مکتوب

مکتوب افریقہ(اگست ۲۰۲۶ء)

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

بر اعظم افریقہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ

Integrating Africa:From Threads to Hubs

عالمی بینک، افریقی یونین کمیشن (AUC)، اور اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ (UNECA) نے ۲۸؍اگست کو ایتھوپیا کے دارالحکومت آدیس ابابا میں باہمی اشتراک سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کو Integrating Africa: From Threads to Hubs کا نام دیا ہے۔اس رپورٹ کا بنیادی مقصد افریقہ کی بکھری ہوئی مارکیٹوں کو مربوط صنعتی اور تجارتی مراکزمیں تبدیل کرنا ہے، کیونکہ افریقہ کی موجودہ ۸۵؍فیصد تجارت براعظم سے باہر ہوتی ہے جبکہ براعظم کے اندرونی مینوفیکچرنگ روابط انتہائی کمزور ہیں۔ افریقی یونین کی ڈپٹی چیئرپرسن سلمیٰ مالیکا حدادی اور عالمی بینک کے ماہرین کے مطابق، افریقی ممالک کے درمیان تجارت کی سب سے بڑی رکاوٹ کسٹم ڈیوٹی نہیں بلکہ کسٹم کلیئرنس کی سست روی اور ریگولیٹری اختلافات ہیں، جو مجموعی تجارتی اخراجات کا ۶۰؍فیصد حصہ بنتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے رپورٹ میں چار ترجیحی شعبوں پر زور دیا گیا ہے جن میں علاقائی پیداواری نیٹ ورکس کا قیام، سرحدوں پر کاغذی کارروائی اور کسٹم کے نظام کو آسان بنانا، افریقہ کے آزاد تجارتی معاہدے (AfCFTA) کو سختی سے نافذ کرنا، اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز و ٹرانسپورٹ کوریڈورز جیسے مشترکہ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس کا مقصد براعظم کی ڈیڑھ ارب آبادی کو ایک فعال مشترکہ مارکیٹ سے جوڑ کر لاکھوں نئے روزگار پیدا کرنا اور عالمی معاشی جھٹکوں کے خلاف افریقی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

نائیجر میں فوجی حکومت کے خلاف فوج کے ایک حصہ کی ناکام بغاوت

۲۹؍اگست کو نائیجر میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی۔ بغاوت کرنے والے فوجیوں نے ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک فائرنگ اور دھماکے ہوتے رہے اور سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو کی نشریات بھی مختصر وقت کے لیے معطل ہو گئیں۔ مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔

ہفتے کی صبح نائیجر کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ مسلح افواج رات گئے کیے گئے حملے میں باغی فوجیوں کے قبضے میں جانے والی تنصیبات کو بتدریج دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دوپہر کے وقت بھی باغی فوجی ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

اس ناکام کوشش کا مقصد فوجی حکمران عبدالرحمان تیانی کو معزول کرنا تھا، جنہوں نے ۲۰۲۳ء کی فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ حکومت کے مطابق اب سیکیورٹی کی صورت حال کنٹرول میں ہے جبکہ کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نیامے میں امریکی سفارت خانے نے ایک سیکیورٹی الرٹ جاری کر کے اپنے دفتر کو تا اطلاع ثانی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف فرانس نے بھی نائیجر میں مقیم اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔

یوگنڈا کے فوجی سربراہ کا ترک سفارت خانے کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان

یوگنڈا کے چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل موہوزی کائینروگابا نے یکم ستمبر کو کمپالا میں ترک سفارت خانے کے باہر بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ترکی سے یوگنڈا کے حکومت مخالف بلاگر اور ناقد فریڈ لومبوئے کی حوالگی کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ احتجاج یوگنڈا اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل موہوزی صومالیہ میں یوگنڈا کے امن مشن کے بدلے ترکی سے ایک ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ اور ترک کمپنی سے متعلق اسٹینڈرڈ گیج ریلوے معاہدہ منسوخ کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔ ان مطالبات اور احتجاج کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اس سے قبل جون میں ہونا تھا تاہم اس کو منسوخ کر دیا گیا۔

