حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اگر ریاکاری اور دکھاوا ہے تو وہ تقویٰ نہیں ہے

آپؑ نے فرمایا کہ ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ صرف اتنے پر مغرور نہ ہو جاؤ کہ ہم نماز روزہ کرتے ہیں یاموٹے موٹے جرائم مثلاً زنا چوری وغیرہ نہیں کرتے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا ان خوبیوں میں تو اکثر غیرلوگ بھی یہاں تک کہ مشرک وغیرہ بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ وہ بھی یہ جرائم نہیں کرتے۔ تقویٰ کامضمون باریک ہے ۔اس کو حاصل کرو۔ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ تقویٰ یہ ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ جس کے عمل میں کچھ بھی ریاکاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس لوٹا دیتا ہے۔ کوئی دکھاوا نہیں ہونا چاہیے۔کوئی ریاکاری نہ ہو۔ اگر ریاکاری اور دکھاوا ہے تو وہ تقویٰ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اسے واپس کر دیتا ہے ۔اسے قبول نہیں کرتا۔ متقی ہونا مشکل ہے۔ مثلاً اگر کسی پر ذرا سا الزام لگے، کسی کے ذرا سا الزام لگانے پر غصے میں آ جاؤ، کسی نے تمہارے پہ الزام لگا دیا اور تم غصے میں آگئے تو یہ تقویٰ سے دُور باتیں ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر طیش میں آ جانا ،لڑائی جھگڑے کر لینا،بحثوں مباحثوں میں پڑجانا یہ چیزیں تقویٰ سے دور لے جانے والی ہیں۔ پس آپؑ نے فرمایا کہ متقی کا عمل اس طرح نہیں ہوتا۔

متقی کا عمل تو یہ ہے کہ وہ خالصةً اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنے والا ہو اور حوصلہ ہمّت دکھانے والا ہو۔ اس میں وسعتِ حوصلہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔

آپؑ نے فرمایا کہ جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آ جائیں وہ متقی نہیں بنتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو بہت ساری خوابیں آ گئیں یا الہامات ہو گئے تو وہ متقی ہو گیا ۔آپؑ نے فرمایا کہ تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔ تقویٰ حاصل کرنا ہے یہ بات دیکھو۔ یہ نہیں کہ مجھے اتنی خوابیں آگئی ہیں یاایسی خوابیں آ گئی ہیں۔ جو متقی ہے اس کے الہامات بھی صحیح ہیں اور اگر تقویٰ نہیں ہے تو الہامات بھی قابل اعتبار نہیں۔ ان پہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں شیطان کا حصہ ہے۔ اگر تقویٰ ہی نہیں ہے تو شیطانی خوابیں بھی آ سکتی ہیں۔(ماخوذا ز ملفوظات جلد 2 صفحہ 173، ایڈیشن 2022ء)

(خطبہ عید الاضحی فرمودہ مورخہ۲۷؍مئی ۲۰۲۶ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۸ جولائی ۲۰۲۶ء)

مزید پڑھیں: ہمیں بھی جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ہی ملنا ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button