بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایت

گپیں ہانکنا بھی لغویات میں شامل ہے

بیٹھ کر گپیں ہانکنا اور دوسروں سے بے تعلق باتیں پوچھتے رہنا بھی شامل ہے۔ہمارے ملک میں یہ ایک عام نقص ہے کہ مرد بھی اور عورتیں بھی دوسروں سے ایسی باتیں پوچھتے ہیں جن کا اُن کی ذات کےساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مثلاً عورت بلاوجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کا لیا۔یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اُس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کرلے اُسے چین ہی نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی لیکن کسی اور عورت نے اُس کی طرف توجہ نہ کی۔اُس نے تنگ آکر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔لوگوں نے پوچھا کہ کچھ بچا بھی ہے۔اُس نے انگوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوائے اِس انگوٹھی کے اور کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے کہا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی یہ تو بہت خوبصورت ہے۔وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے پوچھ لیتیں تو میر ا گھر کیوں جلتا۔اسی طرح مرد السلام علیکم کہنے کے بعد ہی پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو ؟ کہاں جائو گے ؟ کیا کام ہے ؟ آمدنی کیا ہے ؟ کتنے بچے ہیں ؟ شادی شدہ ہیں یا غیرشادی شدہ ؟ حالانکہ اُس کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انگریزوں میں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے بلاوجہ پوچھیں کہ کہاں ملازم ہو ؟ تعلیم کتنی ہے ؟ تنخواہ کیا ملتی ہے ؟ وہ کبھی کرید کرید کر دوسرے کے غیر متعلق حالات معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔مگر ہمارے ہاں اس کو بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ جن لوگوں کو بڑی بڑی باتوں کا خیال ہوتا ہے انہیں چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔اگر لوگوں کو دین کا فکر ہو اور انہیں معلوم ہو کہ اسلام آج کن مصیبتوں میں گھِرا ہواہے اور اس کی اشاعت کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے تو انہیں لغو کاموں اور لغو باتوں کا خیا ل بھی پیدا نہ ہو۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 222-223 جدید ایڈیشن)

٭…٭…٭

سوال جواب از ملاقات

پاکستان آپ کو کتنا یاد آتا ہے؟

٭… جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ایک طالب علم نے سوال کیا۔ پاکستان آپ کو کتنا یاد آتا ہے؟

اِس پر حضور انور نے فرمایا کہ تم خود وہاں سے دوڑ آئے ہوئے مجھے کیا پوچھ رہے ہو۔

کبھی کبھی ربوہ کی گلیاں یاد آتی ہیں۔ میں اپنے خاندان کا پہلا لڑکا ہوں جو ربوہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس لئے میری یادیں ربوہ کے ساتھ بہت ہیں۔

جب مٹی اُڑتی تھی، کچی گلیاں تھیں، پھر گلیوں اور سڑکوں پر پہاڑی کی سرخ رنگ کی مٹی پڑنا شروع ہوئی تاکہ تھوڑا سا ربوہ کا جو رنگ ہے وہ نہ اٹھے۔ پھر موٹی روڑی پڑناشروع ہوئی۔ پھر سڑکیں بن گئیں۔

اب تو ربوہ بڑا ڈیویلپ ماشاء اللہ ہو گیا ہے۔

مجھے یاد ہے جب چوہدری ظفراللہ خان صاحبؓ وزیرخارجہ تھے یا ربوہ کے شروع کی بات ہے۔ جلسہ کے دن تھے۔ اس زمانہ میں نصرت ہائی اسکول میں جلسہ ہوا کرتا تھا۔ مسجد اقصیٰ میں تو بہت بعد میں گیا۔ عورتوں کا لجنہ کے احاطہ میں اور مردوں کا نصرت ہائی اسکول میں ہوتا تھا۔ قصرِخلافت میں ہی چوہدری ظفراللہ خان صاحبؓ ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا گیسٹ ہاؤس ہوا کرتا تھا۔ایک دفعہ شدید بارش ہو گئی۔ لوگ بڑے آرام سے بیٹھے رہا کرتے تھے۔اس زمانہ میں ربوہ میں ایک ہی جیپ ہوا کرتی تھی۔ جو ناظر اصلاح وارشاد مقامی چوہدری فتح محمد سیال ہوتے تھے یا ان کی جگہ کوئی اور بدل گئے تھے۔ بہر حال وہ اس میں آئے تو ہمارے گھر کے قریب پہنچے تو اتنا زیادہ کیچڑ اور دلدل بن گئی تھی کہ وہ فور ویل ڈرائیو جیپ وہاں پھنس گئی۔ میں گھر کے دروازہ سے باہر نکل کر نظارہ دیکھنے لگا۔ ایک طرف فوجی کھڑے ہیں۔ خدام زور لگا رہے ہیں۔ دھکے دے رہے ہیں۔ لیکن جیپ اپنی جگہ سے ہل نہیں رہی۔ تو یہ حال ہوا کرتا تھا ربوہ کا۔

تو اُس زمانہ کی یادیں بھی ہیں اورپھر اِس زمانہ کی یادیں بھی ہیں۔ ربوہ پھر یاد آتا ہے۔

٭…٭…٭

حضور کے قریبی دوست

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ خلیفہ بننے کے بعد آپ کا اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ رویہ میں کوئی فرق آیا؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ میرا تعلق تو کسی سے نہیں بدلتا۔ہاں اب میرے پاس اتنا وقت نہیں جیسے پہلے تھوڑی دیر بیٹھ لیا کرتا تھا۔ لمبا عرصہ پہلے بھی نہیں بیٹھتا تھا۔ اب تو کام کی نوعیت ہی بدل گئی۔ باقی تعلق ہے اور تعلق رہناچاہئے۔ وہ تو ختم نہیں ہونا چاہئے بلکہ تعلق میں مزید وسعت اور بہتری پیدا ہو گئی۔ ان دوستوں سے بھی اور دوسروں سے بھی۔ ہاں یہ ان سے پوچھ سکتے ہو جو میرے دوست ہیں۔ تمہارے ساتھ میرا رویہ تو نہیں بدلا۔ میرا خیال ہے میں نے کوشش کی ہے نہ بدلوں۔

(الفضل انٹرنیشنل 06؍جنوری 2017ء)

٭…٭…٭

ربوہ میں پہلا کام

٭… ایک اَور خادم نے سوال کیا کہ اگر انشاء اللہ آپ کو دوبارہ ربوہ واپس جانے کا موقع ملے تو وہ کون سی جگہ ہو گی جہاں پہ آپ سب سے پہلے جانا پسند فرمائیں گے؟

حضور انور نے فرمایا کہ تم مجھے موقع پیدا کروا دو، پھر میں تمہیں ساتھ لے جاؤں گا خود ہی دیکھ لینا وہاں جا کے۔ ظاہر ہے کہ پہلے انسان جب ربوہ جاتا ہے تو جہاں بزرگ ہیں جن کو ہم چھوڑ کے آئے اور جو وہاں رہے جنہوں نے ربوہ آباد کیا ان کی یادیں ہی ربوہ سے وابستہ ہیں تو

عموماً پھر یہی ہوتا ہے کہ پہلے انسان جاتا ہے تو اُن بزرگوں کے مزاروں پر، اُن کی قبروں پر حاضری دے کے ان کے لیے دعا کرتا ہے

اور پھر پورے شہر کے لیے دعا کرتا ہے اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے۔

جس طرح ہم قادیان جاتے ہیں تو حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مزار پر پہلے جاتے ہیں۔

کوشش یہی ہوتی ہے اگر مکہ مدینہ جائیں تو ہم سب سے پہلے وہیں جاتے ہیں، روضہ مبارک پہ۔ تو یہاں بھی بزرگ جہاں دفن ہیں جنہوں نے ربوہ کو آباد کیا اور ربوہ کو سینچا، ربوہ کو بنایا،ان کی یادیں وابستہ ہیں تو پرانے بزرگوں کی یادیں تازہ کرنے کے لیے اور ان کے لیے دعا کرنے کے لیے عموماً تو یہی ہوتا ہے کہ وہاں جایا جائے۔ باقی اس وقت حالات کیا ہوں گے، جب ہوں گے تو دیکھ لیں گے اور اگر موقع ملے تو ساتھ آ جانا میرے۔

(ملاقات خدام الاحمدیہ جرمنی 22؍اگست 2021ء۔الفضل انٹرنیشنل10؍ستمبر2021ء)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button