مکتوب شمالی امریکہ (اگست ۲۰۲۶ء)
براعظم شمالی امریکہ کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
کینیڈا اور امریکہ کے تجارتی مذاکرات کی ناکامی
شمالی امریکہ کے حوالے سے اگست کی سب سے اہم خبر کینیڈا اور امریکہ کے باہمی تجارتی مذاکرات کی ناکامی تھی۔ ان دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات دنیا کے سب سے بڑے دو طرفہ تجارتی تعلقات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی صنعتیں، بالخصوص گاڑیوں، اسٹیل، ایلومینیم، توانائی، زراعت اور جنگلات سے متعلق شعبے ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں ۔ اسی لیے محصولات میں کسی بڑی تبدیلی کا اثر صرف برآمد کرنے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ کارخانوں، مزدوروں، دکانداروں اور عام صارفین تک پہنچتا ہے۔
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کا موجودہ آزاد تجارتی معاہدہ، جسے USMCA (US-Mexico-Canada Agreement)کہا جاتا ہے، یکم جولائی ۲۰۲۰ء کو نافذ ہوا اور اس نےپچھلے معاہدہ یعنی NAFTA (North American Free Trade Agreement)کی جگہ لی۔ تینوں ممالک کو ۲۰۲۶ء میں اس کا پہلا مشترکہ جائزہ لینا تھا۔گو کہ تجدید پر اتفاق نہ ہونے سے معاہدہ فوراً ختم نہیں ہوتا، لیکن کاروباری اداروں کے لیے لمبی منصوبہ بندی مشکل ہوجاتی ہے۔
امسال تینوں ممالک کے مذاکرات مشترکہ طور پر ہونے کی بجائے علیحدہ علیحدہ ہوتے رہے۔ چنانچہ۲۰؍جولائی کو امریکی حکومت نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر ۵۰ فیصد نیا محصول عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر پھر اس اقدام کو ۲۱؍اگست تک مؤخر کردیا گیا تاکہ دونوں ممالک کسی سمجھوتے تک پہنچ سکیں۔ کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ۱۸؍اگست کو کہا کہ مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ بعض اہم امور ابھی باقی ہیں۔ اس بیان سے یہ امید پیدا ہوئی کہ آخری وقت میں معاہدہ طے پا جائے گا۔
۱۹؍اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ ایک “نہایت منصفانہ” سمجھوتا طے پا گیا ہے جسے صرف حتمی شکل دینا باقی ہے۔ لیکن دو ہی دن بعد حالات یکسر بدل گئے۔ ۲۱؍اگست کو وزیراعظم کارنی نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کرکے کینیڈین مذاکرات کاروں کو واپس آنے کی ہدایت کردی ہے۔
دونوں حکومتوں نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا۔ امریکی حکام کا مؤقف تھا کہ کینیڈا آخری مرحلے میں مزید رعایتیں حاصل کرنا چاہتا تھا، جبکہ کینیڈین حکومت کا کہنا تھا کہ امریکہ نے طے شدہ شرائط میں آخری لمحے پر ناقابلِ قبول تبدیلیاں کیں۔
اس کے اگلے روز یعنی ۲۲؍اگست کو وزیر اعظم کارنی نے صوبائی اور علاقائی سربراہانِ حکومت کا اجلاس بلایا اور اعلان کیا کہ کینیڈا امریکی اقدامات کے جواب میں ڈالر کے بدلے ڈالر کے اصول پر جوابی محصولات نافذ کرے گا، نیز متاثرہ مزدوروں اور کاروباروں کے لیے امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔
کینیڈا کے لیے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جبکہ امریکہ بھی کینیڈین توانائی، معدنیات، کھاد، لکڑی اور مربوط صنعتی نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کشیدگی کا کوئی آسان حل نظر نہیں آتا۔
ٹورانٹو میں کینیڈین نیشنل ایگزیبیشن
۲۱؍اگست کو ٹورانٹو کے ایگزیبیشن پلیس میں کینیڈین نیشنل ایگزیبیشن، جسے مختصراً CNE اور عام طور پر “دی ایکس” کہا جاتا ہے، شروع ہوا۔ کینیڈا کی یہ بڑی سالانہ نمائش ۷؍ستمبر، یعنی لیبر ڈے، تک جاری رہنی تھی۔
اس نمائش کی ابتدا ۱۸۷۹ء میں ٹورانٹو انڈسٹریل ایگزیبیشن کے نام سے ہوئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد کینیڈا کی زراعت، صنعت اور نئی ایجادات کو عوام کے سامنے پیش کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ اس میں کھیل، موسیقی، کھانے، تجارتی نمائشیں، جھولے اور دیگر تفریح بھی شامل ہو گئے۔ یوں CNE ٹورانٹو میں موسمِ گرما کے اختتام کی ایک نمایاں ثقافتی روایت بن گئی ہے۔ یہ اس نمائش کا ۱۴۷؍واں سال تھا۔
