ہمارے والدِمحترم سیّد زکی احمد صاحب
(فرحانہ کنول طاہر۔ بنگلور، انڈیا)
والد محترم ہماری زندگی کا وجود، ہماری پہچان، گھر کی بنیاد، خاندان کے ستون اور ہم بچوں کی دنیا کے مرکز تھے۔ وہ ایک ایسے سایہ دار درخت کی مانند تھے، جن کے سائے میں ہم نے پرورش پائی۔ آپ کے اوصاف حمیدہ میں آپ کی شفقت، محنت، قربانی، علم و حکمت اور مضبوطی جیسے پہلو نمایاں ہیں۔ شفقت اور محبت کا سمندر، قربانی اور محنت، علم و حکمت کا سرچشمہ، ہمت اور حوصلہ افزائی کا نمونہ تھے۔
والد محترم ۲۶؍دسمبر ۱۹۶۵ء کو بہار، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد شفیع احمد اور والدہ زبیدہ بیگم صاحبہ پٹنہ بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ کاروبار کے سلسلے میں دہلی آگئے، روزی روٹی کی تلاش کرتے کرتے ممبئی پہنچے اور پھر وہیں رہنے لگے، شادی ہوئی اور ازدواجی زندگی کی شروعات ہوئی۔
والد محترم نہایت سادہ دل، اپنوں اور غیروں کا خیال رکھنے والے، سب سے محبت سے پیش آنے والے، غریبوں کی مدد کرنے والے، یتیموں کا سایہ بننے والے، مہمانوں کی عزت کرنے والے، دین اور جماعت سے گہرا لگاؤ رکھنے والےاور سب پر محبت و شفقت نچھاور کرنے والے زندہ دل انسان تھے۔ بےشک ہر ماں باپ کے لیے اولاد بہت پیاری ہوتی ہے، مگر میرے والد صاحب نے اپنی زندگی ہی بچوں کے لیے قربان کردی۔ اپنی اولاد سے بےپناہ محبت کرتےاور ان کی یہ محبت ہر عمل میں نظر آتی تھی۔ آپ نے اولاد کی خوشی کے لیے خود کو قربان کردیا، اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دن رات محنت کرتے تھے تاکہ ہم اچھی زندگی گزارسکیں اور ہمارا مستقبل سنور سکے۔ ہمیں نہ صرف دنیاوی تعلیم دی بلکہ دینی تعلیم کی طرف بھی خصوصی توجہ رکھی۔ ہمیں نظامِ جماعت سے جوڑے رکھا۔
آپ نے دین کو ہمیشہ دنیا پر مقدّم رکھا، زندگی کے اسباق، نشیب و فراز، تجربے سے بھی ہماری راہنمائی کیا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور جماعت احمدیہ کی برکت ہے جس کی بدولت آج ہم اس مقام پر ہیں۔ ہمیشہ کہتے کہ دین سے کبھی بے وفائی مت کرنا۔
کتب حضرت اقدس مسیح موعودؑ پڑھنے کا بہت شوق تھا، اورہم بچوں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔ پھر بطور کوئز سوال کیا کرتے تھے۔
پنجوقتہ نماز ادا کرنے والے اور روزانہ تلاوت قرآن کریم با ترجمہ کرنے والے، صدقہ خیرات کرنے والے، چندہ جات کی ادائیگی میں ہمیشہ پہل کرنے والے، دوستوں اور رشتہ داروں کی دلجوئی کرنے والے، ہر کسی کی مدد کے لیے ہرآن تیار رہنے والے، خداترس انسان تھے۔ اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد خاموشی سے کیاکرتے تھے۔ آپ نے ایک ستّر اسّی سالہ بزرگ کو اپنی ورکشاپ میں پناہ دی ہوئی تھی۔ ان کے کھانے، پینے اور رہنے کا انتظام کیا تھا۔
بیٹیوں سے بےحد محبت کرتے۔حدیث نبوی میں ہے جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں حسنِ معاشرت کا ادب سکھایا، ان کی شادیاں کروائیں اور ان سے احسان کا معاملہ کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔ الحمدللہ کہ محبت کے اس سرچشمہ نے فقط اپنی بیٹیوں ہی کی پرورش اور شادیاں نہیں کیں، بلکہ اپنے مرحوم بھائی کی چار بیٹیوں کی بھی پرورش کی اور شادیاں کیں۔ ویسا ہی انہیں بھی کھلایا، پلایا، پڑھایا اور پہنایا جیسے اپنی بیٹیوں کو کیا، کُل سات بیٹیوں کی شادیاں کروائیں۔ مرحوم بھائی کے بچوں سے اپنی اولاد جیسی محبت اور شفقت کیا کرتے تھے۔ ہمیشہ دعا کیا کرتے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں پوری ہونے تک زندہ رکھے۔
والد محترم کے ایک دوست فضل خان آف ممبئی کچھ یوں بیان کرتےہیں کہ مرحوم سیّد زکی صاحب نے زندگی میں بہت محنت کی۔ وہ اپنے فن کے ماہر تھے اور جماعت سے گہرا لگاؤ تھا۔ جماعت کے افراد ان کی ورکشاپ آتے تو بہت خوش ہوتے تھے۔ مجھے ان کے خلوص کا ذاتی تجربہ ہے۔ ان کے والد صاحب غالباً ۱۹۷۰ء میں ممبئی آئے تھے، نیک دل اور مخلص انسان تھے، ان کے بھائیوں کی مہارت سوٹس بنانے میں تھیں، پہلے انٹاپ ہل ممبئی میں فیملی کے ساتھ قیام ہوا کرتاتھا۔
والد صاحب Brain Infection کی وجہ سے ۱۵؍دن ICU میں رہنے کے بعد اپنے مولیٰ حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور آپ کی اولاد کو آپ کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب



