علم کی اہمیت اور اس کے حصول کے ذرائع
قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ علم انسان کا کمال نہیں ہے، انسان علم کو اپنی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ علم کی سلطنت کا بادشاہ صرف علیم و خبیر اور قادر مطلق خدا ہے۔ تمام تر علوم کی چابیاں اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہیں لہٰذا علم کا منبع انسان نہیں بلکہ واحد لا شریک اللہ ہے۔ اللہ کی منشا کے مطابق ہر عہد میں علوم کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں جو انسانی تقاضوں اور ضرورتوں کو سیراب کرتے ہیں
مادی ارتقا کا نقطۂ انتہا اشرف المخلوقات انسان کے جسمانی ارتقا کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً تین لاکھ سال قبل اختتام پذیر ہو گیا۔ انسان کی آنکھیں، کان، ناک، ہاتھ، انگلیاں، ٹانگیں، دماغی ساخت وغیرہ غرض کہ سب وجود میں آچکا تھا۔ قدیم انسان (Homo Sapiens) کو وہ تمام جسمانی و دماغی استعداد و قوتیں حاصل ہو چکی تھیں جن کا استعمال اس نے آئندہ زمانوں میں کرنا تھا۔ لیکن ان استعدادوں و قوتوں کو بروئےکار لانے کے لیے اسے ایک اَور سفر پر نکلنا تھا، ایک نئے عہد میں قدم رکھنا تھا۔ یہ نیا عہد ذہنی وسعت کا سفر ہے، ارتقائے ذہن کا عہد ہوموسیپئنز (آج کا انسان) سے شروع ہوتا ہے اور آج بھی محوِ سفر ہے۔ جسمانی تقاضوں اور لوازمات کے پورے ہونے کے بعد انسان اپنے اردگرد ماحول پر غور و فکر کرنے لگا۔ اشیاء و مظاہر کی ماہیت و پہچان اور ان کے درمیان تعلق و میل نے ذہن کو علم کا ذائقہ چکھایا، تجسّس و تحقیق کی پیاس جگا دی۔ بنی آدم حیرانگی و تعجب انگیزی کے جذباتی تجربوں سے روشناس ہونے لگا۔ سمندروں کی وسعت، پہاڑوں کی رفعت، جنگلوں کی رعنائیاں، صحراؤں کی تپش، برف زاروں کی خاموشی، پرندوں کی بولیاں، باغوں کی ٹھنڈک، بارشوں کا رقص، طوفانوں کا غضب، آسمان کی وسعتیں، ستاروں کے جھرمٹ، موسموں کی آنکھ مچولی، سبزہ زاروں کا حسن۔ غرض کہ انسان رنگ و بو، تغیر و تبدیلی سے متعارف ہونے لگا۔ وہ خوبصورتی، توازن اور ہم آہنگی میں سکون پاتا اور فساد و بگاڑ میں مضطرب ہو جاتا۔ تدبر و غور و فکر سے انسان لا علمی کے خرابوں سے علم کی روشن شاہراہوں کی طرف نکل پڑا۔ ذہنی ارتقا کی روح وسعتِ علم ہے، ارتقائے ذہن کی ترقی علمی ترقی پر منحصر ہے اور علمی ترقی کا گہرا مضبوط تعلق مادی ترقی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
انسان نے آگ کے خواص پر علم پا کر اسے اپنے فائدے میں استعمال کرنا شروع کیا۔ باد، مٹی، آب و ہوا کے تعلق کو سمجھ کر زراعت کا آغاز ہوا۔ انسانی تہذیب کی تاریخ میں پہیے کی ایجاد انتہائی اہم موڑ ہے۔ ابتدائے آفرینش میں جب انسان بھاری پتھروں اور لکڑیوں وغیرہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ گھسیٹ کر لے جاتا ہو گا تو اس کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ گول تنے والی لکڑی آسانی سے لڑھک جاتی ہے۔ یہ جان کر اس کے ذہن میں لکڑی کے پہیوں کی ایجاد کا خیال آیا ہو گا۔ اس نے سوچا ہو گا کہ اگر بھاری پتھروں کو گول لکڑی کے تنوں پر رکھ کر گھسیٹا جائے تو یہ آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لائے جا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لکڑی کے سادہ پہیوں سے لے کر کوانٹم کمپیوٹر تک انسان کی ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے علم کار فرما ہوتا ہے اور علم کا بہاؤ ذہنی ارتقا کو جلا بخشتا ہے۔
قدیم انسان نے لکڑی کے سادہ ترین پہیوں کو ایجاد کیا اور اس کے بعد آنے والے انسانوں نے ان سادہ لکڑی کے پہیوں پر غور و فکر کر کے بیل گاڑی، گھوڑا گاڑی اور رتھ وغیرہ بنائے۔ علم اور تخلیق یوں ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلتے رہے اور آج ہم اپنے اردگرد جو گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، فیکٹریاں، مشینیں وغیرہ دیکھتے ہیں ان ایجادات کا سفر آج سے تقریباً چھ ہزار سال پہلے لکڑی کے سادہ پہیے کی تخلیق سے شروع ہوا۔ جدید عہد کے پیچھے ہزاروں سالوں پر محیط علم کی کڑیوں کا ایک جال پھیلا ہے جس نے ماڈرن انسان کے ذہن اور قدیم ذہن میں طویل مسافت پیدا کر دی ہے۔ ہمارے دماغ کی ساخت، آنکھیں، کان، ٹانگیں وغیرہ تو لاکھوں سال پہلے جیسے ہی ہیں لیکن ہمارا ذہنی ارتقاء ان سے بہت آگے نکل چکا ہے اور اس ذہنی ارتقا کا قلب و جان و روح علم ہے۔
قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ علم انسان کا کمال نہیں ہے، انسان علم کو اپنی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ علم کی سلطنت کا بادشاہ صرف علیم و خبیر اور قادر مطلق خدا ہے۔ تمام تر علوم کی چابیاں اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہیں لہٰذا علم کا منبع انسان نہیں بلکہ واحد لا شریک اللہ ہے۔ اللہ کی منشا کے مطابق ہر عہد میں علوم کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں جو انسانی تقاضوں اور ضرورتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پٹرول کی دریافت سے پہلے انسان کوئلے اور لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اب ذرا تصوّر کریں کہ اگر علم کی رسائی پٹرول تک نہ ہوتی تو سڑکوں پر بیل گاڑیاں اور ٹانگے نظر آتے، بحری جہاز اور ریل گاڑیاں سٹیم کی طاقت پر چلتیں اور شاید ہوائی جہاز کا سفر ممکن نہ ہوتا۔ آج جب پٹرول کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں تو علوم کے نئے دروازے کھل رہے ہیں جیسے سولر انرجی، ونڈ انرجی، ہائیڈرو انرجی، بائیو فیول، ہائیڈروجن فیول اور نیوکلیئر انرجی۔ توانائی کے یہ علوم آئندہ زمانوں کی ضروریات پوری کریں گے (اور آج بھی ان سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے)۔ پس ہر عہد میں اللہ کے اذن سے علم کے چراغ روشن ہوتے ہیں۔جب خدا علیم ہے، تمام علوم کا سرچشمہ ہے تو پھر وہ کون سا مذہب ہے جو انسانیت کو دعوتِ علم دیتا ہے؟
اسلام وہ واحد مذہب ہے جو علم کے حصول کی اہمیت اور مقاصد کو بھرپور انداز میں وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب نزول کے لحاظ سے پہلی سورت جو کہ سورۃالعلق ہے، کی آیات یوں بنی نوع انسان کو علم کی طرف بلاتی ہیں: ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ اور تیرا رب سب سے زیادہ معزز ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘(العلق:۲تا۶)
سورۃ العلق کی مندرجہ بالا آیات حیرت انگیز علمی خزانے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ قرآنی آیات پر غور کیا جائے تو علم کی اہمیت اور اس کے حصول کے ذرائع ہم پر کھل جاتے ہیں۔ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مضمون کو سمجھتے ہیں۔
اقرا کے دو معنی ہیں۔اوّل یہ کہ کتاب یا تحریر دیکھ کر پڑھو، دوسرا یہ کہ بات سن کر دہراؤ۔ اب یہ دونوں طریقے علم کے حصول کے بنیادی راستے ہیں۔ طالبِ علم کتابیں پڑھ کر یا معلم کے لیکچرز سن کر علم حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فعلِ امر صادر کرنا کہ ’’پڑھو‘‘ دراصل اوّل طور پر قرآن مجید فرقانِ حمید کو سمجھ اور غور و فکر کے ساتھ پڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ کتابُ اللہ نا پیدا کنار علمی خزانوں کا بحر ہے اور تمام علوم چاہے وہ سائنسی ہوں، معاشی ہوں، اخلاقی ہوں، مذہبی ہوں، سماجی ہوں یا روحانی! ان کی بنیادیں قرآن میں ملتی ہیں۔ اس کے چند نمونے درج ذیل ہیں۔
نیند کے حوالے سے سائنسی تحقیقات کے علم کو somnology کہتے ہیں۔ اس جدید میدان میں نیند کے مختلف پہلوؤں، عوامل اور مسائل پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔ آج سے ۱۴۰۰؍سال پہلے قرآن مجید میں نیند کے ایک گہرے راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس کا اس زمانے میں تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بزرگ و برتر کامل علم رکھنے والا خدا فرماتا ہے: ’’اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو مری نہیں ہوتی (انہیں) ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرتا ہے)۔ پس جن کے لیے موت کا فیصلہ کر دیتا ہے اسے روک رکھتا ہے اور دوسری کو ایک معین مدت تک کے لیے (واپس) بھیج دیتا ہے۔ یقیناً اس میں فکر کرنے والوں کے لیے بہت سے نشانات ہیں۔‘‘ (الزمر: ۴۳)
انسانی نیند چار مراحل سے گزر کر پوری ہوتی ہے جسے sleep cycles کہتے ہیں۔ ان مراحل میں نیند کے دوران ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب دل کی دھڑکن ممکنہ حد تک گر جاتی ہے اور دھڑکنوں کے درمیان لمبا وقفہ آنے لگتا ہے۔ اسی طرح سانس کی رفتار ممکنہ حد تک گر جاتی ہے، سانسوں کے درمیان تین سے پانچ سیکنڈ کا تعطل پڑنے لگتا ہے، بلڈ پریشر انتہائی گِر جاتا ہے، جسمانی عضلات بالکل ساکن ہو جاتے ہیں، آنکھوں میں کوئی حرکت نہیں ہوتی اور دماغ کے neurons میں سگنلز کی بھاگ دوڑ نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے، اسے electrical death کہتے ہیں۔ موت سے مشابہ اس لمحے میں انسان اپنے آپ کو بالکل فراموش کر دیتا ہے۔ وہ کہاں سے آیا ہے، وہ کون ہے- سب بھول جاتا ہے۔ ایک مکمل لاشعوری کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے۔ نیند کے اس لمحے موت کی جھلک وارد ہوتی ہے۔ انسانی شعور، روح کا تعلق چند ساعتوں کے لیے جسم سے ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ موت کی پرچھائیں نیند کے جھولے کو چھو کر گزر جاتی ہیں۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ڈیپ سلیپ یا slow wave sleep کی حالت میں شعور ڈوبتے ڈوبتے گہرائی کے اس مقام پر پہنچتا ہے جسے The Down State کا نام دیا گیا ہے۔ ڈاؤن سٹیٹ الیکٹریکل خاموشی کا دورانیہ ہے یعنی دماغ کے خلیات (نیورونز) خاموش ہو جاتے ہیں۔ ڈاؤن سٹیٹ کی حالت میں چند ملی سیکنڈ کے لیے دماغ کے شعوری حصے (cortex) میں برقی سرگرمیاں تقریباً صفر رہ جاتی ہیں اور یہی وہ خاموش لمحہ ہوتا ہے جس میں گہرائی میں ڈوبا ہوا شعور موت کی دہلیز پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ لمحہ چند ملی سیکنڈ سے آگے بڑھ جائے تو شعور واپس نہیں پلٹتا۔ اس لیے اس لمحے سے شعور کا واپس پلٹنا ضروری ہے۔ یہ دراصل زندگی اور موت کا بارڈر ہے، سرحد ہے جس پر شعور موجود ہوتا ہے اور اس کے پاس صرف چند ملی سیکنڈز ہوتے ہیں۔ اگر شعور نہ پلٹے تو انسان کی نیند میں ہی موت واقع ہو سکتی ہے۔ غرض کہ ۱۴۰۰؍سال پہلے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیات کے ذریعے بہت گہرے اور جدید علوم کا دروازہ کھولا اور غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے اسے نشان قرار دیا۔
قرآن مجید اپنے اندر علوم کی کائنات سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کا دوسرا نمونہ آثارِ قدیمہ (Archaeology) کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تُو زمین میں پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ (آل عمران: ۱۳۸)
جس دَور میں قرآن مجید نازل ہوا اس وقت علمِ آثارِ قدیمہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا کیونکہ وہ ذرائع حاصل نہیں تھے جن کی بنا پر یہ علم حاصل کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں آثارِ قدیمہ کا آغاز ہوا لیکن آپ قرآنی معجزہ دیکھیے کہ ۱۴۰۰؍سال پہلے اللہ تعالیٰ اس علم کی طرف بلا رہا ہے کیونکہ کامل علم رکھنے والے خدا کو یہ معلوم تھا کہ ایک ایسا وقت آئےگا جب انسان ترقی کرتے کرتے اس قابل ہو جائے گا کہ وہ گم شدہ، مدفون قدیم قوموں کے حالات معلوم کر سکے۔ ادھر قدیم رومی شہر Pompeii کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ یہ شہر ۷۹؍عیسوی میں آتش فشاں کے پھٹنے سے نیست و نابود ہوگیا۔ پھر انیسویں صدی میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ادھر کھدائی شروع کی تو زمین کے نیچے مدفون پورے شہر تک ان کی رسائی ممکن ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ یہ شہر ہر قسم کے گناہوں، بدیوں اور برائیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ پھر ایک دن سویا ہوا آتش فشاں پھٹا اور آگ، دھواں، زہریلی گیسوں اور راکھ نے شہر کو ڈھانپ لیا۔ یمن، عراق اور دیگر خطوں میں کبھی بسنے والی قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات اور انیسویں صدی میں فرعون کی حنوط شدہ لاش کی دریافت – یہ سب علمِ آثارِ قدیمہ کی وجہ سے ممکن ہوا اور قرآن مجید وہ واحد مذہبی کتاب ہے جو اس علم کی ترغیب دیتا ہے۔
لیکن یہاں افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بجائے غیرمسلم قوموں نے نیند کی حالتوں پر غور کیا اور تحقیقات کو دنیا کے سامنے لائے۔ آثارِ قدیمہ کے علم میں مہارت کا بھی یہی حال ہے۔ آج بھی مسلم دنیا کی علمِ آثارِ قدیمہ کی طرف کم توجہ ہے اور دیگر شعبہ جاتِ سائنس کا بھی یہی حال ہے۔ البتہ دنیائے سائنس میں ایک ایسا مسلمان آیا جس نے صدیوں کے سکوت کو توڑ دیا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے قرآنی آیات کو بنیاد بنا کر فزکس کے میدان میں تحقیقات کیں اور نوبل پرائز کا حق دار ٹھہرا۔ جی ہاں، ڈاکٹر عبدالسلام اپنی تحقیقات کا منبع قرآن مجید کو قرار دیتے تھے۔ ۱۹۸۴ء میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میرے لیے سائنس سے دوری نہیں بلکہ قرآن مجید سائنس کی بنیاد ہے۔ میں جب بھی کسی سائنسی گتھی میں الجھتا ہوں یا کسی نظریے پر کام کرتا ہوں تو قرآنی آیات مجھے کائنات کی ہم آہنگی کو سمجھنے میں حوصلہ دیتی ہیں۔ میری تھیوری کا اصل منبع کائنات کے ڈیزائن کی وہ یکسانیت ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنے ایک آرٹیکل ’’Science and Islam‘‘ میں تفصیل سے بتایا کہ قرآن مجید کی تقریباً ۷۵۰آیات کائنات پر غور و فکر کرنے اور عقل کو استعمال کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔
بس قرآن کے ازلی علوم ناپیدا کنار بحر ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر دَور، ہر زمانے میں غور و فکر کرنے والی قوموں پر نئے علوم کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں ایک لطیف نکتہ قابلِ غور ہے کہ انسان علم تخلیق نہیں کرتا، انسان علم پیدا نہیں کرتا، انسان علم کو عدم سے لے کر نہیں آتا۔ انسان علم حاصل کرتا ہے، اسے پاتا ہے کیونکہ یہ پہلے سے ہی ازل سے موجود ہے۔ علم ازلی ہے، علم تخلیق نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت العلیم ازلی و ابدی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ازلی و ابدی ہے اسی طرح اس کی صفات ازلی و ابدی ہیں۔ اس کی صفات پیدا نہیں ہوئیں، تخلیق نہیں ہوئیں۔ صفتِ العلیم کے تحت اللہ تعالیٰ کے پاس ہر شے کا کامل علم ہمیشہ سے ہے۔ وہ علم بعد میں پیدا نہیں ہوا، بعد میں تخلیق نہیں ہوا۔ پس انسان کا علم محدود ہے، زمان و مکان میں قید ہے۔ اس کا علم زمانے اور عہد سے تعلق رکھتا ہے لیکن خدا کا علم لامحدود ہے، زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے، ازلی و ابدی ہے اور کسی خاص زمانے اور عہد سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ تمام زمانوں پر محیط ہے۔