اس سال نمائش کی نمایاں سرگرمیوں میں خلائی تحقیق سے متعلق ایک نئی نمائش بھی شامل تھی۔ اس میں چاند کی طرف جانے والے آرٹیمس دوم مشن میں کینیڈا کے کردار، مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی اور خلابازوں (astronauts) کی زندگی سے متعلق معلومات اور عملی سرگرمیاں پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ زراعت اور جانوروں سے متعلق نمائشیں، مختلف ثقافتوں کے پروگرام، سرکس، خریداری کے سٹالز، جھولے اور کھیل بھی عوام کی توجہ کا مرکز رہے۔
پچھلے سال کی طرح امسال بھی جماعت احمدیہ کینیڈا کا تبلیغی سٹال لگا جس کے ذریعے متعدد افراد تک احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا۔
CNE میں کھانے کی بلڈنگ بھی ہمیشہ ہی بہت مقبول ہوتی ہے۔وہاں روایتی کینیڈین کھانوں کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ تنوّع ٹورانٹو کی بین الاقوامی آبادی کی عکاسی کرتا ہے۔
جھیل کا نام تبدیل کرنے کا تنازع
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی نے ۲۷؍اگست کو اس وقت ایک غیرمعمولی رخ اختیار کرلیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے لیک آنٹاریو کا نام تبدیل کرکے “لیک امریکہ” رکھنے کا اعلان کیا۔ اس حکم کے تحت امریکی وفاقی اداروں کو سرکاری دستاویزات اور نقشوں میں جھیل کے لیے نیا نام استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
لیک آنٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور اس کے شمال، مشرق اور مغرب میں کینیڈا کا صوبہ آنٹاریو، جبکہ جنوب میں امریکی ریاست نیویارک واقع ہے۔ چونکہ یہ جھیل دونوں ممالک کے درمیان مشترک ہے، اس لیے امریکی حکم صرف امریکہ کے وفاقی اداروں پر نافذ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے کینیڈا، ریاست نیویارک، نجی اداروں یا بین الاقوامی نقشہ سازوں کو نیا نام استعمال کرنے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ یوں ایک ہی جھیل کو دونوں ممالک میں مختلف سرکاری ناموں سے پکارے جانے کی صورت پیدا ہوگئی۔
صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو کینیڈا کے ساتھ تجارتی اختلافات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ کینیڈا طویل عرصے سے تجارت کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ نامناسب سلوک کرتا آیا ہے۔ اس سے قبل وہ خلیجِ میکسیکو (Gulf of Mexico) کا نام تبدیل کرکے “خلیجِ امریکہ” (Gulf of America) رکھنے کا حکم بھی جاری کرچکے تھے۔ تاہم لیک آنٹاریو کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس جھیل کا ایک بڑا حصہ کینیڈا میں واقع ہے اور صوبہ آنٹاریو نے بھی اسی جھیل سے اپنا نام حاصل کیا ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے نام کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “لیک آنٹاریو” کا نام چار سو سال سے زیادہ پرانا اور کینیڈا اور امریکہ دونوں کے قیام سے قدیم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ Ontario کا نام مقامی Wendat زبان کے لفظ Ontari’io سے نکلا ہے، جس کا مفہوم “جھیل خوب صورت ہے، جھیل بڑی ہے” بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈین باشندوں کے لیے اس کا نام ماضی میں بھی لیک آنٹاریو تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا۔
امریکی اور کینیڈین ناقدین کے علاوہ کینیڈا کے سابق وزیر اعظم ژاں کریچی این (Jean Chrétien) نے بھی اس فیصلے کو غیرسنجیدہ قرار دیا۔ کینیڈین نشریاتی ادارے CBC سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں۔ جب آپ کا بڑا اقدام محض ایک جھیل کا نام تبدیل کرنا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے دلائل ختم ہورہے ہیں۔ یہ ایک نہایت کمزور، سطحی اور ناگوار اقدام ہے۔ لیک آنٹاریو کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہورہی؛ وہ تو ایک جھیل ہے۔”
