جماعت احمدیہ امریکہ کے ۷۶ویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
٭… جلسے کی مناسبت سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بصیرت افروز پیغام
٭… ۹؍ہزار سے زائد احباب جماعت کی شرکت
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۷۶واں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ امریکہ مورخہ ۳ تا ۵؍جولائی ۲۰۲۶ء Greater Richmond Convention Center میں منعقد ہوا۔
امسال جلسہ سالانہ امریکہ کے انتظامات افسران کی منظوری کے فوراً بعد شروع ہوگئے۔ مکرم ملک بشیر احمد صاحب کو افسر جلسہ سالانہ، مکرم مرزا نصیر احسان احمد صاحب کو افسر جلسہ گاہ جبکہ مکرم عبد اللہ ڈبا صاحب کو افسر خدمت خلق مقرر کیا گیا۔
معائنہ انتظامات: مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب، امیر جماعت احمدیہ امریکہ نے جمعرات مورخہ ۲؍جولائی کی دوپہر رچمنڈ کنونشن سینٹر میں جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر افسر جلسہ سالانہ، افسر جلسہ گاہ اور افسر خدمت خلق بھی آپ کے ہمراہ تھے۔

انتظامات کے معائنہ کے بعد تقریباً پونے سات بجے معائنہ کی تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی مختصر تقریر میں نصیحت کی کہ کارکنان مہمانان حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی خدمت نہایت عاجزی، اخلاق اور محبت کے ساتھ کریں۔ بعد ازاں آپ نے دعا کروائی اور تمام کارکنان کے ساتھ کھانا تناول کیا۔ شام تقریباً پونے نو بجے خاکسار سیّد شمشاد احمد ناصر نے مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔
پہلا دن: مورخہ ۳؍جولائی بروز جمعہ صبح تقریباً ۹ بجے رجسٹریشن کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہوا۔ امریکہ بھر سے احباب جماعت ہوائی اور زمینی سفر کے ذریعہ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لیے تشریف لائے۔ شعبہ ضیافت کی طرف سے صبح سات بجے سے ہی ڈائننگ ہال میں ناشتہ کا انتظام کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح صبح ۸ بجے بیسیوں خدام ٹریفک ڈیوٹی کے لیے جلسہ گاہ کے باہر سڑک پر متعین کر دیے گئے، جوشدید گرمی کے باوجود نہایت اخلاص اور بے نفسی کے ساتھ خدمت میں مصروف رہے۔ جلسہ گاہ کے داخلی راستوں پر خوش دلی سے مہمانان کرام کا استقبال کرنے والے کارکنان رضاکارانہ خدمت کا نہایت خوبصورت منظر پیش کر تے رہے۔
بعد ازاں، دوپہر کا کھانا ٹھیک ۱۲ بجے احباب کے لیے پیش کر دیا گیا۔ کھانے کے بعد تمام احباب نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔
نماز جمعہ: حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ جلسہ گاہ میں صبح آٹھ بجے براہ راست سنا گیا۔ نیز نماز جمعہ سے قبل بھی حضور انور کا یہ خطبہ دوبارہ احباب کو سنایا گیا۔

دوپہر ۲ بجے مولانا اظہر حنیف صاحب، مشنری انچارج جماعت احمدیہ امریکہ نے خطبہ جمعہ دیا۔ نماز جمعہ و نماز عصر کے بعد تقریباً سوا دو بجے بعض شاملین نے دوپہر کا کھانا کھایا۔
پرچم کشائی: جلسہ سالانہ کا باضابطہ آغاز دوپہر سوا چار بجے پرچم کشائی کی پُروقار تقریب سے ہوا۔ کنونشن سینٹر کے داخلی حصے میں پرچم کشائی کے لیے ایک مخصوص جگہ تیار کی گئی تھی۔ اس موقع پر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ نے لوائے احمدیت بلند کیا۔ مکرم مشنری انچارج صاحب امریکہ نے قومی پرچم بلند کیا، جبکہ مکرم حارث راجا صاحب صدر جماعت ورجینیا نارتھ نے ریاست ورجینیا کا پرچم بلند کیا۔ اس روح پرور موقع پر حاضرین نے نہایت عقیدت، وفا اور دلی جذبات کے ساتھ یہ منظر دیکھا اور پُرجوش انداز میں نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے۔
پہلا اجلاس: ٹھیک ساڑھے چار بجے جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب امریکہ کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم سید لبیب جنود صاحب مربی سلسلہ نے پیش کی۔ اس کا ترجمہ مکرم بشیر اسد صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم بلال راجہ صاحب نے نظم پیش کی جس کا ترجمہ مکرم مزمل جلال صاحب مربی سلسلہ ملواکی جماعت نے پیش کیا۔
اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر آپ نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا شاملین جلسہ سالانہ امریکہ کے نام خصوصی پیغام انگریزی اور اردو میں پڑھ کر سنایا۔
پیغام پیش کرنے کے بعد محترم امیر صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے آقا ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بعد ازاں آپ نے اجتماعی دعا کروائی۔
اس کے بعد محترم امیر صاحب نے اس اجلاس کے پہلے مقرر مکرم منصور قریشی صاحب کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ آپ نے ’’خدا کی طرف پہلا قدم: مادیت پرست دنیا میں بیعت کی پہلی شرط کو قائم رکھنا‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ بعد ازاں مکرم صاحبزادہ عثمان لطیف صاحب نے ’’کامل نمونہ: ہر سانس میں توحید الٰہی کا عملی اظہار‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ اس اجلاس کی تیسری اور آخری تقریر مکرم احسن محمود خان صاحب نے ’’ابتدائی اسلامی سلطنت کے زوال میں غیر قوموں سے شادیوں کا کردار: اپنے ایمان، خاندان اور مستقبل کی حفاظت‘‘ کے موضوع پر کی۔ اجلاس کے اختتام پر چند ضروری اعلانات کیے گئے۔
شام تقریباً سات بجے تمام احباب نے ڈائننگ ہال میں شام کا کھانا تناول کیا۔ جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا اختتام نماز مغرب و عشاء کی باجماعت ادائیگی پر ہوا، جو تقریباً پونے نو بجے مکرم سلمان طارق صاحب مربی سلسلہ ورجینیا ساؤتھ نے پڑھائیں۔
دوسرا دن: دوسرے دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا، جو صبح پونے چار بجے جلسہ گاہ میں مکرم حافظ مبارک کوکوئی صاحب، نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی نے پڑھائی۔ اس کے بعد مکرم احمد سلمان شیخ صاحب مربی سلسلہ جماعت احمدیہ لاس اینجلس نے نماز فجر پڑھائی اور بیعت کی پہلی شرط کے تناظر میں شرک سے اجتناب کے موضوع پر درس دیا۔
صبح سات بجے شاملین جلسہ کے لیے ڈائننگ ہال میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا جبکہ رجسٹریشن کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔
دوسرے دن کا پہلا اجلاس صبح دس بجے مکرم ندیم ملک صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم ہاشم عثمان صاحب مربی سلسلہ ریاست ہوائی، نے کی جبکہ اس کا ترجمہ مکرم شمس الدین لطیف صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم خالد منہاس صاحب آف ڈیٹرائٹ جماعت نے نظم پیش کی جس کا ترجمہ مکرم جلیس ڈار صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔
اس اجلاس میں درج ذیل پانچ تقاریر پیش کی گئیں: ’’ایک مومن کا فریضہ۔ جھوٹ کے خلاف جہاد کرنا اور ہر حال میں سچائی پر قائم رہنا‘‘ از مکرم زکریا احمد سید صاحب، ’’دنیاوی بتوں سے منہ موڑ کر اسوہ حسنہ کو اپنانا‘‘ از مکرم عرفان چودھری صاحب، ’’ریاء:خود نمائی کے دور میں نیت کی پاکیزگی کی اہمیت‘‘ از مکرم مدیل عبداللہ صاحب، ’’آنے والی نسل میں ہمدردی، خدمت خلق اور بلند عزم و ہمت قائم کرنے کے لیے والدین کا فرض‘‘ از مکرم حبیب محمد شفیق صاحب اور ’’صحابہ کرامؓ کے اخلاص فی التوحید کے بے مثال نمونے‘‘ از مکرم طلحہ علی صاحب مربی سلسلہ۔
نماز ظہر و عصر خاکسار سید شمشاد احمد ناصر مربی سلسلہ نے تقریباً ڈیڑھ بجے پڑھائیں اور فوراً بعد تین نکاحوں کا اعلان بھی کیا۔ بعد ازاں شاملین جلسہ نے دوپہر کا کھانا تناول کیا۔
دوسرے دن کا دوسرا اجلاس شام تقریباً چار بجے مکرم بلال رانا صاحب، نائب امیر جماعت احمدیہ امریکہ، کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جو مکرم محمد البراقی صاحب نے کی جبکہ اس کا ترجمہ مکرم خالد اسد صاحب نے پڑھا۔ بعد ازاں مکرم زبیر عبیداللہ صاحب نے خوش الحانی کے ساتھ نظم پیش کی جس کا ترجمہ مکرم مبارک بشیر صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم قاسم رشید صاحب نے ’’عدل و انصاف۔ امریکہ کے آئین کی روشنی میں انسانی حقوق کا احیائے نو‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔
بعد ازاں مکرم امجد محمود خان صاحب، نیشنل سیکرٹری امور خارجہ نے ان مہمانان کرام کا تعارف کروایا جنہوں نے جلسہ سالانہ سے خطاب کرنا تھا۔ اسی موقع پر احمدیہ مسلم ہیومینٹیرین ایوارڈ ریاست ٹیکساس کے کانگریسی نمائندہ گریگ کیزار صاحب (Greg Casar, D-Texas) کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دینے کا اعلان کیا گیا۔ موصوف خود جلسہ میں حاضر نہ ہو سکے تاہم ان کا خصوصی ویڈیو پیغام تمام شاملین جلسہ کو سنایا گیا۔
دیگر مہمانان کرام میں سے درج ذیل احباب نے حاضرین جلسہ سے خطاب کیا:
-Hon. Joshua Cole, Member, Virginia House of Delegates,
-Kurt Werthmuller, Supervisory Policy Analyst, U.S. Commission on International Religious Freedom
-Knox Thames, Executive Director, Everett Center for Global Religious Freedom, Dallas Baptist University
-Christopher Frelke, Director, Department of Parks and Recreation, City of Richmond
یہ اجلاس شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں جلسہ گاہ میں قرآن کریم کا پہلا دور مکمل کرنے والے بچے اور بچیوں کی تقریب آمین منعقد کی گئی جس میں مکرم مبارک کوکوئی صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی نے ان سے قرآن سنا اور دعا کرائی۔اس موقع پر کل ۲۵ بچے اور ۱۷ بچیوں کی آمین ہوئی۔ اس دوران دیگر شعبہ جات کے خصوصی پروگرام مختلف مقامات پر منعقد ہوئے جن میں سے بعض میں مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ نے بھی شرکت کی۔
نماز مغرب و عشاء سے قبل خاکسار شمشاد احمد ناصر نے امریکہ میں گذشتہ سال وفات پانے والے احباب و خواتین کے اسماء بغرض دعا پڑھ کر سنائے۔ اس کے بعد مکرم عمر نیر صاحب مربی سلسلہ نے نماز مغرب و عشاء پڑھائیں۔
اجلاسات مستورات: لجنہ اماء اللہ امریکہ نے مورخہ ۴؍جولائی بروز ہفتہ اپنے علیحدہ جلسہ کے پروگرام کا آغاز کیا۔ یہ اجلاس محترمہ دیا طاہرہ بکر صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ امریکہ کی زیر صدارت صبح دس بجے شروع ہوا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا، جس کے بعد پہلی تقریر محترمہ لبنیٰ ملک صاحبہ نے ’’دین کے ساتھ وطن سے بھی وفا کا عہد‘‘ کے موضوع پر کی۔ دوسری تقریر محترمہ امۃ الرحمٰن احمد صاحبہ نے ’’اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد‘‘ کے عنوان پر پیش کی۔ تیسری تقریر محترمہ ربیعہ انور صاحبہ کی تھی جنہوں نے ’’شیطانی وساوس اور نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد اکبر‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
اجلاس کی اختتامی تقریر محترمہ زونا احمد صاحبہ نے ’’اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ احساس شکر پیدا کرنا‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔
نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد تمام شاملات جلسہ نے دوپہر کا کھانا تناول کیا۔
مستورات کا دوسرا اجلاس شام چار بجے تلاوت قرآن کریم اور نظم سے شروع ہوا۔ اس اجلاس کی پہلی مقررہ مکرمہ ماہا ملک صاحبہ تھیں جنہوں نے ’’بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ بعد ازاں اختتامی تقریر مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ امریکہ نے ’’وصیت۔ محبت اور قربانی کا عہد‘‘ کے عنوان سے کی۔ آخر میں نو مبائعات کے استقبال کی غرض سے چند بچیوں نے خوش الحانی کے ساتھ قصیدہ پیش کیا۔
تیسرا دن: جلسہ سالانہ کے تیسرے اور آخری دن کا آغاز بھی صبح پونے چار بجے جلسہ گاہ میں باجماعت نماز تہجد سے ہوا جو مکرم حافظ امان احمد صاحب نے پڑھائی۔ اس کے بعد نماز فجر مکرم اظہر گورایا صاحب مربی سلسلہ نے پڑھائی اور توحید اور کلمہ شہادت کے موضوع پر درس حدیث پیش کیا۔
صبح سات بجے سے شاملین جلسہ کے لیے ڈائننگ ہال میں ناشتے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔
اختتامی اجلاس: جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس کا آغاز صبح ۱۰ بجے ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس میں مکرم مبارک کوکوئی صاحب نے سورۃ القیامہ کی تلاوت پیش کی جبکہ اس کا ترجمہ مکرم عبد الرحیم لطیف صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم سرمد احمد نوید صاحب مربی سلسلہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام ’’اے سونے والو! جاگو کہ وقت بہار ہے، اب دیکھو آکے در پہ ہمارے وہ یار ہے‘‘ خوش الحانی سے پیش کیا، جس کا ترجمہ مکرم عبد اللطیف بلانٹا صاحب نے پیش کیا۔
اس کے بعد درج ذیل شعبہ جات اور ذیلی تنظیموں کی طرف سے غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے ممبران کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا، جنہیں مکرم امیر صاحب نے ایوارڈز عطا فرمائے: حفظ قرآن، تعلیمی ایوارڈز، اشاعت، تربیت، طاہر اکیڈمی، مجلس انصار اللہ، مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس اطفال الاحمدیہ۔
حسب روایت مکرم امیر صاحب نے سال گذشتہ میں مجلس انصار اللہ، مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال الاحمدیہ امریکہ میں اعلیٰ کارکردگی حاصل کرنے والی مجالس کو عَلَمِ انعامی سے نوازا۔ مجلس انصاراللہ امریکہ میں سنٹرل جرسی، مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ میں شکاگو، جبکہ مجلس اطفال الاحمدیہ امریکہ میں ملواکی مجالس نے عَلَمِ انعامی حاصل کیا۔
اختتامی اجلاس کی پہلی تقریر مکرم سید عادل احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’خلفائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں امریکہ جماعت کے لیے روحانی لائحہ عمل‘‘ کے عنوان پر کی۔ بعد ازاں مکرم عدنان احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’ذکر حبیب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا عالم اسلام کے لیے درد اور راہنمائی‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اس کے بعد مکرم مبلغ انچارج صاحب امریکہ نے ’’ایمان بالآخرت: حیات بعد الموت کی حقیقت اور اہمیت‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
جلسہ سالانہ امریکہ کی اختتامی تقریر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ نے کیا۔ آپ نے احباب جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے عہد بیعت سے وفا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ نیز آپ نے تمام احباب کو توحید کے قیام کی نصیحت کی اور کثرت سے درود شریف پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔ اسی طرح مکرم امیر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لیے دعا کی تحریک کی۔ پونے دو بجے کے قریب آپ نے اختتامی دعا کروائی۔
اجلاس کے بعد مکرم ارشاد ملہی صاحب مربی سلسلہ نے نماز ظہر و عصر پڑھائیں جس کے بعد احباب ڈائننگ ہال تشریف لے گئے اور دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ اس طرح جلسہ سالانہ امریکہ ۲۰۲۶ء خدا تعالیٰ کے فضل سے بخیریت اختتام پذیر ہوا۔ امسال جلسہ سالانہ کی کل حاضری ۹,۴۲۰ رہی۔
امسال دنیا کے مختلف حصوں کی طرح امریکہ کے اس علاقہ میں بھی گرمی کی شدت غیر معمولی رہی اور درجہ حرارت ۱۰۰ ڈگری فارن ہائیٹ سے تجاوز کر گیا، جس کے باعث بعض انتظامی معاملات میں دشواریاں بھی پیش آئیں۔ تاہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے کارکنان نے ضیافت سمیت ہر شعبہ میں نہایت اخلاص، مستعدی اور احسن رنگ میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔
اللہ تعالیٰ تمام کارکنان اور رضاکاران کو احسن جزا عطا فرمائے اور ہم سب کو جلسہ سالانہ کے مقاصد کو حقیقی رنگ میں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(رپورٹ: سید شمشاد احمد ناصر اور مطیع اللہ جوئیہ مربیان سلسلہ و نمائندگان الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ امریکہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام (اردو مفہوم)
پیارے احبابِ جماعت احمدیہ امریکہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا جلسہ سالانہ مورخہ ۳، ۴ اور ۵ جولائی ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم الشان کامیابی سے نوازے اور اس منفرد اجتماع میں شامل ہونے والے تمام احباب بے شمار روحانی فوائد اور برکات حاصل کرنے والے ہوں۔
آپ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جلسے میں شمولیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔ دینی علم اور معرفت میں ترقی کریں۔ اپنی زندگیوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں اور انہیں اپنی ذات کا حصہ بنائیں۔ اس عارضی دنیا کی خواہشات اور لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ تمام انسانوں کے ساتھ محبت، شفقت اور اخوت کے تعلق کو بڑھائیں۔ اپنی تمام تر استعدادوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ان پاکیزہ مقاصد کے حصول کی کوشش کریں اور ساتھ یہ عہد بھی کریں کہ ہم اسلام کا پیغام دنیا بھر میں پھیلائیں گے۔
اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے…‘‘(اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۰، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)
یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیار کو بلند کرنے کا موجب بننا چاہیے، یعنی آپ کے دلوں میں حقیقی خوفِ خدا پیدا ہو۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد اپنے خالق، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو جلسہ میں آنا بے مقصد اور بے فائدہ ہو گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ ہم اسلام کی صداقت اور اس کے پُرامن پیغام کو تمام دنیا میں پھیلائیں۔ افسوس کہ تبلیغ کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو دی جانی چاہیے تھی اور آپ نے اپنے ملک کے لوگوں تک اسلام اور احمدیت کا تعارف اس حد تک نہیں پہنچایا جس حد تک اب تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔ اگر ہر احمدی اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے اور تبلیغ کی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھے تو جماعت کا پیغام ملکی آبادی کے ایک بہت بڑے حصہ تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اسلام کی حقیقی تصویر، نیز اس کے امن، خیر خواہی اور اعلیٰ عقائد و تعلیمات سب کے سامنے پیش کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ انہیں دیکھیں اور ان کی قدر کریں۔
پس لوگ قبول کریں یا نہ کریں، ہمیں اپنے اس عزم میں کبھی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے کہ اسلام کا حقیقی پیغام دنیا کے ہر ملک کے ہر فرد تک پہنچے۔ یہی وہ عظیم کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیک کام میں ہر لحاظ سے کامیابی عطا فرمائے۔
مزید برآں، اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت احمدیہ کی نعمت سے نوازا ہے۔ پس ہر احمدی کو اس بات پر پوری توجہ اور عزم کے ساتھ قائم رہنا چاہیے کہ وہ خلافت کا جانثار، وفادار اور اطاعت گزار رہے اور خلیفۂ وقت کے ساتھ اپنے محبت و اخلاص کے تعلق کو مسلسل بڑھاتا چلا جائے۔ اس ضمن میں ، میں آپ کو دسویں شرطِ بیعت کی طرف توجہ دلاتا ہوں، جس میں فرمایا گیا ہے: ’’یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض للہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔‘‘
پس یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ وابستگی کا جو عہد ہم نے کیا ہے، وہی عہد اسی اخلاص، وفاداری اور وابستگی کے ساتھ خلیفۂ وقت سے ہمارے تعلق میں بھی جاری رہنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ کامل اطاعت اور فدائیت کا یہ عہد جو ہر دنیاوی رشتے اور تعلق سے بڑھ کر ہے اور جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد سے تقاضا فرمایا، خلافت کے ساتھ ہماری وابستگی کے بارے میں بھی اسی طرح اور اسی صورت میں جاری ہے۔ اس لیے کہ خلافت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانی جانشین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت سے ہماری وفاداری ہی نظام جماعت کی منفرد اور امتیازی خصوصیت ہے اور اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ جماعت کے افراد کو کامل وحدت میں پرو دیتی ہے۔ یہی دراصل ہماری مسلسل ترقی کی کنجی ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی جماعت کی دائمی کامیابیوں کا مشاہدہ کرتے رہیں گے۔
علاوہ ازیں، میں آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے درمیان محبت، ہم آہنگی اور اخوت کی فضا پیدا کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’آپس میں اخوت اورمحبت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتاہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔ ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔ اللہ تعالیٰ سے ایک سچی صلح پیدا کرلو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاؤ… ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔‘‘ (ملفوظات، جلد اوّل، صفحات ۲۶۶ تا ۲۶۸)
آخر پر میں آپ سب سے کہتا ہوں کہ اب وقت ہے کہ آپ آگے بڑھیں اور کامل عزم اور پختہ ارادہ کے ساتھ یہ عہد کریں کہ آپ ہمیشہ وہ تمام پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ کیے گئے اپنے عہدِبیعت کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم آپ علیہ السلام کی بیعت کی ہر شرط پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ان شاء اللہ ہم دوسروں تک اسلام پہنچانے کا ذریعہ بنیں گے اور اپنے ہم وطنوں اور دنیا بھر کے لوگوں کو حقیقی اسلام کے سایہ تلے لانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان نصائح پر بہترین رنگ میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی مخلصانہ کوششوں میں برکت ڈالے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے۔
مزید پڑھیں: ریجنل اجتماع لجنہ اماء اللہ بوبوجلاسو، برکینا فاسو