ایک مثال سے اس نکتے کو سمجھتے ہیں۔ نوعِ انسان کے قدیم آبا ءواجداد نے لاکھوں سال پہلے آگ اور آگ کے بنیادی خواص کو جان کر اس کا استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ بعد ازاں جوں جوں آگ کے حوالے سے انسانی علم میں اضافہ ہوتا گیا اس کا استعمال بھی مختلف شعبہ جاتِ زندگی میں بڑھتا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں آگ اور اس کے تمام خواص ہمیشہ سے ہیں۔ انسان صرف اتنا کرتا ہے کہ قوانینِ قدرت اور مظاہر پر غور کر کے انہیں اپنے فائدے یا نقصان میں استعمال کرتا ہے مگر ان قوانینِ قدرت اور فطری مظاہر کا خالق خدا ہے اور ان قوانینِ قدرت اور فطری مظاہر کو تخلیق کرنے کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ سے ہے۔ ایسا نہیں ہوا (نعوذباللہ) کہ اللہ تعالیٰ کو بعد میں کسی شے کا علم ہوا۔ انسان جو غور و فکر و تحقیق کر کے پہلے سے موجود ازلی علوم تک رسائی حاصل کرتا ہے سب اللہ کی عطا ہے، اللہ کا فضل ہے۔ غرض کہ ہر عہد میں انسان کی علمی ترقی اللہ کی مرضی و منشا پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے: ’’اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۵۶)
اللہ تعالیٰ کے اس احسانِ عظیم کی نظر سے جب ہم نئے انسان کی علمی ترقی کو دیکھتے ہیں تو نقشہ ہی بدل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان گنت نہ ختم ہونے والے احسانات کی کائنات ہمارے سامنے کھل جاتی ہے۔ اس ضمن میں راکٹ کی ایجاد کی مثال دی جا سکتی ہے۔ راکٹ کے انجن سے گرم گیسیں بہت تیزی سے نیچے کی طرف خارج ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں راکٹ اوپر کی طرف اٹھتا ہے۔ یہ تکنیک انسان نے ایک قدرتی قانونِ عمل و ردِ عمل کو سمجھ کر راکٹ کی ایجاد میں آزمائی۔ اس کے علاوہ حرارت، کششِ ثقل اور رفتار وغیرہ کے قوانین پر غور کر کے اسے استعمال کیا۔ اب ذرا تصوّر کریں کہ اگر یہ قوانینِ قدرت نہ ہوتے تو کیا راکٹ ایجاد ہو سکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ کششِ ثقل اور دیگر فطری قوانین کی عدم موجودگی عدمِ علم کا پیش خیمہ ہوتی۔ اب یہاں کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کہ اگر قوانینِ قدرت تو ہوتے لیکن غور و فکر کرنے والا انسان نہ ہوتا تو کیا فقط قوانینِ قدرت راکٹ کو خود ایجاد کر لیتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنی بھی استعداد، قوتیں، طاقتیں ہیں وہ سب اللہ کی عطا ہیں۔ انسان گھر سے کچھ نہیں لے کر آیا۔نہ طاقتیں، نہ علم۔ پھر انسان کا اپنی ایجاد پر اترانا حماقت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ العلق میں علم کے حصول کے چار ذرائع بیان کیے ہیں۔ ان میں سے دو کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں یعنی کتاب یا لکھی ہوئی تحریر کو پڑھ کر علم حاصل کرنا اور دوسرا سن کر اسے دہرا کر علم حاصل کرنا۔ ان دونوں علمی راستوں میں تدبّر و فکر کرنا اور سمجھنا شامل ہے۔ سمجھ کے بغیر علم کا دعویٰ بےبنیاد ہے۔ روایت ہے: ’’اور سمجھ کے بغیر علم کا دعویٰ درست نہیں۔‘‘ (حدیقۃالصالحین، علم اور اس کے حصول کی ترغیب، باب نمبر ۱۵، حدیث ۱۴۷)
علم کے ساتھ سمجھ، بصیرت اور حکمت نتھی ہے۔ علم کے حصول کا تیسرا ذریعہ عجز اور انکساری کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العلق میں فرماتا ہے: ’’پڑھ اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو چمٹ جانے والے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ اور تیرا ربّ سب سے زیادہ معزز ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے، انسان کا ربّ ہے۔ اس وجہ سے وہ انسانی نفسیات کو سب سے زیادہ سمجھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ انسان علم پا کر متکبر بن سکتا ہے، انا پسند، خود پرست اور خودستائشی میں مبتلا ہو سکتا ہے اور اپنے علم پر غرور کرنا تکبر کی سب سے خطرناک صورت ہے کیونکہ ایسا متکبر انسان انبیاء کی مخالفت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ابو جہل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بنی آدم کو علمی تکبر سے بچانے کے لیے ربِّ مقدس نے تمام اشیاء کے خالق ہونے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی انسانوں کی توجہ ان کی حقیر ترین حالت کی طرف مبذول کروائی:’’اس نے انسان کو چمٹ جانے والے (خون) کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔‘‘ (العلق: ۳)
ہم اگر خون کے چمٹ جانے والے لوتھڑے کا تصوّر بھی باندھیں تو ہمیں کراہت محسوس ہو گی۔ ایسا انسان جو علم کو پانے کے سفر میں ہر شے کے پیدا کرنے والے رب کو نہیں بھولتا اور اپنی حقیر ترین حقیقت کو فراموش نہیں کرتا، اس کے دل میں نتیجتاً عجز و انکساری کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ وہ جتنا جھکتا ہے اس کا علم اتنا ہی وسعت اختیار کرتا جاتا ہے۔ دوسری طرف متکبر انسان کا علم اس کے لیے آگ بن جاتا ہے اور نہ اسے نفع دیتا ہے نہ دوسروں کو۔ حدیث شریف میں بیان ہوا ہے: ’’اے اللہ! مَیں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، باب ۲۳، حدیث ۲۵۰)
غرض کہ سچا عالم عجز و انکساری کا نمونہ ہوتا ہے اور اس کا علم اپنے اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہوتا ہے۔ علم پر ناز کرنا، اترانا اور متکبرانہ دعوے کرنا ہمیشہ نقصان پر منتج ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال ٹائٹینک بحری جہاز کا بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں غرق ہونا ہے۔ ٹائٹینک بنانے والی کمپنی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ جہاز کبھی نہیں ڈوبے گا۔ کمپنی کے اس تشہیری اعلان کے اندر یہ دعویٰ مخفی تھا کہ ہم (انسان) سمندر کی گہرائیوں میں تمام تغیرات اور اثر ڈالنے والی طاقتوں پر مکمل علم پا چکے ہیں اور ہم تمام محرکات سے بھی واقف ہو چکے ہیں جو جہازوں کو ڈبونے کا باعث بنتے ہیں۔ اب چونکہ ہمارے پاس کامل علم ہے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ایک ایسا بحری جہاز ٹائٹینک بنایا ہے جو کبھی نہیں ڈوبے گا۔ اصل میں کمپنی کا بالواسطہ یہی دعویٰ تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ ۱۹۱۲ء میں ٹائٹینک جب اپنی پہلی مسافت پر نکلا تو شمالی بحراوقیانوس کے ایک آئس برگ سے ٹکرا کر غرق ہو گیا اور ہمیشہ کے لیے سبق دے گیا کہ انسان کے متکبرانہ دعوے محض ریت کے محل ثابت ہوتے ہیں۔ حقیقت میں ہر شے کو اللہ کے علم نے گھیر رکھا ہے۔ غیب کی کنجیاں اللہ کے پاس ہیں اور وہی کائنات کے ذرّے ذرّے کا کامل علم رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں مذکور ہے: ’’اور اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اور وہ جانتا ہے جو بر و بحر میں ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اس کا علم رکھتا ہے۔ اور کوئی دانہ نہیں زمین کے اندھیروں میں (چھپا ہوا) اور کوئی تر یا خشک چیز نہیں مگر (اس کا ذکر) ایک روشن کتاب میں ہے۔‘‘ (الانعام: ۶۰)
قادر و علیم و خبیر خدا سورۃ الطلاق میں فرماتا ہے: ’’اور یہ کہ اللہ علم کے لحاظ سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ (الطلاق:۱۳)ان آیات کے سامنے انسان کی طرف سے داغے گئے متکبرانہ علمی دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ پس علم کے آسمان پر عجز و انکساری سے بھرا بے نفس دل پرندے کی مانند محوِ پرواز رہتا ہے اور کبرائی کے مرض میں مبتلا شخص حسرت و چبھن کے صحرا میں خاک بن کر اڑ جاتا ہے۔ علمی تکبر اور خود نمائی کا شکار شخص جہالت پھیلانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے: ’’اللہ بندوں سے یوں ہی چھینا جھپٹی کر کے علم نہیں اٹھایا کرتا بلکہ وہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہتا تو لوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنا لیتے ہیں کہ جن سے اگر کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں۔ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔‘‘ (حدیقۃالصالحین، باب نمبر ۱۱۷، حدیث نمبر ۹۲۴)
سورۃ العلق میں علم کے حصول کا چوتھا ذریعہ قلم کو ٹھہرایا گیا ہے:’’جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (العلق: ۵-۶)
سطحی نظر سے دیکھا جائے تو انسان الجھن میں پڑ سکتا ہے کہ قلم تو انسان کی ایجاد ہے۔ قدیم مصریوں نے تین ہزار سال قبل مسیح میں سرکنڈ سے بنے قلم استعمال کرنا شروع کیے اور یوں قلم مختلف مراحل سے گزرتا ہوا آج دھات اور پلاسٹک سے بنا ہمارے زیر استعمال ہے۔ اب خدا کا یہ کہنا کہ اس نے انسان کو قلم سے سکھایا کا کیا مطلب ہے؟ دراصل قلم بذاتِ خود کچھ فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ ایک نظام اور لازمی لوازمات وابستہ نہ ہوں۔ اوّل: قلم زبان کا محتاج ہے اور زبانوں میں عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے اور عربی الہامی زبان ہے۔ اللہ نے خود انسان کو سکھائی ہے۔ دوم: قلم چلانے کے لیے ہاتھ، انگلیاں، آنکھیں، شعور درکار ہیں اور یہ سب اللہ کے دیے ہوئے ہیں۔ قلم کی تیاری میں جو بنیادی اجزا استعمال ہوتے ہیں وہ سب نیچرل ہیں۔ حتّی کہ پلاسٹک بھی قدرتی عناصر کے بغیر نہیں بن سکتا جیسے ہائیڈروجن، کاربن وغیرہ۔ پس قلم بذاتِ خود کوئی چیز نہیں جب تک اسے زبان میسّر نہ ہو، اسے تھامنے والے ہاتھ نہ ہوں، اسے ذہن اور شعور کا سہارا نہ ملے اور یہ سب لوازمات خدا کی تخلیقات ہیں۔ انسان قلم کی ایجاد کو کلّی طور پر اپنی طرف منسوب کر ہی نہیں سکتا اور نہ کسی اور ایجاد کو کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے ذریعے سکھایا۔
قلم کے بغیر علم کا حصول نہ پہلے ممکن تھا نہ آج ممکن ہے۔ ڈیجیٹل دنیا سے جو ہم علم حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی دراصل قلم سے لکھے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ، سمارٹ موبائل فون کے عہد میں keyboard اور دیگر ڈیوائسز قلم ہی کی ماڈرن صورتیں ہیں۔ قلم کے ذریعے علم کو محفوظ رکھا جاتا ہے، پھیلایا اور سکھایا جاتا ہے۔ یہ کام ہزاروں سال سے جاری ہے۔
علم کی نگری میں قوتِ قلم کا ایک عظیم شاہ پارہ پیشِ خدمت ہے۔ آٹھویں نویں صدی میں عباسی خلافت کے عہد میں یونانی اور رومن کتابوں کو عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ ہارون الرشید نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی بھی یونانی یا رومن زبان میں لکھی کتاب کا عربی میں ترجمہ کرے گا اسے کتاب کے وزن کے برابر سونا دیا جائے گا۔ بغداد کے بازار ایک سرے سے دوسرے سرے تک مترجم نگاروں سے بھر گئے۔ دھڑا دھڑ علمِ فلکیات، ریاضی، فلسفہ، طب اور دیگر علوم کو عربی زبان میں ترجمہ کیا جانے لگا۔ یونانی فلسفے کو زندہ رکھنے میں اس علمی تحریک کا کلیدی ہاتھ ہے۔ اس سنہری دَور میں صرف کتابوں کا عربی میں ترجمہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ تحقیق اور نئے علوم کا جیسے سیلاب آ گیا تھا۔ الکندی، ابن الہیشم، ابن سینا، البیرونی، جابر بن حیان، ابن رشد — یہ سب اس دَور کے درخشاں ستارے تھے۔ ان کے عظیم علمی کارناموں نے تاریکی میں ڈوبے یورپ کو ترقی کے راستے پر ڈالا وہ اس طرح کہ عربی کتابوں کو لاطینی زبان میں ترجمہ کر کے یورپ کی درس گاہوں میں پھیلایا۔ کئی صدیوں تک ابن سینا اور دیگر مسلم مفکروں کی تصنیفات یورپین یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں۔
جب مسلمان قرآن کو سینے سے لگائے قلم اٹھاتا ہے تو علم کا نور جہاں کو منور کرتا ہے، تاریک خطے روشن ہو جاتے ہیں۔ ہمارے آقا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:’’حکمت مومن کی گمشدہ متاع ہے پس جہاں بھی وہ اسے ملے وہ اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۴۱۶۹)
بدقسمتی سے غیر قوموں نے تو حکمت و علم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیا لیکن مسلم دنیا کی تجربہ گاہیں اجڑ گئیں۔ کتب خانوں کی جگہ قحبہ خانے کھل گئے۔ طوائف الملوکی، رقص و شراب نے عقل و فکر مار دی۔ تاج و تخت کی رسہ کشی نے تحقیق و تجسّس کے دروازوں پر تالے لگا دیے۔ علم مر گیا اور جہالت کا بول بالا ہونے لگا۔ لوگوں نے علم کے مقاصد کو فراموش کر دیا۔ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ صحیح اور حقیقی فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید نہیں ہونے دیتا اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا جواز بھی مہیا نہیں کرتا اور نہ ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور پکڑ سے بے خوف بناتا ہے۔ قرآن کریم سے ان کی توجہ ہٹا کر کسی اور کی طرف انہیں راغب کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یاد رکھو! علم کے بغیر عبادت میں کوئی بھلائی نہیں اور سمجھ کے بغیر علم کا دعویٰ درست نہیں اور تدبر اور غور و فکر کے بغیر قرات کا کچھ فائدہ نہیں۔ (حدیقۃالصالحین باب۱۵، حدیث نمبر ۱۴۷)
اسلامی دنیا علم سے دُور جا پڑی۔ نام نہاد علماء شکم سیری اور دنیاوی لذات کے دیوانے ہو گئے اور جب علماء بگڑتے ہیں تو ان کے پیچھے چلنے والی قوم بگڑ جاتی ہے۔ ایسے ہیبت ناک اندھیروں میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے اسلام پر رحم فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ظہور ہوا اور آپؑ نے صدیوں سے بجھے علم کے چراغوں کو پھر روشن کر دیا۔ آپؑ نے علیم و خبیر قادر و خالق رحمان و رحیم خدا سے علم پا کر روحانی خزائن کے پھاٹک کھول دیے۔ معہود و مہدی علیہ السلام کا کلام ہے:
وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے
اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ اور اپنے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ کی صداقت اور اشاعتِ اسلام کے لیے قلم اٹھایا اور روحانی جہان کو پھر زندہ کر دیا۔ آج کرۂ ارض پر جماعت احمدیہ وہ واحد جماعت ہے جو خدا کے فضل اور احسان کے سائے میں قوتِ قلم کے ذریعے روحانی انقلاب کی لہروں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ آج قلم کی برکات اور سچے علوم کا پرچم جماعت احمدیہ نے بلند کر رکھا ہے۔ اللہ کے فضل سے جماعت ۷۹؍زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ کر چکی ہے اور یہ سفر جاری ہے۔ اسی طرح جماعت متعدد زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کرتی ہے۔ یہ صرف ایک ہلکی سی جھلک ہے ان عظیم الشان علمی مہمات کی جو جماعت احمدیہ مسلسل سر انجام دے رہی ہے۔
ہم اس مضمون کا خاتمہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ان پُر حکمت الفاظ پر کرتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ ارضی علوم (دنیاوی علوم) کی تحصیل میں جو محنت، وقت اور وسائل صرف ہوتے ہیں وہی اصول روحانی علوم حاصل کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ ۱۴؍مارچ ۲۰۱۴ء)
اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق اپنے علم میں وسعت پیدا کرتا چلا جائے۔ آمین۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جس روز امریکہ کے لاکھوں لوگ آسمان سےمسیحؑ کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہے




