حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

رشتہ ناطہ سے متعلق نصائح

بعض لوگ تو رشتے کے وقت لڑکیوں کو اس طرح ٹٹول کر دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح قربانی کے بکرے کو ٹٹولا جاتا ہے۔ شادی تو ایک معاہدہ ہے۔ ایک فریق کی قربانی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دونوں فریقوں کی ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا نام ہے۔ یہ ایسا بندھن ہے۔

حضرت عبداللہؓ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا تو سامان زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر اور کوئی سامان زیست نہیں ہے۔ (ابن ماجہ ابواب النکاح۔ باب افضل النساء)

پس ان لوگوں کے لئے جو ہر چیز کو دنیا کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ ان کوبھی یہ حدیث ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نیک عورت سے بڑھ کر تمہارے لئے کوئی زندگی کا اور دنیاوی سامان نہیں ہے۔ نیک عورت تمہارے گھر کو بھی سنبھال کے رکھے گی اور تمہاری اولاد کی بھی اعلیٰ تربیت کرے گی۔ نتیجۃً تم دین و دنیا کی بھلائیاں حاصل کرنے والے ہوگے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صالح مرد اور صالح عورتوں کی شادی کروایا کرو۔ (سنن الدارمی۔ کتاب النکاح۔ باب فی النکاح الصالحین)

تو اس میں بھی نیک لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ نیک کام معاشرے کو فساد سے بچانے کاذریعہ ہے۔ اس لئے اس میں جلدی بھی کرنی چاہئے۔ لیکن آج کل تو بعض دفعہ دیکھا ہے ایسے لوگ کافی تعداد میں ہیں ماں باپ کے ساتھ لڑکے آتے ہیں ۳۴-۳۵سال کی عمر ہوتی ہے لیکن ان کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھا ہوا ہے۔ ان کی ابھی تک شادیاں نہیں کروائیں۔ شادی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

بعض لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔ بعض بیٹوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جو بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں وہ صرف اس لئے کہ گھر کے جو لڑکے ہیں وہ نکمے ہیں، کوئی کام نہیں کر رہے پڑھے لکھے نہیں اس لئے گھر بیٹیوں کی کمائی پر چل رہا ہے اور اگر شادی کر بھی دی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ داماد، گھر داماد بن کر رہے، گھر میں ہی موجود رہے جو اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ جس سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے شادی کرنے کے بعد اگر میاں بیوی علیحدہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کو توفیق ہے اور والدین عمر کے اس آخری حصے میں نہیں پہنچے ہوتے جہاں ان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بچہ ان کے پاس نہ ہو، پھر تو ایک اور بات ہے قربانی کرنی پڑتی ہے۔ وہ بھی لڑکوں کا کام ہے۔ اگر کسی کے لڑکا نہ ہو تو پھر لڑکی کی مجبوری ہے۔ لیکن عموماً لڑکی بیاہ کر جب دوسرے گھر میں بھیج دی تو اس کو اپنا گھر بسانے دینا چاہئے۔

(خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ دسمبر ۲۰۰۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۷ جنوری ۲۰۰۵ء)

مزید پڑھیں: تبلیغ کرنے کے لئے علم بھی ہونا چاہیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button