حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اوصاف

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۸؍اکتوبر۲۰۱۳ء)

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں یا عباد الرحمٰن کا مقام حاصل کرنے والوں کی جماعت کو یہاں سب انسانوں سے بہتر جماعت فرمایا ہے۔ کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق احسن کو اپنے قول و فعل میں قائم کیا ہوا ہے۔ اس لئے بہتر ہیں کہ نیکی کی ہدایت کرتے ہیں۔ نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے اس ہدایت کی تلقین کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنا قرب دلانے کے لئے دی ہے۔ فرمایا کہ تم لوگ اس لئے بہتر ہو خیر اُمّت ہو کہ بدی سے روکتے ہو۔ ہر گناہ اور برائی سے آپ بھی رکتے ہو اور دوسروں کو بھی رکنے کی تلقین کرتے ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکو اور پھر یہ کہ تمہارا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہے اس لئے تم خیر اُمّت ہو۔ تم اس یقین پر قائم ہو کہ خدا تعالیٰ میرے ہر قول و فعل کو دیکھ رہا ہے۔ تم اس ایمان پر قائم ہو کہ دنیا کے عارضی رب میری ضروریات پوری نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ جو رب العالمین ہے میری ضروریات پوری کرنے والا ہے اور میری دعاؤں کو سننے والا ہے۔ اور پھر یہ قول ایسا ہے، یہ بات ایسی ہے جس کو دنیا کو بھی بتاؤ کہ تمہاری بقا خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے اور چلنے سے ہے۔ دنیاوی آسائشوں اور عیاشیوں میں نہیں ہے۔ پھر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان احسن باتوں اور نیکیوں اور برائیوں کی مزید تفصیل دی ہے۔ مثلاً یہ کہ فرمایا کہ وَالَّذِیْنَ لَایَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا (الفرقان:73)

اور وہ لوگ بھی اللہ کے بندے ہیں جو جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے اور جب لغو باتوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ بزرگانہ طور پر بغیر ان میں شامل ہوئے گزر جاتے ہیں۔ یہاں دو باتوں سے روکا ہے۔ ایک جھوٹ سے، ایک لغو بات سے۔ یعنی جھوٹی گواہی نہیں دینی۔ کیسا بھی موقع آئے، جھوٹی گواہی نہیں دینی۔ بلکہ دوسری جگہ فرمایا کہ تمہاری گواہی کا معیار ایسا ہو کہ خواہ اپنے خلاف یا اپنے والدین کے خلاف یا اپنے کسی پیارے اور رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تو دو۔ پس یہ معیار ہے سچائی کے قائم کرنے کا۔ یہ معیار قائم ہوگا تو اس احسن میں شمار ہوگا جس کواللہ تعالیٰ نے احسن فرمایا ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا بنتا ہے۔ نیکیوں میں مزید ترقی ہوتی ہے اور ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سچائی کے بارہ میں مزید فرماتا ہے کہ یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (الفرقان: 70) کہ اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور وہ بات کہو جو پیچ دار نہ ہو بلکہ سچی، کھری اور سیدھی ہو۔

یہ وہ سچائی کا معیار قائم رکھنے کے لئے احسن ہے جس کو کرنے اور پھیلانے کا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے جائزے لیں تو سچائی کے یہ معیار نظر نہیں آتے۔ ہر قدم پر نفسانی خواہشات کھڑی ہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں، کتنے ہیں ہم میں سے جو بوقت ضرورت اپنے خلاف گواہی دینے کو تیار ہو جائیں، اپنے والدین کے خلاف گواہی دیں، اپنے پیاروں کے خلاف گواہی دیں اور پھر یہ معیار قائم کریں کہ اُن کی روز مرہ کی گفتگو، کاروباری معاملات وغیرہ جو ہیں ہر قسم کی پیچ دار باتوں سے آزاد ہوں۔ کہیں نہ کہیں یا تو ذاتی مفادات آڑے آ جاتے ہیں یا قریبیوں کے مفادات آڑے آ جاتے ہیں۔ یا اَنائیں آڑے آ جاتی ہیں اور غلطی ماننے کو وہ تیار نہیں ہوتے۔ ان باتوں کو پیچ دار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اپنی جان بچائی جائے تاکہ اپنے مفادات حاصل کئے جائیں۔ قولِ سدید کا معیار اللہ تعالیٰ کے احسن حکموں میں سے ایک ہے۔ یایہ کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو یہی احسن ہے کہ سچائی بغیر کسی ایچ پیچ کے ہو۔ اگر اس حکم پر عمل ہو تو ہمارے گھروں کے جھگڑوں سے لے کر دوسرے معاشرتی جھگڑوں تک ہر ایک کا خاتمہ ہو جائے۔ نہ ہمیں عدالتوں میں جانے کی ضرورت ہو، نہ ہمیں قضا میں جانے کی ضرورت ہو۔ صلح اور صفائی کی فضا ہر طرف قائم ہو جائے۔ اگلی نسلوں میں بھی سچائی کے معیار بلند ہو جائیں۔ پھر سچائی کے معیار کے حصول کی نصیحت کے ساتھ مزید تاکید یہ فرمائی کہ جن مجالس میں سچائی کی باتیں نہ ہوں، گھٹیا اور لغو باتیں ہوں ان سے فوراً اٹھ جاؤ۔ جہاں خدا تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف باتیں ہوں ان مجالس میں نہ جاؤ۔ اب یہ گھٹیا اور لغو باتیں اس زمانے میں بعض دفعہ لا شعوری طور پر گھروں کی مجلسوں میں یا اپنی مجلسوں میں بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔ نظام کے خلاف بات ہوتی ہے۔ کئی دفعہ مَیں کہہ چکا ہوں کہ عہدیداروں کے خلاف اگر باتیں ہیں، اگر نیچے اُس پر اصلاح نہیں ہو رہی تو مجھ تک پہنچائیں۔ لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر جب وہ باتیں کرتے ہیں تو وہ لغو باتیں بن جاتی ہیں۔ کیونکہ اس سے اصلاح نہیں ہوتی۔ اُس میں فتنہ اور فساد اور جھگڑے مزید پیدا ہوتے ہیں۔ پھر اس زمانے میں ٹی وی پر گندی فلمیں ہیں۔ انٹرنیٹ پر انتہائی گندی اور غلیظ فلمیں ہیں۔ ڈانس اور گانے وغیرہ ہیں۔ بعض انڈین فلموں میں ایسے گانے ہیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے نام پر مانگا جا رہا ہوتا ہے، یا اُن کی بڑائی بیان کی جا رہی ہوتی ہے جس سے ایک اور سب سے بڑے اور طاقتور خدا کی نفی ہو رہی ہوتی ہے۔ یا یہ اظہار ہو رہا ہو کہ یہ دیوی دیوتا جو ہیں، بت جو ہیں، یہ خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ بھی لغویات ہیں، شرک ہیں۔ شرک اور جھوٹ ایک چیز ہے۔ ایسے گانوں کو بھی نہیں سننا چاہئے۔

پھر فیس بک (Facebook) ہے یا ٹوئٹر (Twitter) ہے یا چیٹنگ (Chatting) وغیرہ ہیں۔ کمپیوٹر وغیرہ پر مجالس لگی ہوتی ہیں۔ اور ایسی بیہودہ اور ننگی باتیں بعض دفعہ ہو رہی ہوتی ہیں، جب ایک دوسرے فریق کی لڑائی ہوتی ہے تو پھر بعض نوجوان وہ باتیں مجھے بھی بھیج دیتے ہیں کہ کیا کیا باتیں ہو رہی تھیں۔ پہلے خود ہی اُس میں شامل بھی ہوتے ہیں۔ ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ کوئی شریف آدمی اُن کو دیکھ اور سُن نہیں سکتا۔ بڑے بڑے اچھے خاندانوں کے لڑکے اور لڑکیاں اس میں شامل ہوتے ہیں اور اپنا ننگ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ایک احمدی کے لئے ان سے بچنا بہت ضروری ہے۔ ایک احمدی مسلمان کو تو حکم ہے کہ تم احسن قول کی تلاش کرو۔ اُس احسن کی تلاش کرو جو نیکیوں میں بڑھانے والا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بنو اور جو لعنت ایسے لوگوں پر پڑنی ہے اُس سے بچ سکو۔ بہرحال بہت سے احسن قول ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں۔ نیکی کے راستے اختیار کرنا اور بتانا احسن ہے اور برائی سے روکنا اور رُکنا احسن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک مومن سے ایک حقیقی عبد سے یہی فرماتا ہے کہ احسن قول تمہارا ہونا چاہئے۔ ایک جگہ فرمایا وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَاتِ (البقرۃ: 149) کہ یعنی ہر ایک شخص کا ایک مطمح نظر ہوتا ہے جسے وہ اپنے آپ پر مسلط کر لیتا ہے۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہو کہ تم نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔

پس جب نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش ہو گی تو قول اور عمل دونوں احسن ہوں گے۔ اُس کے مطابق ہوں گے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔ اگر نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش ہو گی تو یقیناً پھر شیطان سے اور اُس کے حملوں سے بچنے کی بھی کوشش ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو مَیں نے شروع میں تلاوت کی تھی اس میں فرمایاکہ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ۔ کہ یقیناً شیطان ان کے درمیان، یعنی انسانوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان کے بھی بہت سے معنی ہیں۔ اکثر ہم جانتے ہیں۔ شیطان وہ ہے جو رحمان خدا کے حکم کے خلاف ہر بات کہنے والا ہے۔ تکبر، بغاوت اور نقصان پہنچانے والا ہے اور اس طرف مائل کرنے والا ہے۔ حسد کی آگ میں جلنے والا ہے۔ نقصان پہنچانے والا ہے۔ دلوں میں وسوسے پیدا کرنے والا ہے۔ غرض کہ جیسا کہ مَیں نے کہا ہر وہ بات جو احسن ہے اور جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے تا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا ہوں، شیطان اُس کے الٹ حکم دیتا ہے۔ نَزْغٌ یا اَلنَّزْغُ کا مطلب ہے، ’’شیطانی باتیں‘‘ یا مشورے جن کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانا اور فساد پیدا کرنا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان انسان کے لئے ’’عَدُوًّا مُّبِیْنًا‘‘ ہے، کھلا کھلا دشمن ہے۔ اگر تم میرے بندے بن کر اُن تمام احسن باتوں کو نہیں کہو گے اور کرو گے، اُن پر عمل نہیں کرو گے تو پھر رحمان خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی گود میں گرو گے۔ اور شیطان تمہارے اندر جھوٹ بھی پیدا کرے گا، تکبر بھی پیدا کرے گا، بغاوت بھی پیدا کرے گا اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی طرف بھی مائل کرے گا، دلوں میں وسوسے بھی پیدا کرے گا، حسد کی آگ میں بھی جلائے گا۔

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اوصاف

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button