یورپ (رپورٹس)

تازہ ترین: سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کا پہلا دن

(لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل برطانیہ)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار اللہ برطانیہ مورخہ ۱۸ تا ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق پارہی ہے۔ امسال مجلس انصار اللہ برطانیہ نے اپنے سالانہ اجتماع کے لیے’’درود و استغفار‘‘ کو مرکزی موضوع مقرر کیا۔ برطانیہ کے شہر گلڈ فورڈ کے مضافاتی علاقے پٹنہم (Puttenham) میں وسیع و عریض رقبے پر اجتماع کے لیے نہایت منظم، جامع اور بھرپور انتظامات کیے گئے تھے۔ اجتماع گاہ میں آنے والے انصار کی سہولت، رہائش، طعام، صحت اور دیگر ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مختلف شعبہ جات نے اپنی ذمہ داریاں احسن رنگ میں ادا کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔

جتماع گاہ اور انتظامات: اجتماع گاہ کی مرکزی مارکی خاصی کشادہ ہے جبکہ اندرونِ اجتماع گاہ کے علاوہ باہر کھلے علاقے میں بھی بڑی اسکرینیں نصب کی گئی ہیں جن پر اجتماع کی کارروائی براہِ راست دکھائی جارہی ہے۔ حاضرین کے لیے بڑے اسپیکرز کا بھی انتظام ہے اور آواز کی کوالٹی نہایت عمدہ ہے جس کی وجہ سے اجتماع کی کارروائی سے استفادہ کرنے میں کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آتی۔ برطانیہ کے دُور دراز علاقوں سے آنے والے انصار کی رہائش کے لیے ایک بڑی اور کشادہ مارکی میں خصوصی انتظام کیا گیا ہے جہاں کثیر تعداد میں بستروں کا انتظام موجود ہے۔ امسال اجتماع گاہ میں پانچ سو انصار کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ کھانے کی مارکی بھی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ وسیع ہے جبکہ مختلف ضروریات کی اشیاء کی فراہمی کے لیے ایک الگ بازار مارکی بھی قائم کی گئی ہے۔ حاضرین کے لیے چینی اور بغیر چینی کی چائے ہمہ وقت دستیاب ہے جبکہ ٹوائلٹس کا بھی مناسب اور عمدہ انتظام موجود ہے۔ انصار کی رہنمائی اور سہولت کے لیے اجتماع گاہ کے مختلف مقامات کی نشاندہی کرنے والا ایک بڑا نقشہ نصب کیا گیا ہے جبکہ کارکنان بھی رہنمائی اور معاونت کے لیے موجود ہیں۔ عمر رسیدہ انصار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے خصوصی بگھی گاڑی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

اجتماع گاہ کے اندرونی ماحول کو بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ارشادات کے علاوہ قرآن کریم کے بعض احکامات کو خوبصورت بینرز کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ مرکزی اسٹیج بھی نہایت خوبصورتی سے تیار کیا گیا ہےجس کے پس منظر میں نصب ایک بڑی اسکرین پر اجتماع کے مرکزی موضوع ’’درود و استغفار‘‘ اور قرآن کریم کی متعلقہ آیات کے حوالہ جات نمایاں کیے گئے ہیں۔ رجسٹریشن اور سیکیورٹی اسکیننگ کے بعد حاضرین کے لیے ریفریشمنٹ کا بھی انتظام موجود ہے۔

اجتماع گاہ میں بک اسٹال، ریویو آف ریلیجنز، انصار الدین، سائیکل برائے صحت اور صنعت و تجارت سمیت مختلف شعبہ جات کے اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔ امسال پہلی مرتبہ شعبہ ایثار کی مارکی میں انصار کی تفریح کے لیے کیرم بورڈ، شطرنج اور لڈو کھیلنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ دن بھر کی مصروفیات کے دوران جسمانی تھکن دور کرنے کے لیے پاؤں کے مساجرز رکھے گئے ہیں جبکہ مختصر آرام کے لیے ایک خصوصی ریسٹ روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پانچ بیڈز اور کرسیاں موجود ہیں۔انصار کی صحت کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایک جی پی ڈاکٹر، دانتوں کے معائنے کے لیے ڈینٹسٹ جبکہ آنکھوں اور کانوں کے معائنے کے لیے متعلقہ ماہرین موجود ہیں جو معائنے کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے مفید مشورے بھی فراہم کر رہے ہیں۔

انتظامی تیاریوں کا ایک جائزہ: اجتماع کے انتظامات کے حوالے سے نائب ناظم اعلیٰ اجتماع مکرم شکیل احمد بٹ صاحب نے بتایا کہ صدر صاحب مجلس انصار اللہ یوکے صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب نے سال کے آغاز ہی میں ناظم اعلیٰ اجتماع اور ان کی ٹیم کا تقرر کردیا تھا۔ اس ٹیم میں سیکریٹری اجتماع کے علاوہ ۱۴؍نائب ناظمین اعلیٰ اور ۱۳۰؍نظامتیں قائم کی گئی تھیں۔ ان نظامتوں نے تمام ریجنز کے ساتھ بھرپور رابطہ رکھتے ہوئے امسال اجتماع میں بہتر سے بہتر حاضری کو یقینی بنانے اور انتظامات کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے لیے سال کے آغاز ہی سے اپنی کاوشیں شروع کردی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ امسال پہلی مرتبہ رجسٹریشن، اسکیننگ، کھانے پینے اور اجتماع دفتر سے متعلق نظامتوں کے دفاتر چوبیس گھنٹے کھلے رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ آنے والے انصار کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ لجنہ اماء اللہ کا اجتماع بھی انہی دنوں منعقد ہورہا ہے اور اگلے ہفتے خدام الاحمدیہ کا اجتماع بھی اسی مقام پر منعقد ہونا ہےاس لیے تینوں تنظیموں کی ایک مشترکہ کمیٹی بھی مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون اور انتظامی امور کو مربوط بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

پہلے روز کا آغاز: اجتماع کے پہلے روز کا آغاز جمعۃ المبارک کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے نمازِ تہجد، نمازِ فجر اور درس القرآن سے ہوا۔ اس روح پرور آغاز کے بعد اجتماع گاہ میں موجود تمام انصار کی خدمت میں پُرتکلف ناشتہ پیش کیا گیا۔ شام چار بجے افتتاحی اجلاس کے آغاز سے قبل امیر جماعت احمدیہ برطانیہ، محترم رفیق احمد حیات صاحب نے لوائے انصار اللہ لہرایا اور دعا کروائی۔ بعد ازاں ان کی زیرِ صدارت مکرم عبدالمومن زاہد صاحب مربی سلسلہ نے تلاوتِ قرآن کریم پیش کی، جبکہ مکرم محمد زکریا صاحب نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا اور اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ صدر صاحب مجلس انصار اللہ برطانیہ کی نیابت میں تمام انصار نے عہد دہرایا۔ بعد ازاں مکرم خالد محمود بٹ صاحب نے نظم پیش کی۔

بعد ازاں صدرِ اجلاس محترم امیر صاحب نے افتتاحی خطاب کیا۔ آپ نے برطانیہ میں گزشتہ دنوں مخالفینِ احمدیت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ایک جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدمزگی پیدا ہونے کے باعث پولیس نے اسے مقررہ وقت سے قبل ختم کروادیا جبکہ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ جس میں پچاس ہزار سے زائد احباب نے شرکت کی اللہ تعالیٰ کے فضل اور خلافت کی برکت سے انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ محترم امیر صاحب نے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بعض نصائح کا ذکر کرتے ہوئے درود و استغفار کی اہمیت بیان کی۔ آپ نے کہا کہ درود و استغفار کے نتیجہ میں نہ صرف انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے بلکہ دنیاوی مشکلات بھی دور ہوتی ہیں۔ موجودہ دور کے جنگی حالات، بھوک، افلاس، غربت اور محرومیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ سے دُوری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مشکلات ہیں۔آپ نے مزید کہا کہ استغفار دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے جبکہ درود شریف آنحضرتﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے بھی حاضرین کو توجہ دلاتے ہوئے آپ نے اس امر پر زور دیا کہ اپنی نسلوں کو ان کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں خلافتِ احمدیہ کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ دعا کے ساتھ افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

پینل ڈسکشنز: اجتماع کے دوران آج کے دن دو پینل ڈسکشنز کا بھی انعقاد ہوا۔ پہلی نشست ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشقِ رسول ﷺ‘‘ کے نہایت ایمان افروز موضوع پر منعقد ہوئی جس کی میزبانی مکرم راجہ برہان احمد صاحب مربی سلسلہ نے کی۔ نشست میں مکرم منصور احمد ضیاء صاحب اور مکرم حافظ سید مشہود احمد صاحب مربیانِ کرام نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عشقِ رسولِ اکرم ﷺ کے متعدد ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے اس محبت کی گہرائی اور اسوۂ رسولﷺ سے آپ علیہ السلام کی غیر معمولی وابستگی کو اجاگر کیا۔

دوسری نشست ریویو آف ریلیجنز کی ٹیم کے زیرِ اہتمام ’’میری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ اس نشست میں ماہرین نے دعا کی حقیقت، قبولیتِ دعا اور اس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ حاضرین کو اپنے سوالات پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا جن کے ماہرین نے مدلل اور تسلی بخش جوابات دیے۔ اس طرح یہ نشست حاضرین کے لیے نہایت معلوماتی اور فکر انگیز ثابت ہوئی۔

کھیلوں کے مقابلے اور صحت کی سہولیات: شام چھ بجے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر کلائی پکڑنے کا دلچسپ مقابلہ بھی کروایا گیا جس میں انصار نے نہایت جوش و خروش سے حصہ لیا جبکہ بڑی تعداد میں انصار نے اس مقابلے کو دلچسپی اور ذوق و شوق سے دیکھا۔ اسی دوران شعبہ ایثار کے تحت ہیلتھ ایڈوائزری سروس کا بھی انتظام کیا گیا تھا جہاں انصار کے بلڈ پریشر کی جانچ اور ڈاکٹرز کی جانب سے مختلف صحت کے مسائل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس سہولت سے متعدد انصار نے استفادہ کیا۔

کھانا، نماز اور اردو مشاعرہ: شام سات بجے انصار کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، جس کے بعد رات آٹھ بجے نمازِ مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں۔ نمازوں کے بعد ایک اردو مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں منتخب شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔

یوں سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ برطانیہ کا پہلا روز عبادات، تربیتی و علمی پروگراموں، صحت اور تفریحی سرگرمیوں اور ادبی ذوق کی مختلف جہتوں سے بھرپور رہا۔ ’’درود و استغفار‘‘ کے مرکزی موضوع نے دن بھر کے پروگراموں کو ایک روحانی اور تربیتی ربط عطا کیے رکھا اور انصار نے اجتماع کے پہلے روز کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کرکے اس بابرکت موقع سے بھرپور استفادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button