سب طاقتوں کا سرچشمہ صرف خدا کی ذات ہے
اس آیت میں جو مَیں نے پڑھی ہے، اللہ تعالیٰ نے تو کہہ دیاہے کہ مَیں مضطرکی دعا کو سنتاہوں، بے قرار دل کی دعا کو قبول کرتاہوں۔ اس لحاظ سے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اور یہ ہمارے لئے ہی ہے کہ مضطر کا مطلب صرف بے قرار ہی نہیں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جس کے سب راستے کٹ گئے ہوں۔ تو اس وقت صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے کوئی دنیاوی واسطے اور راستے نہیں ہیں۔ اس معاشرہ میں رہتے ہیں اس لئے جب تنگیاں آتی ہیں تو جو بھی متعلقہ حکام ہوتے ہیں اور مختلف ذرائع ہیں ان کو آگاہ ہم ضرور کرتے ہیں لیکن کبھی ان کو خدا نہیں بناتے۔ کیونکہ ہمیں تو ہمارے خدا نے، ہمارے زندہ خدا نے یہ بتا دیاہے کہ جب بھی تمہیں میری ضرورت ہو بلکہ ہر وقت، جب تم امن کی حالت میں ہو، بظاہر امن کی حالت میں بھی ہو، اس یقین کے ساتھ مجھے پکارو کہ مَیں بے سہاروں کا سہارا ہوں، ان کی دعائیں سنتاہو ں تو تم مجھے ہمیشہ اپنی مدد کے لئے اپنے سامنے پاؤ گے۔ لیکن یہ ذہن میں ہونا چاہئے کہ اس اضطرار کے ساتھ دعائیں ہو رہی ہیں کہ زبان حال بھی کہہ رہی ہو کہ ’حیلے سب جاتے رہے حضرت توّاب ہے‘۔ پھر دیکھو اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیفیں کس طرح دور کرتاہے۔ ظالم افسروں سے بھی تمہاری نجات ہوگی، ظالم مولویوں سے بھی تمہاری نجات ہوگی، ظالم حکومت سے بھی تمہاری نجات ہوگی۔ لیکن صرف رونا یا گڑگڑانا ہی کافی نہیں بلکہ جیساکہ فرمایا ایک اضطراب اور اضطرار ہونا چاہئے، یہ یقین ہونا چاہئے کہ سب طاقتوں کا سرچشمہ صرف خدا کی ذات ہے۔ اور زمینی حملے ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اگر ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے
(خطبہ جمعہ ۲۸؍نومبر ۲۰۰۳ء ، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۳؍جنوری ۲۰۰۴ء)
مزید پڑھیں: دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے




