو لازماً نکال دینا بہتر ہے یا برقرار رکھنا۔ اگر اسے نہ نکالا جائے تو باقاعدہ dental examination کے ذریعے نگرانی کی سفارش کی جاتی ہے۔
خیر ہم نے تو درد کے مارے اپنی عقل داڑھ نکلوا دی۔
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
لیکن جن کی عقل اور عقل داڑھ ابھی سلامت ہو وہ سعادت حسن منٹو کا عقل داڑھ کے متعلق یہ افسانہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ https://www.rekhta.org/stories/humour/aql-daadh-saadat-hasan-manto-stories?sort=&lang=ur
(حافظ محمد طلحہ ملک)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: انکا ٹرن: مونچھوں والا پرندہ