نیویارک میں یو ایس اوپن کا آغاز
۳۰؍اگست کو نیویارک کے علاقے کوئنز میں سال کے آخری بڑے ٹینس (tennis) مقابلے یو ایس اوپن (US Open) کا آغاز ہوا۔ یہ مقابلے ۱۳؍ستمبر تک جاری رہنے تھے۔
آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن اور ومبلڈن کے ساتھ یو ایس اوپن بھی ٹینس کے چار ’’گرینڈ سلیم‘‘ (Grand Slam) مقابلوں میں شامل ہے۔ اس مقابلہ کا آغاز ۱۸۸۱ء میں امریکہ کی قومی ٹینس چیمپئن شپ کے طور پر ہوا تھا۔ پھر ۱۹۶۸ء میں پیشہ ور اور شوقیہ کھلاڑیوں کو ایک ساتھ شرکت کی اجازت ملنے کے بعد اسے موجودہ نام دیا گیا۔ ۱۹۷۸ء سے یہ مقابلے نیویارک کے وسیع پارک فلشنگ میڈوز (Flushing Meadows)میں منعقد ہورہے ہیں۔
مرکزی مقابلوں سے پہلے ۲۴؍اگست سے کوالیفائنگ مقابلے اور شائقین کے لیے خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان میں عوام کو کھلاڑیوں کی مشق دیکھنے، نمائشی مقابلوں میں شرکت کرنے اور ٹینس سے متعلق مختلف سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔
یو ایس اوپن محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ نیویارک کی گرمیوں کے اختتام کی ایک اہم ثقافتی تقریب بھی بن چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے کھلاڑی، صحافی اور شائقین اس موقع پر شہر کا رخ کرتے ہیں۔
نئی خلائی دُور بین کی روانگی
سائنس اور خلائی تحقیق کے میدان سے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی۔ ۳۰؍اگست کی صبح ۷ بج کر ۲۶ منٹ پر NASA (جو امریکہ کا قومی خلائی ادارہ ہے جو خلائی تحقیق، سائنسی دریافتوں اور فضائی ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر کام کرتا ہے )کی نینسی گریس رومن (Nancy Grace Roman)خلائی دوربین فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے سپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے کامیابی سے روانہ ہوئی۔
خلائی دوربین راکٹ سے علیحدہ ہونے کے بعد زمین سے تقریباً ۱۵؍لاکھ کلومیٹر دور اپنے مقررہ مقام کی جانب سفر پر روانہ ہوگئی۔ وہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل اور خلائی جہاز کی حرکت کے درمیان ایسا توازن پیدا ہوتا ہے جو دوربین کو نسبتاً مستحکم رہتے ہوئے کائنات کا مشاہدہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس دوربین کا نام ڈاکٹر نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، جو NASA کے شعبۂ فلکیات کی پہلی سربراہ تھیں (یعنی چیف آف آسٹرونومی ) ۔ انہوں نے زمین کی فضا سے اوپر خلائی رصدگاہیں قائم کرنے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کو سائنس دانوں کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب کرنے کی خاص حمایت کی۔ ہبل (Hubble) خلائی دوربین کی تیاری کی راہ ہموار کرنے میں ان کا کردار اتنا اہم تھا کہ انہیں عموماً “ہبل کی ماں” کہا جاتا ہے۔
رومن دوربین کا بنیادی آئینہ تقریباً ۲.۴؍میٹر چوڑا ہے، یعنی ہبل کے آئینے کے لگ بھگ ، لیکن اس کا میدانِ نظر ہبل سے کم از کم ۱۰۰؍گنا وسیع ہوگا۔ یوں وہ اسی درجے کی حسّاسیت اور تصویری وضاحت کے ساتھ آسمان کے بڑے حصے کا تیزی سے جائزہ لے سکے گی۔ NASA کے مطابق یہ دوربین اپنی عملی مدت میں ایک ارب کہکشاؤں کی روشنی کا مشاہدہ کرسکتی ہے۔ سائنس دان اس کی مدد سے تاریک مادے (dark matter) اور تاریک توانائی (dark energy) کی ماہیت، کائنات کے پھیلاؤ، کہکشاؤں کی تشکیل اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کا مطالعہ کریں گے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوب مشرقِ بعید (اگست ۲۰۲۶ء)



