کیوں؟
پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ
لوگ کھانا کیوں ضائع کرتے ہیں؟
پیارے بچو! کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی نے اپنی پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا لیا اور پھر اسے پورا کھائے بغیر پھینک دیا؟ یا گھر میں زیادہ کھانا پک گیا اور کئی دن پڑے رہنے کے بعد خراب ہوگیا؟ یہ کھانا ضائع ہونے کی عام مثالیں ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لوگ کئی وجوہات کی بنا پر کھانا ضائع کرتے ہیں۔ بعض لوگ خریداری سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ گھر میں کتنے افراد ہیں اور کتنی خوراک کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ضرورت سے زیادہ کھانا خرید لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کھانا بناتے ہوئے مقدار کا صحیح اندازہ نہیں کیا جاتا اور ضرورت سے زیادہ کھانا تیار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنی پلیٹ میں زیادہ کھانا لے لیتے ہیں لیکن بھوک ختم ہونے کے بعد باقی کھانا پھینک دیتے ہیں۔ بچا ہوا کھانا مناسب طریقے سے محفوظ نہ کرنا بھی اس کے خراب ہونے اور ضائع ہونے کا سبب بنتا ہے۔ ایک سائنسی جائزے میں بیالیس (42) مختلف مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا گیا کہ کھانا محفوظ کرنے کی مہارت، خوراک کے بارے میں معلومات، کھانے کی منصوبہ بندی اور روزمرہ کی عادات بھی کھانے کے ضیاع پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی Food Waste Index Report 2024 کے مطابق 2022ء میں دنیا بھر میں تقریباً 1.05؍ارب ٹن کھانا ضائع ہوا۔ اس میں سب سے بڑا حصہ گھروں کا تھا۔ دنیا بھر میں ضائع ہونے والے کھانے کا تقریباً 60؍ فیصد گھروں میں ضائع ہوا۔ رپورٹ کے مطابق گھروں میں ہر روز کم از کم ایک ارب کھانوں کے برابر قابلِ خوردنی خوراک ضائع ہوجاتی ہے۔
سو بچو! ہمیں چاہیے کہ کھانے کی قدر کریں۔ اتنا ہی کھانا پلیٹ میں لیں جتنا ہم کھا سکتے ہوں، ضرورت کے مطابق خریداری کریں، بچا ہوا کھانا مناسب طریقے سے محفوظ کریں اور اسے ضائع کرنے کی بجائے ممکن ہو تو بعد میں استعمال کریں۔ یاد رکھیں کہ کھانا صرف پیسے سے نہیں ملتا بلکہ اسے اگانے، تیار کرنے اور ہمارے دسترخوان تک پہنچانے میں پانی، زمین، توانائی اور بہت سے لوگوں کی محنت صرف ہوتی ہے۔ اس لیے کھانے کی قدر کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کی قدر کرنا ہے۔
بچو! آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو ہمیں بھجوائیں۔
ان شاء اللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔
آپ کا بھائی،نبیل احمد کاشف۔ جرمنی
