توحید کے لیے رسول اللہ ﷺ کی غیرت
پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں ،کئی دفعہ بیان بھی ہوا ہے کہ جنگوں میں بھی آپؐ نے توحید کے لیے ہمیشہ غیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
جنگِ اُحد کا مشہور واقعہ ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ جب ابوسفیان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لے کر کہا کہ کہاں ہیں یہ لوگ؟ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کہا کہ جواب نہیں دینا کیونکہ اس وقت جواب دینا مسلمانوں کی کمزور حالت کی وجہ سے انہیں خطرے میں ڈال سکتا تھا اس لیے آپؐ نے خاموشی کاکہا۔ اس پر ابو سفیان نے کہا کہ ھُبَل کا بول بالا ہو۔ جب اس نے یہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے تاب ہو کر فرمایا :تم اس کو جواب دو۔تو صحابہؓ نے کہا :ہم کیا جواب دیں؟ آپؐ نے فرمایا:کہو اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے۔ ابو سفیان نے کہا ہمارے لیے عزّٰی ہے اور تمہارے لیے کوئی عزّٰی نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جواب دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیا کہیں؟ فرمایا: کہو اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا سوال آیا وہاں آپؐ نے کسی خطرے کی پرواہ نہیں کی۔
پس یہ اس وقت توحید کی غیرت تھی کہ آپؐ نے صحابہ ؓکو فرمایا کہ کہو: اللّٰہ اعلیٰ و اجل، اللّٰہ اعلیٰ و اجل۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ ھُبَل کی شان بلند نہیں۔ اللہ وحدہ لا شریک ہے، معزز ہے اور اس کی شان بالا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوة أحد حدیث4043)
(خطبہ جمعہ ۱۳؍مارچ ۲۰۲۶ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳؍اپریل ۲۰۲۶ء)
مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ کا اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت



