از افاضاتِ خلفائے احمدیت

جماعتِ احمدیہ ضرور کامیاب ہو گی(قسط دوم۔ آخری)

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۲؍دسمبر۱۹۳۰ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے افراد جماعت کو اس بات پر یقینِ کامل پیدا کرنے کی نصیحت فرمائی کہ جماعتِ احمدیہ ضرور کامیاب ہوگی۔قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

خداتعالیٰ جب کسی کو چنتا ہے تو اُس کی قابلیت کی شہادت وہ خود دیتا ہے مگر جب کوئی قابلیت کا انکار کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی قابلیت کو ضائع کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو مجبور کرے کہ اپنی قابلیتوں سے فائدہ اُٹھاؤ۔ وہ اپنے انتخاب کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ تم میں یہ قابلیت ہے۔ جاؤ اور کام کرو لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں مجھ میں یہ قابلیت نہیں تو خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے جاؤ اور جیسی تمہاری مرضی ہو کرو

[گذشتہ سے پیوستہ]دنیا کی نجات کے لیے اگر دنیا کی اقوام کسی کو چُنتیں تو یہودیوں کو کبھی بھی خاطر میں نہ لاتیں۔ اگر آج انہیں کہا جائے کہ دنیا کی نجات کے لیے کسی قوم کو منتخب کرو تو سانسیوں، پتھیروں اور چوہڑوں کو کوئی بھی منتخب نہ کرے گا مگر ایک وقت اللہ تعالیٰ نے پتھیروں کو ہی چُنا اور پھر انہوں نے ایسی ترقی کی کہ دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ حکومت اور علم میں یہاں تک ان کوغلبہ حاصل ہوا کہ دنیا میں خیال کیا جانے لگا کہ نبوت اور حکومت ان کے لیے ہی ہے۔ آج بھی اگر کسی مسلمان سے پوچھو کہ بڑے بڑے انبیاء کون ہوئے ہیں تو وہ فوراً حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ کا نام لے گا۔ وہ چونکہ محمدرسول اللہﷺ کو مانتا ہے اس لیے عربوں میں سے آپ کا نام لے گا۔ مگر شروع اسی طرح کرے گا کہ یہودی نسل کے انبیاء کے نام گِنائے گا کیونکہ انہوں نے بڑی ترقی کی تھی مگر دراصل وہ کون تھے وہ فرعونیوں کے پتھیرے ہی تھے۔

ظاہری قابلیت ان میں اُس وقت کوئی نہ تھی اور ان کی حالت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آج ہندوستانیوں کے وفد موتی لال نہرو اور مسٹر گاندھی وغیرہ لیڈروں کے پاس جارہے ہیں کہ ملکی آزادی کے لیے کوشش کرو۔ مگر ان کی آزادی کے لیے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوشش کر رہے تھے تو ان کا ایک ڈیپوٹیشن حضرت موسیٰؑ کے پاس گیا تھا جس نے کہا تھا ہمیں کیوں مصیبتوں میں ڈالتے ہو ہم آرام سے بیٹھے ہیں اسی طرح رہنے دو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے دنیا میں کیا کرنا ہے جیسے اب ادنیٰ اقوام کے لوگ ہیں وہ کہتے ہیں خدا نے ہمیں اسی حالت میں پیدا کیا ہے اسی طرح رہنے دو۔ میں نے قادیان کے چوہڑوں کی ترقی کے لیے کئی بار کوشش کی مگر انہوں نے ہمیشہ مایوسی کا اظہار کیا اور ان میں کوئی حرکت نہ پیدا ہوئی۔ یہی حالت بنی اسرائیل کی تھی مگر ان پر اللہ تعالیٰ کی نگاہ پڑی اور اُس نے فرمایا۔ وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ۔(الدخان:۳۳) صرف یہی نہیں کہ خداتعالیٰ نے ان میں قابلیت دیکھی۔ بلکہ اسے معلوم تھا کہ ساری دنیا بلکہ کئی آئندہ زمانوں میں آنے والی اقوام سے بھی وہ بہتر ہیں اور پھر اس قوم نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی۔ تو دیکھو خدا تعالیٰ کی دیکھی ہوئی قابلیت کیسی ثابت ہوئی۔ محمد رسول اللہﷺ کے زمانہ میں کون عرب کی قوم کو دنیا کی اصلاح کے لیے انتخاب کرتا جن کا دن رات کا مشغلہ شراب میں مست رہنا تھا اور جو خیال بھی نہیں کرتے تھے کہ دنیا میں اور بھی کوئی کام ہے۔ لکھنا پڑھنا ان کے لیے عیب تھا ڈاکے ڈالنا ان کے نزدیک محبوب فعل تھا اور اغواء کو وہ بہت اچھا کام سمجھتے تھے بلکہ فخریہ قصائد پڑھتے تھے کہ ہم نے فلاں لڑکی کو اغواء کر لیا اور لوگ ایسے شعر سُن کر سر دُھنتے تھے اور شرفاء کی ایسی آرزوئیں ہوتی تھیں کہ ہم بھی کسی کی لڑکی کو اغواء کر کے لائیں۔ اب دنیا میں کون ایسا عقلمند ہو سکتا ہے جو ان کو دنیا کی راہ نمائی کے لیے چنتا اور اگر قابلیت کا امتحان ہوتا تو سب سے کم نمبر عرب کے لوگ حاصل کرتے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں چُنا اور دیکھو انہوں نے دنیا میں کیسا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا۔

جن کے نزدیک پڑھنا لکھنا ہتک خیال کیا جاتا تھا انہوں نے تمام دنیا میں علوم کی اشاعت کی اور دنیا میں تقویٰ کی بنیاد انہیں کے ذریعہ رکھی گئی۔

ان کی ابتدائی حالت کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانیوں نے عربی علاقہ پر حملہ کیا عرب بھی اس کے مقابلہ میں ایران پر حملہ آور ہوئے اور جب ایران کے بادشاہ کو علم ہوا کہ عرب فوجوں نے حملہ کیا ہے تو وہ بہت حیران ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا عربوں کی کیا جرأت ہے کہ ہماری زیادتی کے انتقام کا خیال بھی دل میں لا سکیں۔ جیسے کوئی بڑا آدمی جب کسی چھوٹے پر تعدّی کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ کمزور کا کوئی حق نہیں کہ میری چپیڑ کے بدلہ میں ہاتھ اٹھائے۔ جب عرب ایران پر حملہ آور ہوئے تو وہ حیران ہوا کہ ان کی بھی یہ جرأت ہے۔ اس نے عربوں کو بلایا اور وہ بصورت وفد اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا کیا تم پاگل ہو گئے ہو تم جانتے نہیں میں کون ہوں اور تمہاری کیا حقیقت ہے۔ عربوں نے اپنا ایک امیر مقرر کیا ہوا تھا جس نے جواب میں کہا کہ تم ہمیں کیا کہتے ہو ہم سے سنو کہ ہم میں کیا کیا عیوب تھے ہم میں ساری دنیا کی بُرائیاں تھیں مگر خدا تعالیٰ کا ایک رسول ﷺ ہم میں پیدا ہوا جس نے وہ سب عیوب دھو ڈالے۔ اِس پر ایران کے بادشاہ نے کہا میں تم سب میں سے ہر ایک کو ایک ایک دینار دیتا ہوں دینار اس زمانہ میں اَڑھائی یا تین روپے کا ہوتا تھا اور ہر ایک افسر کو اتنی اشرفیاں دیتا ہوں تم سب واپس چلے جاؤ۔ گویا وہ انہیں اس درجے ادنیٰ حالت میں سمجھتا تھا کہ اس قدر کم رقم لے کر راضی ہو جائیں گے اور واپس چلے جائیں گے مگر مسلمانوں نے جواب دیا چونکہ تمہاری طرف سے ابتداء ہوئی ہے اس لیے اب تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ اس پر بادشاہ بہت غضب ناک ہوا۔ اُس نے مٹی کا ایک بورا منگوایا اور امیرِ وفد کے سر پر رکھوا دیا۔ انہوں نے اس کو نہایت احترام سے اُٹھایا اور کہا کہ ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے۔ مشرک لوگ تو شگونوں سے بہت گھبراتے ہیں یہ بات سن کر بادشاہ کو خیال آیا اور اس نے سپاہیوں کو کہا بھاگو اور ان سے مٹی چھین لاؤ مگر وہ گھوڑوں پر چڑھ کر دور نکل گئے تھے۔ (البدایۃ والنھایۃ جلد ۷ صفحہ ۴۲، ۴۳ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء) مگردیکھو۔ انہی لوگوں نے جنہیں دنیا ذلیل سمجھتی تھی دنیا میں کیا کیا کارہائے نمایاں کیے اور اس قدر عروج حاصل کیا۔

یہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں پھر

تعجب ہے کہ جماعت کے لوگوں کو کیوں یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں چُنا ہے اس لیے ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔

ہم میں سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں کتنے ہیں جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ قابلیت نہیں مگر

اس سے زیادہ بے ادبی اور گُستاخی کیا ہو سکتی ہے کہ خدا کہتا ہے تم دنیا کو فتح کرو گے لیکن تم کہتے ہو نہیں ہم نہیں کر سکتے۔

غور تو کرو

کب خدا نے کسی قوم کو اس لیے چُنا کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور اس نے نئی زمین اور نیا آسمان نہ پیدا کر دیا۔

کیا اب خدا تعالیٰ (نعوذ باللّٰہ) بوڑھا ہو گیا ہے کہ اس کی قوتِ انتخاب کمزور ہو گئی ہے۔ اس نے حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت کرشنؑ، حضرت رام چندرؑ،حضرت بدھؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ قوموں کو چُنا اور وہ کامیاب ہوئیں پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے ہم کو چُنا اور ہم ناکام رہ جائیں گے۔ انتہائی درجہ کی بےایمانی اور بے وقوفی ہے۔

اللہ تعالیٰ جسے چنتا ہے اس کے متعلق فرماتا ہے۔ وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ۔ کہ ہم جس قوم کو چُنتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔

خدا تعالیٰ کی کسی سے رشتہ داری نہیں۔ بعض اوقات رشتہ داروں کو لوگ چُن لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کسی بادشاہ نے ایک حبشی کو ایک ٹوپی دی اور کہا سب سے زیادہ خوبصورت بچہ کے سر پر پہنا دو۔ اس نے اپنے بچہ کو جو نہایت بدصورت اور غلیظ تھا پہنا دی۔ بادشاہ نے پوچھا یہ کیا؟ اُس نے جواب دیا کہ مجھے یہی خوبصورت نظر آتا ہے۔ تو اگر اللہ تعالیٰ ہمارا رشتہ دار ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اِس وجہ سے اُس نے ہمیں منتخب کرلیا ہے مگر جب اس کا ساری دنیا سے یکساں معاملہ ہے اور ہم بظاہر سب سے زیادہ ضعیف، کمزور اور غریب تھے، ہم میں نظام کی کمی تھی، سب سے کم قربانی کا مادہ تھا، کم عقل تھے مگر باوجود ان سب باتوں کے خدا تعالیٰ نے ہمیں چُنا ہے پھر کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ اُس نے غلطی کی ہے اور ہمارے اندر وہ قابلیت نہیں جس سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔

یقیناً ہمارے اندر قابلیت ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ بے ایمان ہے، جھوٹا ہے اور اُس کا دل تاریکیوں میں مبتلاء ہے۔

خداتعالیٰ جب کسی کو چنتا ہے تو اُس کی قابلیت کی شہادت وہ خود دیتا ہے مگر جب کوئی قابلیت کا انکار کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی قابلیت کو ضائع کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو مجبور کرے کہ اپنی قابلیتوں سے فائدہ اُٹھاؤ۔ وہ اپنے انتخاب کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ تم میں یہ قابلیت ہے۔ جاؤ اور کام کرو لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں مجھ میں یہ قابلیت نہیں تو خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے جاؤ اور جیسی تمہاری مرضی ہو کرو۔ پس

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں چُنا ہے

اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ ہم میں وہ کام کرنے کی قابلیت نہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضل کی خطرناک ناشکری کرتا ہے اور اگر اس سے توبہ نہ کرے تو اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے فضلوں سے محروم کر دیا جائے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ خلعت ہے جو اس کی ناقدری کرے گا وہ یقینا مستوجبِ سزا ہو گا۔

شِبلی ایک گورنر تھے ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ نہایت سخت گیر تھے اور ان کے علاقہ کے لوگ ان سے بہت خوف کھاتے تھے۔ وہ ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے جو ایک جرنیل کی عزت افزائی کے لیے جس نے بڑی بڑی فتوحات کی تھیں منعقد ہوا تھا۔ بادشاہ نے اس جرنیل کو خلعتِ فاخرہ عطا کی مگر اتفاق ایسا ہوا کہ وہ دربار میں آتے ہوئے کوئی رومال نہ ساتھ لا سکا۔ شاید اسے نزلہ وغیرہ کی شکایت ہو گی اُسے چھینک جو آئی تو ناک سے رطوبت بہہ نکلی۔ اب وہ اِس حالت میں تو بیٹھ نہ سکتا تھا اس نے خلعت کے نیچے سے ہی کپڑا نکالنے کی کوشش کی مگر وہ نہ نکل سکا اس پر اس نے خلعت کے ایک پہلو سے ناک صاف کر لیا بادشاہ دیکھ رہا تھا اُس نے نہایت غضب اور جوش میں حکم دیا کہ اسے دربار سے نکال دو اور خلعت واپس لے لو اس نے ہماری خلعت کی بہت بے قدری کی ہے۔ اُس وقت سے گویا اس کی تمام فتوحات کالعدم ہو گئیں اور وہ اِس بات پر درباری اعزاز سے محروم کر دیا گیا۔ بادشاہ جب اُس جرنیل پر اس قدر ناراض ہوا۔ تو شِبلی نے ایک چیخ ماری اور سامنے آ کر بادشاہ سے کہا۔ میرا استعفیٰ منظور فرمائیے۔ بادشاہ نے کہا کیوں؟ تمہیں تو میں نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے جواب دیا میں دیکھ رہا ہوں کہ اِس شخص نے کس قدر قربانیاں کی تھیں جان، عزت، بیوی، بچے غرضیکہ ہر چیز قربان کر کے اس نے آپ کی خدمات کیں اور پھر ایک کپڑے کی بے حُرمتی پر آپ نے اسے اِس قدر سزا دی مجھے بھی آپ کے ماتحت خدا تعالیٰ نے ایک خلعت دی ہوئی ہے اور میں اُسے ہر آن خراب کر رہا ہوں پھر میرا کیا حشر ہو گا اس لیے میرا استعفیٰ منظور فرمایا جائے۔

اس کے بعد وہ کئی بزرگوں کے پاس شاگردی کے لیے گئے۔ مگر وہ اس قدر ظالم مشہور تھے کہ کسی نے انہیں پاس نہ آنے دیا اور یہی کہا تمہیں تصوّف سے کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔ آخر ایک بزرگ غالباً جنید بغدادی نے کہا اسی شہر میں جاؤ جہاں تم حکومت کرتے رہے ہو اور ہر دروازہ پر کھڑے ہوکر معافی مانگو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور واپس آئے تو آپ نے کہا اب تمہارا نفس کافی ذلیل ہو چکا ہے چنانچہ اپنا شاگرد بنا لیا۔(تذکرۃ الاولیاء صفحہ ۳۵، ۴۳) تو

قابلیت کا خراب کر لینا انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جس طرح خلعت کو انسان خراب کر سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کے انتخاب میں نقص نہیں ہو سکتا جب کسی شخص کو وہ نبی زمان کی شناخت کی توفیق دیتا ہے تو اس کے معنے ہی یہ ہیں کہ اس کے اندر دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کی قابلیت موجود ہے۔

پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا۔ (العنکبوت:۷۰)یعنی ہدایت قلبی مؤانست سے ہی ملتی ہے کچھ تعلق اور علاقہ ہوتا ہے جبھی نبی کی شناخت کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی مُہر ہے جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ کام کی قابلیت موجود ہے ہاں اگر کوئی شخص سچے دل سے مؤمن نہیں بلکہ جانتا ہے کہ وہ منافق ہے تو اور بات ہے۔

پس

جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ خدا کے انتخاب کی قدر کریں اور ناشکری نہ کریں۔

تم ایک پٹواری کو ہی جاہل کہہ کر دیکھو وہ فوراً جواب دے گا کہ میں جاہل ہوں تو گورنمنٹ نے مجھے پٹواری کیوں بنایا حالانکہ گورنمنٹ ڈپٹی کمشنر بلکہ اس سے بھی بڑا عہدہ کسی جاہل یا بیوقوف کو دے سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا۔ وہ جسے منتخب کرتا ہے صحیح طور پر کرتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اس کے اس عظیم الشان فضل کی قدر کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کا فعل جہالت سے نہیں ہو سکتا اس کے انتخاب کے معنی یہی ہیں کہ قابلیت موجود ہے اور جب یہ معلوم ہو گیا تو گویا آدھا کام ہو گیا باقی نصف محنت سے ہو گا۔ خدا تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اسے بھی پورا کر سکیں اگر نہ کریں گے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہو گی۔

(الفضل ۱۸؍دسمبر۱۹۳۰ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جماعتِ احمدیہ ضرور کامیاب ہو گی(قسط اول)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button