۵۲؍سالہ جنرل موہوزی کائینروگابا (جو یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی کے بیٹے ہیں) کے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی اور سفارتی آداب کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں جنگ بندی کے ليے روڈ میپ پر اتفاق

امریکی نگرانی میں ڈی آر کانگو اور روانڈا کے حمایت یافتہ باغی گروپ M23 نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں کئی روز تک جاری مذاکرات کے بعد امن کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس روڈ میپ میں دوحہ فریم ورک کے تحت مذاکرات کے مرحلہ وار اقدامات اور ان کی مدت طے کی گئی ہے۔ کانگو میں گذشتہ سال ۱۵؍نومبر سے جاری جنگ بندی کے باوجود امن کی کوششیں سست رہی ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے مبصرین کو اقوام متحدہ کے امن مشن MONUSCOکی معاونت حاصل ہوگی، جبکہ دیرپا امن کے قیام کے لیے مزید مذاکرات بھی جلد شروع کیے جائیں گے۔

حالیہ جنگ کے نتیجہ میں M23 نے شمالی اور جنوبی کیوو کے مختلف علاقوں میں نمایاں اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ روانڈا پر M23 کی حمایت کا الزام لگتا رہا ہے، جسے روانڈا مسترد یا مختلف انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس تنازع کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور خطے میں انسانی بحران بھی پیدا ہوا ہے۔

زیمبیا میں صدارتی انتخابات اور سیاسی تناؤ

زیمبیا میں ۱۳؍اگست ۲۰۲۶ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر ہاکائینڈے ہیچیلیما (Hakainde Hichilema) نے ۶۱؍فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے کامیابی حاصل کر لی ہے، جبکہ الیکٹورل کمیشن آف زیمبیا نے ۱۸؍اگست کو ان کی جیت کا باقاعدہ اعلان کیا۔ صدر ہیچیلیما نے اپنے قریبی حریف اور اپوزیشن اتحاد کے امیدوار برائن منڈوبیلے (Brian Mundubile) کو شکست دی، جنہوں نے ۳۸؍فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ ملک کے معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اس انتخاب کو کڑا مقابلہ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن ہیچیلیما ۵۰؍فیصد سے زائد ووٹ لے کر رن آف (دوسرے مرحلے) سے بچنے میں کامیاب رہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی اور ووٹوں کی تعداد کو بڑھانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، پولنگ کے دوران مبینہ تشدد کی وجہ سے گنتی کو چند گھنٹوں کے لیے معطل بھی کرنا پڑا اور انتخابات کے فوراً بعد متعدد سرکردہ اپوزیشن راہنماؤں کو بغاوت کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا، جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی تناؤ بڑھ گیا ہے۔

نائیجیریا میں نماز جمعہ کے دوران شدّت پسندوں کا حملہ

۲۱؍اگست کو وسطی نائیجیریا کی ریاست نائیجر میں بورگو لوکل گورنمنٹ ایریا کے دیہات (بشمول ڈیکارا، گیدان زانا اور ماساکا) میں نماز جمعہ کے دوران مسلح شدت پسندوں نے ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقے پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ۴۰؍افراد ہلاک اور ۱۰۰؍سے زائد افراد اغوا کر لیے گئے۔ حملے کے وقت لوگ نماز ادا کر رہے تھے، جس کے باعث بڑی تعداد میں نمازی اس کارروائی کا نشانہ بنے۔

اس واقعہ سے چندر روز قبل ۱۸؍اگست کو ریاست پلیٹو (Plateau) میں ایک گاؤں پر رات کے وقت مسلح افراد نے حملہ کیا۔ جس میں کم از کم ۲۵؍افراد ہلاک ہو گئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ نائیجیریا گذشتہ تقریباً ۱۷؍برس سے مختلف شدت پسند گروہوں اور مسلح جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ اجتماعی اغوا شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان گرنے سے سینکڑوں ہلاکتیں

۱۹؍اگست کو وسطی افریقی جمہوریہ میں کیمرون کی سرحد کے قریب واقع زامبوئے (Zamboye) کے ایک غیرقانونی سونے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے کان کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۱۰۰؍سے تجاوز کر گئی۔

کئی کان کن ملبے تلے دبے رہے جبکہ زخمیوں کو بابوا کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرہ کان میں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص تھے اور شدید بارشوں کے باعث امدادی کارروائی بھی مشکل ہوگئی، چنانچہ حکام نے کان کو بند کرکے ریسکیو آپریشن روک دیا۔ سرکاری طور پر بعد میں ۴۹؍ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی، جن میں ۳۴؍وسطی افریقی، ۱۳؍کیمرونی اور دو چاڈ کے شہری شامل تھے، جبکہ مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ۱۰۰؍بتائی۔ اس حادثے نے ملک میں غیر قانونی اور غیرمنظّم کان کنی کے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے، جہاں ہزاروں افراد محدود حفاظتی سہولیات کے باوجود روزگار کے لیے کان کنی پر انحصار کرتے ہیں۔

کانگو نے تانبے اور کوبالٹ کے خام مال کی برآمد پر پابندی لگا دی

جمہوریہ کانگو نے تانبے اور کوبالٹ کے کنسنٹریٹس (خام دھاتی پاؤڈر) کی برآمد پر فوری پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ملک کے معدنی وسائل کی مقامی سطح پر مزید پروسیسنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور ان قیمتی معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا زیادہ حصہ ملک کے اندر رکھا جا سکے۔ کانگو دنیا کا سب سے بڑا کوبالٹ پیدا کرنے والا اور دنیا کے بڑے تانبا فراہم کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس فیصلے کے عالمی معدنی منڈی پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پابندی سے سوئٹزرلینڈ کی Glencore، کینیڈا کی Ivanhoe Mines اور چین کی CMOC، Huayou Cobalt اور Zijin Mining جیسی بڑی کان کنی کمپنیوں کی برآمدات متاثر ہوں گی۔

اطلاعات کے مطابق بعض انتہائی اہم یا اسٹریٹیجک برآمدات کو ایک سال تک خصوصی اجازت دی جا سکتی ہے۔ حکومت نے کان کنی سے حاصل ہونے والی قیمتی ضمنی مصنوعات پر نئے ٹیکس عائد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جن کا نفاذ تین ماہ کی عبوری مدت کے بعد ہوگا۔ کانگو کا مقصد محض خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے ملک میں ریفائننگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہے، تاکہ روزگار، صنعتی ترقی اور سرکاری آمدنی میں اضافہ ہو اور ملک اپنے وسیع معدنی ذخائر سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کر سکے۔

لیبیا میں معاشی اور سیاسی بحران

لیبیا کا حالیہ معاشی اور سیاسی بحران اگست ۲۰۲۶ء میں اس وقت دوبارہ سنگین رخ اختیار کر گیا جب سینٹرل بینک آف لیبیا (CBL) کے موجودہ گورنر ناجی عیسی ٰنےعوامی اخراجات، بھاری فیول سبسڈیز اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کے شدید دباؤ کے باعث اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

یہ پیش رفت دراصل اگست ۲۰۲۴ء کے اس پرانے تنازع کا تسلسل ہے جب طرابلس میں قائم مغربی حکومت نے اس وقت کے تجربہ کار بینک چیف صدیق الکبیر کو برطرف کیا تھا، جس کے جواب میں بن غازی کی مشرقی حکومت نے ملک کی تیل کی سپلائی روک کر پیداوار کو نصف (تقریباً ۶؍لاکھ بیرل یومیہ) کر دیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ستمبر ۲۰۲۴ء میں ناجی عیسیٰ کی تقرری کے بعد تیل کی پیداوار بحال ہو گئی تھی، لیکن اگست ۲۰۲۶ء میں ان کے اچانک استعفیٰ نے ملک کے ٹوٹے ہوئے سیاسی نظام، بجٹ کے خسارے اور حریف دھڑوں کے درمیان جاری شدید کھینچ تان کو ایک بار پھر بےنقاب کر دیا ہے۔ اس استعفیٰ سے ملک میں تیل کی پیداوار اور برآمدات رک گئی ہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکتوب شمالی امریکہ (اگست ۲۰۲۶ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button