نظم

اَلْقَصِيْدَةُ فِي نَعْتِ رَسُولِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

يَا قَلْبِيَ اذْكُرْ اَحْمَدَا عَيْنَ الْهُدٰى مُفْنِي الْعِدَا
اے میرے دل ! احمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر جو ہدایت کا سر چشمہ اور دشمنوں کو فنا کرنے والا۔


بَرًّا كَرِيْمًا مُّحْسِنًا بَحْرَ الْعَطَايَا وَالْجَدَا
نیک، کریم، محسن، بخششوں اور سخاوت کا سمندر ہے۔


بَدْرٌ مُّنِيْرٌ زَاهِرٌ فِي كُلِّ وَصْفِ حُمِّدَا
وہ چودھویں کا نورانی روشن چاند ہے۔ وہ ہر وصف میں تعریف کیا گیا ہے۔


إِحْسَانُهٗ يُصْبِى الْقُلُوْبَ وَحُسْنُهٗ يُرْوِى الصَّدَا
اس کا احسان دلوں کو موہ لیتا ہے اور اس کا حسن پیاس کو بجھا دیتا ہے۔


اَلظَّالِمُوْنَ بِظُلْمِهِمْ قَدْ كَذَّبُوْهُ تَمَرُّدَا
ظالموں نے اپنے ظلم کی وجہ سے اسے سرکشی سے جھٹلایا ہے۔

(القصائد الاحمدیہ صفحہ 25)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button