آسٹریلیا (رپورٹس)

نیوزی لینڈ میں سالانہ پیس سمپوزیم ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کی جانب سے دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگوں کے خطرات اور عالمی امن کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے سالانہ پیس سمپوزیم منعقد کیا جاتا ہے۔ امسال یہ سمپوزیم مورخہ ۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو آکلینڈ کے فکلنگ کنونشن سینٹر (Fickling Convention Centre) میں ’’منقسم دنیا میں امن کا فروغ‘‘ (Fostering Peace in a Divided World) کے موضوع پر منعقد ہوا۔ تقریب میں نیوزی لینڈ کی سیاسی، مذہبی اور سماجی زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں آنریبل مارک مچل (Hon. Mark Mitchell)، وزیر پولیس، ایمرجنسی مینجمنٹ و ریکوری، مقامی اراکین پارلیمنٹ، مذہبی راہنما اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔

تقریب کا آغاز نیشنل صدر جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ مکرم بشیر احمد خان صاحب کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ اپنی استقبالیہ تقریر میں صدر اجلاس نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں امن محض ایک غیر فعال امید نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نیز آپ نے جماعت احمدیہ کے قیام، اس کے عالمی تعارف اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قیادت میں دنیا بھر میں جاری خدمت انسانیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی کاوشوں کا ذکر کیا۔

بعد ازاں ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد ہوا جس میں آنریبل مارک مچل، نیوزی لینڈ ہندو کونسل کے نمائندہ جناب مہیش بندرا، کمیونٹی ایڈوکیٹ بیرسٹر محترمہ فضیلت شاہ، اینگلیکن چرچ کے ریورنڈ اوٹسا گریگوریک (Rev Ivica Gregurec) اور جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کے مبلغ انچارج مکرم شفیق الرحمٰن صاحب شامل تھے۔

آنریبل مارک مچل صاحب نے اختلافات کو تصادم کی بجائے مکالمے سے حل کرنے پر زور دیا اور جماعت احمدیہ کی خدمت اور اصول ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کو سراہا۔ جناب مہیش بندرا نے مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی اہمیت بیان کی جبکہ محترمہ فضیلت شاہ نے تنازعات کا جواب انتقام کی بجائے بات چیت سے دینے پر زور دیا۔ ریورنڈ گریگوریک نے نیوزی لینڈ میں بڑھتی ہوئی سماجی کشیدگی اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی طرف توجہ دلائی اور مکالمے کی اہمیت بیان کی۔ مبلغ انچارج صاحب نے پائیدار امن کے لیے انصاف اور مساوات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے غیر مساوی اطلاق اور اقوام متحدہ کے نظام میں موجود عدم مساوات کی طرف توجہ دلائی۔

پینل کے بعد سوال و جواب کا اجلاس ہوا جس میں امن، سماجی ہم آہنگی، حکومت اور کمیونٹی کے تعلقات، احتجاج اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ امن سازی کا آغاز فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اور ہر شخص کو مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو سمجھنے، ان کا احترام کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آخر میں مکرم محمد اقبال صاحب نیشنل سیکرٹری امور خارجیہ نے تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ نیشنل صدر صاحب نے دعا کروائی جس کے بعد مہمانوں اور شرکاء کی ظہرانے سے تواضع کی گئی۔

یہ پیس سمپوزیم مختلف مذاہب، ثقافتوں اور معاشرتی پس منظر رکھنے والی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور امن، انصاف، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مکالمہ کا اہم ذریعہ ثابت ہوا۔ اس پروگرام میں ۱۵۰؍ افراد نے شرکت کی،الحمدللہ۔

(رپورٹ: مبارک احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ آسٹریا کا ۲۱واں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button